کتنا آساں تھا ترے ہجرمیں مرنا جاناں
کتنا آساں تھا ترے ہجر میں مرنا جاناں
پھر بھی اک عمر لگی جان سے جاتے جاتے۔
آج احمد فراز ہمارے مابین نہیں ہیں، لیکن انکے الفاظ اسی شدت سے بیدار ضمیروں کو جگاتے رہیں گے ۔ احمد فراز کی میرے نزدیک سب سے بڑی خوبی یہی تھی کہ اچھا کیا یا برا، سب کچھ کھل کر کیا۔۔۔۔ایک شیشے کی طرح شفاف شخصیت جس میں منافقت کا کہیں کوئی خول نہ تھا۔ ٓ۔۔۔۔۔آج انکے انتقال پر ہمارے قلم مغموم اور اداس ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ انکے قلم کا سچ انکی غیر موجودگی میں بھی غیرت و عزت کا علم بلند کرتا رہے گا۔































نگہت نسیم
نے لکھا؛
August 26, 2008 at 3:12 pm
میں ھمیشہ سب سے کہتی ھوں کہ ایسے لوگ جاتے نہیں ھیں بلکہ ھمیشہ کے لیئے ھمارے درمیان رھنے آ جاتے ھیں اور اُس وقت تک رھتے ھیں جب تک ھم رھتے ھیں ۔ اللہ پاک اُن کا سفر آسان کرے اور انہیں اپنی رحمتوں میں رکھے ۔آمین
ارشد نذیر ساحل بارسلونا
نے لکھا؛
August 27, 2008 at 3:32 am
احمد فراز کی وفات سے یوں محسوس ہو رھا ہے کہ عین بہار میں کوئی خوش آواز پرندہ گلستان چھوڑ گیا ہے اوراس کے جانے سے پورا گلستان اداس اور ویران ہو گیا ہے انکی وفات سے پیدا ہونے والے خلاہ کو پر ہونے میں صدیاں لگیں گی۔
چوہدری عمران
نے لکھا؛
August 27, 2008 at 3:59 am
ماشاءاللہ ساحل صاحب، آپ تو خود ساحل پر رہتے ہیں اور نام بھی کمال ہے، بے شک: بڑی مُشکِل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا،
صفدر ہمدانی نے لکھا؛
August 29, 2008 at 3:43 am
میں تو مقتل میں بھی قسمت کا سکندر نکلا
قرعہ ء فال مرے نام کا اکثر نکلا
تھا جنہیں زعم وہ دریا بھی مجھی میں ڈوبے
میں کہ صحرا نظر آتا تھا سمندر نکلا
میں نے اس جان ِ بہاراں کو بہت یاد کیا
جب کوئی پھول میری شاخِ ہنر پر نکلا
شہر والوں کی محبت کا میں قائل ہوں مگر
میں نے جس ہاتھ کو چوما وہی خنجر نکلا
تو یہیں ہار گیا ہے مرے بزدل دشمن
مجھ سے تنہا کے مقابل تیرا لشکر نکلا
میں کہ صحرائے محبت کا مسافر تھا فراز
ایک جھونکا تھا کہ خوشبو کے سفر پر نکلا