کتنے ہیرے پتھر ھوئے
سبحان اپنے نام کی طرح تعریف کے قابل تھا اپنے ھوں یا غیر سب اس کی تعریف کرتے تھے .اسکول میں نمبر ون تھا کالج اور یونیورسٹی میں نصابی اور غیر نصابی پروگرام میں سبحان کا نام سب سے پہلے آتا تھا تقریر کرتا تو لوگ دم سادھے سنتے تھے ایسا شعلہ بیان تھا عالِم اسلام اور تحریک ِ پاکیستان پر بولتا ایسے ایسے دلائل دیتا کہ ایمان تازہ ھو جاتا لوگ بے اختیار رو دیتے …یونیورسٹی سے فارغ ھوا تو لوگوں نے کہا پاکستان میں کوئ مستقبل نہیں ترقی کے چانس بہت کم ھیں مگر پاکستان اور اسلام کی محبت اس کے خون میں ڈور رھی تھی ا س نے پاکستان میں رھنے کا فیصلہ کیا وہ گورنمنٹ جاب کے ساتھ ساتھ کالم لکھتا تھا جو بھی لکھتا تھا بے ڈھرک ھو کر لکھتا تھا احمد صاحب کبھی کبھی اسے ٹوکتے تھے مگر وہ کہتا تھا
ابو دنیا میں مسلمانوں پہ ظلم ھو یا عوام کے ساتھ کوئ زیادتی ھو میں کیسے آنکھیں بند کر سکتا ھوں لوگ بھوکوں مر رھے ھوں میں کیسے اپنی دنیا میں مست رہ سکتا ھوں میں ظالم کا ھاتھ نہیں روک سکتا مگر کمزور لوگوں کی زبان تو بن سکتا ھوں جو دیکھتا ھوں جو محسوس کرتا ھوں وھی لکھتا ھوں اپنے قلم اور اپنے ضمیر کا سودا نہیں کرسکتا
زبیدہ بیگم سبحان کے لیے رشتہ دیکھ رھی تھی انھیں اپنی دوست کی بیٹی سلمیٰ پسند تھی جیسی وہ بہو چاھتی تھی سلمیٰ میں وہ سب خوبیاں تھیں احمد صاحب سے مشورہ کیا تو انھوں نے کہا سبحان سےاس کی پسند پوچھ لو .
سبحان سلمیٰ سے تم ملے ھوئے ھو کیسی لگتی ھے تمیں
سبحان نے کھانا کھاتے ھوئے حیرت سے انھیں دیکھا
جی امی ملا ھوا ھوں اچھی ھے بہت سلجھی ھوئ
ھوں
ھم اس کی بات کرنے کا سوچ رھے ھیں
اگر تمہاری کوئ پسند ھے تو بتا دو
نہیں امی یہ کام آپ پہ چھوڑا ھے جو آپ مناسب سمجھیں
سبحان سے بات کرنے کے بعد سلمیٰ کے گھر رشتے کی بات کی انکار کی گنجایش نہیں تھی دونوں خاندان ایک دوسرے کو بہت اچھی طرح جانتے تھے عید کے بعد شادی کی تاریخ طے ھو گئ دونوں گھروں میں شادی کی تیاریاں شروع ھو گئ
11 ستمبر کے واقعے کے بعد پوری دنیا کے حالات تیزی سے بدلے ھزاروں لوگ امریکہ سے واپس آئے پاکستان کی پالیسی چینج ھوئ دہشت گردی کے خلاف جنگ کا اعلان ھوا ..ایسے میں سبحان کا قلم کیسے چپ رہ سکتے تھا اس کے مصروفیات بڑھ گئیں
سبحان بیٹے اپنی مصروفیات اب کچھ کم کرو شادی سر پہ آگئ ھے مہمان آنے شروع ھو گئے ھیں
جی ابو کچھ کام ھیں ان سے فارغ ھو جاؤں
صبح سے سبحان گھر تھا آج کی مہندی رسم تھی زبیدہ بیگم اور احمد صاحب کے چہرے خوشی سے دمک رھے تھے گھر مہمانوں سے بھرا ھوا تھا شادی کے گانے گائے جا رھے تھے
