Al Qamar Online Urdu News Network
SMS Guru
Al Qamar Online Urdu News Network
  
Al Qamar Online Blogs
| | |
RSS Feed
Important News International News News From Pakistan News from India   Special Reports and Features Columns   Science and Technology News Business News Editorial SportS News News from India, Pakistan, Bangla Desh, SriLanga, Maldives, Bhutan Showbiz News Interviews Politics News
Al Qamar Online; The largest Online Urdu News Network containing dozens of Urdu Channels From London, Denmark, US & Pakistan

میں سابقہ تحریریں August, 2008

او ائی سی کی بجائے مسلم یونین ناگزیر کیوں؟

سلطنت عثمانیہ اپنی زندگی کے اخری ہچکولے لے رہی تھی تو برطانیہ میں معروف مصنف والٹیر کا ایک ڈرامہ نمائش کے لئے پیش ہوا لیکن اس ڈرامے میں مسلمانوں کی دل ازاری کے لئے تکذیب اسلام کے مناظر بھی شامل تھے بلکہ ڈرامے کی کئی تحریروں میں حضرت محمد صلعم کی شان کی بے اکرامی اور بے حرمتی نے مسلمانوں کے سینے میں اگ بڑھکادی. »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔

تبصرہ (1)

۔ 5 ۔ فرقہ واریت

جاہل مُلّا اور فرقہ واریت پھیلانے والے مُلّا حکرانوں یا اجارہ داروں کی لگائی ہوئی پنیری ہیں ۔ حکمران ان لوگوں کو علماء و مشائخ کے نام سے یاد کرتے ہیں ۔ ان میں مساجد کے امام بھی ہیں اور شیخ بے مسجد بھی ۔

پچھلی حکومت نے کنونشن سنٹر اسلام آباد میں حکومت کے خرچ پر ایک علماء و مشائخ کانفرنس منعقد ہوئی تھی جس سے صدر جنرل پرویز مشرف نے خطاب کیا تھا اور ان سے اپنے حق میں قرارداد منظور کروائی تھی ۔ اس کانفرنس کا ایم ایم اے ۔ بے نظیر کی پی پی پی اور نواز شریف کی مسلم لیگ نے بائیکاٹ کیا تھا ۔ اس کے باوجود صرف راولپنڈی سے 260 علماء و مشائخ شامل ہوئے جبکہ راولپنڈی میں 150 مساجد بھی نہیں اور ان میں سے بھی زیادہ تر کے اماموں کا تعلق متذکرہ تین جماعتوں سے ہے ۔

صرف حکومت ہی کو نہیں علاقہ کے وڈیروں یا چوہدریوں کو بھی ایسے داڑھی والوں کی ضرورت ہوتی ہے جو ان کے حق میں فتوٰی دیں ۔ باقی وقت اپنا ٹَیکا رکھنے کے لئے یہ نام نہاد علماء و مشائخ فرقہ پرستی کو ہوا دیتے ہیں ۔

ان کے خلاف اگر حکومت یا بارسُوخ لوگ کوئی قدم اٹھائیں گے تو پھر حکومت اور ان بارسُوخ لوگوں کے حق میں فتوے کون دے گا ؟

