Al Qamar Online Urdu News Network
SMS Guru
Al Qamar Online Urdu News Network
  
Al Qamar Online Blogs
| | |
RSS Feed
Important News International News News From Pakistan News from India   Special Reports and Features Columns   Science and Technology News Business News Editorial SportS News News from India, Pakistan, Bangla Desh, SriLanga, Maldives, Bhutan Showbiz News Interviews Politics News
Al Qamar Online; The largest Online Urdu News Network containing dozens of Urdu Channels From London, Denmark, US & Pakistan

میں سابقہ تحریریں August, 2008

جیسا بادشاہ بادشاہوں سے کرتے ہیں۔۔

یہ تو سب جانتے ہیں کہ یہ جُملہ کِس نے کِس سے کہا تھالیکن اُس عمل کی ضرورت اب آن پڑی ہے۔ یہ اگر ہماری تاریخ کا حِصہ نہیں رہا کہ کوئی آمر از خُد چلا جائے اور اب ہو گیا ہے تو موجودہ رجیم کو بھی چاہیئے کہ پیٹھہ میں خنجر نہ ہی مارا جائے۔ یہ تو کُھلا راز ہے کہ کوئی نہ کوئی ڈیل پسِ پُشت رہی ہے لیکن یہ بھی سب جانتےہیں کہ پی پی پی اپنی کِسی ڈیل پر قائم نہیں رہی۔ اور پھر احتساب وہ کرے جِس کا اپنا دامن صاف ہو۔ چور کسی دوسرے چور کو سزا دینے کا اھل ہی نہیں ہو سکتا اور جہاں‌سب لُٹیرے اور قاتل جمع ہوں اُس جنگل میں ایک اور حیوان کا اضافہ کوئی اہمیت نہیں رکھتا، لیکن یہ معافی کی رسم کا اِجراء ضرورکر دیتا ہے اور بہادری سزا دینا نہیں طاقت رکھتے ہوئے معاف کر دینے میں ہے۔

تبصرہ جات (3)

۔ 2 ۔ عملی زندگی میں دینیات

میں نے 1983ء میں بوائے آرٹیزن کے لئے 1200 فرسٹ ڈویژن میٹرک پاس امیدواروں کا انٹر ویو لیا ۔ ہر امیدوار سے انگریزی ۔ حساب اور دینیات کا ایک ایک سوال پوچھا ۔ سوائے تھوڑے سے امیدواروں کے کسی کو معلوم نہیں تھا کہ خلفائے راشدین کیا ہوتا ہے ۔ اکثر لڑکوں کو نماز کا صحیح طریقہ معلوم نہ تھا ۔

ایک امیدوار نے دینیات کے سوال کا بہت اچھا جواب دیا تو میں نے مزید سوال کئے جن کے اس نے فرفر جواب دیئے ۔ ایڈمن آفیسر نے میرے کان میں بتایا کہ یہ لڑکا عیسائی ہے تو میں نے لڑکے سے پوچھا کہ آپ عیسائی ہوتے ہوئے دینیات پڑھتے ہیں ؟ کہنے لگا بائبل کا کورس بہت زیادہ ہے ۔ دینیات کی چھوٹی سی کتاب ہے اس لئے میں نے دینیات کا مضمون رکھا تاکہ اچھے نمبر آ جائیں ۔

بارہ دن میں انٹرویو ختم ہوئے تو لیبر یونین کے صدر جو سیّد ۔ ۔ ۔ شاہ تھے میرے پاس آئے اور کہا سر آپ نے ظُلم کیا ہے ۔ دینیات نہ کوئی پڑھتا ہے نہ کوئی پڑھاتا ہے ۔ میٹرک میں دینیات میں فیل ہونے کے باوجود لڑکے پاس کئے جاتے ہیں ۔ کوئی سائنس وائنس کی بات کرتے تو ٹھیک تھا ۔ میں نے اُنہیں بتایا کہ جنہوں نے سائنس اور حساب کے سوالوں کے صحیح جواب دئیے ان سب کو میں نے کامیاب قرار دیا ۔