شادی کی صبح نوکر نے بتایا کچھ لوگ آئے ھیں سبحان کا پوچھ رھے ھیں پھر پتا چلا وہ ان لوگوں کے ساتھ چلا گیا ھے
کون لوگ تھے آپ نے جانے کیوں دیا
بیگم وہ کوئ بچہ نہیں ھے ابھی آجائے گا
کوئ ضروری کام ھوگا ورنہ وہ ایسے ھی کیسی کے ساتھ نہیں جاتا
صبح سے دوپہر اور دوپہر سےشام ھوگئ
سبحان کے سب دوستوں کے گھر فون کیا سب نے بے خبری کا اظہار کیا سب رشتے دار پریشان تھے سمجھ نہیں آرھی تھی کیا کریں سبحان کی عادت تھی وہ کہیں بھی جاتا تھا تو فون ضرور کرتا تھا اگر زیادہ کام ھوتا تھا تو فون کر کے بتا دیتا تھا کے لیٹ آئے گا آج تو شادی کا دن تھا اتنا لاپرواہ تو وہ کبھی بھی نہیں تھا برات جانے کا وقت ھو رھا تھا سلمیٰ کے گھر فون کر دیا سلمیٰ کے رشتےدار ھزار سوال پوچھ رھے تھے لوگ طرح طرح کی باتیں بنا رھے تھے
کیا سبحان شادی سے خوش نہیں تھا
کیا وہ کیسی اور کو پسند کرتا تھا
شادی کے دن گھر کیوں چھوڑ گیا
احمد صاحب اور زبیدہ بیگم پہلے ھی پریشان تھے لوگوں کی باتیں انھیں اور پریشان کر رھی تھیں سب ددست واقفکار بھاگ دوڑ کر رھے تھے سبحان کی تصریر لے کر ھسپتال بھی گئے دل پہ پتھر رکھ کر مردہ خانے بھی گئے لاوارث لاشیں بھی دیکھیںپولیس میں بھی رپورٹ
کی
وہ رات جیسے سب نے جاگ کر گزاری یہ وہی جانتے ھیں سب فون کے گرد بیٹھے تھے . فون کی ھر بیل پہ ایسے جیسے سب میں جان پڑ جاتی تھی امید کے دیئے جلنے لگتے تھے شاید سبحان کا فون ھو اس کے بارے میں کوئ خبر ھو بار بار سملیٰ کے گھر سے فون آرھے تھے وہ سبحان کا پوچھ رھے تھے سلمیٰ کے ھاتھوں میں مہندی مہک رھی تھی وہ دلہن بنی سب رشتےداروں کے درمیان بیٹھی برات کے آنے کا انتظار کر رھی تھی لوگ برات کے نا آنے کے بارے میں بار بار پوچھ رھے تھے ان کی باتیں اسے اور پریشان کر رھی تھیں شادی ھال خالی کر کے دینا تھا آدھی رات کو وہ سب گھر واپس آئے سلمیٰ نے سادے کپڑے پہن لیے اس کا دل کانپ رھا تھا سمجھ نہیں پا رھی تھی وہ کیا کرے پھر رشتےداروں کی سوال کرتی نظریں …دل چاہ رھا تھا دنیا کے کسی ایسے کونے میں چھپ جائے جہاں اسے کوئ نا دیکھ سکے وہ خیالوں ھی خیالوں میں سبحان سے شکوے کر رھی تھی ساری رات آنکھوں میں کٹی کان کسی خبر کے منتظر رھے ولیمے کا دن گزرا لگ رھا تھا سبحان کو زمین نگل گئ یا ھوا لے اڑی سب دوست واقفکار انجان تھے سب رشتے دار اپنےاپنے گھروں کو چلے گئے وقت کیسا بھی گزرتا جاتا ھے دن پہ دن گزرتے جا رھے تھے عید الضحیٰ آئ اور گزر گئ لگتا تھا عید پہ بکرے قربان نہیں ھوئے جذبے ارمان امیدیں بھی قربان ھو گئ ھیں . نیا سال آیا تو سب کے لبوں پہ ایک ھی دعا تھی سبحان واپس آجائے سلمیٰ نا کنواریوں میں تھی نا بیواؤں میں .. احمد صاحب اور زبیدہ کا برا حال تھا جس دن ان کے کے بیٹے کا گھر بسنا تھا اسی دن سے ان کے گھر میں اداسیوں نے بسیرا کر لیا تھا ھر سورج اس امید سے ابھرتا کے شاید آج سبحآں آجائے رات سوتے جاگتے گزرتی ایسے لگتا جیسے سبحان بلا رھا ھے آواز دے رھا ھےوہ ماں تھیں تڑپ کے اٹھ بیٹھتی مرے ھوئے انسان کو انسان چار دن روتا ھے پھر کوئ کتنا بھی عزیز ھو دھیرے دھیرے جینا سیکھ لیتا ھے مگر سبحان اس کا تو معاملہ ھی اور تھا دل مردہ سمجھنے کو تیار نہیں تھا اگر زندہ ھے تو کہاں ھے زندگی اور موت کے درمیان لٹکنا کیا ھوتا ھے کتنا اذیت ناک ھوتا ھے یہ وہھی جان سکتا ھے جس پہ بیت رھی ھو پولیس کہتی تھی تلاش جاری ھے اخبار میں تصویر دی ھزار بار اشتہار دیا حکومت کے سامنے اجتجاج کیا مگر کوئ فائدہ نہیں ھوا دن مہینوں میں بدلے مہینے سالوں میں ….
سلمیٰ کے گھر والے اس کی شادی کرنا چاھتے تھے مگر اس کا نکاح مہندی کی رات ھو چکا تھا وہ سبحان کا انتظار کر رھی تھی لوگوں کے سوالوں سے بچنے کے لیے اس نے خاموشی سے ایک اسکول مین جاب کر لی زندگی جیسے رک سی گئ تھی ایک ھی موسم رک گیا تھا انتظار کا موسم …..ھر پل ھر لمھہ انتظار جب عید آتی یا کسی کی شادی ھوتی سب زخم نئے سرے سے تازہ ھو جاتے یہ تو زخم بھی ایسا تھا کوئ بھرنا بھی چاھتا تو نہیں بھر سکتے تھا خوشیوں کے پل ھنستے مسکراتے کیسے گزر جاتے ھیں پتا بھی نہیں چلتا مگر دکھ وہ تو روح میں بسیرا کر لیتا ھے مرتے دم تک انسان کے ساتھ رھتا ھے احمد صاحب اور زبیدہ بیگم کو اپنے بیٹے کے انتظار نے زندہ رکھا ھوا تھا وقت سرکتا جا رھا تھا پھر گمشدہ افراد کے کیس کھولنے لگے تحقیقات شروع ھوئ..بہت سے لوگون خبر ملی پھر ایک دن کچھ نامعلوم لوگ جیپ پہ آئے اور دروازے کے سامنے سبحان کو خاموشی سے چھوڑ گئے جس حالت میں سبحان واپس آیا تھا اسے دیکھ کر گھر والے جیتے جی مر گئے وہ ایک زندہ لاش تھا جو کسی بھی موضوع پہ گھنٹوں بول سکتا تھا اب اٹک اٹک کے چند الفاظ بولتا تھا ماضی کو بھول چکا تھا اسے کس بات کی سزا ملی تھی محب الوطن پاکستانی ھونے کی سزا یا سچا مسلمان ھونے کی سزا یا سچ لکھنے کی سزا ..