دین اور ریاست بحوالہ اسلام اور پاکستان
سُبْحَانَكَ لاَ عِلْمَ لَنَا إِلاَّ مَا عَلَّمْتَنَا إِنَّكَ أَنتَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ ۔
تیری ذات پاک ہے ہمیں کچھ علم نہیں مگر اُسی قدر جو تُو نے ہمیں سِکھایا ہے، بیشک تُو ہی جاننے والا حکمت والا ہے
کچھ سالوں سے کئی لوگ غوغا کر رہے ہیں کہ دین ذاتی معاملہ ہے اور اس کا ریاست یا ریاستی امور سے کوئی تعلق نہیں ۔ وطنِ عزیز کی حکومت اور ملک کے 70 فیصد ذرائع ابلاغ اِس نظریہ کو ہوا دے رہے ہیں ۔ مطلب یہ ہوا کہ دین ذاتی معاملہ ہے کسی کا دل چاہے اس پر چلے یا نہ چلے حکومت اس قضیئے میں نہیں پڑے گی ۔
حکومت بالخصوص جمہوری حکومت کا کام عوام کی بہتری اور انہیں انصاف ۔ خوراک ۔ پوشاک ۔ تعلیم و تر بیت ۔جان و مال کا تحفظ اور دوسری ضروریاتِ زندگی مہیا کرنا ہوتا ہے ۔ غور کیا جائے تو یہ سب عوامل بھی ذاتی معاملات ہیں کیونکہ ان کے عمل و حصول میں ہر فرد کی ذاتی خواہش اور ذاتی فیصلہ حاوی ہوتا ہے ۔ لیکن ان کیلئے حکومت قوانین وضع کرتی ہے ۔ اگر یہ قوانین دین کو نظرانداز کر کے بنائے جائیں تو وہ دین کے خلاف بھی ہو سکتے ہیں ۔ اس طرح حکومتی قانون لوگوں کے انفرادی ذاتی معاملہ یعنی دین اسلام پر عمل میں دخل اندازی کرے گا ۔ دوسرے لفظوں میں حکومت کا قانون جمہور کو ان کے اپنے دین یا مذہب پر آزادانہ عمل کرنے کے بنیادی حق سے محروم کر دے گا جو کہ جمہوری اصولوں کی نفی ہے ۔
میاں بیوی کے تعلقات سے بڑھ کر ذاتی نوعیت کسی اور عمل کی نہیں ۔ اس کے بعد ذاتی معاملہ جائیداد ہوتی ہے ۔ وکلاء جانتے ہیں کہ سب سے زیادہ مقدمات میاں بیوی کے تعلقات اور جائیداد سے جنم لیتے ہیں ۔ تو پھر کیا ذاتی معاملات ہونے کی وجہ سے حکومت اس سلسلہ میں قوانین وضع نہیں کرے گی یا دین اسلام کے خلاف قوانین بنائے گی ؟ دوسری طرف دین جسے ذاتی معاملہ کہا جاتا ہے اس میں ان دونو معاملات کے سلسلہ میں واضح احکام موجود ہیں جو کہ قرآن شریف میں بڑی وضاحت کے ساتھ آئے ہیں اور مسلمانوں پر فرض ہیں ۔ مزید یہ کہ جمہوریت میں قوانین ملک کے تمام لوگوں کی سہولت کیلئے ہوتے ہیں مگر اکثریت کے خیالات و احساسات کا خصوصی خیال رکھا جاتا ہے اور اس سے بھی کوئی اختلاف نہیں کر سکتا کہ پاکستان میں مسلمان بہت بھاری اکثریت میں ہیں ۔ چنانچہ متذکرہ جھگڑوں کا فیصلہ کرنے کیلئے اگر غیراسلامی قوانین اپنائے جائیں تو یہ جمہوری اصولوں کے منافی ہو گا ۔
دین اسلام زندگی گذارنے کا ایک جامع طریقہ ہے جو اس کائنات کے خالق و مالک نے ہمیں بتایا ہے ۔ اس میں ذاتی معاملات صرف وہ ہیں جن میں انسان کی وہ عبادت شامل ہے جس سے اللہ اور انسان کی اپنی ذات کے سوا کسی اور کا تعلق نہ ہو ۔ باقی سب معاملات اجتماعی ہیں اور ان سب کیلئے احکام قرآن و سنّت میں موجود ہیں ۔ حکومت قانون سازی کی ذمہ دار ہے اور چونکہ ملک میں بھاری اکثریت مسلمانوں کی ہے اسلئے جمہوری اصولوں کے تحت آئین اور قوانین میں مسلمانوں کے دین کا کا لحاظ رکھنا لازم ہے ۔