چاروں طرف نظر دوڑائی جائے تو جو منظر سامنے آتا ہے یہ ہے کہ والدین اپنے بچوں کو انگریزی اور غیرملکی سکولوں میں پڑھانے کیلئے اپنی استداد سے زیادہ محنت کرتے ہیں ۔ پھر سکول سے آنے کے بعد اور سکول سے چھٹیوں کے دوران اعلٰی سے اعلٰی اور مہنگے ٹیوشن سینٹر جنہیں آجکل اکیڈمی کا نام دیا گیا ہے میں پڑھواتے ہیں اور اس پر پانچ سے دس ہزار روپے ماہانہ فی بچہ خرچ کرتے ہیں مگر قرآن شریف صحیح پڑھوانے کیلئے کسی صحیح مدرس کے پاس بھیجنے کی بجائے پچاس یا زیادہ سے زیادہ ایک سو روپے ماہانہ والے کسی امام مسجد کے پاس بھیجھتے ہیں جو کسی مدرسہ کا باقاعدہ تعلیم یافتہ نہیں ہوتا ۔

تبصرہ جات (4)

ایک دھکہ اور ۔۔۔

ڈس لے جو تمہیں روز کیا وہ سانپ نہیں ہے
موذی کو سزا عد ل ہے وہ پاپ نہیں ہے
یہ مصلحت بینی ہے کہیں اہلِ سیاست ؟
گردن ذرا موٹی ہے بنا ناپ نہیں ہے

تبصرہ جات (7)

دینیات ۔ سکول ۔ مدرسہ ۔ دہشتگرد اور ہموطن

گرچہ بُت ہیں جماعت کی آستینوں میں
مُجھے ہے حُکمِ اذاں لا الہ الا اللہ

وطن عزیز میں فی زمانہ جس موضوع پر سب سے زیادہ بات کی جاتی ہے لیکن عملی طور پر اصلاح کی کوشش مفقود ہے مدرسہ اور دہشتگرد ۔ میں ان پر اِن کے پسِ منظر کے ساتھ مختصر اظہارِ خیال کرنے کی جراءت کر رہا ہوں ۔ اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی کی بارگاہ میں استدعا ہے کہ اس موضوع کے تحت لکھنے میں میری رہنمائی اور مدد فرمائے ۔ قارئین سے درخواست ہے کہ میرے حق میں دعا فرمائیں ۔ میں پچھلے ساٹھ سال میں اپنے تجربات اور مشاہدات کا مختصر سا بیان کروں گا لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہموطنوں کی اکثریت کی بھی یہی کہانی ہے ۔ اس تحریر کو میں نے مندرجہ ذیل موضوعات کے تحت تقسیم کیا ہے

۔ 1 ۔ سرکاری سکولوں
۔ 2 ۔ عملی زندگی
۔ 3 ۔ جاہل ملّا
۔ 4 ۔ جاہل ملّا کہاں سے آئے
۔ 5 ۔ فرقہ واریت
۔ 6 ۔ کیا مدرسوں میں پڑھے جاہل اور دہشتگرد ہوتے ہیں ؟

