Al Qamar Online Urdu News Network
SMS Guru
Al Qamar Online Urdu News Network
  
Al Qamar Online Blogs
| | |
RSS Feed
Important News International News News From Pakistan News from India   Special Reports and Features Columns   Science and Technology News Business News Editorial SportS News News from India, Pakistan, Bangla Desh, SriLanga, Maldives, Bhutan Showbiz News Interviews Politics News
Al Qamar Online; The largest Online Urdu News Network containing dozens of Urdu Channels From London, Denmark, US & Pakistan

ہم مسلمان ہیں بخشے جائینگے

دوسرے ممالک کے مسلمانوں کے متعلق تو میں کچھ نہیں کہہ سکتا لیکن ہموطنوں کی بھاری اکثریت کو یہ یقین ہے کہ

“ہم مُسلمان ہیں ۔ ہم بخشے جائینگے”

دلچسپ بات یہ ہے کہ دنیاوی کاموں میں ایسے لوگوں کا نظریہ بالکل اس کے بر عکس ہے ۔ ذہین سے ذہین طالب علم کے متعلق بھی یہ کوئی نہیں کہے گا کہ وہ بغیر تمام مضامین اچھی طرح سے پڑھے کامیاب ہو جائے گا ۔ یا کوئی شخص بغیر محنت کئے تجارت میں منافع حاصل کرے گا ۔ یا بغیر محنت سے کام کئے دفتر میں ترقی پا جائے گا

علامہ اقبال صاحب نے کیا خُوب کہا ہے ۔

عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے

قرآن شریف کے ذریعہ عمل کیلئے دیئے گئے تمام احکامات کے ساتھ کوئی نا کوئی شرط ہے جس کی وجہ سے کُلی یا جزوی یا وقتی استثنٰی مِل جاتا ہے سوائے نماز کے جس کی بیہوشی کی حالت کے علاوہ کسی صورت معافی نہیں ۔ ہمارے ہموطن ایسے بھی ہیں جو نماز بھی نہیں پڑھتے اور دعوٰی کرتے ہیں کہ وہ مسلمان ہیں اور چونکہ وہ سب کچھ جانتے ہیں اسلئے اُنہیں کوئی کچھ نہیں سِکھا سکتا ۔ کیا اس سائنسی دنیا میں ایسا بھی ہوتا ہے کہ ریاضی اچھی طرح پڑھے بغیر کوئی ریاضی دان بن جائے یا کیمسٹری اچھی طرح پڑھے بغیر کوئی کیمسٹ بن جائے ۔ علٰی ھٰذالقیاس ؟

اگر ہم اللہ کی کتاب کا بغور مطالعہ کریں تو ہم ہر لغو خیال سے بچ سکتے ہیں ۔

سُورت 29 ۔ الْعَنْکَبُوْت ۔ آیت 45 ۔ اتْلُ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِنَ الْكِتَابِ وَأَقِمِ الصَّلَاةِ إِنَّ الصَّلَاةِ تَنْهىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ وَلَذِكْرُ اللَّہِ أَكْبَرُ وَاللَّہُ يَعْلَمُ مَا تَصْنَعُونَ
ترجمہ ۔ جو کتاب آپ کی طرف وحی کی گئی ہے اسے پڑھیں اور نماز قائم کریں ۔ یقیناً نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے ۔ بیشک اﷲ کا ذکر بہت بڑی چیز ہے ۔تم جو کچھ کر رہے ہو اس سے اﷲ خبردار ہے

تبصرہ ۔ اگر نماز پڑھنے والا بے حیائی اور بُرائی میں ملوث رہتا ہے تو اس میں نماز کا نہیں بلکہ نماز پڑھنے والے کا قصور ہے یعنی وہ نماز صرف عادت کے طور پر یا بے مقصد پڑھتا ہے ۔ نماز میں جو کچھ پڑھتا ہے اُسے سمجھ کر نہیں پڑھتا ۔

مسلمان ہونے کی ایک شرط یہ بھی ہے اُس کا ہر عمل اللہ کے حکم کی بجا آوری میں ہو اور اللہ ہی کی خوشنودی کیلئے ہو یہاں تک کہ وہ مَرے بھی تو اللہ کی خوشنودی کیلئے ۔

سُورت ۔ 6 ۔ الْأَنْعَام ۔ آیت ۔ 162 ۔ قُلْ إِنَّ صَلاَتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلّہِ رَبِّ الْعَالَمِينَ
ترجمہ ۔ کہہ دیں کہ بالیقین میری نماز اور میری ساری عبادت اور میرا جینا اور میرا مرنا یہ سب خالص اﷲ ہی کا ہے جو سارے جہانوں کا مالک ہے

سورت ۔ 29 ۔ الْعَنْکَبُوْت ۔ آیت 2 ۔ أحَسِبَ النَّاسُ أَن يُتْرَكُوا أَن يَقُولُوا آمَنَّا وَہُمْ لَا يُفْتَنُونَ
ترجمہ ۔ کیا لوگوں نے یہ گمان کر رکھ ہے کہ ان کے صرف اس دعوے پر کہ ہم ایمان لے آئے ہیں ہم انہیں بغیر آزمائے ہوئے ہی چھوڑ دیں گے ۔

