Al Qamar Online Urdu News Network
SMS Guru
Al Qamar Online Urdu News Network
  
Al Qamar Online Blogs
| | |
RSS Feed
Important News International News News From Pakistan News from India   Special Reports and Features Columns   Science and Technology News Business News Editorial SportS News News from India, Pakistan, Bangla Desh, SriLanga, Maldives, Bhutan Showbiz News Interviews Politics News
Al Qamar Online; The largest Online Urdu News Network containing dozens of Urdu Channels From London, Denmark, US & Pakistan

فی الحال

ہم ابھی تک چاند کی اور چاندنی کی زد میں ہیں
زُلف کی رُخسار کی بیکار سی قدغن میں ہیں
وہ تو ساری کہکشاں اپنے جلَو میں لے چُکے
اور ہم تاروں بھری راتوں کے اِس مدفن میں ہیں

AddThis Social Bookmark Button AddThis Feed Button

9 تبصرے »

  1. نگہت نسیم AUSTRALIA نے لکھا؛

    August 7, 2008 at 7:48 pm

    بہت عمدہ ھے لیکن پہلے مصرعے میں “ اور“ یا “کی “ مجھے اضافی لگا ھے
    یوں اگر لکھیں تو کیسا رھے گا
    ہم ابھی تک چاند کی چاندنی کی زد میں ہیں
    یا پھر ایسے
    ہم ابھی تک چاند اور چاندنی کی زد میں ہیں
    میں نے ایسے ھی لکھ دیا !

  2. چوہدری عمران BELGIUM نے لکھا؛

    August 8, 2008 at 2:48 am

    جیسے بھی لِکھا اچھا لِکھا
    یہ میں نے بھی ایسے ھی لِکھ دیا تھا، اب اِسکو باقایدہ شاعری کا حِصہ بنا لیتے ہیں۔ شُکریہ

  3. نگہت نسیم AUSTRALIA نے لکھا؛

    August 8, 2008 at 3:23 am

    گریٹ ۔ پلیز اپنی شاعری ھم سب سے ضرور شیئر کیجیئے گا ۔ ھمیں اچھا لگے گا ۔

  4. چوہدری عمران BELGIUM نے لکھا؛

    August 8, 2008 at 4:19 am

    ضرور شیئر کروں گا ہے بھی بہت کم لِکھا ہوا اِس لیئے طبع نازُک پر گِراں نہیں گُذرے گا، اور ویسے بھی میں‌ اُن افراد میں سے نہی ہوں‌کہ خُود دِل کر رہا ہو اور سامعین کی پُر زور فرمایش کا کہہ دیں، مثلا“ ایک مشاعرے میں قِبلہ بابا جی بھی موجود تھے ہالینڈ کی بات ہے، اُس میں‌شریک شاعروں‌ میں ایک خاتون شاعرہ نے مُجھے مُشاعرے کے شِروع ہونے سے پہلے ہی کہہ دیا کہ آپ میرے فُلاں غزل کی فرمایش کرنا، جو میں نے کبھی سُنی بھی نہیں تھی۔ اور مُجھے طوعا“ و کرھا“ کرنی پڑی، سو یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ میں نے نِگہت صاحبہ کو ایسا کُچھ نہیں کہا۔ اور اِس تحریر کا یہ مطلب بھی نہ لیا جائے کہ میں کوئی بہت مُشاعرے اٹینڈ کرنے والا شاعر ہوں یہ میں بابا جی کے اور معاشرے کے جبر کی وجہ سے کبھی کبھی لِکھ دیتا ہوں۔

  5. نگہت نسیم AUSTRALIA نے لکھا؛

    August 8, 2008 at 5:30 am

    بھئی خوب جبر ھے

  6. صفدر ھمدانی AUSTRALIA نے لکھا؛

    August 10, 2008 at 12:20 am

    اب کیاصرف جھوٹ کو ہی شاعری کہا جائے گا اعلیٰ حضرت عمران صاحب۔جناب آپ بھوپال میں ہی رہیں اور ادھر سڈنی آنے سے گریز کریں۔ ہم تو یہاں ڈاکٹر نگہت نسیم کی میزبانی کا لطف لے رہے ہیں۔آپ کو یہ تو علم ہے کہ آپکی اور ہماری جنت میں بہت فرق ہے۔ دل چاہے تو تہران سے سڈنی تک کی لاگ بُک پڑھ لیں۔ اجمل بھوپالی صاحب سے خوب علمی موشگافیاں ہوئی ہیں۔زاغ کی صحبت سے منع بھی کیا تھا لیکن نہیں سُنی نا میری۔