اس کی زندگی کیا زندگی تھی سبحان تو واپس آگیا تھا مگر بہت سے لوگوں کا کچھ پتا نہیں مگر ملک میں بھت سی بے نام قبروں کا اضافہ ھو چکا تھا ان بے نام قبروں میں کن کے جگر کے ٹکڑے تھے کتنے انمول ھیرے دفن تھے کسے خبر …یہ بے نام قبریں کشمیر فلسطین آزربائجان بوسنیا میں پھیلی ھوئ ھیں ان میں ایسے ھیرے دفن ھیں جن کی قدر ان کے اپنے ملک والے نہ پہچان سکے مگر دشمن کی آنکھ پہچان گئ کے یہی ھی وہ لوگ جن میں سچ کہنے کی طاقت ھے دشمن سے ٹکرانے کا حوصلہ ھے ان کو خاموشی سے ختم کر دیا گیا جن قوموں کے لوگ ضمیر فروش ھوتے ھیں ان کے ھیرے بھی پتھر بنا دیئے جاتے ھیں ..بے ضمیر قرموں کا کوئ ھنستا ھوا ماضی نہیں ھوتا حال میں دردبھری آہیں اور فریادیں گھونجتی ھیں اور مستقبل ھوتا ھے کسی بے نام قبر کی طرح خاموش اور اندھیروں میں ڈوبا ھوا

































سعدیہ سحر نے لکھا؛
August 1, 2008 at 3:56 am
سب سے پہلے تانیہ تمھارا شکریہ کہ تم بلاگ لگاتی تھی ۔اب میں نے تئمھاری بات مان کر خود بلاگ لگا لیا۔میرے خیال میں اب احباب کو کوئی پریشانی نہیں ھونی چایئے۔ بلاگ بھی میرا اور نام بھی میرا۔ چلو سب سے پہلے تبصرہ تمھارا آنا چاہئے سمجھی
نگہت نسیم
نے لکھا؛
August 1, 2008 at 5:49 am
معافی چاھتی ھوں سعدیہ کہ تانیہ سے پہلے تبصرہ لکھ رھی ھوں ۔ لیکن بہت خوشی ھوئی کہ یہ بلاگ تم نے خود لگایا ھے ۔ اب تمہیں پتہ چلا ھو گا کہ بلاگ لکھنا مشکل ھوتا ھے لیکن اُسے لگانا سب سے آسان ۔ اور تم نے اٍس آسان کام کو کرکے ھزاروں لوگوں کو کنفیوز ھونے سے بچا لیا ۔۔ اس کے لیئے میں اُن تمام لوگوں کی جانب سے تمھارا شکریہ ادا کرتی ھوں ۔
تم نے لکھا تھا کہ تمہیں اٍس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ بلاگ کوئی بھی لگائے اور یہ بھی کہ تم لکھنے کو سنجیدگی سے نہیں لیتی ، جبکہ لکھنا میری زنگدگی ھے ، میرا اُوڑھنا بچھونا ھے اور وہ تمام لفظ جو میں لکھتی ھوں صرف میرے ھیں ۔ اٍس لیئے شاید میں اٍن معاملات میں بہت سنجیدہ ھو جاتی ھوں شاید اسی لیئے تم کو میری بات بہت بری لگی تھی ۔ اور تمہاری طرف سے تانیہ نے یہ بھی لکھا تھا کہ جس کو بلاگ پر تبصرہ کرنا ھو وہ کرے اور جس کی مرضی نہیں وہ نہ کرے ۔ بہت اچھا کہا ۔ میں صرف ایک بات جانتی ھوں کہ اظہار ھمیشہ راستہ ڈھونڈتا ھے اور جب اُسے مل جاتا ھے تووہ اپنے ساتھ کئی لوگوں کو ساتھ لے کر آگے بڑھنا چاھتا ھے ورنہ تم یا میں یہاں لکھ نہ رھے ھوتے ۔۔ بلکہ خود ھی لکھتے اور خود ھی پڑھتے ۔ بحرحال میں آٹھویں جماعت سے لکھ رھی ھوں اور میں ابی تک یہی چاھتی ھوں کہ میرے لکھی ھوئی ھر لائن ساری دنیا پڑھے اور میرے ساتھ چلے ۔
