۔ 4 ۔ جاہل ملّا کہاں سے آئے
ملّا اور جاہل ۔ اس حقیقت نے مجھے لڑکپن ہی میں پریشان کر دیا تھا ۔ میں اس کا منبع تلاش کرنے میں لگ گیا ۔ حالات کی سختیاں جھیلتے سال گذرتے گئے مگر میری جستجو جاری رہی ۔ آخر عُقدہ کھلا ۔
ہندوستان ميں انگریزوں کی حکومت بننے سے پہلے بڑی مساجد علم کا گھر ہوا کرتی تھیں اور انہیں جامع یعنی یونیورسٹی کہا جاتا تھا ۔ وہاں دینی تعلیم کے ساتھ دنیاوی علوم بھی پڑھائے جاتے تھے ۔ طلباء دور دراز سے بلکہ دوسرے ممالک سے بھی آکر سالہا سال قیام کرتے اور علم حاصل کرتے ۔ اساتذہ اور تعلیم کا خرچ چلانے کے لئے ان مساجد کے ساتھ بڑی بڑی جاگیریں تھی ۔ اس کے علاوہ مسلمان بادشاہ اور مالدار طلباء نذرانے بھی دیتے تھے ۔
جنگِ آزادی کی ناکامی کے بعد 1857ء میں جب ہندوستان پر انگریزوں کا مکمل قبضہ ہو گیا تو انہوں نے ہنرمندوں اور علماء کو قتل کروا دیا تاکہ ہندوستانی مسلمان پھر نہ اُبھر سکیں ۔ مساجد کی جاگیریں ضبط کر لیں ۔ اس کے بعد پسماندہ علاقوں سے جوان چُنے جو دینی علم صرف نماز روزہ کی حد تک جانتے تھے ۔ ان لوگوں کو برطانیہ بھیج کر چند ماہ کا امام مسجد کا کورس کرایا گیا اور واپسی پر مساجد کا بغیر تنخواہ کے امام مقرر کر دیا ۔ ان اماموں کا نان و نفقہ علاقہ کے لوگوں کے ذمہ کر دیا اور ان کی نگرانی علاقہ کے نمبردار یا چوہدری یا وڈیرے یا سردار وغیرہ جو خود انگریزوں کے مقرر کردہ تھے کے ذمہ کر دی ۔
آجکل کے جاہل ملّا زیادہ تر اسی عمل کا نتیجہ ہیں ۔ باپ امام مسجد تھا اسلئے بیٹا بھی امام مسجد بن بیٹھا ۔ اس صورتِ حال کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے کئی ایسے لوگ جنہوں نے کبھی نماز بھی نہ پڑھی تھی داڑھی رکھ کر مسجد کے امام بن بیٹھے یا کسی بارسوخ شخص نے اپنی مطلب براری کے لئے بنا دیا ۔ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ پاکستان کے معرضِ وجود میں آنے کے اکسٹھ سال بعد بھی یہ غلط عمل جاری ہے ۔
کسی نے کہا تھا کہ داڑھی میں اسلام نہیں ہے بلکہ اسلام میں داڑھی ہے ۔
اس خلافِ دین صورتِ حال کے ذمہ دار خود پاکستانی عوام بھی ہیں جو اپنی مطلب براری کیلئے ایسے لوگوں کو امام مسجد کے طور پر نہ صرف قبول کرتے ہیں بلکہ خود بھی یہی چاہتے ہیں ایسے امام ہوں جو اُن کی برائیوں کو بُرا نہ کہیں ۔ ستم یہ کہ بجائے اس خرابی کو دور کرنے کے لوگ تمام مولویوں کے دشمن بن بیٹھے ہیں ۔






























