تعلیمِ نِسواں اور سوات۔۔۔۔
جہاں عورتوںسے تعلیم کے حصول کے وسایل چھین لیے جائیں اُن کو معاشرے میں تیسرے درجے کا شہری رکھنے کیلئے جبر کی اِنتہا کر دی جائے، وہاں اسلام نہیں بلکہ قبلِ اِسلام کے دورِ جہالت کا نظارا ہوتا ہے، اور کہاں یہ طالبانِ اِسلام۔ کِسی بھی قوم کے خِلاف سب سے بڑی سازش ہوتی ہے کہ اُس قوم کی خواتین کو تعلیم سے دور کر دیا جائے، تاکہ آیندہ نسل کو تعلیم یافتہ ماں نصیب نہ ہو سکیں، اللہ اکبر کتنا ذہین ہے پاکِستان اور اِسلام کا دُشمن۔۔۔

































نگہت نسیم
نے لکھا؛
August 6, 2008 at 10:39 am
اٍس بات پر جتنا بھی افسوس کیا جائے کم ھے ۔
چوہدری عمران
نے لکھا؛
August 6, 2008 at 2:12 pm
جی نِگہت صاحبہ، افسوس تو ہے، لیکن ابھی تک کوئی بھی حقوقِ نِسواں کی تنظیم میدان میں نہیں آئی اور بِلخصوص وہ تنظیمیں جِن کو کوئی نہ کوئی بہانہ چاہئے ہوتا ہے کہ حکومت اور ریاست کے خِلاف کُچھ کہنے کا موقع آئے اور فورا“ بی بی سی یا سی این این کو اِنٹرویو دے ڈالیں، اب تو حکومت براہِ راست نہیں ہے، اب کیوں نہیں میدان میں کود پڑتے یہ سب، اور مِل کر اِن چند تخریبی مِزاج لوگوں کو راہِ راست پر لایا جا سکتا ہے۔ ایک گاؤں میں ایک ہی بدمعاش ہوتا ہے خواہ وہ چوہدری ہو یا کوئی سڑک چھاپ ۔ اگر سب اُس سے ڈرتے رہیں تو وہ سب کو اکیلا اکیلا لوٹتا رہتا ہے، اور اگر سب مِل کر اُس کو پکڑ لیں تو اُس کی مجال نہیں ہوتی، کِتنے ہوں گے یہ لوگ، چند سو یا چند ہزار، اور ہم کِتنے کروڑ۔
چوہدری عمران
نے لکھا؛
August 6, 2008 at 2:19 pm
ایک اور بات سب بلاگر دوستوں سے کہ میں تو غیر حاضر تھا ہی سفر پر گیا ہُوا تھا، ڈنمارک اور سویڈن سے ہو کر واپس آیا ہوں تو بلاگز کُچھ سُونے سُونے سے لگ رہے ہیں، کوئی خاص تبصرہ نہیں ہو رہا کوئی بحث نہیں نِکل رہی، لگتا ہے کہ ہر طرف امن اور شانتی ہے، تمام مسایل ختم ہو چُکے ہیں اور مصروفیت اِس قدر بڑھ گئی ہے نفسا نفسی کا عالم ہے۔ کیا کوئی ایسا واقعہ رونما ہو چُکا ہے جِس کا مُجھے علم نہیں اور یا آج کل سب تعطیلات کے مزے لے رہے ہیں،
افتخار اجمل بھوپال
نے لکھا؛
August 6, 2008 at 4:28 pm
آپ نے للکارا ہے تو بوجھل دل کے ساتھ لکھنے آ گیا ہوں ۔ آپ سے کیا کہیں ۔ آپ تو وطنِ عزیز سے بہت دور جا بسے ہیں جو وطن میں موجود ہیں وہ بھی اپنے آرام دہ گھروں میں بیٹھے خبریں دیتے رہتے ہیں ۔ ایک میرا چشم دید واقعہ سُن کر قیاس کیجئے کہ ہونا کیا چاہیئے ۔