تماری اٍ کہانی کو میں افسانہ نہیں کہونگی کیونکہ اٍس میں افسانوں والی کویہ بات نہیں تھی بلکہ سیدھی سادھی سی کہانی ھے جو لفظوں کو بوجھ بنائے بغیر لکھی گئی ھے ۔ کہانی عام ھونے کے باوجود اچھی لگی خاص طور پر آخری چند جملے بہت اچھے لکھے ھیں “ جن قوموں کے لوگ ضمیر فروش ھوتے ھیں ان کے ھیرے بھی پتھر بنا دیئے جاتے ھیں ..بے ضمیر قرموں کا کوئ ھنستا ھوا ماضی نہیں ھوتا حال میں دردبھری آہیں اور فریادیں گھونجتی ھیں اور مستقبل ھوتا ھے کسی بے نام قبر کی طرح خاموش اور اندھیروں میں ڈوبا ھوا ۔۔۔۔
دعا گو ھوں اللہ پاک تمھارے قلم کو لمبی عمر دے۔ آمین
افتخار اجمل بھوپال
نے لکھا؛
August 1, 2008 at 9:15 am
یہ کہانی ایک گھر کی نہیں ہزاروں مسلمان گھرانوں کی ہے ۔ مختلف حیلوں بہانوں سے اسلام کے دشمن اچھے مسلمانوں کا صفایا کر رہے ہیں ۔ لیکن ان کو کیا کہا جائے جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہوئے صرف بڑی ظاقت کی خوشنودی کیلئے مسلمانوں کے خون سے ہاتھ رنگ رہے ہیں
صفدر ھمدانی نے لکھا؛
August 1, 2008 at 3:04 pm
”میں نے لکھنے لکھانے کو کبھی سنجیدگی سے نہیں لیا کبھی کوئی بات دل پہ لگتی ھے تو لکھتی ھوں باقاعدہ نہیں”… بلاگرز دوستو پریشان نہ ہوں یہ الفاظ میرے نہیں بلکہ سعدیہ سحر کے ہیں جو القمر آن لائن کی مستقل بلاگر ہیں. میں القمر کی دیگر متعدد ذمیداریوں کی وجہ سے بلاگ دن میں صرف دو تین بار دیکھ لیتا ہوں اور جہاں جہاں کوئی تصحیح درکار ہو کر دیتا ہوں، لیکن اس سارے عمل میں بعض اوقات بہت اہم نکات نگاہ و نظر میں نہیں آ پاتے. آج صبح جب بلاگز دیکھ رہا تھا تو ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ کا یہ تبصرے میں لکھا ہوا یہ فقرہ نظر سے گزرا تو میں یہیں رکنے پر مجبور ہوا. یہ فقرہ تھا”تم نے لکھا تھا کہ تمہیں اٍس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ بلاگ کوئی بھی لگائے اور یہ بھی کہ تم لکھنے کو سنجیدگی سے نہیں لیتی ، جبکہ لکھنا میری زندگی ھے اٍس لیئے شاید میں اٍن معاملات میں بہت سنجیدہ ھو جاتی ھوں….مجھے خود یہ پڑھ کر حیرت ہوئی کیونکہ ادب اور مصوری ہی تو زندگی ہے یا پھر یوں کہیں کہ کسی بھی حقیقت کا پرتو جیسا ادب اور مصوری میں پیش کیا جا سکتا ہے فنون لطیفہ کی کسی اور شاخ میں بہت کم ہے اور یاد رکھیں زندگی کی طرح لکھنا لکھانا اور قلم کے ذریعے اظہار کرنا بہت سنجیدہ کام ہے.ہاں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ”میں یہ کام شوقیہ کرتی ہوں یا فقط ذاتی اظہار کے لیئے کرتی ہوں ” لیکن یہ بات کہ ”میں سنجیدہ” نہیں اگر سعدیہ صاحبہ آپ نے سنجیدگی سے لکھی ہے تو میں اس سے متفق نہیں ہوں. یہ تو بالکل اسی طرح ہے جیسے مغرب میں عام طور پر کہا جاتا ہے کہ…….
