۔ 3 ۔ جاہل ملّا
نِیم حکیم خطرہء جان نِیم ملّا خطرہء ایمان
میرے ہموطن یہ کہاوت عام استعمال کرتے ہیں لیکن بہت کم ہوں گے جنہوں نے اس کا صحیح استعمال کیا ۔ یہ کہاوت صرف مُلّا اور حکیم یا ڈاکٹر کیلئے نہیں ہے بلکہ سب کیلئے ہے ۔ نِیم فارسی کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے آدھا ۔ مطلب یہ کہ انسان جو کچھ بھی ہو پورا ہو ۔
آٹھویں جماعت میں سکول میں دینیات کی تعلیم کا حال دیکھ کر والد صاحب نے راولپنڈی شہر میں محلے کی مسجد کے امام صاحب کی ٹیوشن مقرر کی کہ میں قرآن شریف دوہرا لوں ۔ میں تلاوت شروع کرتا تو مولوی صاحب سو جاتے ۔ پارہ ختم ہو جاتا تو وہ جاگ جاتے ۔ اسی طرح دو ماہ میں پورا قرآن شریف پڑھا ۔ یہ صاحب جمعرات کی روٹیوں والے مُلّا تھے اور بغیر دینی مدرسہ گئے مولوی بن گئے تھے ۔ میری تلاوت کی تصحیح پھر میری والہ محترمہ نے کی ۔ اللہ جنّت نصیب کرے ۔
حکومت نے 1984ء میں سکولوں میں مدرسوں سے سند یافتہ دینیات کے استاذ رکھنے کا فیصلہ کیا ۔ یہ کام ایک سیکشن آفیسر کے سپرد ہوا جو ہمارے سیٹلائٹ ٹاؤن راولپنڈی والے گھر جہاں ہم اُن دنوں رہتے تھے کے قریب مسجد کے خطیب بھی تھے ۔ ایک شام میں کسی کام سے ان کے پاس گیا تو پریشان پایا ۔ وجہ پوچھی تو کہنے لگے پہلی قسط میں پانچ سو استاد بھرتی کرنا ہیں ۔ ایک سالہ کورس کی سند ہونی چاہیئے میں نے چھ اور تین ماہ والوں کے نام بھی لکھ لئے ہیں اس کے باوجود 247 ہوئے ہیں ۔ میں نے کہا جناب اتنے سارے امام مسجد خیراتی روٹیوں پر پل رہے ہیں ان کو لے لیں ۔ فرمانے لگے محلہ میں جو بقیہ چار مساجد ہیں ان کے امام ایک دن کے لئے مدرسہ نہیں گئے ۔ میں نے حیرت سے کہا تو یہ امام کیسے بن گئے ۔ فرمایا لوگوں نے اپنی مقصد براری کے لئے بنا دیئے یا خود زورآوری سے بن گئے ہوں گے ۔ اس پر میں نے سوال کیا کہ جو لوگ منظور شُدہ مدرسوں سے فارغ التحصیل ہوتے ہیں وہ سب کہاں گئے ؟ بولے کہ اُنہوں نے آٹھیوں کے بعد 8 سال یا دسویں کے بعد 6 سال پڑھائی کر کے سند حاصل کی ہوتی ہے وہ تنخواہ کے سکیل نمبر 9 پر کیسے نوکری کریں گے ؟ ہاں اگر تنخواہ کا سکیل کم از کم 16 کر دیں تو اُن میں سے کچھ آ جائیں گے ۔






