  7. چوہدری عمران FRANCE نے لکھا؛

    August 10, 2008 at 3:29 am

    جناب آپ ہم سب سے بڑے شاعر ہیں اور آپ ہی فیصلہ دے سکتے ہیں کہ یہ کیا ہوتی ہے شاعری اور پھر بقول اقبال مسلم ہیں ہم وطن ہے سارا جہاں ہمارا۔ اور پھر بات نکلے گی تو پر دور تلک جائے گی۔ تیسری بات کہ زاغ صاحب تو سرکار مدت ہوئی ہے یار کو مہماں کئے ہوئے یہ تو بس ایک فطری رد عمل ہے جسکو روکنا میرے بس میں نہیں تھا۔ چلیں اب علمی چینل نہیں آن کرتے۔ شاعری کرتےہیں۔

  8. صفدر ھمدانی AUSTRALIA نے لکھا؛

    August 10, 2008 at 5:06 am

    عمران مدظلہ۔قبلہ آپ نے کیا فکری بحث کا آغاز کر دیا۔اب سوچ رہا ہوں کہ اسے شروع کرؤں یا نہیں۔کیونکہ اکثر ایسے حالات میں دوستوں سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہوں۔ آپ نے فرمیا کہ ‘‘چلیں اب علمی چینل نہیں آن کرتے۔شاعری کرتے ہپیں‘‘ گویا اعلیٰ حضرت کے نزدیک شاعری کوئی علمی بات نہیں نہیں ہے۔ حضور اگر بنظر غائت ملاحظہ کریں تو سارے علوم کی ماں ہی شاعری ہے۔ہاں یہ محل نظر رہے کہ میں شعر لکھنے کی نہیں شعر کہنے کہ بات کر رہا ہوں اور شعر ‘‘گھڑنے‘‘ کی تو ہر گز نہیں کر رہا۔ شاعری نے ہی تو اس دنیا کو خلق کیا ہے۔ذرا‘‘کُن فیکون‘‘ ایک خاص ‘‘لے‘‘ میں کہہ کر تو دیکھیں۔ اور یہ بھی تو ساری تخلیقی دنیا میں شعرا کا ہی اعزاز ہے کہ ‘‘خدائے متعال نے اپنے حبیبِ پاک پر نازل کردہ کتابِ وافی ھدایہ‘‘ میں ایک پوری سورہ شعرا کے نام سے ہی منسوب کی ہے۔ اب یہ نہ کہیئے گا کہ اس سورہ میں شعرا کے بارے میں کیا کہا گیا ہے۔ بلاشبہ جو کچھ کہا گیا ہے وہ بھی غلط ہو ہی نہیں سکتا اور ہم اپنے ارد گرد شاعری کے نام پر ‘‘نہ جانے کیا کیا لکھنے والے‘‘ بڑے بڑے نام دیکھتے ہی ہیں۔ مسلہ فقط اتنا ہے کہ ہمار سانس لینا بھی تو شاعری ہی ہے،گفتگو کرنا بھی تو نثری نظم ہے۔ فقط یہ کہنا ہے کہ ہم شاعری اور علم کو الگ کیسے کر سکتے ہیں۔
    شاعری ہر علم کی بنیاد ہے
    ہے عصا موسیٰ کا یارو
    تیشئہ فرہاد ہے
    کاش آپ ہمارے ساتھ اس خطہ زمین سڈنی میں ہوتے تو ہم آپ کو سڑکوں پر خراماں خراماں چلتی اور جھرنوں سے بہتی ہوئی شاعری دکھاتے، فی الحال یہ مطالعہ تو یہاں ڈاکٹر نگہت نسیم اور میں خود ہی کر رہے ہیں۔

  9. چوہدری عمران FRANCE نے لکھا؛

    August 10, 2008 at 6:06 am

    اللہ آپکے سڈنی کے دورے کو مزید علم افزاء کرے کاش میں بھی وہاں ہوتا اور آپکی نظر سے ان مناظر کو دیکھنے کی جسارت کرتا۔ آپ کے سامنے بات کرنا تو سورج کو چراغ دکھانا ہی ہے، میں تو تب بھی ریٹریٹ ہی کر رہا تھا اور اب آپکی سنجیدگی دیکھ کر تو بگٹٹ بھاگوں گا، ابھی میں پیرس میں ہوں اور ایک اور بلاگ لکھنا چاہتا ہوں سندھ اسمبلی کی ڈپٹی سپیکر پر یہاں سے کیسے لکھوں

اس تحریر پر تبصرے کی آر ایس ایس فیڈ | ٹریک بیک

اس تحریر پر تبصرہ کیجئے

Englishاردو