LIFE IS A FUN
حالانکہ ہم سب بخوبی جانتے ہیں کہ زندگی نہایت سنجیدہ امر ہے کوئی میلہ ٹھیلا نہیں ہے. بالکل اسی طرح قلم کاری تو ورثہ انبیا ہے،اللہ کے چنیدہ بندوں کا وصف ہے اور یہ کوئی غیر سنجیدہ چیز نہیں. سعدیہ صاحبہ مجھے یقین ہے کہ میں آپ سے طبعی اور قلم کاری دونوں اعتبار سے عمر میں بڑا ہوں اور اس سنجیدہ موضوع پر نہایت سنجیدگی سے آپکو یہ سنجیدہ مشورہ دوں گا کہ اس کام کو سنجیدگی سے کریں اور پھر دیکھیں اپنے الفاظ اور فقروں میں اُترتا ہوا اظہار کا نور.
تانیہ رحمان نے لکھا؛
August 1, 2008 at 3:20 pm
نگہت تبصرہ کوئی بھی کرئے ۔یہ کوئی آگے نکلنے والی دوڑ نہیں ھے۔ھاں خوشی کی بات یہ کہ سعدیہ نے خود یہ کام کیا ھے۔آخرکار وہ مان گی۔اور مجھے یہ مان ملا کہ اپنی دوست کا کام کرتی رہی ۔اللہ کرئے وہ لکھتی رہیئے ۔ورنہ مجھے تو یہ لگ رہا تھا کہ سعدیہ نا ھوئی مسلہ کشمیر ھو گیا جو حل ھونے کا نام ھی نہیں لیتا تھا،خیر جو بھی ھوا،اچھا ھوا۔ اور اس کے ساتھ میں القمر کو ھمیشہ ھمیشہ کے لیے خدا حافظ کہنا چاہئوں گی۔اللہ اپ سب کو خوش رکھیے ۔جنھوں نے اتنا عرصہ مجھے برداشت کیا۔کسی وجہ سے اگر کوئی مجھ سے ناراض ھوا ھو تو معافی کی طلب گار ھوں ۔صفدر جی اپ کا نگہت اپ کابہت شکریہ مجھے یہاں پر سب سے ملوانے کا۔
سعدیہ سحر نے لکھا؛
August 1, 2008 at 8:50 pm
سلام نگہت تبصر ے کا شکریہ تمہاری خاموشی اور تمہاری ناراضگی کو میں دو دن سے محسوس کر رھی تھی …اور بات یہ سچ ھے میں نے کبھی لکھنے کو سنجیدگی سے نہیں لیا جیسے تم لکھتی ھوں تم میں ایک جنون ھے اپنی ذات کے اظہار کا کچھ کرنے کا متحرک رھنے کا وہ مجھ میں نہیں ھے .ھر انسان دوسرے سے مختلف ھوتا اس کی سوچ بھی یہ بات مجھ سے اچھی تم جانتی ھو…..
یہ افسانہ نہیں کہانی ھے ایک سادا سی …..اسے افسانے کی طرح لکھا تھا مگر بلاگ پہ لگانے کے لیے اسے کانٹ چھانٹ کر چھوٹا کیا ..صرف آخری پیرا لوگوں تک پہنچانا تھا کے کیا ھم ضمیر فروش ھیں اگر ھیں تو ھمارا مستقبل کیا ھوگا کیا ھمارا انجام ایک بے نام قبر کی طرح ھوگا …آخری جملے لکھتے ھوئے میں خود بہت روئ تھی
سعدیہ سحر نے لکھا؛
August 1, 2008 at 9:16 pm
سلام ھمدانی جی
میں نے یہ تبصرہ اپنے کسی اور بلاگ پہ کیا تھاشاید اپنی شاعری کے حوالے سے …کسی نے ایک بار مجھے کہا تھا لکھنے کے لیے پڑھنا بہت ضروری ھے شاعری میں جو استاد ھیں انھیں پڑھنا …اور مطالعے کا وسیع ھونا چاھے … میں نے اپنے آپ کو شاعر نہیں سمجھتی .. اپنی دوستوں کے ساتھ مل کر گانوں کی پیروڈی کرتے ھوئے ایک دوسرے پہ شعر لکھتے ھوئے کب سنجیدہ ٹاپکس پہ نظمیں لکھنے لگی مجھے خود پتا نہیں …..
