کُل و نفسُُ ُذائقہ الموت
موت ہی ایک ایسی حقیقت ہے جِسکا سامنا ہر ذی روح کو کرنا ہے، اور ابھی تک بہت سے لوگ اس حیقت کو جانتے ہوئے بھی اسکو ماننے پر تیار نہیں ہیں اور اپنے آپ پر، اپنے اِختیار پر، اپنی قوت پر اور اپنے اقتدار پر اِتنے نازاں ہیں کہ اُنکو باقی ساری مخلوق کمتر نظر آتی ہے۔ اور خود کوتکبر کی اُس منزل پر فائز کر چُکے ہیں کہ لوگوں کو زندگی اور موت دینے کے دعوے بھی کرنا شروع کر دیئے گئے۔ کشمیر، افغانستان، فلسطین، عراق، افغانستان یا جارجیہ، ہر طرف یہی صورتِحال ہے۔ آزادیِ انساں و اظہار جو کہ فِطری حق ہے اُسکو غصب کر لیا گیا، زندگی کے ہر شعبے میں خواہ سیاست ہو یا سماج، فن ہو یا ادب، ایسے چھوٹے چھوٹے فرعون ہر جگہ مِل جاتے ہیں۔
انسان خُدا بننے کی کوشش میں ہے مصروف،،، لیکن یہ تماشہ بھی خُدا دیکھ رہا ہے۔
ہم سب نصر ملک صاحب کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ اللہ انہیں صبرِ جمیل عطا کرے اور اُنکے مرحوم والد کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے۔۔ آمین۔































زرقا مفتی نے لکھا؛
August 12, 2008 at 11:23 am
انا للہ و انا الیہ راجعون
اللہ سے دُعا ہے کہ وہ مرحوم کی مغفرت فرمائے اور لواحقین کو صبرِ جمیل عظا کرے آمین
جمیل احمد خان
نے لکھا؛
August 12, 2008 at 2:39 pm
محترم نصر ملک صاحب !
آپ کے والد کےانتقال کی خبر پڑھ کر بہت افسوس ہوا
انا للہ و انا الیہ راجعون
ہر شے اللہ کی طرف سے ہے اور اسی کی طرف لوٹ رہی ہے .
اللہ پاک انہیں اپنے جوار رحمت میں جگہ دے ، انکے درجات بلند کرے اور انکے لئے وہ جہاں بہتر کرے ۔ ۔ ۔ (آمین)
آپ اور آپ کے اہل خانہ کو صبر دے اور ہمت دے .(آمین)
سایرہ بتول،لند ن
نے لکھا؛
August 12, 2008 at 9:16 pm
محترم نصر ملک صاحب
دلی تعزیّت قبول فرمائیں۔
اللّہ آپ کے والدِ محترم کی مغفرت فرماےء۔
آمین۔
فرحت حسین
نے لکھا؛
August 21, 2008 at 11:33 pm
دھشت گردی اور اسلام آباد
صصوبہ سرحد اور قبائلی علاقہ جات جل رہے ہیں مگر خدا کا شکر اسلام آباد، جی ایچ کیو، ایوان صدر، وزیراعظم ہاؤس اور ان میں رہنے والے خیریت سے ہیں اور معمول کی زندگی گذار رہے ہیں. خدا کا شکر کہ ان علاقوں میں کسی کو کچھ ہونے سے اسلام آباد میں کسی کو کچھ نہیں ہوتا! گو کہ دنیا والے سمجھ رہے ہیں کہ اسلام آّباد پاکستان کا دارالخلافہ ہے اور یہ علاقے پاکستان کا حصہ ہیں!