۔ 1 ۔ سرکاری سکولوں

چھٹی اور ساتویں جماعت میں ہمارے جو دینیات کے استاذ تھے اُن کی مولوی ہونے کی نشانی صرف اُن کی داڑھی تھی ۔ دینی مدرسہ سے پڑھے ہوئے ہونا تو کُجا میرا نہیں خیال کہ وہ کچھ پڑھے لکھے تھے کیونکہ اُنہوں نے کبھی ایک آیت بھی ہمیں نہیں پڑھائی تھی ۔ ایک لڑکے کو کہتے پڑھو ۔ وہ کھڑا ہو کر دوسرے پارہ کی بلند آواز سے تلاوت شروع کر دیتا ۔ تھوڑی دیر بعد استاذ کہیں چلے جاتے اور طلباء اپنی مرضی سے پڑھتے رہتے ۔ دو سال ہم صرف دوسرا پارہ پڑھتے رہے ۔ میں آٹھویں جماعت میں دوسرے سکول چلا گیا ۔ وہاں کے استاذ بھی کسی دینی مدرسہ کے پڑھے ہوئے نہیں تھے ۔ وہ کسی لڑکے کو پڑھنے کا کہہ کر خود کرسی پر دونوں پاؤں رکھ کر اکڑوں سو جاتے ۔ لڑکوں کے شور سے جاگ جاتے تو جو سامنے ہوتا اس کی پٹائی ہو جاتی ۔ ایک دن ایک لڑکا نیکر پہن کر آگیا ۔ استاذ اسے شیطان کا بچہ شیطان کا بچہ کہتے گئے اور چھڑی سے پٹائی کرتے گئے ۔ اس کی ٹانگوں پر نیل پڑ گئے ۔ وہ لڑکا ذہین محنتی اور خوش اخلاق تھا ۔ وہ سکول چھوڑ گیا ۔ وہ کمشنر راولپنڈی کا بیٹا تھا ۔ سکول والوں نے استاذ کی چھٹی کر دی ۔

پھر مولوی عبدالحکیم صاحب کو کنٹریکٹ پر رکھا گیا ۔ وہ مدرسہ حقانیہ اکوڑہ خٹک کے فارغ التحصیل تھے اور راولپنڈی کی پانچ بڑی مساجد میں سے ایک کے خطیب تھے ۔ انہوں نے نویں جماعت میں سلیبس کے علاوہ ہمیں اچھا انسان بننے کے اصول بھی قرآن اور سنّت کی روشنی میں بڑی اچھی طرح سمجھائے ۔ ایک دن پڑھانے کے دوران ایک لڑکا شرارتیں کر رہا تھا ۔ دو بار منع کرنے پر بھی منع نہ ہوا تو مولوی صاحب نے اس کی پٹائی کر دی ۔ اگلے دن کلاس میں مولوی صاحب نے اس لڑکے کے پاس جا کر کہا بیٹا غصہ انسان کو پاگل کر دیتا ہے اسی لئے حرام ہے ۔ مجھے غصہ آگیا تھا اور میں نے آپ کی پٹائی کر دی مجھے معاف کر دو ۔ مولوی صاحب کے اس کردار پر لڑکا زار و قطار روتا ہوا مولوی صاحب کے قدموں میں گر گیا ۔ مولوی صاحب نے اسے گلے لگایا اور دلاسہ دیا ۔ اس واقعہ کے بعد وہ جماعت کا شریر ترین لڑکا ایک سُلجھا ہوا محنتی طالب علم بن گیا ۔ ایک سال بعد مولوی عبدالحکیم صاحب نے سکول کے ایک خلاف دین فنکشن میں شامل ہونے سے انکار کر دیا چنانچہ ان کی چھٹی ہو گئی ۔

دسویں جماعت میں جو صاحب دینیات کے استاذ مقرر ہوئے انہوں نے ہمیں دینیات بالکل نہیں پڑھائی صرف شعر سناتے رہے اور کبھی کبھی افسانے ۔ چھوٹی سی داڑھی رکھی تھی شائد اسی لئے دینیات کے استاذ بنا دیئے گئے ۔ ارباب اختیار سے اپنی پریشانی کا اظہار کیا تو بتایا گیا کہ فکر کی ضرورت نہیں اسلامیات کا امتحان نہیں ہو گا ۔

تبصرہ جات (2)

مقام ِعبرت

کل کو سنیں گے آپ وہ ٹرکی چلے گئے
ٹرکی بنائے آئے تھےپھر ٹھرکی چلے گئے
اپنے ہی ہاتھ میں ہےکہ ہو کیسی زندگی
چوٹی انہوں نے نَار کی سَر کی چلے گئے

تبصرہ (1)

