۔ 5 ۔ فرقہ واریت
جاہل مُلّا اور فرقہ واریت پھیلانے والے مُلّا حکرانوں یا اجارہ داروں کی لگائی ہوئی پنیری ہیں ۔ حکمران ان لوگوں کو علماء و مشائخ کے نام سے یاد کرتے ہیں ۔ ان میں مساجد کے امام بھی ہیں اور شیخ بے مسجد بھی ۔
پچھلی حکومت نے کنونشن سنٹر اسلام آباد میں حکومت کے خرچ پر ایک علماء و مشائخ کانفرنس منعقد ہوئی تھی جس سے صدر جنرل پرویز مشرف نے خطاب کیا تھا اور ان سے اپنے حق میں قرارداد منظور کروائی تھی ۔ اس کانفرنس کا ایم ایم اے ۔ بے نظیر کی پی پی پی اور نواز شریف کی مسلم لیگ نے بائیکاٹ کیا تھا ۔ اس کے باوجود صرف راولپنڈی سے 260 علماء و مشائخ شامل ہوئے جبکہ راولپنڈی میں 150 مساجد بھی نہیں اور ان میں سے بھی زیادہ تر کے اماموں کا تعلق متذکرہ تین جماعتوں سے ہے ۔
صرف حکومت ہی کو نہیں علاقہ کے وڈیروں یا چوہدریوں کو بھی ایسے داڑھی والوں کی ضرورت ہوتی ہے جو ان کے حق میں فتوٰی دیں ۔ باقی وقت اپنا ٹَیکا رکھنے کے لئے یہ نام نہاد علماء و مشائخ فرقہ پرستی کو ہوا دیتے ہیں ۔
ان کے خلاف اگر حکومت یا بارسُوخ لوگ کوئی قدم اٹھائیں گے تو پھر حکومت اور ان بارسُوخ لوگوں کے حق میں فتوے کون دے گا ؟
یا رب ۔ دلِ مُسلم کو وہ زندہ تمنّا دے
جو قَلب کو گرما دے جو رُوح کو تڑپا دے






