کیا واقعی ایسا ہے؟ کیا ان حضرات کو طعنہ دینے اور ان کی غیرت کو چیلنج کرنے سے بھی ان کی غیرت نہیں جاگتے؟ ؛ کیا اسلام آباد والے واقعی صوبہ سرحد قبائلی علاقہ جات اور بلوچستان کو پاکستان کے جزء لاینفکّ کے عنوان سے رکھنا چاہتے ہیں؟ اگر نہیں چاہتے تو اس کا اعلان کرکے لاکھوں انسانوں کو کیوں قربان کررہے ہیں؟
اگر صوبہ سرحد قبائلی علاقہ جات اور بلوچستان کو پاکستان کے جزء لاینفکّ کے عنوان سے رکھنا چاہتے ہیں تو کیا ان انہیں سب سے پہلے فوج اور سیکورٹی ایجنسیوں کو طالبان عناصر سے پاک کرنے کے لئے اقدام نہیں کرنا چاہئے؟ وہی فوجی اور سرکاری ایجنٹ جو دہشت گردوں کو خفیہ اطلاعات دیتے ہیں، انہیں واہ کینٹ پہنچاتے ہیں؛ انہیں سپیشل سروسز ٹریننگ سینٹر تربیلا تک پہنچاتے ہیں، انہیں جرنیلوں تک کی نقل و حمل کی اطلاع دیتے ہیں؟ یہ لوگ کون ہیں جو ماڈل ٹاؤن میں ایک گھر کے اندر قائم انسداد دہشت گردی کے مرکز کی اطلاع بی سروپا دہشت گردوں تک پہنچاتے ہیں اور پھر اس مکان کا پورا نقشہ بھی انہیں فراہم کرتے ہیں اور انہیں ویک پوائنٹس کا بھی پتہ بتاتے ہیں؟
یوں لگتا ہے کہ وہ ادارہ جو حکومت پاکستان کہلاتا ہے ایک حادثے کا انتظار کررہی ہے اور وہ حادثہ یہ ہے کہ بلوچستان اور سرحد اس ملک سے الگ ہوجائیں اور پنجاب پاکستان بن جائے خدا جانتا ہے کہ سرکار کی عدم سنجیدگی اور دہشت گردوں کی جرأت و جسارت دیکھ کر یہی نظر آتا ہے کہ اس ملک کی تقسیم کا منصوبہ عملدرآمد کے آخری مراحل میں ہیں اور اسلام آباد والے بھی اس منصوبے کا حصہ ہیں اور بہت جلد پشتونستان اور آزاد بلوچستان کے پرچم لہرانے والے ہیں!
اگر ایسا نہیں ہے تو پھر ثابت کیا جائے
فوج دہشت گردوں کو کچلنا نہیں چاہتی یہ ہم نے دیکھ لیا ۔۔۔ ہم نے دوآبہ میں باوردی ایف سی اہلکاروں کی سڑک پر سجی ہوئی لاشیں بھی دیکھیں جبکہ یہ واقعہ ریاست کے خلاف اعلانیہ اور عملی بغاوت کے زمرے میں آتا تھا مگر وہاں جب آپریشن ہوا تو اس میں 15 دہشت گرد مارے جانے کا دعوی کیا گیا جبکہ 40 اہلکار اس لڑائی میں بھی مارے گئے.
ریاست اتنی کمزور ہوچکی ہے کہ ہنگو سے اغوا ہونے والے سرکاری اہلکاروں نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ وہ بڑے آرام سے ہیں اور اب طالبان سے آزادی کو نہیں بلکہ طالبان کی صفوں میں شامل ہوکر ریاست کے خلاف لڑنے کو ترجیح دیں گے!
اسلام آباد والے آرام سے ہیں مگر واہ کینٹ کچه دور نہیں ہے!
صوبہ سرحد اور قبائلی علاقہ جات جل رہے ہیں مگر خدا کا شکر اسلام آباد، جی ایچ کیو، ایوان صدر، وزیراعظم ہاؤس اور ان میں رہنے والے خیریت سے ہیں اور معمول کی زندگی گذار رہے ہیں. خدا کا شکر کہ ان علاقوں میں کسی کو کچھ ہونے سے اسلام آباد میں کسی کو کچھ نہیں ہوتا! گو کہ دنیا والے سمجھ رہے ہیں کہ اسلام آّباد پاکستان کا دارالخلافہ ہے اور یہ علاقے پاکستان کا حصہ ہیں!
