بڑائی کِس میں ہے ؟
بڑائی اِس میں ہے کہ آپ نے کتنے لوگوں کو اپنے گھر میں خوش آمدَید کہا
نہ کہ اِس میں کہ آپ کا گھر کتنا بڑا ہے
بڑائی اِس میں ہے کہ آپ نے کتنے لوگوں کو سواری مہیّا کی
نہ کہ اِس میں کہ آپ کے پاس کتنی بڑی کار ہے
بڑائی اِس میں ہے کہ آپ کتنی دولت ضرورتمندوں پر خرچ کرتے ہیں
نہ کہ اِس میں کہ آپ کے پاس کتنی دولت ہے
بڑائی اِس میں ہے کہ آپ کو کِتنے لوگ دوست جانتے ہیں
نہ کہ اِس میں کہ کِتنوں کو آپ دوست سمجھتے ہیں
بڑائی اِس میں ہے کہ آپ محلہ داروں سے کتنا اچھا سلوک کرتے ہیں
نہ کہ اِس میں کہ آپ کتنے عالیشان محلہ میں رہتے ہیں































میرا پاکستان
نے لکھا؛
July 30, 2008 at 8:24 am
ہجے درست کر لیجئے بڑھائی نہیں یہ بڑائی ہے.
افتخار اجمل بھوپال
نے لکھا؛
July 30, 2008 at 12:00 pm
میرا پاکستان صاحب ۔ السلام علیکم
شکریہ
چوہدری عمران
نے لکھا؛
July 30, 2008 at 2:58 pm
ماشاء اللہ اجمل صاحب، آپ درسِ اِخلاق بہت اچھا دیتےہیں، اور خوبصورت اقوال ہوتےہیں اور ان نپر عمل کرنے کی بھی کوشش کرنی چاہیے ہم سب کو۔ ماشاءاللہ۔
افتخار اجمل بھوپال
نے لکھا؛
July 30, 2008 at 3:16 pm
چوہدری عمران صاحب ۔ السلام علیکم
میں اسی لئے لکھتا ہوں کہ اس پر عمل کیا جائے ۔
میرے نزدیک دوسرے کو اُس عمل کی ترغیب دینا جس پر وہ خود عمل نہ کرنا ہو گناہ ہے
چوہدری عمران
نے لکھا؛
July 30, 2008 at 4:19 pm
اللہ آپکو سلامت رکھے اور آپکی اور ہماری توفیقات میں اضافہ کرے۔ اور بہترین رستے کی طرف ہماری راہنُمائی کرے۔ آمین
تانیہ رحمان نے لکھا؛
July 30, 2008 at 8:48 pm
بہت خوب اجمل جی جب بھی کچھ لکھتے ھیں ،تو کیا خوب لکھتے ھیں ۔یہاں مجھے بڑائی پر اپنے ایک بہت ھی اچھے لکھاری یاد آگے جو آج کل ناجانے کہاں مصروف ھیں ۔وہ جب بھی تبصرہ کرتے تو املا کی غلطی پر ھی زور دیتے۔آج دوبارہ میرا پاکستان نے یہ کام کر دکھایا۔میرا پاکستان جی یہاں ان پڑھ ھیں لیکن جاہل نہیں۔