مروجہ سیاست اور موجود سیاست دان
یہی اس رائج سیاست کی بدبختی ہے، اور موجودہ سیاست دانوں کی کمزوری کہ جب سے یہ انہی خواص کے بقول عوامی حکومت آئی ہے، عوام کے مسائل پر ایک بات بھی آن ائیر نہیں ہُوئی کِسی حاکم کو نہین پتہ کہ کِس کی ماں کیا بیچ کر اپنے بچے کے لیئے روٹی لے کر آتی ہے، کِتنی بہنیں ہیں جو گھر میں بیٹھی بوڑھی ہو رہی ہیں کتنے باپ ہیں جو جوان اولاد کے سامنے اتنے بے بس ہو چکے ہیں کہ خود کُشی پر مجبور ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ جمہوریت کی روشنی کِتنے گھروں ً میں اندھیرے کا باعث بن رہی ہے۔ انکو پتہ ہے تو صرف یہ کہ ہمارے کِتنے نمبر ہیں کِتنے چاہیئں۔ کیا اب تک کوئی ایسا فیصلہ کیا گیا ہے جو عوام سے براہ راست مربوط ہو؟ کیا کوئی ایسا قدم اُٹھایا گیا ہے جِس کی وجہ سے کِسی بوجھ تلے دبے ہوئے باپ کو ایک سانس لینے کی مہلت مِلی ہو؟ اگر نہیں تو کیا یہ عوامی حکومت ہے؟






