ایک بچہ بھاگا جا رہا تھا ۔ اُس کے پیچھے ایک اور بچہ بھاگ رہا تھا ۔ آگے بھاگنے والا بچہ چِلاتا جا رہا تھا ۔ مجھے مار رہا ہے مجھے مار رہا ہے اسے پکڑو ۔ مجھے بچاؤ ۔ پیچھے بھاگنے والے بچے کا باپ اُٹھا اور اس نے اپنے بیٹے کو دو چار تھپڑ جڑ دیئے ۔ وہ رونے لگ گیا ۔ آگے بھاگنے والے بچے کے والدین نے کہہ دیا ۔ دیکھا یہ آپ کا بیٹا اسے مارتا رہتا ہے ۔ بعد میں جب مار کھانے والا بچہ چُپ ہو گیا تو اُس کے باپ نے اسے پوچھا ۔ تم اسے کیوں مار رہے تھے ۔ تو بچہ رو کر کہنے لگا ۔ میں نے تو اُسے نہیں مارا ۔ میں وہاں کھڑا پھول دیکھ رہا تھا تو اس نے پیچھے سے میرے سر پر زور سے لکڑی ماری اور پھر لکڑی پھینک کر چلاتا ہوا بھاگ پڑا ۔ جب بچے کے باپ نے بیٹے کا سر دیکھا تو خون نکل رہا تھا ۔
کوئی تو مسلمان اٹھے اور جا کر صحیح حالات معلوم کرے کہ سکول کون جلا رہا ہے اور کیوں جلا رہا ہے اور کس کو کیوں بدنام کیا جا رہا ہے ۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ وہاں کی سب خبریں چھلنی سے نکل کر آتی ہیں ؟
سایرہ بتول،لند ن
نے لکھا؛
August 6, 2008 at 4:41 pm
محترم افتخار صا حب
ھو سکتا ہے کہ جو آپ فرما رہے ہیں وہ درست ہو لیکن خواتین کے تعلیمی
اداروں کی اس گروہ کے ہاتھوں بربادی کا یہ کوئ نیا واقعہ نہیں اگر یہ سچ
نہیں یا پسِ پردہ کوئ اور بات ہے تو وہ سامنے کیوں نہیں آتی ؟
اس امر سے البتہ انکار ممکن نہیں کہ اس گروہ کی باگ ڈور کسی اور کے ہاتھ میں ھے۔ورنہ خود سوچیےء آخر اتنا اسلحہ کہاں سے آ رہا ہے؟
چوہدری عمران
نے لکھا؛
August 6, 2008 at 7:48 pm
بہت اچھے اجمل صاحب، صحیح کہا کہ تحقیق تو ہونی چاہیے کہ اس مبینہ گروہ کے پیچھے کِسکا ہاتھ ہے اور اصل سازش کا ماسٹر مائینڈ کون ہے۔ وہ جو بھی ہے لیکن کام اُدھر کے علاقے کے لوگوں سے ہی لے رہا ہے۔ وہاں کے لوکل افراد کِسی نہ کِسی حوالے سے شامِل ہیں اگر خود نہیں کر رہے تو باہر سے آنے والوں کو پناہ تو بہرحال اُنہوں نے ہی دی ہوگی۔ اور پھِر یہ وہ مسئلہ بھی نہیں ہے کہ کوئی کِسی کو کہہ دے کہ کُتا تُمہارا کان کاٹ کر لے گیا ہے تو بجائے کان کو دیکھنے کے کُتے کے پیچھے بھاگ پڑیں، وہاں سکول حقیقت میں جل رہے ہیں، اور جو بھی جلا رہا ہے پاکِستان اور اسلام کا دُشمن ہی ہے۔
چوہدری عمران
نے لکھا؛
August 6, 2008 at 7:56 pm
بتول صاحبہ بالکل ٹھیک کہا ہے آپ نے، آخر اِتنا اسلحہ آتا کہاں سے ہے، کیا اُنکے سٹورز اتنے بڑے ہیں اور اگر اُنکے ڈپو ہی اِتنے بڑے ہیں تو پھِر یہ اسلحہ اُنکے پاس آیا کہاں سے یا اسکو خریدنے کے وسایل اُنکے پاس کہاں سے آئے۔ وہ کونسے پوشیدہ ہاتھ ہیں جو اِن حالات کے ذمہ دار ہیں، کیا اِس گھر کو گھر کے چِراغوں سے ہی آگ لگ رہی ہے؟
صعرفراز ھئسساین کاےانی
