Al Qamar Online Urdu News Network
SMS Guru
Al Qamar Online Urdu News Network
  
Al Qamar Online Blogs
| | |
RSS Feed
Important News International News News From Pakistan News from India   Special Reports and Features Columns   Science and Technology News Business News Editorial SportS News News from India, Pakistan, Bangla Desh, SriLanga, Maldives, Bhutan Showbiz News Interviews Politics News
Al Qamar Online; The largest Online Urdu News Network containing dozens of Urdu Channels From London, Denmark, US & Pakistan

دینیات ۔ سکول ۔ مدرسہ ۔ دہشتگرد اور ہموطن

گرچہ بُت ہیں جماعت کی آستینوں میں
مُجھے ہے حُکمِ اذاں لا الہ الا اللہ

وطن عزیز میں فی زمانہ جس موضوع پر سب سے زیادہ بات کی جاتی ہے لیکن عملی طور پر اصلاح کی کوشش مفقود ہے مدرسہ اور دہشتگرد ۔ میں ان پر اِن کے پسِ منظر کے ساتھ مختصر اظہارِ خیال کرنے کی جراءت کر رہا ہوں ۔ اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی کی بارگاہ میں استدعا ہے کہ اس موضوع کے تحت لکھنے میں میری رہنمائی اور مدد فرمائے ۔ قارئین سے درخواست ہے کہ میرے حق میں دعا فرمائیں ۔ میں پچھلے ساٹھ سال میں اپنے تجربات اور مشاہدات کا مختصر سا بیان کروں گا لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہموطنوں کی اکثریت کی بھی یہی کہانی ہے ۔ اس تحریر کو میں نے مندرجہ ذیل موضوعات کے تحت تقسیم کیا ہے

۔ 1 ۔ سرکاری سکولوں
۔ 2 ۔ عملی زندگی
۔ 3 ۔ جاہل ملّا
۔ 4 ۔ جاہل ملّا کہاں سے آئے
۔ 5 ۔ فرقہ واریت
۔ 6 ۔ کیا مدرسوں میں پڑھے جاہل اور دہشتگرد ہوتے ہیں ؟

۔ 1 ۔ سرکاری سکولوں

چھٹی اور ساتویں جماعت میں ہمارے جو دینیات کے استاذ تھے اُن کی مولوی ہونے کی نشانی صرف اُن کی داڑھی تھی ۔ دینی مدرسہ سے پڑھے ہوئے ہونا تو کُجا میرا نہیں خیال کہ وہ کچھ پڑھے لکھے تھے کیونکہ اُنہوں نے کبھی ایک آیت بھی ہمیں نہیں پڑھائی تھی ۔ ایک لڑکے کو کہتے پڑھو ۔ وہ کھڑا ہو کر دوسرے پارہ کی بلند آواز سے تلاوت شروع کر دیتا ۔ تھوڑی دیر بعد استاذ کہیں چلے جاتے اور طلباء اپنی مرضی سے پڑھتے رہتے ۔ دو سال ہم صرف دوسرا پارہ پڑھتے رہے ۔ میں آٹھویں جماعت میں دوسرے سکول چلا گیا ۔ وہاں کے استاذ بھی کسی دینی مدرسہ کے پڑھے ہوئے نہیں تھے ۔ وہ کسی لڑکے کو پڑھنے کا کہہ کر خود کرسی پر دونوں پاؤں رکھ کر اکڑوں سو جاتے ۔ لڑکوں کے شور سے جاگ جاتے تو جو سامنے ہوتا اس کی پٹائی ہو جاتی ۔ ایک دن ایک لڑکا نیکر پہن کر آگیا ۔ استاذ اسے شیطان کا بچہ شیطان کا بچہ کہتے گئے اور چھڑی سے پٹائی کرتے گئے ۔ اس کی ٹانگوں پر نیل پڑ گئے ۔ وہ لڑکا ذہین محنتی اور خوش اخلاق تھا ۔ وہ سکول چھوڑ گیا ۔ وہ کمشنر راولپنڈی کا بیٹا تھا ۔ سکول والوں نے استاذ کی چھٹی کر دی ۔