بلاگلکھتے ھوئے بہت بار یہ احساس ھوتا ھے ھم کیوں لکھ رھے ھیں اس کا کیا فائدہ ھوگا کچھ بھی نہیں ایک مہنہ میں نے کچھ نہیں لکھا نہ حکومتی ادارے ھوش میں آرھے ھیں نا عوام منتخب ممبران بھی سہولیات سے لطف اندوز ھو رھے ھیں انھیں اپنی زمہ داریوں کی کوئ خبر نہیں ..کوئ بھی اخبار اٹھا کر دیکھ لو کالم بھرے ھوئے ھیں لکھنے والے لکھ رھے ھیں اور جن کے لیے لکھ رھے ھیں وہ در در کشکول لیے 16 کروڑ عوام کا سر اور نیچے جھکا رھے ھیںً
سعدیہ سحر نے لکھا؛
August 1, 2008 at 9:20 pm
سلام تانیہ
یہ کیا ؟؟؟ کیا میرے خود بلاگ لگانے کی خوشی میں القمر کو چھوڑ رھی ھو مجھے لگ رھا ھے میرا خود بلاگ لگانا تمہیں اچھا نہیں لگا …چلو غصہ نا کرو اب سے تم ھی لگا دیا کرنا بلاگ …جو پہلے لکھنے والے ھیں وہ تو جانتے ھیں کہ اتنا بڑا بڑا سعدیہ کیوں لکھا ھوتا ھے نئے لکھنے والوں کو مل کر کنفیوز کرتے ھیں ……
چوہدری عمران
نے لکھا؛
August 1, 2008 at 11:04 pm
بعض اوقات اچانک کی ہوئی بات اِتنی گمبھیرتا پیدا کر سکتی ہے اِس کا اندازہ نہیں تھا۔ اور از راہِ تفنن کی ہوئی بات کو اِتنا سنجیدہ ردِعمل کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔ اور بات لَکُم دینُ کُم ولیا دین کی نوبت آ جائے گی۔ تو جناب عرض یہ ہے کہ سعدیہ صاحبہ کی سحر خیزیاں تانیہ صاحبہ کے رحمانی مِزاج کے ساتھ قائم رہنی چاہیئں اور نِگہت صاحبہ بھی نسیمِ سحر کی طرح اپنے خیالات سے اذہان کو معطر کرتی رہیں۔ تبصرہ بے لاگ ہی ہونا چاہیئے لیکن کبھی کبھی الفاظ کا چُناؤ مطالب و معانی کو زیادہ سخت کر دیتا ہے۔ بِلا شبہ وہ مطلب نہیں ہوتا جو بظاہر ہوتا ہے۔ امن کے پرچارک لوگ حسااس ہوتے ہی ہیں اور جب ہر طرف حساسیت ہو احتیاط واجب ہے۔ سو تنصرہ محفوظ نہیں تو خود غیر محفوظ۔
خاور کھوکھر
نے لکھا؛
August 3, 2008 at 5:47 am
مورخه دو اگست دوهزار آٹھ کو مشرقی جاپان کے شہر اویاما کے اوکس میں مجھے میری
اس پوسٹ پر
جاپان مین مسلم لیگ نون کے کرتا دھرتاؤں نے مجھے دھمکیاں دی هیں
کہتے هیں که هم تمهارے گھر والوں کو اٹھوالیں گے ـ
کیا خیال ہے جی بیچ اس بات کے!ـ آپ صاحبان کا ؟؟
سچ لکھنے پر ؟؟
لکھنے والوں کی تنقید ضرور سننا چاهوں گا میں اپنی اس تحریر پر ـ
نگہت نسیم
نے لکھا؛
August 3, 2008 at 8:16 am
