موت ۔۔۔۔۔مصیبت بھی اور نعمت بھی
برادر عالی قدر و محترم نصر ملک صاحب۔
موت ایک ایسی حقیقت ہے جس کو مختلف لوگ اپنے اپنے انداز سے دیکھتے ہیں۔ لیکن امر حق یہی ہے کہ مؤمن کے لئے یہ دنیا ایک قید خانہ ہی ہوا کرتا ہے جس رہائی امر الٰہی سے ملا کرتی ہے۔۔۔گویا مردِ حق پرست کو نعمت مل گئی اور جن کو متوفی سے جدائی ملی ان لواحقین کے لئے ابتلا۔ اس موقع پر جہاں میں آپ سے آپ کے والد مقدس کے ارتحال پر تعزیت گزار ہوں، ساتھ ہی انکا ایک پیغام بھی آپ کو سنائے دیتا ہوں جو ہر مؤمن کے دل کی صدا ہے کہ
حب حیدر ہے زندگی اپنی
اس سے قائم ہے تازگی اپنی
قبر میں انک آمد آمد ہے
موت تو عید ہو گئی اپنی۔
اللہ کریم آپکے والد ماجد کو سایہ ختمی المرتبت میں مامؤن و شادکام رکھے اورآپکو اس صدمہ کو صبر جمیل کے ساتھ برداشت کرنے کی سعی عطا فرمائے اور آپکے پورے حانوادے کو اپنے اجداد عالی کے نقش قدم پر قائم رکھے۔۔۔۔۔آمین۔
بجا رہا ہے زمانے میں دف حسین کا غم
ہر آدمی سے کہے لا تخف حسین کا غم
جو رو رہے ہیں سر عاقبت نہ روئیں گے
اٹھا رہا ہے فلک پر حلف حسین کا غم
حسب نسب کی طہارت بھی شرط ہے حسنی
کہاں کرے گ ا کوئی نا خلف حسین کا غم۔































سائیں رحمت ناتھن شاہی
نے لکھا؛
August 13, 2008 at 2:37 am
محترم نصر ملک صاحب
آپ کے والد محترم کے انتقال پر ملا ل پر آپکی خدمت مین دل کی گہرائیوں سےتعزیت پیش کرتا ہوں
نصر ملک ۔ کوپن ہیگن ۔ ڈنمارک
نے لکھا؛
August 13, 2008 at 3:13 am
برادر عالی مقام محترم سید مصباح حسین صاحب
میرے والد ماجد کی وفات پر آپ نے اپنے تعزیتی پیغام میں جن خیالات و جذبات کا اظہار فریایا ہے وہ مجھ غریب الدیار کے لیے ایک بہت بڑا سہارا ہیں ۔ حضور خاتم المرسلین اور پجنتن پاک کے صدقے اللہ تعالیٰ میرے والد ماجد کو سایہ ختمی المرتبت میں مامؤن و شادکام رکھے ۔ آمین ۔
میرے والد صاحب کی زندگی میں جب بھی خاندان کا کوئی فرد وفات پا جاتا یا اُن کو کسی کی رحلت کی خبر ملتی تو وہ صبر کرنے کی تلقین کرتے ہوئے خود یہ شعر مسلسل پڑھتے رہتے تھے ؛
صبر شبیر یاد آتا ہے
اپنا مرتا ہے جب کبھی کوئی ۔
آج یہ شعر میرے ہونٹوں پر ہے اور میں اپنے مولا کے حضور حاضر‘ صبر کا متمنی ہوں ۔
آپ کے پیغام نے مجھے حوصلہ دیا ہے ۔ جزاک اللہ ۔
آپ کا خاکسار
نصر ملک ۔