نے لکھا؛
August 6, 2008 at 10:12 pm
Larran Canday Sakhtti Jandaan dii— talban — Allqaieydah Kuch bii hun Dussrey Mumalik Aeysteymall kar rahey hien. ” Jahn Tak Mieray Malumat Ka Tallaq Hey Sub Hii Larrkiyeun key School Kii Mukhalfat Nien Balkey Jiss Mukam Par Khalett Tarbiet dii Jah Rahiihoo Yea Group Iss kley Mukhalaf Hien 3 Saal ceyPakistani Schoolun Mien Qurqn Cey Jahdii Surtenn Parnii Amrika ney Bund Kii Hohi hien Aur Taleem Kiis Trh dii Jahey Aur Dii Jah rahii hey Sub Kuch Amrika Key Hukum Par Ho Rah hey. Hattah key Arbii Kutahbeen Jo Schoolun Mien Aesteymal ho rahii hien U N O cey Pres ho kar Pakistani Schoolun Mien Punchahi jah rahii hien Aeyssah Ceraf Pakistan Mien Nien Miesar Aur Dussrey Mumalik mien Jahrri hey . Ajj Tak Kissi ney Rukawat nien Peydah kii Na Kissi ney Shoor meychaeiyah Na Jahney Enn Eyllakun ka keyah Radeyammal hey. Allbettah Ettna Sahmney Hey Chakkii mien Bohrri trah Pans Chokey hien. Yea Jahddi Group ab Boht cey Mumalik cey Khofieya Toor Par Emdad ley Rahey hien Qeyu8nkey Enn Mumalak Ka Appna Mufad hey Enney Pakistan ..Afghanistan cey Gareez nien. Abb Tazzi Khaber Sahmney Ah Chokki hey ” Chin kii Magherbi Ceyrahd par 16 Police wall heylaq hohey Allzam wahn kii Mulam Tanzimm par Ahied hoha Amrika Aur Magherbii Mumalil Koob Madad Dey Rahey hien Enn Ka Kahna hey Wah Mualmanunkey Haquk nien Mill rahey. Wohi Porranah Kieal Tallban — Au Allqahieydah Tum Russieun Ko Mar Beyghao Homm Tummien Sub Kuch Deen Ghey.” Tumam Hallat Sub Key Sahmney hien. Sub Key Sahmney hey Pakistan mien Iss Tahleem ney Behrrah Gharaq kar deyah heyy Tahleem Tra trah kii Mushklatt Peydah kii jah rahii hean. Pakistani Tahlimmi Neyzam mien Ahngreyzii ko Lazzmi Qrar deyah hoha hey. 3 4 Saal cey Grammar mien Tabdilli kar dii hey Attni Mushkal grammer Dalli Gheyhii hey jo key Ahntahii Mushkal hey. Hallat Aeyssey Hien Aur Hohtey Jah rahey hien .Assan Allfaz mien Kahnah parteh hey Sub Kuch Samaj cey Bahr Hey Kohn Sachah hey Kohn Ghallat. Allah Wallo Islam Ko Beychaho Allah Wallo Pakistan ko Beychaho Allh wallo Pakistan Aur Pakistani Ahwahm key Doowah karo Pakistan ko Zarrdari And Co cey Beychaho. Alla Hafiz
چوہدری عمران
نے لکھا؛
August 7, 2008 at 3:22 am