مزید یہ کہ پاکستان کے آئین میں اسلام کو ریاست کا دین قرار دیا گیا ہے اسلئے ساری قانون سازی قرآن و حدیث کے مطابق جمہوری ۔ عوامی اور آئینی ضرورت ہے جو کہ آج تک نہیں کی گئی اور جنہوں نے اختیارات ہوتے ہوئے نہیں کی وہ نہ صرف اللہ کے بلکہ عوام کی بھاری اکثریت کے بھی مُجرم ہیں ۔
حقیقت یہ ہے کہ دین اسلام رہبانیت سے روکتا ہے اور احسن طریقہ سے اجتماعی زندگی گذارنے کی تلقین کرتا ہے ۔ باجماعت نماز ۔ نمازِ جمعہ ۔ نمازِ عید اور حج میں جن اجتماعی روّیوں کی تربیت دی گئی ہے وہ کسی اور مذہب میں موجود نہیں ۔ چارلس اے کروہن جو یو ایس آرمی کے پبلک افیئرز کے ڈپٹی چیف کی حثیت سے جنگ کا تجربہ رکھتے ہیں اور اب امریکی جنگی یادگاروں کے پبلک افیئرز کے ڈپٹی ڈائریکٹر ہیں حج کی اجتماعیت کے فوائد سے متأثر ہو کر لکھتے ہیں
Charles A. Krohn
Formerly: Deputy Chief of Public Affairs of the US Army
Now: Deputy Director, American Battle Monuments Commission
Wrote:
Muslims are obliged to make at least one trip to the holy city of Mecca during their lifetime. This pilgrimage is known as the hajj. It is mandatory for men, voluntary but encouraged for women. A basic dress code ensures that there’s no visible difference between rich and poor, weak and powerful. This simple requirement unites the faithful.
What if every American who is able to do so made an effort to visit at least one American military cemetery overseas during his or her lifetime? Americans visiting our overseas military cemeteries will find themselves enriched in ways I can only partially explain. At a minimum, the visit will prompt a renewed, and awesome, appreciation of those who sleep in the dust below.
The notion of an American hajj has loopholes, I know. But the thought of an activity or sacrifice that draws us together has merit, and we need this coming together now more than ever
اگر دین کا معاملہ فرد پر چھوڑ دیا جائے اور دین پر عمل نہ کرنے والے کسی فرد یا گروہ کے دینی عمل میں حائل ہوں تو کس طرح اس فرد یا گروہ کو اپنا حق دلوایا جائے گا اگر قوانین غیر اسلامی ہوں گے ؟ خیال رہے کہ جمہور کے بنیادی حقوق کا تحفظ جمہوری حکومت کا اوّلین فرض ہے ۔