یا رب ۔ دلِ مُسلم کو وہ زندہ تمنّا دے
جو قَلب کو گرما دے جو رُوح کو تڑپا دے

تبصرہ جات

احمد فراز کی ایک نظم

احمد فراز کی ایک نظم خود انہیں کی آواز میں

میرے غنیم نے مجھکو پیام بھیجا ہے

کہ حلقہ زن ہیں میرے گرد لشکری اُسکے

فصیل شہر کے ہر برج، ہر مینارے پر

کماں بدست ستادہ ہیں عسکری اُسکے

وہ برقِ لہر بجھا دی گئی ہے جسکی تپش

وجودِ خاک میں آتش فشاں جگاتی تھی

بچھا دیا گیا بارود اسکے پانی میں

وہ جوئے آب جو میری گلی کو آتی تھی

سبھی دریدہ دہن اب بدن دریدہ ہوئے

سپرد ِدار و رسن سارے سر کشیدہ ہوئے

تمام صوفی و سالک، سبھی شیوخ و امام

امید ِلطف پہ ایوان ِکجکلاہ میں ہیں

معززین ِعدالت حلف اٹھانے کو

مثال سائلِ مبرم نشستہ راہ میں ہیں

تم اہلِ حرف کے پندار کے ثنا گر تھے

وہ آسمان ِہنر کے نجوم سامنے ہیں

بس اس قدر تھا کہ دربار سے بلاوا تھا

گداگران ِسخن کے ہجوم سامنے ہیں

قلندرانِ وفا کی اساس تو دیکھو

تمھارے ساتھ ہے کون؟‌آس پاس تو دیکھو

تو شرط یہ ہے جو جاں کی امان چاہتے ہو

تو اپنے لوح و قلم قتل گاہ میں رکھ دو

وگرنہ اب کہ نشانہ کمان داروں کا

بس ایک تم ہو، تو غیرت کو راہ میں رکھ دو

یہ شرط نامہ جو دیکھا، تو ایلچی سے کہا

اسے خبر نہیں تاریخ کیا سکھاتی ہے

کہ رات جب کسی خورشید کو شہید کرے

تو صبح اک نیا سورج تراش لاتی ہے

تو یہ جواب ہے میرا میرے عدو کے لیے

کہ مجھکو حرصِ کرم ہے نہ خوفِ خمیازہ

اسے ہے سطوتِ شمشیر پہ گھمنڈ بہت

اسے شکوہِ قلم کا نہیں ہے اندازہ

میرا قلم نہیں کردار اس محافظ کا

جو اپنے شہر کو محصور کر کے ناز کرے

میرا قلم نہیں کاسہ کسی سبک سر کا

جو غاصبوں کو قصیدوں سے سرفراز کرے

میرا قلم نہیں اوزار اس نقب زن کا

جو اپنے گھر کی ہی چھت میں شگاف ڈالتا ہے

میرا قلم نہیں اس دزدِنیم شب کا رفیق

جو بے چراغ گھروں پر کمند اچھالتا ہے

میرا قلم نہیں تسبیح اس مبلغ کی

جو بندگی کا بھی ہر دم حساب رکھتا ہے

میرا قلم نہیں میزان ایسے عادل کی

جو اپنے چہرے پہ دوہرا نقاب رکھتا ہے

میرا قلم تو امانت ہے میرے لوگوں کی

میرا قلم تو عدالت میرے ضمیر کی ہے

اسی لیے تو جو لکھا تپاکِ جاں سے لکھا

جبھی تو لوچ کماں کا، زبان تیر کی ہے

میں کٹ گروں یا سلامت رہوں، یقیں ہے مجھے

کہ یہ حصارِ ستم کوئی تو گرائے گا

تمام عمر کی ایذا نصیبیوں کی قسم

میرے قلم کا سفر رائیگاں نہ جائے گا

تبصرہ جات (5)

۔ 4 ۔ جاہل ملّا کہاں سے آئے

ملّا اور جاہل ۔ اس حقیقت نے مجھے لڑکپن ہی میں پریشان کر دیا تھا ۔ میں اس کا منبع تلاش کرنے میں لگ گیا ۔ حالات کی سختیاں جھیلتے سال گذرتے گئے مگر میری جستجو جاری رہی ۔ آخر عُقدہ کھلا ۔

ہندوستان ميں انگریزوں کی حکومت بننے سے پہلے بڑی مساجد علم کا گھر ہوا کرتی تھیں اور انہیں جامع یعنی یونیورسٹی کہا جاتا تھا ۔ وہاں دینی تعلیم کے ساتھ دنیاوی علوم بھی پڑھائے جاتے تھے ۔ طلباء دور دراز سے بلکہ دوسرے ممالک سے بھی آکر سالہا سال قیام کرتے اور علم حاصل کرتے ۔ اساتذہ اور تعلیم کا خرچ چلانے کے لئے ان مساجد کے ساتھ بڑی بڑی جاگیریں تھی ۔ اس کے علاوہ مسلمان بادشاہ اور مالدار طلباء نذرانے بھی دیتے تھے ۔

جنگِ آزادی کی ناکامی کے بعد 1857ء میں جب ہندوستان پر انگریزوں کا مکمل قبضہ ہو گیا تو انہوں نے ہنرمندوں اور علماء کو قتل کروا دیا تاکہ ہندوستانی مسلمان پھر نہ اُبھر سکیں ۔ مساجد کی جاگیریں ضبط کر لیں ۔ اس کے بعد پسماندہ علاقوں سے جوان چُنے جو دینی علم صرف نماز روزہ کی حد تک جانتے تھے ۔ ان لوگوں کو برطانیہ بھیج کر چند ماہ کا امام مسجد کا کورس کرایا گیا اور واپسی پر مساجد کا بغیر تنخواہ کے امام مقرر کر دیا ۔ ان اماموں کا نان و نفقہ علاقہ کے لوگوں کے ذمہ کر دیا اور ان کی نگرانی علاقہ کے نمبردار یا چوہدری یا وڈیرے یا سردار وغیرہ جو خود انگریزوں کے مقرر کردہ تھے کے ذمہ کر دی ۔