فراز کیانی صاحب کی جتنا نام اور جِتنی تحریر سمجھ میں آئی ہے اُسکے مطابق ہی جواب ذہن میں آ رہے ہیں اور یہ اِمکان بھی موجود ہے کہ جو حِصہ سمجھ نہیں آیا اُس سے کہیں اِختلاف نہ ہو جائے لیکن بات بھائی صاحب کی صحیح ہے کورس میں تبدیلی کے۔ حقایق کو اور باِلخصوص قُرآن کریم کو تبدیل کر کے تو ظُلم کیا گیا ہے۔ اور اُردو کو ابھی تک ہماری قومی زُبان سمجھا ہی نہیں گیا، ہمارے سامنے کی ایک مثال ہے ایک مُلک میں آج سے 30 سال پہلے اِنقلاب آیا تھا، اُنہوں نے ابتدائی کُچھ عرصہ کے لیے تمام تعلیمی اِدارے بند کر دئیے اور سارے کا سارا کورس ابتدا سے لیکر انتہا تک حتہ کی ٹیکنیکل کورسز بھی اپنی لوکل زُبان میں تبدیل کیئے، اور انگریزی اور دوسرے زُبانیں صرف زُبان کے طور ر سِکھانا شِروع کر دیں۔ اب انگریزی میں تو وہ لوگ کُچھ کمزور ہیں لیکن اُنکا تعلیمی معیار ہمارے معیار سے کہیں بہتر ہے،
افتخار اجمل بھوپال
نے لکھا؛
August 7, 2008 at 10:45 am
یہ معاملہ اتنا عام فہم نہیں جتنا کہ سمجھا جاتا ہے ۔ عام لوگوں نے صرف اس وقت آنکھ کھولی جب سکول جلنے کی خبر آئی ۔ اس سوال کا جواب کون دے گا کہ آج سے دو سال قبل تک جو لوگ اپنے علاقوں میں تعلیم کا بندوبست نہ ہونے پر احتجاج کر رہے تھے کیا ان کا دماغ یکدم خراب ہو گیا ہے کہ وہ جو سکول عرصہ دراز سے موجود تھے ان کو جلانا شروع کر دیں ؟
یہاں میں یہ عرض کر دوں کہ سوات کی معیشت اور وہاں تعلیم کا بھی بندوبست وزیرستان کے مقابلہ میں بہت اچھا ہے تھا لیکن وزیرستان کے لوگ انتہائی غربت کے باوجود ڈاکٹر ۔ انجنیئر اور دوسری شاخوں میں اعلٰی تعلیم یافتہ بنتے رہے ہیں ۔
ایک اور حقیقت بھی عیاں ہے کہ پچھلی حکومت نے دینیات کے کورس میں جو پہلے ہی قلیل تھا امریکہ کے حکم پر تبدیاں کر کے اس کا حلیہ بگاڑ دیا اور اس کے ساتھ قبائلی علاقوں کی تعلیم غیرملکی اسلام دشمن این جی اوز کے حوالے کر دی ۔ کہا جاتا ہے کہ ان این جی اوز میں غیر ملکی جاسوس اور اسلام کی ہیئت کو بدلنے کے ماہر بھی شامل تھے ۔ اس پر نہ صرف قبائلی عمائدین بلکہ اس وقت کی صوبائی حکومت نے بھی احتجاج کیا تھا مگر کچھ نہ ہوا ۔ پھر جب آپریشن کے ذریعہ قبائلیوں کی ہلاکت شروع ہوئی تو این جی او کا ایک سکول جلا دیا گیا ۔
البتہ ایک بات سمجھ میں نہیں آ رہی کہ سوات میں کون سکول جلا رہا ہے کیونکہ وہاں کے لوگ اس سے انکاری ہیں ۔
لال مسجد جامعہ حفصہ کا پچھلے سال جولائی میں ہونے والا آپریشن ہمارے ذہنوں سے الگ نہیں ہوا ۔ اس کے متعلق جتنا جھوٹ حکومتی کارندوں اور ان کے پروردہ صحافیوں نے بولا اس کی مثال شاید نہ ملے ۔