عملی طور پر انسان کے بنائے ہوئے ریاستی قوانین میں اجازت نہیں ہوتی کہ کوئی شخص اجتماعی معاملات میں قانون پر عمل کرے اور ذاتی معاملات میں قانون کی خلاف ورزی کرے ۔ اسلئے اگر بالفرضِ محال دین کو ذاتی معاملہ کہہ بھی دیا جائے تو کیا کسی شخص کو اجازت ہو گی کہ وہ دین پر عمل کرتے ہوئے حکومت کے قوانین کی خلاف ورزی کرے ؟ جبکہ کہ حکومتی قوانین میں دین کا کوئی عمل دخل نہیں ہوگا ؟
اصل مسئلہ یہ ہے کہ دین کو حکومت میں داخل کر دیا جائے تو حُکمران اور بہت سی قباحتوں کے علاوہ سڑک پر سے گذرنے کیلئے ہزاروں لوگوں کا راستہ بند نہیں کروا سکیں گے جن میں سیکنڑوں مریض گھنٹوں تڑپتے ۔ ننھے بچے بِلکتے اور کچھ شدید بیمار گھنٹوں محصور رہنے کی وجہ سے امبولینسوں میں مر چکے ہیں ۔ اور نہ ہی نام نہاد روشن خیالی کے پرستار عیاشیاں کر سکیں گے ۔ دین کو ریاست سے الگ کرنے کی وکالت کرنے والوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ قرآن شریف میں حکومتی امور کا کوئی ذکر نہیں ۔ دیکھتے ہیں کہ قرآن میں کیا لکھا ہے ۔
حاکم کی اطاعت
سورت ۔ 4 ۔ النساء ۔ آیت 59۔
اے ایمان والو ۔ اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی اور ان لوگوں کی جو تم میں صاحب امر ہوں پھر اگر تمہارے درمیان کسی معاملہ پر نزاع ہو جائے تو اسے اللہ اور رسول کی طرف پھیر دو اگر تم واقعی اللہ اور روزِ آخر پر یقین رکھتے ہو ۔ یہی ایک صحیح طریقۂ کار ہے اور انجام کے اعتبار سے بھی بہتر ہے ۔
حاکم کیلئے حُکم
دین کو ریاست سے الگ رکھنے کے حامی یہ تو مانتے ہیں کہ پاکستان مسلمانوں کا ملک ہے اور اس کے حاکم بھی مسلمان ہیں ۔ دیکھتے ہیں کہ مسلمان حاکم کیلئے اللہ کا کیا حکم ہے ؟
سورت ۔ 6 ۔ الانعام ۔ آیت 165 ۔
اور وہی ہے جس نے تم کو زمین میں نائب بنایا اور تم میں سے بعض کو بعض پر درجات میں بلند کیا تاکہ وہ ان (چیزوں) میں تمہیں آزمائے جو اس نے تمہیں عطا کر رکھی ہیں ۔ بیشک آپ کا رب جلد سزا دینے والا ہے اور بیشک وہ بڑا بخشنے والا اور بے حد رحم فرمانے والا ہے
سورت ۔ 22 ۔ الحج ۔ آیت 41 ۔
یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر ہم نے انہیں زمین میں صاحب اقتدار کردیا تو وہ نماز قائم کریں گے ۔ ادائے زکوٰت میں سرگرم رہیں گے ۔ نیکیوں کا حُکم دیں گے ۔ برائیوں سے روکیں گے اور تمام باتوں کا انجام کار خدا کے ہاتھ میں ہے ۔
سورت النساء میں صاحبِ امر یعنی حاکم کی اطاعت کا حُکم دیتے ہوئے ساتھ شرط لگا دی گئی ہے کہ حکمران سے اختلاف ہو جانے کی صورت میں وہ کرو جس کا اللہ اور اس کے رسول نے حُکم دیا ہے ۔ اور سورت الحج میں مسلمانوں کے حکمران کے ذمہ کر دیا گیا کہ وہ نماز قائم کرے ۔ ادائے زکٰوة میں سرگرم رہے ۔ نیکیوں کا حُکم دے اور برائیوں سے روکے ۔ اگر دین کو ریاست سے الگ کر دیا جائے گا تو یہ سب کس طرح ممکن ہو گا ؟
