بِلا عُنوان۔۔۔۔۔۔۔
بات یہ ہے کہ حالات کُچھ اِتنے سنجیدہ ہیں کہ کم گوئی یاروں کا خاصہ ہو رہا ہے اِس لیئے کِسی ہلکے پُھلکے موضوع پر بحث کر لی جائے اگر طبع نازُک پر گِراں نہ گُذرے تو
اب بحث کرنے کے لئے تو یہ بھی کافی ہے کہ تعطیل میں ایک بار ‘ت‘ اور ایک بار ‘ط‘ کیوں اِستعمال کیا گیا ہے اِسی طرح کالج دور کی بات ہے کہ کیمسٹری لیب میں چٹھہ صاحب ہُوا کرتے تھے، ایک دِن کِسی نے کالج فون کیااور کہا کہ چیمسٹری کے چٹھہ سے بات کرا دیں تو آپریٹر نے کہا کہ جناب انگریزی میں سی اور ایچ اِکٹھا آ جائیں تو ‘کاف‘ کی آواز نِکلتی ہے، تو کالر نے فورا“ کہا جناب ٹھیک ہے آپ ایسا کریں کہ کیمسٹری کے کٹھہ صاحب کو بُلا دیں۔ ویسے ہے تو یہ ایک لطیفہ نُما واقعہ لیکن ایک دعوتَ سُخن بھی ہے یارانِ نُکتہ داں کے لئے، کہ زُبانوں میں اِس طرح کیوں کیا جاتا ہے، اب یہ اہلَ زُبان زیادہ بہتر بتا سکیں گے لیکن ہم جیسے بے زُبانوں کے لئے بھی کوئی پابندی نہیں ہونی چاہئے۔ اِس لئے سب بتائیں کہ ایسا کیوں ہے

































افتخار اجمل بھوپال
نے لکھا؛
August 6, 2008 at 4:36 pm
آپ یہ تو جانتے ہی ہوں گے کہ ملاوٹ سے مادہ خراب ہو جاتا ہے ۔ ٹیلیفون کرنے والے صاحب کو کہنا چاہیئے تھا
معمل کیمیاء کے چٹھہ صاحب کو بلا دیجئے ۔
سایرہ بتول،لند ن
نے لکھا؛
August 6, 2008 at 4:57 pm
لیجےء عمران صاحب ،افتخار صاحب نے حل بتا دیا(بہت خوب افتخار صاحب لیکن شایدآپ معلم لکھنا چاہ رہے تھے)
لیکن کیا کیا جاےءکہ یہ معاملہ گنبد ،ہنس اور اسی طرح کئ اور جگہ ہمیں ،تو but, putکی شکل میں اہلِ فرنگ کو بھی درپیش ہے۔
سایرہ بتول،لند ن
نے لکھا؛
August 6, 2008 at 5:00 pm
but,put
کی شکل میں اہلِ فرنگ کو بھی درپیش ہے۔
چوہدری عمران
نے لکھا؛
August 6, 2008 at 7:36 pm
شُکریہ اجمل صاحب آپ حلال المُشکلات ہو سکتے ہیں، اُردو کے معاملے میں، اور سائرہ بتول صاحبہ آپ کی بھی گہری نظر ہے زُبانی مُشکلات پر لیکن اِس کے حل کے لیے کیا کرنا چاہیے، اب دانِشِ فرنگ سے تو ہماری اور آپکی آنکھیں بقول اِقبال خیرہ نہ ہو سکیں گی اور اِن کا کام یہ ہی جانیں، ہم تو اُردو کے اندرسے ہی یہ اِشتباہات نِکال دیں تو بڑی بات ہے، اب القمر کے بابا سے اور سینئر لِکھاریوں سے درخواست ہے کہ اِس مسئلے کے حل کی طرف کوئی راہنُمای فرمائیں تاکہ یہ ڈبل سٹینڈرڈ ختم کیا جائے۔ اور پھِر بھوپال صاحب نے ایک اور نُقطہ بھی دیا ہے زُبان میں مِلاوٹ والا، یہ بھی بجائے خود ایک مسئلہ ہے، لیکن اِس حقیقت سے نظر نہیں چُرائی جا سکتی کہ سب زُبانوں میں دوسری زُبانوں کی مِلاوٹ ہوتی ہے، عبرانی، سنسکرت، عربی، فارسی، انگلش، رشیئن، فرینچ اور اردو سب ایک دوسرے کی کِسی نہ کِسی حد تک دست نِگر رہی ہیں۔
نگہت نسیم
نے لکھا؛
August 6, 2008 at 7:46 pm
میں کیا کہوں کہ مجھے اکثر فون ملتے ھیں کہ ڈاکٹر نجات سے بات کرنی ھے ۔ بہت خفگی بھری تلاش پر پتہ چلا کہ نگہت دراصل انگریزی میں “ نجات “ لکھا لگتا ھے ۔ ویسے بھی ڈاکٹر بیچارے بدنام ھیں نجات دلانے میں ۔ میرا مطلب ھے کہ کبھی بیماری سے تو کبھی زندگی سے ، حالانکہ ڈاکٹر بیچارہ خود اُن سے نجات مانگ رھا ھوتا ھے ۔