سعدیہ میں خفا بلکل نہیں تھی بلکہ بیمار تھی جو ابھی بھی ھوں اٍسی لیئے بروقت لکھ نہ سکی ۔ تم صیحع کہتی ھو کہ ھر شخص دوسرے سے الگ ھوتا ھے ۔ مجھے واقعی اتنی شدت سے اظہار نہیں کرنا چاھیئے تھا ۔ تم نے مجھے معاف کیا یہ تمہاری بڑائی ھے ۔ اللہ پاک ھم سب ایک دوسرے سے یونہی سیکھنے کی توفیق دے ۔آمین
نگہت نسیم
نے لکھا؛
August 3, 2008 at 8:30 am
بہت ھی اچھی تانیہ تبصرہ لکنے میں واقعی کوئی دوڑ نہیں ھوتی اور نہ ھی کسی سے انعام لینا ھوتا ھے ۔ میں نے وہ جملہ لکھا یوں تھا کہ سعدیہ تمھارا تبصرہ پہلے دیکھنا چاھتی تھی جو تم نے شاید پڑھا نہیں تھا اُس کا جملہ ۔ خیر اٍس سے بھی کیا فرق پڑتا ھے کہ تبصرہ پہلے میں لکھوں یا تم کہ میں نے تمہیں کبھی خود سے الگ سمجھا ھی نہیں ھے ۔ اور مجھے یہ یاد کرانے کی ضرورت بھی نہیں ھے کہ کہاں کہاں میں نے تمہیں وھی دیکھنا چاھا جو خود کے لیئے چاھا ۔ لیکن بات بہت سادہ تھی جو سعدیہ نے ابھی ابھی سمجھائی کہ ھر شخص ایک دوسرے سے الگ ھوتاھے اور جو مجھ میں جنوں ھے لکھنے کا وہ ضروری نہیں کہ سب میں ھو ۔ جواب لکھنے میں دیر اٍس لیئے ھوئی کہ میں بیمار تھی اور بروقت دیکھ نہ سکی تھی کہ تم نے کیا لکھا تھا۔
اب غلطی واقعی میری ھی طرف نکلتی ھے سو کفارے میں معافی بھی میری ھے سو میں تم سے دلی درخواست کرتی ھوں کہ اپنی دلی کشادگی کو برقرار رکھتے ھوئے واپس آؤ ۔ورنہ میں سمجھوں گی کہ تم مجھ سے ابھی تک بدگمان ھو ۔
نگہت نسیم
نے لکھا؛
August 3, 2008 at 8:34 am
خاور صاحب آپ کی بات مجھے سمجھ نہیں آئی ۔ پلیز کیا آپ کچھ تفصیل دے سکیں گے اٍس بات کی ، پھر شاید آسانی ھو جواب دینے میں ۔
نگہت نسیم
نے لکھا؛
August 3, 2008 at 9:14 am
عمران صاحب آپ کی امن کوششیں سر آنکھوں پر لیکن سعدیہ اور تانیہ میری وہ دوستیں ھیں جنہیں منانے کے لیئے مجھے ایسی سفارت کی ضرورت ابھی تک تو نہیں پڑی کہ ھم سب ایک دوسرے کے مزاج سے نہ صرف واقف ھیں بلکہ ایک دوسرے کو پیار سے تو کبھی خفگی سے سدھارتے بھی رھتے ھیں ۔ لیکن آپ کی بات سے میں واقعی متفق ھوں کہ “ جب ہر طرف حساسیت ہو تو احتیاط واجب ہے ۔اور یہ بات بھی سچ ھے کہ “ کبھی کبھی الفاظ کا چُناؤ مطالب و معانی کو زیادہ سخت کر دیتا ہے۔ بِلا شبہ وہ مطلب نہیں ہوتا جو بظاہر ہوتا ہے۔ “
دعا گو ھوں اللہ پاک ھمیں سمجھنے والوں میں رکھے ۔ آمین ۔
عمران چوہدری نے لکھا؛
August 3, 2008 at 12:58 pm
اللہ آپکو صالحین میں شمار کرے