انصاف ۔ اللہ کا حکم اور حکومت کا جمہوری فرض بھی
جمہوریت میں انصاف حکومت کا اہم ترین فرض ہوتا ہے ۔ نظامِ انصاف حکومت کے تین اہم ستونوں میں سے ایک ہے ۔ میں وصفِ مُسلم دوم میں اس سلسلہ میں چند آیات کا ترجمہ نقل کر چکا ہوں ۔ کیا اس پر عمل کرنا اور کروانا مسلمان حکمران کا فرض نہیں ؟
اسی طرح معیشت اور معاشرت کے متعلق واضح احکامات قرآن و سنّت میں موجود ہیں ۔ سب کے حوالے دینے سے مضمون بہت طویل ہو جائے گا ۔ ان سب کا تعلق اجتماعی زندگی سے ہے ۔ پھر کیسے ممکن ہے کہ دین اسلام کو فرد کا ذاتی معاملہ قرار دیا جائے ؟
وما علینا الالبلاغ































چوہدری عمران
نے لکھا؛
August 8, 2008 at 2:14 pm
جناب اجمل صاحب آپ نے بالکل ٹھیک کہا یہ بلاگ نہیں مضمزن ہے، لیکن تبصرہ پھر بھی حاضر ہے؛ بلکہ ایک لمبی بحث کی ضرورت ہے اس موضوع پر۔ حضرت اقبال نے کہا تھا کہ جُدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی۔ اس لیے اور دین کو سوشل لیجسلیشن کے طور پر ہی لینا چاہیے، اور دوسری بات کہ حاکم وقت ہی اگر اولامر ہے تو اُسکی اطاعت واجب ہے، اُس سے اختلاف کی گُنجایش نہیں ہے، لیکن میںن خود کسی بھی بظاہر اسلامی سٹیٹ کے حُکمرانوں کو اولامر نہیں مانتا اس لیے ہم جیسے مٹی کے بنے ہوئے لوگوں کے لئے تھوڑی سی گُنجایش موجود ہے۔ اور پبر یہ بات تو روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اسلام بطور مذہب تو سب قوتوں کہ قبول ہے لیکن اسلام بطور نظام کسی کو بھی نہیں۔ حتہ کہ 95 فیصد مُسلمانوں کو بھی نہیں۔ اور پھر جب ہر مسجد میں الگ اسلام ہو تو عام آدمی کر بھی کیا سکتا ہے۔
چوہدری عمران
نے لکھا؛
August 8, 2008 at 2:32 pm
یعنی اس میں کم از کم چار موضوعات ہیں جن پر بحث ہو سکتی ہے اور باری باری ہونی چاہیے نہیں تو نہ ہمیں کچھ سمجھ آئے گا اور نہ قارئین کو۔ اور جب کسی بات کی یا نظام کی سمجھ ہی نہ آئی ہو تو اس پر عمل کیسے ہو سکتا ہے۔
افتخار اجمل بھوپال
نے لکھا؛
August 8, 2008 at 4:56 pm
عمران صاحب ۔ السلام علیکم
آپ نے لکھا ہے یہ بلاگ نہیں مضمون ہے ۔ بلاگ کیا ہوتا ہے ؟ میرے علم کے مطابق یہ مضمون بلاگ پر لکھنا درست ہے
آپ نے درست حوالہ دیا کہ جُدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی
آپ سورت ۔ 4 ۔ النساء ۔ آیت 59۔ کا ترجمہ دوبارہ پڑھیئے تو واضح ہو جائے گا کہ اُولٰی الامر کا حُکم کہاں تک ماننے کا حُکم ہے ۔ اُولٰی الامر بہرحال اُولٰی الامر ہے ۔ اگر اچھا نہیں ہے تو قوم کی کوتاہی کی وجہ سے ۔ اگر اچھا ہے تو قوم کی اچھائی کی وجہ سے ۔
یہ درست نہیں کہ اسلام بطور مذہب تو سب قوتوں کہ قبول ہے بلکہ ان قوتوں کو اسلام کسی فرد کے خالص ذاتی اور خفیہ عقیدہ کے طور پر ہو تو اعتراض نہیں ورنہ دہشتگردی بن جاتا ہے ۔
