محبت کر کے تو دیکھ
ا ے بندے تو دیکھتا یہاں وہاں کیا ھے
محبت تو تیرے اندر ھی پنہاں ھے
یہ تو کبھی خدا کی صورت میں جلوہ گر ھے
تو کبھی خدا کی بنائی ھوئی خدائی میں ھے
یہ تو کون ومکاں میں ھے ۔یہ زمیں اور اسماں میں ھے
یہ تو پھولوں اورکلیوں کی مہک میں چپھی ھے
یہ توبہتے جھرنوں اور پرندوں کی بولیوں میں پلی ھے
اے بندے اگر تجھے محبت کی تلاش ھے
اور یہ توتجھے بارش کی بوندوں میں ملے گی
اور یہ تو تجھے نسیم سحر میں ملے گی
اوریہ تو تجھےحمد و ثنا کرتے پرندوں میں ملے گی
اور یہ تو تجھےنا مسجد مندوں میں ملے گی ؟
اور یہ تو ناھی تجھےمال و زر میں ملے گیی ہ ؟
اوریہ تو فقط تجھے تیرے سجدوں میں ملے گی
اور یہ تو تجھے ماں کے قدموں میں ملے گی
اے بندے اگر پھر بھی تو نراش نا امید ھے؟
تو پھر تو اپنے خدا کے بندوں سے محبت کر
ذات پات بھول کر،نا شعیہ نا سنی۔
بس دیتا جا محبت یہی تیرا کام ھے
اور یہی ھمارے خدا کا فرمان ھے

































چوہدری عمران
نے لکھا؛
July 31, 2008 at 10:38 pm
بہتے جھرنوں ، چہکتے پرندوں اور برستی بوندوں میں محبت تلاش کرنے والی معصوم خواہش اِس دور کی نہیں، یہ تو حق اور سچ کی باتیں ہیں۔ جو مقدس لوگوں کی پاک سوچوں میں پائی جاتی ہیں، ناپید تو نہیں نایاب ضرور ہیں۔
سعدیہ سحر نے لکھا؛
August 1, 2008 at 3:16 am
تانیہ اچھا خیال ھے … دنیا میں جہاں بھی دیکھو جہاں بھی جاؤ خدا کی خدائ اور اس کی محبت نظر آتی ھے زمین سے آسمان تک ….مگر انسانوں کے روئیوں ان کے دلوں سے محبت اٹھتی جا رھی ھے ..آج کل لوگ زرا زرا سی بات کو انا کا مسلہ بنا لیتے ھیں ھم دنیا سے کیا لے جایئں گے صرف محبت اور کسی کو کیا دے جایئں گے صرف محبت
نگہت نسیم
نے لکھا؛
August 1, 2008 at 8:40 am
سعدیہ میں نہیں سمجھتی کہ لوگوں کے دلوں سے اور اُن کے رویئوں سے محبتیں اُتھتی جا رھی ھیں ۔ یہ شائد اٍس لیئے میں کہہ رھی ھوں کہ میں زندگی اور اُن سے منسلک رشتوں اور ناطوں کو بہت ھی مثبت انداز سے دیکھتی ھوں ۔
انا رکھنا تو اعزاز کی بات ھے تم نے شاید فرعو نیت کی بات کی ھے جو واقعی نفع بخش نہیں ھے ، نہ یہاں نہ وہاں ۔
تانیہ تمھاری نظم کا خیال اچھا ھے ۔ اور میرا خیال ھے کہ ایسی سوچیں نایاب بھی نہیں ھیں ۔ اللہ پاک ھم سب کو سمجھنے والوں میں رکھے ۔