ھم آپ تو اٍس زبان کے مارے ھوئے ھیں ۔ آج کل میرے پاس ایک مریض ھے جو گونگا اور بہرہ ھے ۔ سو اُس کے لیئے سائن انٹرپریٹر کو بلایا جاتا ھے ۔ میرے دل میں بھی جانے کیا آئی سوچا اس دفعہ سائن والی سے کچھ تھوڑے بہت اشارے سیکھ ھی لوں کم از کم ھال چال ھی پوچھ لیا کرونگی ۔ یقین کریں خوشی خوشی میں نے سیکھی اور راضی ھو کر سائن والی نے سیکھائی لیکن پورے ھفتے میں اپنے مریض سے اشاروں میں یہی کہتی رھی کہ تم بہت برے ھو اور تم کبھی ٹھیک نہیں ھوسکتے جس پر وہ مجھے پہلے تو حیرانگی سے دیکھتا رھ گیا اور بعد میں اتنا خفا ھوا اور قیامت کا شور مچایا کہ باقاعدہ اُسے دوا دے کرسلانا پڑا اور پورا ھفتہ اپنی اھل زبانی کو بھگتا ۔
نگہت نسیم
نے لکھا؛
August 6, 2008 at 7:53 pm
اور دوستو مجھے یاد آیا کہ ھماری ایک جاننے والی ھوتی تھی جو پنجابی بولیں یا اردو انہیں ھر حال میں میں انگریزی ملانی ھوتی تھی جیسے “ میں بلکل ھیپی نہیں آ “ میں تینو کل بہت ریمیمبر کیتا سی “ تسی بہت سویٹ او “ ۔ ھم اُن کی کممپنی آج بھی یاد کرتے ھیں ۔ سچ تو یہ ھے کہ میرا شمار تو صرف زبان بولنے والوں میں ھوتا ھے اہل زبان میں ھر گز بھی نہیں ، سو کچھ نہ کہہ سکونگی بلکہ سیکھنے والوں میں کھڑی ملونگی ۔
چوہدری عمران
نے لکھا؛
August 6, 2008 at 8:25 pm
ڈاکٹر نجات والی اچھی کہی یہ بھی شُکر ہے کہیں ڈاکٹر احمدی نجات نہیں کہہ دیا، ویسے ہے تو وہ بھی نجات دھندہ اور آپ بھی۔ اور میرا بھی ایک بار اتفاق سے بِرمنگھم جانا ہُوا اُدھر کُچھ خواتین سے بھی مُلاقات ہُوئی، ایک خاتون سے میں نے پوچھا کہ آپکی مصروفیات کیا ہوتی ہیں تو کہتیں، کُج وی نیئں پہاپا، بس ایوری ڈے سبیرے بریڈاں تے مکھنے کی چموڑ کے کھا کِہندیاں تے وِنّڈوواں اِچ بیٹھیاں ٹاکنیاں راہنیاں۔
لیکن ان سب حالات کے باوجود کُچھ تو کہنا ہی پڑے گا ، اور خاموش بلاگرز کو بھی کُچھ لِکھنا چاہیئے۔
افتخار اجمل بھوپال
نے لکھا؛
August 7, 2008 at 8:39 pm
سائرہ بتول صاحبہ
معلم بھی ہو سکتا تھا لیکن میں نے معمل لکھا ہے جس کی انگریزی لیباریٹری ہے
افتخار اجمل بھوپال
نے لکھا؛
August 7, 2008 at 8:43 pm
نگہت نسیم صاحبہ
مجھے یاد آیا
واٹر واٹر کر مویوں بچہ ۔ انگریزیاں گھر گالے
جے کر جاندی پانی منگدا ۔ بھر بھر دیندی پیالے
چوہدری عمران
نے لکھا؛
August 8, 2008 at 2:56 am
اجمل صاحب معمل کو اگر اِسکے صحیح مخرج کے ساتھ ادا کریں تو تب ہی اِس کا مطلب سمجھ آئے گا اور یہ نِسبتا“ مُشکل ہوگا پِھر یہ کوئی شرعی مسئلہ بھی نہیں ہے سو میرے خیال میں ‘لیب‘ کہنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
چوہدری عمران
نے لکھا؛
August 8, 2008 at 3:01 am
اگر زُبانوں میں دوسری زُبانوں کو شامل نہ کیا جائے تو خاصی مُشکل پیدا ہو جائے گی۔ اُردو ہی کو لے لیں اِس میں سے اگر فارسی اور عربی کو نِکال دیں تو کیا بچے گا تو ایک آدھ لفظ انگریزی کا بھی چلنے دیں۔