جن مُسلمانوں کو اسلام بطور نظام قبول نہیں وہ صرف نام کے مسلمان ہیں ۔
آپ کا یہ استدلال بھی جواز مانگتا ہے کہ ہر مسجد کا اسلام الگ ہے ۔ حقیقت یہ ہے اسلام اللہ کا دیا ہوا دین ہے نہ کہ مسجد کا ۔
چار موضوعات کونسے ہیں اس کی آپ نے وضاحت نہیں کی
کسی دنیاوی علم پر عمل کرنے کیلئے اسے غور سے پڑھا ۔ سمجھا جاتا ہے اور بار بار دہرایا جاتا ہے ۔ قرآن شریف کے معاملہ میں اگر کوئی ایسا نہیں کرتا تو یہ اس کا قصور ہے قرآن شریف کا نہیں
چوہدری عمران
نے لکھا؛
August 8, 2008 at 5:44 pm
چلیں پہلا ٹاپک لیتے ہیں، بلاگ یا مضمون، تو میری نظر میں، کوئی ایک مُختصر سا پیرا گراف جو دِکھنے میں تو مُختصر ہو لیکن اپنے اندر وسیع معنی رکھتا ہو اور ایک ہی موضوع پر ہو، نہ کہ ایک طویل مضمون جو کثیرالمعانی ہو۔
دوسرے ٹاپکس جو آپکی گُفتگو میں پنہاں ہیں اُن کا عُنوان درج کر دیتا ہوں
2۔ ریاستی نظام اور اسلامی نظام میں فرق اور ذمہ داریاں۔
3۔ کیا رائج سیاسی نظام اسلامی نظام ہے؟ اگر نہیں تو کیا اِسکی حمایت کرنی چاہیئے
4۔ اولی الامر کون ہے اور اُسکی اطاعت کیوں واجب ہے، اور اُسکی نامزدگی یا چُناؤ کون کر سکتا ہے، اولی الامر اور حُکمران میں فرق، پھر یہ فیصلہ کون کرے اور اُسکا علم کِس حد تک ہو یہ فیصلہ کر سکے کہ کہاں تجاوز ہو رہا ہے۔
5۔ اسلام کے خِلاف سازشیں اُنکے اسباب اور اُن کا علاج۔
اب یہ ایک طویل سلسلہ ہے گُفتگو کا جِس میں بہت سے پردہ نشینوں کے نام بھی آئیں گےتو کیا خیال ہے جاری رکھا جائے یا وِن وِن پوزیشن پر ختم کرنا ہے۔
افتخار اجمل بھوپال
نے لکھا؛
August 8, 2008 at 7:07 pm
چوہدری عمران صاحب ۔ السلام علیکم
میرے مطالعہ کے مطابق قدیم زمانہ میں کسی بحری جہاز سے متعلق یادداشتوں کو جو ایک نوٹ بُک میں لکھی جاتی تھیں لاگ کہا جاتا تھا ۔ لاگ بُک میں کچھ بھی ہو سکتا چند الفاظ یا لمبی تفصیل ۔ بعد میں ہر قسم کی یادداشتوں کو جو کسی مشین یامحکمہ یا فرد کے متعلق ہوں لاگ کہا جانے لگا ۔ لاگ کی اُردو کسی زمانہ میں بہی کھاتہ تھی جو نام کہ آپ نے شاید سُنا ہو ۔
لفظ بلاگ اصل میں ویب لاگ سے مخفف کر کے بنایا گیا ۔ ویب آپ جانتے جالے کو کہتے ہیں اور نَیٹ بھی جالے کو کہتے ہیں لیکن آجکل ویب اور انٹرنَیٹ کمپیوٹر سے متعلق ہیں ۔ جو یادداشتیں ویب پر لکھی جائیں وہ ویب لاگ یا بلاگ کہلاتی ہیں ۔
یادداشتوں میں کسی کا قول کسی کا مقالہ کوئی شعر یا لطیفہ یا کہانی یا کھانا پکانے یا کڑھائی کا طریقہ کچھ بھی ہو سکتا ہے ۔ یہ اپنے متعلق ہو سکتا ہے اور دوسروں کے متعلق بھی ۔ اپنی سوچ ہو سکتی ہے اور دوسروں کا خیال بھی ۔