پھر مولوی عبدالحکیم صاحب کو کنٹریکٹ پر رکھا گیا ۔ وہ مدرسہ حقانیہ اکوڑہ خٹک کے فارغ التحصیل تھے اور راولپنڈی کی پانچ بڑی مساجد میں سے ایک کے خطیب تھے ۔ انہوں نے نویں جماعت میں سلیبس کے علاوہ ہمیں اچھا انسان بننے کے اصول بھی قرآن اور سنّت کی روشنی میں بڑی اچھی طرح سمجھائے ۔ ایک دن پڑھانے کے دوران ایک لڑکا شرارتیں کر رہا تھا ۔ دو بار منع کرنے پر بھی منع نہ ہوا تو مولوی صاحب نے اس کی پٹائی کر دی ۔ اگلے دن کلاس میں مولوی صاحب نے اس لڑکے کے پاس جا کر کہا بیٹا غصہ انسان کو پاگل کر دیتا ہے اسی لئے حرام ہے ۔ مجھے غصہ آگیا تھا اور میں نے آپ کی پٹائی کر دی مجھے معاف کر دو ۔ مولوی صاحب کے اس کردار پر لڑکا زار و قطار روتا ہوا مولوی صاحب کے قدموں میں گر گیا ۔ مولوی صاحب نے اسے گلے لگایا اور دلاسہ دیا ۔ اس واقعہ کے بعد وہ جماعت کا شریر ترین لڑکا ایک سُلجھا ہوا محنتی طالب علم بن گیا ۔ ایک سال بعد مولوی عبدالحکیم صاحب نے سکول کے ایک خلاف دین فنکشن میں شامل ہونے سے انکار کر دیا چنانچہ ان کی چھٹی ہو گئی ۔

دسویں جماعت میں جو صاحب دینیات کے استاذ مقرر ہوئے انہوں نے ہمیں دینیات بالکل نہیں پڑھائی صرف شعر سناتے رہے اور کبھی کبھی افسانے ۔ چھوٹی سی داڑھی رکھی تھی شائد اسی لئے دینیات کے استاذ بنا دیئے گئے ۔ ارباب اختیار سے اپنی پریشانی کا اظہار کیا تو بتایا گیا کہ فکر کی ضرورت نہیں اسلامیات کا امتحان نہیں ہو گا ۔

AddThis Social Bookmark Button AddThis Feed Button

2 تبصرے »

  1. شمس جیلانی UNITED STATES نے لکھا؛

    August 23, 2008 at 6:18 pm

    اجمل بھائی اسلام علیکم و رحمہ
    مجھے آج پتہ چلا کہ آپ پاکستان میں ہیں؟ میں تو آپ کو انڈیا میں سمجھ رہاتھا۔ آپ نے بہت اچھا مسئلہ چھیڑا ہے۔ اس پر دل کھول کر لکھئے ۔ کہ ہمارا آصل مسئلہ جہالت ہی ہے۔ کیونکہ اپنے برانڈ کو اسلام سمجھتا ہے۔اور دوسرے کو کافر یہ ہی منافرت کی وجہ ہے۔ آپ نے اکوڑہ خٹک نام لے کر مجھے میرا بچپن یاد دلا دیا۔ جبکہ حضرت مہر بان علی شاہ رحمہ اللہ جو کہ اسدور کے قطب تھے، انہوں ننے مجھے میرا نام عطا فر مایا تھا۔ جب لوگوں نے کہا یہ نام جلالی ہوتا ہے بدل دیجئے تو فر مایا کہ نام تو یہ ہی رہے گا اس کے ساتھ احمد لگا لو جمالی ہو جائیے گا۔ اب وہ لوگ کہا صرف اکو ڑہ ختک کانام رہ گیا۔میری انس سو چھتیس میں ان سے آخری ملا قت ہوئی تھی اور مجھ سے بہت محبت فر ماتے تھے ۔ پھر سنا کہ وہ گوشہ نشین ہو گئے اور انتقال فر ماگئے۔ جن مدرسوں میں سات سو سالہ پرانا درس َ نظامیہ ابھی تک جاری ہو وہ اس دورکا ساتھ نہیں دے سکتےکونکہ اسلام قیامت کے لیئے ہے؟ شمس جیلانی

  2. افتخار اجمل بھوپال PAKISTAN نے لکھا؛

    August 26, 2008 at 4:04 pm

    محترم شمس جیلانی صاحب ۔ السلام علیکم
    نوزش کیلئے مشکور ہوں ۔ خوش ہوں کہ مجھے بھی کوئی رہنما ملا ۔ آپ کی قطب صاحب سے آخری ملاقات میری پیدائش سے قبل ہوئی تھی ۔ سبحان اللہ ۔ تو گویا میں آپ کے سامنے بچہ ہوا ۔ میں اپنے آپ کو بوڑھا سمجھ بیٹھا تھا

اس تحریر پر تبصرے کی آر ایس ایس فیڈ | ٹریک بیک

اس تحریر پر تبصرہ کیجئے

Englishاردو