۔ 2 ۔ عملی زندگی میں دینیات
میں نے 1983ء میں بوائے آرٹیزن کے لئے 1200 فرسٹ ڈویژن میٹرک پاس امیدواروں کا انٹر ویو لیا ۔ ہر امیدوار سے انگریزی ۔ حساب اور دینیات کا ایک ایک سوال پوچھا ۔ سوائے تھوڑے سے امیدواروں کے کسی کو معلوم نہیں تھا کہ خلفائے راشدین کیا ہوتا ہے ۔ اکثر لڑکوں کو نماز کا صحیح طریقہ معلوم نہ تھا ۔
ایک امیدوار نے دینیات کے سوال کا بہت اچھا جواب دیا تو میں نے مزید سوال کئے جن کے اس نے فرفر جواب دیئے ۔ ایڈمن آفیسر نے میرے کان میں بتایا کہ یہ لڑکا عیسائی ہے تو میں نے لڑکے سے پوچھا کہ آپ عیسائی ہوتے ہوئے دینیات پڑھتے ہیں ؟ کہنے لگا بائبل کا کورس بہت زیادہ ہے ۔ دینیات کی چھوٹی سی کتاب ہے اس لئے میں نے دینیات کا مضمون رکھا تاکہ اچھے نمبر آ جائیں ۔
بارہ دن میں انٹرویو ختم ہوئے تو لیبر یونین کے صدر جو سیّد ۔ ۔ ۔ شاہ تھے میرے پاس آئے اور کہا سر آپ نے ظُلم کیا ہے ۔ دینیات نہ کوئی پڑھتا ہے نہ کوئی پڑھاتا ہے ۔ میٹرک میں دینیات میں فیل ہونے کے باوجود لڑکے پاس کئے جاتے ہیں ۔ کوئی سائنس وائنس کی بات کرتے تو ٹھیک تھا ۔ میں نے اُنہیں بتایا کہ جنہوں نے سائنس اور حساب کے سوالوں کے صحیح جواب دئیے ان سب کو میں نے کامیاب قرار دیا ۔
چاروں طرف نظر دوڑائی جائے تو جو منظر سامنے آتا ہے یہ ہے کہ والدین اپنے بچوں کو انگریزی اور غیرملکی سکولوں میں پڑھانے کیلئے اپنی استداد سے زیادہ محنت کرتے ہیں ۔ پھر سکول سے آنے کے بعد اور سکول سے چھٹیوں کے دوران اعلٰی سے اعلٰی اور مہنگے ٹیوشن سینٹر جنہیں آجکل اکیڈمی کا نام دیا گیا ہے میں پڑھواتے ہیں اور اس پر پانچ سے دس ہزار روپے ماہانہ فی بچہ خرچ کرتے ہیں مگر قرآن شریف صحیح پڑھوانے کیلئے کسی صحیح مدرس کے پاس بھیجنے کی بجائے پچاس یا زیادہ سے زیادہ ایک سو روپے ماہانہ والے کسی امام مسجد کے پاس بھیجھتے ہیں جو کسی مدرسہ کا باقاعدہ تعلیم یافتہ نہیں ہوتا ۔































شمس جیلانی
نے لکھا؛
August 20, 2008 at 5:43 pm
بھائی افتخار اجمل ساحب یہ ہی تو اس قوم کا المیہ ہے؟ آپ ان سے بجائے خلفائے راشدین کے نام پو چھنے کے ۔کھلاڑیوں، فلمی ستاروں اور سنگرز کے بارے میں پو چھتے تووہ فر فر بتا دیتے۔شمس جیلانی
صعرفراز ھئسساین کاےانی نے لکھا؛
August 20, 2008 at 5:57 pm
Oh Bahii Aup Sub Kiss Duniyah mien Rah Rahey hiey Ajj cey Kuch Saal Pahley Pakistan key School-Collag _Universty mien Quran kii Jangii Aheyahaat Neykal die Gheyhii hien Purrahnah Mamnun hey Aup Kiss Duiniyah mien Rah rahey hien Pakistan mien Humm Sub Deykh Rahey hien ” Aur Kuch bii nien Kar Ceyktey.” Lachar aur Majbur hien.
چوہدری عمران
نے لکھا؛
August 21, 2008 at 5:31 am
میڈیا کی بہت اہم ذمہ داری ہے اجمل صاحب، جیلانی صاحب نے خوب لِکھا کہ فِلمی ستاروں یا کھلاڑیوں کے نام یقینا“ آتے ہونگے، آج کے دور میں میڈیا یہ سب سے پُرکشش اُستاد ہے بچوں کا،آپ خود بتائیں کہ ایک خونصورت سٹایلش کم لِباسی کا شکار خاتون فلسفہِ خودی بیان کر رہی ہو تو سب کا بے خُد ہونے کو دِل کرے گا اور سکول کی انتظامیہ کو تعلیمِ بالغاں کی بھی کلاس کھولنی پڑ جائے گی، بلکہ ایوننگ کلاسز کا اِجراء بھی ہوگا اور زیادہ رش بھی اُسی میں ہوگا۔ جبکہ اگر کوئی لٹھ نُما ڈنڈا لئیے موٹی موٹی عینک لگائے آنکھوں کو گھُماتا ہوا اُستاد جِس کو دیکھ کر عزرائیل بھی سرک لے وہ اخلاقیات کا درس دے رہا ہو تو کون سُنے گا، پھر ہمارے ٹی وی اور اخبار دیکھ لیں کہ اگر مردانہ گھڑی کا بھی اِشتہار دیں تو یہی دِکھائیں گے کہ اُس نے کِسی ڈیٹ پر جانا تھا تو گھڑی نے رایٹ ٹایم پر الارم بجا دیا۔
جب تک بچپن سے ہی تعلیم کے ساتھ تربیت نہ کی جائے تب تک اصلاحِ احوال مُمکن نہیں۔ ہمارا تعلیمی نظام اور ہمارا میڈیا دونوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے جبکہ حُکمران اس پستی میں گِرتی ہوئی نوجوان نسل اور مُلک کے مُستقبل سے بے خبر اپنی اپنی پوزیشن مضبوط رکھنے کے چکر میں ہیں۔
افتخار اجمل بھوپال
نے لکھا؛
August 26, 2008 at 4:16 pm
چوہدری عمران صاحب
ہماری قوم کو تباہ کرنے میں سب سے زیادہ کردار ذرائع ابلاغ کا ہی ہے ۔