اب آتے ہیں جو چار موضوع آپ نے بتائے ہیں ۔ یہ چاروں موضوع میری تحریر کے عنوان کے تحت لائے تو جا سکتے ہیں لیکن میری تحریر کے نفسِ مضمون سے باہر ہیں ۔ اگر ان کو شامل کیا جائے تو مضمون قابو سے باہر ہونے کا اندیشہ ہے کیونکہ ان کے ساتھ جب تک انسانی زندگی کے باقی شعبے نہ لائے جائیں گے بات واضح نہیں ہو گی ۔ میری تحریر کا موضوع صرف ایک نقطہ پر ہے کہ دین کو ریاست سے الگ نہیں کیا جا سکتا ۔
اولٰی الامر کی اطاعت کیوں لازم ہے میری تحریر میں درج آیت سے واضح ہے
ریاستی نظام اور اسلامی نظام کو علیحدہ رکھ کر موازنہ کریں تو میری تحریر کا مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے ۔
اگر آپ اولٰی الامر تعلیم کی بنیاد پر پرکھتے ہیں تو جارج بُش کو امریکہ کا صدر ہونے کی بجائے صدر کا چپڑاسی ہونا چاہیئے
میرا خیال ہے کہ ابھی ہم جڑ کو ہی نہیں پاسکے اس کے بعد تنے کی باری ہے اگر جڑ اور تنا مضبوط ہو گئے تو شاخیں اور پتے خود ہی ٹھیک ہو جائیں گے
چوہدری عمران
نے لکھا؛
August 9, 2008 at 12:41 am
جناب
پہلی بات یہ کہ تسلیم کہ ویب بلاگ ہی کی یہ دوسری شکل ہے، لیکن جب ہمارے پاس موقہ ہے تو ایک وقت میں ایک ہی موضوع ہونا چاہیے، دوسرے بات کہ دین کو سیاست سے جُدا کیا ہی نہیں جا سکتا، اور تیسرے بات یہ کہ اُس آیت میں خُداء مُتعال کی طرف سے حُکمِ مُطلق ہے کہ اللہ کی اطاعت کرو اور اُسکے رسُول و اولامرکی اطاعت کرو، یعنی اطاعت کے دو سیکشن ہیں، اللہ اور رسولِ پاک و اولامر، اور پِھر دوسرا حِصہ ہے کہ اگر تُم جھگڑ پڑو تو کِسی دینی مسئلے پر تو اللہ اور اُسکے رسول کی طرف رجوع کرو۔ اس کا یہ مطلب قطعا“ نہیں کہ اولامر کے ساتھ اِختلاف ہو سکتا ہے۔بلکہ اپنے جھگڑوں کو لے کر اُنکی طرف رجوع کرنا ہے۔، میں ایک سفر پر جا رہا ہوں دو دِن بعد دوبارہ آپکی خِدمت میں حاضر ہونگا، باقی ماندہ پر بات کریں گے۔ آج رات پہرحال یدھر ہی ہوں۔
افتخار اجمل بھوپال
نے لکھا؛
August 9, 2008 at 9:57 am
عمران صاحب
بات واضح ہے کہ رعایا کو اُولٰی الامر کی اطاعت کا حکم دیا گیا لیکن شرط لگا دی گئی کہ اگر اختلاف ہو یعنی اُولٰی الامر کا حکم قرآن و سنت کے مطابق نہ ہو تو قرآن و سُنت کے مطابق چلو ۔ اس سلسلہ میں آپ کسی بھی مستند تفسیر سے استفادہ حاصل کر لیجئے ۔ ابنِ کثیر ۔ تفہیم القرآن ۔ معارف القرآن ۔ الکتاب ۔ احسن البیان ۔ تفسیر رفاعی یا کوئی بھی اور مستند تفسیر دیکھ لیجئے ۔ یہاں عوام کے آپس میں جھگڑے کی بات نہیں ہو رہی ۔
اطاعت کے دو حصے یوں ہیں ۔ ایک ۔ اللہ اور اللہ کا رسول جو ایک ہی بات ہے ۔ دوسرا ۔ اُولٰی الامر جسے اللہ یا اس کے رسول کے برابر کسی صورت نہیں رکھا جا سکتا ۔
چوہدری عمران
نے لکھا؛
August 9, 2008 at 12:50 pm