تبصرہ ۔ یہاں آزمانے سے مُراد امتحان لینا ہی ہے جس میں کامیابی کیلئے بہت محنت کی ضرورت ہوتی ہے ۔ جیسے ہر دنیاوی کام یا علم کیلئے امتحان اور مشکل مراحل میں صبر و تحمل اور محنت کی ضرورت ہوتی ہے تو پھر ہم دین کو اس سے مستثنٰی کیوں سمجھتے ہیں ؟

سورت ۔ 2 ۔ الْبَقَرَة ۔ آیت 208 ۔ يَا أَيُّہَا الَّذِينَ آمَنُواْ ادْخُلُواْ فِي السِّلْمِ كَآفَّہً وَلاَ تَتَّبِعُواْ خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ إِنَّہُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ

ترجمہ ۔ اے ایمان والو ۔ اسلام میں پورے پورے داخل ہو جاؤ اور شیطان کے راستوں پر نہ چلو ۔ بیشک وہ تمہارا کھُلا دشمن ہے

وضاحت ۔ مطلب یہ ہوا کہ اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی کے تمام احکامات کی پابندی کرو ۔

حرفِ آخر ۔ میں نے مُسلمان کے فرائض کا احاطہ نہیں کیا وہ پوری زندگی ۔ سلوک ۔ لین دین بلکہ زندگی کے ہر شعبہ کے متعلق ہیں اور قرآن شریف میں واضح طور پر مرقوم ہیں ۔

AddThis Social Bookmark Button AddThis Feed Button

8 تبصرے »

  1. احسان CHINA نے لکھا؛

    August 2, 2008 at 9:43 am

    جو لکھا ھے اس میں کوئ شک نھیں۔ جزاک اللہ۔

  2. میرا پاکستان CANADA نے لکھا؛

    August 2, 2008 at 5:58 pm

    دراصل ہم لوگ ہر کام کا شارٹ کٹ ڈھونڈنے کے عادی ہو چکے ہیں اور اس طرح کے لوگ سست اور کاہل ہوتے ہیں. ہمارا دل کرتا ہے کوئی تعویز دے یا دعا کرے اور ہمارے سارے کام پل بھر میں‌ہو جائیں. یہی وجہ ہے ہم اللہ سے بھی اسی طرح کی امید لگا لیتے ہیں. ہم تو اکثر کہتے ہیں‌کہ اللہ اتنا بھی سیدھا سادھا نہیں‌کہ وہ آپ کی ہر خطا کر معاف کر دے گا ہاں‌یہ الگ بات ہے کہ وہ بخشش پر اتر آئے. دوسرے حقوق العباد تو اس نے کہا ہے کہ وہ لوگ ہی ایک دوسرے کو معاف کریں‌گے وہ نہیں‌کرے گا.

  3. نگہت نسیم AUSTRALIA نے لکھا؛

    August 3, 2008 at 8:11 am

    احسان صاحب آپ کو بلاگ کی اٍس محفل میں خوش آمدید ۔
    میرا پاکستان آپ کی بات سے میں متفق ھوں۔
    اجمل بھائی سود و زیاں کے اٍس دور میں کیا خوب یاد دہانی ھے ۔ شکریہ

  4. افتخار اجمل بھوپال PAKISTAN نے لکھا؛

    August 3, 2008 at 9:10 am

    احسان صاحب ۔ السلام علیکم
    خوش آمدید ۔ جزاک اللہ خیرٌ

    میرا پاکستان صاحب و نگہت نسیم صاحبہ ۔ السلام علیکم
    جزاک اللہ خیرٌ

  5. سیداقبال مرتضی SAUDI ARABIA نے لکھا؛

    August 3, 2008 at 9:55 am

    اس میں کوئی شک کی گنجائش ہیں کہ نماز پڑھنے سے بخشش مشکل ہیں جب تک اُس پر عمل نہ کیا جاہے

  6. حسن مر تضی ( ایل ایل بی ) نے لکھا؛

    August 5, 2008 at 9:03 am

    احسان صاحب واقعی بہت خوب لکھا ہے، میں صرف اتنا کھوں گا کہ مسلمانوں کا یھ عقیدہ کہ ( ہم مسلمان ہیں بخش دیے جا

  7. شمس جیلانی UNITED STATES نے لکھا؛

    August 6, 2008 at 1:56 am

    افتخاراجمل بھائی اسلام علیکم
    القمر پر خوش آمدید
    میں چند دنوں سے سفر میں ہوں اس لیئے بلا گ کو نہیں دیکھ سکا.یہ آپ کی بہت اچھی کوشش ہے جاری رکھئے ساری قومیں اسی غلط فہمی میں رہیں اور ماری گئیں، .ہم انکا انجام پڑھ کر بھی کوئی سبق نہیں حا صل کر سکے اور اب تباہی کے قریب ہیں .اللہ تعا لیٰ کے نزدیک ایمان عمل کے بغیر کسی چیز کا نام نہیں ہے؟ شمس جیلانی

  8. افتخار اجمل بھوپال PAKISTAN نے لکھا؛

    August 7, 2008 at 11:14 am

    شمس جیلانی صاحب ۔ السلام علیکم
    تبصرہ کا شکریہ ۔ جزاک اللہ خیرٌ

اس تحریر پر تبصرے کی آر ایس ایس فیڈ | ٹریک بیک

اس تحریر پر تبصرہ کیجئے

Englishاردو