کیا واقعی ایسا ہے؟ کیا ان حضرات کو طعنہ دینے اور ان کی غیرت کو چیلنج کرنے سے بھی ان کی غیرت نہیں جاگتے؟ ؛ کیا اسلام آباد والے واقعی صوبہ سرحد قبائلی علاقہ جات اور بلوچستان کو پاکستان کے جزء لاینفکّ کے عنوان سے رکھنا چاہتے ہیں؟ اگر نہیں چاہتے تو اس کا اعلان کرکے لاکھوں انسانوں کو کیوں قربان کررہے ہیں؟
اگر صوبہ سرحد قبائلی علاقہ جات اور بلوچستان کو پاکستان کے جزء لاینفکّ کے عنوان سے رکھنا چاہتے ہیں تو کیا ان انہیں سب سے پہلے فوج اور سیکورٹی ایجنسیوں کو طالبان عناصر سے پاک کرنے کے لئے اقدام نہیں کرنا چاہئے؟ وہی فوجی اور سرکاری ایجنٹ جو دہشت گردوں کو خفیہ اطلاعات دیتے ہیں، انہیں واہ کینٹ پہنچاتے ہیں؛ انہیں سپیشل سروسز ٹریننگ سینٹر تربیلا تک پہنچاتے ہیں، انہیں جرنیلوں تک کی نقل و حمل کی اطلاع دیتے ہیں؟ یہ لوگ کون ہیں جو ماڈل ٹاؤن میں ایک گھر کے اندر قائم انسداد دہشت گردی کے مرکز کی اطلاع بی سروپا دہشت گردوں تک پہنچاتے ہیں اور پھر اس مکان کا پورا نقشہ بھی انہیں فراہم کرتے ہیں اور انہیں ویک پوائنٹس کا بھی پتہ بتاتے ہیں؟
یوں لگتا ہے کہ وہ ادارہ جو حکومت پاکستان کہلاتا ہے ایک حادثے کا انتظار کررہی ہے اور وہ حادثہ یہ ہے کہ بلوچستان اور سرحد اس ملک سے الگ ہوجائیں اور پنجاب پاکستان بن جائے خدا جانتا ہے کہ سرکار کی عدم سنجیدگی اور دہشت گردوں کی جرأت و جسارت دیکھ کر یہی نظر آتا ہے کہ اس ملک کی تقسیم کا منصوبہ عملدرآمد کے آخری مراحل میں ہیں اور اسلام آباد والے بھی اس منصوبے کا حصہ ہیں اور بہت جلد پشتونستان اور آزاد بلوچستان کے پرچم لہرانے والے ہیں!
اگر ایسا نہیں ہے تو پھر ثابت کیا جائے
فوج دہشت گردوں کو کچلنا نہیں چاہتی یہ ہم نے دیکھ لیا ۔۔۔ ہم نے دوآبہ میں باوردی ایف سی اہلکاروں کی سڑک پر سجی ہوئی لاشیں بھی دیکھیں جبکہ یہ واقعہ ریاست کے خلاف اعلانیہ اور عملی بغاوت کے زمرے میں آتا تھا مگر وہاں جب آپریشن ہوا تو اس میں 15 دہشت گرد مارے جانے کا دعوی کیا گیا جبکہ 40 اہلکار اس لڑائی میں بھی مارے گئے.
ریاست اتنی کمزور ہوچکی ہے کہ ہنگو سے اغوا ہونے والے سرکاری اہلکاروں نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ وہ بڑے آرام سے ہیں اور اب طالبان سے آزادی کو نہیں بلکہ طالبان کی صفوں میں شامل ہوکر ریاست کے خلاف لڑنے کو ترجیح دیں گے!
اسلام آباد والے آرام سے ہیں مگر واہ کینٹ کچه دور نہیں ہے!
فرحت حسین
نے لکھا؛
August 21, 2008 at 11:37 pm
معاف کرنا میں نے ٹائٹل دیکھے بغیر اپنا تبصرہ شامل کیا. معذرتخواہ ہوں اور میں بھی تعزیت عرض کرتا ہوں مرحوم و مغفور کے انتقال پر ملال پر . اللہ انہیں اپنی جوار رحمت اور مقام علیین میں جگہ دے. آمین
عمران چوہدری
نے لکھا؛
August 22, 2008 at 10:13 pm
ماشاء اللہ، فرحت بھائی آپکو بلاگ میں خُوش آمدید کہتے ہیں اور جن حقایق سے آپ نے پردہ اٹھایا ہے بہت تلخ حقایق ہیں۔
نگہت نسیم
نے لکھا؛
August 23, 2008 at 3:33 am
محترم فرحت صاحب آپ کو بلاگ کی محفل میں ھم سب کی طرف سے خوش آمدید !
عباس انور
نے لکھا؛
August 26, 2008 at 12:55 am
i dont now how can i type urdu
عباس انور
نے لکھا؛
August 26, 2008 at 12:59 am
can i also attech file in this box if its posibale than i can also type in inpage urdu software than i will send my coments in urdu anybody tell me
عمران چوہدری
نے لکھا؛
August 28, 2008 at 7:43 am
جناب عباس انور