اجمل صاحب میں ابھی صِرف قُرآن کریم کو لیتا ہوںتفسیر پر بعد میں آتے ہیں، ایک بُنیادی فلسفہ ہے کہ اگر میں نے کوئی مُلازم رکھنا ہوتا ہے تو اخبار میں اشتہار دیتا ہوں کہ فُلاں کام کا تجربہ اور تعلینم رکھنے والے افراد رابطہ کریں۔ حالانکہ میرا کام عام سا انڈسٹریل کام ہے، اور امرِ خُدا جِتنا اہم اور پاکیزہ ہوگا صاحبِ امر بھی اُتنا ہی اہم، تعلیم یافتہ اور پاکیزہ ہونا چاہیے، ہم اپنے چھوٹے سے دُنیاوی کام کے لیئے تو ہر چیز کا دگیان رکھیں اور وہ خالِقِ کُل کیا کِسی ایسے شخصکو اپنی نیابت سونپ دے گا جِس سے ہم آپ جیسے افراد اُٹھ کر جھگڑا کرنا شِروع کر دیں، انتہائی غیر منطقی اور غیر عقلی بات ہے، اولامر اور حُکمران یہ دو مُختلف لوگ ہیں۔ یہ بات ذہن میں رہے۔
اور پھِر بُش کے چپڑاسی ہونے کی بات، تو مُجھے یاد ہے کہ جب ریگن حُکمران تھا اُنکا تو ہم سکول لیول میں تھے اور ہم نے جلوس نِکالا تھا جِسمیں یہ نعرہ تھا کہ ریگن کو کُتا کہنا، کُتے کی توہین ہے، لیکن ہمارے کھوکھلے نعرے تب تک معنی خیز نہیں ہو سکتے جب تک ہم حُکمران کی بجائے اولامر کی طرف رجوع نہیں کرتے۔
افتخار اجمل بھوپال
نے لکھا؛
August 9, 2008 at 2:47 pm
چوہدری عمران صاحب
جو بنیاد آپ بتا رہے ہیں اس کے مطابق تو اولٰی الامر اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی یا زیادہ سے زیادہ سیّدنا محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم ہو سکتے ہیں تو گویا عوام کو ان سے احتلاف ہو گا تو وہ اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی اور سیّدنا محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم کی طرف رجوع کریں گے ۔
آپ کی دلیل کے مطابق اور جیسا کہ آپ پہلے لکھ چکے ہیں کہ ہر مسجد کا اسلام الگ ہے فی زمانہ کوئی اولٰی الامر موجود نہیں ہے ۔
میں آپ کی دلچسپی کا مشکور ہوں لیکن اس پر مزید بحث کرنے کا متحمل نہیں ہوں کیونکہ یہ بحث نفسِ مضمون سے باہر ہو رہی ہے ۔
چوہدری عمران
نے لکھا؛
August 10, 2008 at 2:58 am
جناب اجمل صاحب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مرسل اعظم ہیں شہنشاہ انبیاء ہیں لیکن جیسا قرآن میں بھی واضح ہے کہ اولی الامر ان سے علیحدا کوئی شخصیت ہی ہو سکتی ہے اور دوسرے بات کہ زمین کبھی بھی حُجت خُدا سے خالی نہیں رہتی۔ لیکن جب بحث ختم تو تنصرہ بھی ختم۔
وما علینا الا بلاغ
افتخار اجمل بھوپال
نے لکھا؛
August 10, 2008 at 8:37 am
چوہدری عمران صاحب
اگر مجھ سے کوئی گستاخی ہو گئی ہے تو میں معذرت خواہ ہوں ۔
میری تحریر کا لُبِ لباب ہے کہ دین کو ریاست سے الگ نہیں کیا جاسکتا ۔ دوسرے عوامل یا تفاصیل جن کا تعلق دین یا ریاست سے ہے وہ الگ موضوعات ہیں ۔ بحث اس نقطہ پر ہو سکتی ہے کہ دین کو ریاست سے الگ ہونا چاہیئے یا نہیں ۔