Al Qamar Online Urdu News Network
SMS Guru
Al Qamar Online Urdu News Network
  
Al Qamar Online Blogs
| | |
RSS Feed
Important News International News News From Pakistan News from India   Special Reports and Features Columns   Science and Technology News Business News Editorial SportS News News from India, Pakistan, Bangla Desh, SriLanga, Maldives, Bhutan Showbiz News Interviews Politics News
Al Qamar Online; The largest Online Urdu News Network containing dozens of Urdu Channels From London, Denmark, US & Pakistan

کتنا آساں تھا ترے ہجرمیں مرنا جاناں

  کتنا آساں  تھا  ترے   ہجر  میں  مرنا جاناں

پھر بھی اک عمر لگی جان سے جاتے جاتے۔

آج احمد فراز ہمارے مابین نہیں ہیں، لیکن انکے الفاظ اسی شدت سے بیدار ضمیروں کو جگاتے رہیں گے  ۔ احمد فراز کی میرے نزدیک سب سے بڑی خوبی یہی تھی کہ اچھا کیا یا برا، سب کچھ کھل کر کیا۔۔۔۔ایک شیشے کی طرح شفاف شخصیت جس میں منافقت کا کہیں کوئی خول نہ تھا۔  ٓ۔۔۔۔۔آج انکے انتقال پر ہمارے قلم مغموم اور اداس ہیں۔  مجھے یقین ہے کہ انکے قلم کا سچ انکی غیر موجودگی میں بھی غیرت و عزت کا علم بلند کرتا رہے گا۔ 

AddThis Social Bookmark Button AddThis Feed Button

4 تبصرے »

  1. نگہت نسیم AUSTRALIA نے لکھا؛

    August 26, 2008 at 3:12 pm

    میں ھمیشہ سب سے کہتی ھوں کہ ایسے لوگ جاتے نہیں ھیں بلکہ ھمیشہ کے لیئے ھمارے درمیان رھنے آ جاتے ھیں اور اُس وقت تک رھتے ھیں جب تک ھم رھتے ھیں ۔ اللہ پاک اُن کا سفر آسان کرے اور انہیں اپنی رحمتوں میں رکھے ۔آمین

  2. ارشد نذیر ساحل بارسلونا SPAIN نے لکھا؛

    August 27, 2008 at 3:32 am

    احمد فراز کی وفات سے یوں محسوس ہو رھا ہے کہ عین بہار میں کوئی خوش آواز پرندہ گلستان چھوڑ گیا ہے اوراس کے جانے سے پورا گلستان اداس اور ویران ہو گیا ہے انکی وفات سے پیدا ہونے والے خلاہ کو پر ہونے میں صدیاں لگیں گی۔

  3. چوہدری عمران BELGIUM نے لکھا؛

    August 27, 2008 at 3:59 am

    ماشاء‌اللہ ساحل صاحب، آپ تو خود ساحل پر رہتے ہیں اور نام بھی کمال ہے، بے شک: بڑی مُشکِل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا،

  4. صفدر ہمدانی نے لکھا؛

    August 29, 2008 at 3:43 am

    میں تو مقتل میں بھی قسمت کا سکندر نکلا
    قرعہ ء فال مرے نام کا اکثر نکلا

    تھا جنہیں زعم وہ دریا بھی مجھی میں ڈوبے
    میں کہ صحرا نظر آتا تھا سمندر نکلا

    میں نے اس جان ِ بہاراں کو بہت یاد کیا
    جب کوئی پھول میری شاخِ ہنر پر نکلا

    شہر والوں کی محبت کا میں قائل ہوں مگر
    میں نے جس ہاتھ کو چوما وہی خنجر نکلا

    تو یہیں ہار گیا ہے مرے بزدل دشمن
    مجھ سے تنہا کے مقابل تیرا لشکر نکلا

    میں کہ صحرائے محبت کا مسافر تھا فراز
    ایک جھونکا تھا کہ خوشبو کے سفر پر نکلا

اس تحریر پر تبصرے کی آر ایس ایس فیڈ | ٹریک بیک

اس تحریر پر تبصرہ کیجئے

Englishاردو