کرادچ کا انجام۔۔۔ ملاسوِچ جیسا یا۔۔۔۔
نظریات کو کبھی قتل نہیں کیا جا سکتا، ہاں البتہ نظریات رکھنے والے افراد پر موت ضرور طاری کی جا سکتی ہے۔ اور جیسا کہ ہوتا آیا ہے، بوسنیا کے مُسلمان لاکھوں کی تعداد بے گھر و بے آسرا ہو گئے اور ہزاروں کی تعداد میں قتل ہو گئے۔ جِس طرح ہلاکو نے سروں کے مینار کھڑے کیے تھے اِسی طرح کرادچ بھی اُس سے پیچھے نہیں رہا، لیکن دیکھنا یہ ہے کہ کیا زمینی عدالتِ اِنصاف اسکو اِسکے منطقی انجام تک پہنچا سکتی ہے یا اِس کا حال بھی اِس کے پیش رو ملاسوِچ جیسا ہوتا ہے اور اِن عدالتوں سے بچتا بچتا یہ ظالم بھی عدالتِ اِلٰہی کی زد میں آئے گا، وہ تو جو کریں سو کریں ہماری طرف سے اِس عالمی عدالتِ اِنصاف کو کُچھ نا کُچھ ضرور جانا چاہئے کُچھ اُنکو احساس ہونا چاہئے ابھی اِصاف کے طالب زِندہ ہیں۔ تاکہ ہم بھی خاموش پُتلیوں میں شُمار نہ کئے جا یئں اور کم از کم ایمان کے آخری درجے تک تو رہ جائیں۔
