آجکل کے جاہل ملّا زیادہ تر اسی عمل کا نتیجہ ہیں ۔ باپ امام مسجد تھا اسلئے بیٹا بھی امام مسجد بن بیٹھا ۔ اس صورتِ حال کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے کئی ایسے لوگ جنہوں نے کبھی نماز بھی نہ پڑھی تھی داڑھی رکھ کر مسجد کے امام بن بیٹھے یا کسی بارسوخ شخص نے اپنی مطلب براری کے لئے بنا دیا ۔ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ پاکستان کے معرضِ وجود میں آنے کے اکسٹھ سال بعد بھی یہ غلط عمل جاری ہے ۔

کسی نے کہا تھا کہ داڑھی میں اسلام نہیں ہے بلکہ اسلام میں داڑھی ہے ۔

اس خلافِ دین صورتِ حال کے ذمہ دار خود پاکستانی عوام بھی ہیں جو اپنی مطلب براری کیلئے ایسے لوگوں کو امام مسجد کے طور پر نہ صرف قبول کرتے ہیں بلکہ خود بھی یہی چاہتے ہیں ایسے امام ہوں جو اُن کی برائیوں کو بُرا نہ کہیں ۔ ستم یہ کہ بجائے اس خرابی کو دور کرنے کے لوگ تمام مولویوں کے دشمن بن بیٹھے ہیں ۔

تبصرہ جات

نوی پہیلی بو جھ سہیلی

ایک جھو ٹا کیا گیا جھوٹوں سے پالا پڑگیا
ا ُس کی ہر کرتوت پر ان کا دوشالہ پڑگیا
جب بھی آنے کو ہوئی جمہوریت اس ملک میں
چلتے چلتے راہ میں د یکھا گھٹالا پڑگیا

تبصرہ جات (3)

مروجہ سیاست اور موجود سیاست دان

یہی اس رائج سیاست کی بدبختی ہے، اور موجودہ سیاست دانوں کی کمزوری کہ جب سے یہ انہی خواص کے بقول عوامی حکومت آئی ہے، عوام کے مسائل پر ایک بات بھی آن ائیر نہیں ہُوئی کِسی حاکم کو نہین پتہ کہ کِس کی ماں کیا بیچ کر اپنے بچے کے لیئے روٹی لے کر آتی ہے، کِتنی بہنیں ہیں جو گھر میں بیٹھی بوڑھی ہو رہی ہیں کتنے باپ ہیں جو جوان اولاد کے سامنے اتنے بے بس ہو چکے ہیں کہ خود کُشی پر مجبور ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ جمہوریت کی روشنی کِتنے گھروں ً میں اندھیرے کا باعث بن رہی ہے۔ انکو پتہ ہے تو صرف یہ کہ ہمارے کِتنے نمبر ہیں کِتنے چاہیئں۔ کیا اب تک کوئی ایسا فیصلہ کیا گیا ہے جو عوام سے براہ راست مربوط ہو؟ کیا کوئی ایسا قدم اُٹھایا گیا ہے جِس کی وجہ سے کِسی بوجھ تلے دبے ہوئے باپ کو ایک سانس لینے کی مہلت مِلی ہو؟ اگر نہیں تو کیا یہ عوامی حکومت ہے؟

تبصرہ جات

۔ 3 ۔ جاہل ملّا

نِیم حکیم خطرہء جان نِیم ملّا خطرہء ایمان

میرے ہموطن یہ کہاوت عام استعمال کرتے ہیں لیکن بہت کم ہوں گے جنہوں نے اس کا صحیح استعمال کیا ۔ یہ کہاوت صرف مُلّا اور حکیم یا ڈاکٹر کیلئے نہیں ہے بلکہ سب کیلئے ہے ۔ نِیم فارسی کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے آدھا ۔ مطلب یہ کہ انسان جو کچھ بھی ہو پورا ہو ۔

آٹھویں جماعت میں سکول میں دینیات کی تعلیم کا حال دیکھ کر والد صاحب نے راولپنڈی شہر میں محلے کی مسجد کے امام صاحب کی ٹیوشن مقرر کی کہ میں قرآن شریف دوہرا لوں ۔ میں تلاوت شروع کرتا تو مولوی صاحب سو جاتے ۔ پارہ ختم ہو جاتا تو وہ جاگ جاتے ۔ اسی طرح دو ماہ میں پورا قرآن شریف پڑھا ۔ یہ صاحب جمعرات کی روٹیوں والے مُلّا تھے اور بغیر دینی مدرسہ گئے مولوی بن گئے تھے ۔ میری تلاوت کی تصحیح پھر میری والہ محترمہ نے کی ۔ اللہ جنّت نصیب کرے ۔

