Al Qamar Online Urdu News Network
SMS Guru
Al Qamar Online Urdu News Network
  
Al Qamar Online Blogs
| | |
RSS Feed
Important News International News News From Pakistan News from India   Special Reports and Features Columns   Science and Technology News Business News Editorial SportS News News from India, Pakistan, Bangla Desh, SriLanga, Maldives, Bhutan Showbiz News Interviews Politics News
Al Qamar Online; The largest Online Urdu News Network containing dozens of Urdu Channels From London, Denmark, US & Pakistan

دعوت باسمتی یا دعوتِ گناہ

اے آر وائی ٹی وی پر ایک چاول کی مشہوری دیکھنے میں آتی ہے جِسمیں ایک ٹیبل پر کھانا کھاتے ہوئے ایک شخص کے منہہ پر چاول کا دانہ چمٹا رہ گیا اور تیسرے ٹیبل پر بیٹھی ہوئی دِلکش خاتون لپک کر آتی ہے اور اپنے ہونٹوں سے وہ چاول کا دانہ اُچک لیتی ہے، اب اس کے بعد کیا یہ لوگ یہ چاہتے ہیں کہ لڑکے بالے اپنے چہرے پر چاول کے دانے چِپکا کر گلے میں دعوت باسمتی کے آویزے لٹکا کر پھرتے رہیں اور یا ہماری خواتین کوکِسی خاص معرکے پر اُکسایا جا رہا ہے۔ کیا یہ میڈیا کی آزادی کا منفی اثر ہے یا ہمارے صبر کا امتحان کہ کب چاکِ گریباں چاکِ داماں کے ساتھ آ مِلے۔

AddThis Social Bookmark Button AddThis Feed Button

6 تبصرے »

  1. لُبنٰی سید BELGIUM نے لکھا؛

    August 26, 2008 at 1:05 pm

    عمران صاحب آپ بلکُل صحیح کہ رہے ہیں یہ میڈیا کی آزادی کا منفی اثر ہے، کہیں نہ کہیں کوئی چھلنی ضرور ہونا چاہئے جِس سے چھن کر چیزیں‌آن ایئر ہونا چاہیئں اور ضروری نہیں کہ سینسر کی قوت ہی ہو ضمیر کی قوت بھی ہو سکتی ہے۔ جو چیز پڑھتے ہوئے بُری لگ رہی تھی دیکھتے ہوے شاید اسلیے بُری نہیں لگتی کہ ہمیں اس حد تک عادی کر لیا گیا ہے، اور جانے کہاں جاکے تھمے

  2. نگہت نسیم AUSTRALIA نے لکھا؛

    August 27, 2008 at 5:24 am

    میں حیران ھوں کہ ایسا اشتہار بھی آتا ھے پاک ٹی وی پر ۔ شکر مالک کا کہ میں نے ابھی تک نہیں دیکھا لیکن سوچتی ھوں کہ جب بھی دیکھونگی آپ ھی کی طرح افسردہ ھو جاؤنگی ۔ کاش یہ سب بنانے والے ایک بار سوچ لیا کریں کہ ھم مسلمان ھیں اور ھماری ایک حد اور عزت ھے ۔ کیا کہوں کتنا دکھ ھو رھا ھے پڑھ کر ۔ اللہ پاک ھم سب کو اپنی محبت اور حرمت عطا کرے ۔ آمین

  3. عمران چوہدری BELGIUM نے لکھا؛

    August 27, 2008 at 11:25 am

    جی نگہت صاحبہ ایسا ہی ہوتا، آج ایک خاتون لُبنیٰ سید کی میل آئی ہے اُنہوں نے لکھا ہے کہ میں نے تبصرہ لکھا تھا لیکن شائع نہیں ہوا جانے کوئی تکنیکی مسئلہ ہوگا، انہوں نے مزید لکھا کہ یہ بات پڑھتے ہوئے شرم محسوس ہو رہی ہے لیکن اِس بات کا بھی اعتراف ہے کہ یہ اشتہار دیکھتے ہوئے کو ئی احساس نہیں ہوا، شاید ہم ناظرین کو ایسی سلو پوایزننگ کی جا چُکی ہے اور ایسے ایسے مناظر دکھائے چُکے ہیں کہ یہ اب زندگی کا حصہ معلوم ہوتےہیں،
    اب دیکھ لیں نگہت صاحبہ جب تک گُناہ اسکے احساس کے ساتھ کیا جائے تو قابل معافی ہوت ہے، لیکن جب احساسِ گناہ ختم ہو جاتا ہے تو قوم ایسی نا قابلِ تلافی کیفیت میں چلی جاتی ہے جہاں حق اور نا حق کی، صحیح اور غلط کی پہچان ختم ہو جاتی ہے اور شاید ہمارا میڈیا بھی یہی چاہتا ہے لیکن کِس کے کہنے پر؟

  4. نگہت نسیم AUSTRALIA نے لکھا؛

    August 27, 2008 at 2:12 pm

    لبنی جی آپ کو بلاگ کی محفل میں خوش آمدید ۔
    عمران صاحب آپ کا شکریہ کہ آپ نے توجہ دلائی کہ لبنی جی کا تبصرہ نہیں لگ سکا ۔ اصل میں میں تو جناب صفدر ھمدانی کی سڈنی آمد کی وجہ سے مصروف تھی سو توجہ نہ کر پائی جو قطعا بھی عذر کے زمرے میں نہیں آناچاھیئے ۔ پھر ہارون بھی اپنی جگہ پر نہیں تھا ۔ مجھے امید ھے کہ لبنی جی گلہ نہیں کریں گی اور اب آتی جاتی رھے گی ۔

  5. لُبنیٰ سید BELGIUM نے لکھا؛

    August 27, 2008 at 7:27 pm

    شُکریہ نگہت آپی، عمران صاحب سے آپکی اور بلاگ کے ماحول کی تعریف سُنی تو شمولیت کر لی، انشاءاللہ کوشش کرتی رہون گی آنے کی۔

  6. نگہت نسیم AUSTRALIA نے لکھا؛

    August 28, 2008 at 4:57 am

    لبنی اٍس محبت اور کشادگی کا شکریہ ۔

اس تحریر پر تبصرے کی آر ایس ایس فیڈ | ٹریک بیک

اس تحریر پر تبصرہ کیجئے

Englishاردو