حکومت نے 1984ء میں سکولوں میں مدرسوں سے سند یافتہ دینیات کے استاذ رکھنے کا فیصلہ کیا ۔ یہ کام ایک سیکشن آفیسر کے سپرد ہوا جو ہمارے سیٹلائٹ ٹاؤن راولپنڈی والے گھر جہاں ہم اُن دنوں رہتے تھے کے قریب مسجد کے خطیب بھی تھے ۔ ایک شام میں کسی کام سے ان کے پاس گیا تو پریشان پایا ۔ وجہ پوچھی تو کہنے لگے پہلی قسط میں پانچ سو استاد بھرتی کرنا ہیں ۔ ایک سالہ کورس کی سند ہونی چاہیئے میں نے چھ اور تین ماہ والوں کے نام بھی لکھ لئے ہیں اس کے باوجود 247 ہوئے ہیں ۔ میں نے کہا جناب اتنے سارے امام مسجد خیراتی روٹیوں پر پل رہے ہیں ان کو لے لیں ۔ فرمانے لگے محلہ میں جو بقیہ چار مساجد ہیں ان کے امام ایک دن کے لئے مدرسہ نہیں گئے ۔ میں نے حیرت سے کہا تو یہ امام کیسے بن گئے ۔ فرمایا لوگوں نے اپنی مقصد براری کے لئے بنا دیئے یا خود زورآوری سے بن گئے ہوں گے ۔ اس پر میں نے سوال کیا کہ جو لوگ منظور شُدہ مدرسوں سے فارغ التحصیل ہوتے ہیں وہ سب کہاں گئے ؟ بولے کہ اُنہوں نے آٹھیوں کے بعد 8 سال یا دسویں کے بعد 6 سال پڑھائی کر کے سند حاصل کی ہوتی ہے وہ تنخواہ کے سکیل نمبر 9 پر کیسے نوکری کریں گے ؟ ہاں اگر تنخواہ کا سکیل کم از کم 16 کر دیں تو اُن میں سے کچھ آ جائیں گے ۔

تبصرہ جات

کتنا آساں تھا ترے ہجرمیں مرنا جاناں

  کتنا آساں  تھا  ترے   ہجر  میں  مرنا جاناں

پھر بھی اک عمر لگی جان سے جاتے جاتے۔

آج احمد فراز ہمارے مابین نہیں ہیں، لیکن انکے الفاظ اسی شدت سے بیدار ضمیروں کو جگاتے رہیں گے  ۔ احمد فراز کی میرے نزدیک سب سے بڑی خوبی یہی تھی کہ اچھا کیا یا برا، سب کچھ کھل کر کیا۔۔۔۔ایک شیشے کی طرح شفاف شخصیت جس میں منافقت کا کہیں کوئی خول نہ تھا۔  ٓ۔۔۔۔۔آج انکے انتقال پر ہمارے قلم مغموم اور اداس ہیں۔  مجھے یقین ہے کہ انکے قلم کا سچ انکی غیر موجودگی میں بھی غیرت و عزت کا علم بلند کرتا رہے گا۔ 

تبصرہ جات (4)

غیرت مند مے کَش بلاخر گذر گیا

شِدتِ تِشنگی میں بھی غیرتِ میکشی رہی
اُس نے جو پھیر لی نظر میں نے بھی جام رکھ دیا
لوگوں کو جینے کا حوصلہ دیتے دیتے خود موت کی آغوش میں چلا گیا، ہر عمر کے لوگوں میں انکی ٹین ایج کے حوصلے، ولولے اور جوش کو زندہ رکھنے والا دِلنشیں شاعر دعوتِ اجل پر لبیک کہتا ہوا اپنی جان جانِ
آفرین کے سپرد کر گیا۔ انا لِلہِ وا اِنا الیہِ راجِعون۔
سب کہاں کُچھ لالہ و گُل میں نُمایاں ہو گیئں
خاک میں کیا صورتیں ہونگی کہ پِنہاں ہو گیئں

تبصرہ جات (4)

دعوت باسمتی یا دعوتِ گناہ

اے آر وائی ٹی وی پر ایک چاول کی مشہوری دیکھنے میں آتی ہے جِسمیں ایک ٹیبل پر کھانا کھاتے ہوئے ایک شخص کے منہہ پر چاول کا دانہ چمٹا رہ گیا اور تیسرے ٹیبل پر بیٹھی ہوئی دِلکش خاتون لپک کر آتی ہے اور اپنے ہونٹوں سے وہ چاول کا دانہ اُچک لیتی ہے، اب اس کے بعد کیا یہ لوگ یہ چاہتے ہیں کہ لڑکے بالے اپنے چہرے پر چاول کے دانے چِپکا کر گلے میں دعوت باسمتی کے آویزے لٹکا کر پھرتے رہیں اور یا ہماری خواتین کوکِسی خاص معرکے پر اُکسایا جا رہا ہے۔ کیا یہ میڈیا کی آزادی کا منفی اثر ہے یا ہمارے صبر کا امتحان کہ کب چاکِ گریباں چاکِ داماں کے ساتھ آ مِلے۔

تبصرہ جات (6)