” پاکستان کی حقیقی آزادی میں صحافت کا کردار“

آج 14۔ اگست 2008ء کوتحصیل کونسل آفس حضرو میں پریس کلب حضرو کی طرف سے ذیل کے عنوان سے تقریب کا انعقاد ہوا ۔ جس میں کی گئی اپنی گفتگو یہاں پیش کرتا ہوں۔

 ” پاکستان کی حقیقی آزادی میں صحافت کا کردار“

خاورچودھری

 آج پاکستان کی 61ویں سالگرہ ہے۔ میں ہمیشہ کی طرح اس بار بھی دو کیفیات کا اسیر ہوں۔اُداس بھی ہوں اور خوش بھی۔اُداس اس لیے کہ ہم اُن لوگوں کو بھولتے جارہے ہیں جن کے دَم قدم سے ہم آج آزاد فضاوٴں میں سانس لے رہے ہیں اور خوش اس لیے ہوں کہ آج کے دن اس خطہٴ زمین کوآزادی کا سورج دیکھنا نصیب ہوا۔ بہت برس پہلے اسی روز جب مزارقائدپرحاضری کا موقع ملا تھا تو میں بہت رویا تھا۔اس لیے کہ ہم قائد کا پاکستان اُس طرح نہ بنا پائے جس طرح وہ چاہتے تھے۔ ہمارے یہاں جس محبت کی بنیاد رکھی گئی تھی وہ دیر پا نہ ثابت ہوئی اور ہم باہمی رنجشوں میں اُلجھ کر دشمنی پر اُترآئے۔اسی دشمنی کے نتیجے میں پہلے ہم بیوروکریسی کی قید میں آئے پھرآمریت نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ہماری حالت یہ ہوگئی کہ ہم پہچان کی دولت سے عاری ہو گئے اور اپنے ہی بھائیوں کے خلاف زہر اُگلنے لگے جس کے نتیجے میں ہمیں اپنے ہے وجودکوچھلنی دیکھنا پڑا۔ ہمارے وہ بھائی جوآزادی کے حصول میں ہم سے کہیں آگے تھے ہمارا ساتھ چھوڑنے پر تیا ر ہوگئے اور پھراس خطہٴ زمین کو دولخت کر دیا۔ نفرتوں کی نہ ختم ہونے والی دیوار بیچ میں حائل ہو گئی۔اَب ہم اُن کی خیر خیریت سے بھی آگا ہ نہیں ہوتے۔ میری اُداسی میں تقسیم ِ پاکستان کا دُکھ بھی شامل رہتا ہے۔
 ہماری آج کی محفل کا موضوع ہے ” پاکستان کی حقیقی آزادی میں صحافت کا کردار“۔ یہ موضوع اپنے عنوان کے اعتبار سے قدرے مختلف ہے۔حقیقی آزادی کا ایک ہی مفہوم ہے کہ زمین کا خطہ تو ہم نے آزاد کرالیا مگرہمارے دل و دماغ آج بھی گوروں کی غلامی میں ہیں۔ پُرا نی باتیں کیا دہراوٴں آج صبح ہمارے وزیر اعظم نے پرچم کشائی کی تقریب میں قوم سے خطاب میں اپنے عزائم کا اظہار کیا تو مجھے بہت خوشی ہوئی مگر جب انھوں نے اپنے دورہٴ امریکا کا تذکرہ کرنے کے بعد اُس کی امداد سے پاکستان کی قسمت سنور جانے کا مژدہ سنایا تو ساری خوشی کافور ہوگئی۔
 میں اس دوران سوچتا رہا کہ ہمیں اپنے آپ پر بھروسا کیوں نہیں رہا؟ کیوں ہم ہمیشہ دوسرے کے دستِ نگر رہتے ہیں،کیوں ہم اپنے لیے خود راہیں تلاش نہیں کرتے۔ یہ ہے اس عنوان کی تفہیم۔
 اَب آتے ہیں حقیقی آزادی کی طرف ___تو اس حوالے سے گزارش یہ ہے کہ قائداعظم سمیت سیکڑوں لوگوں نے صحافتی میدان میں خدمات انجام دے کرآزادی کی شمع کو روشن رکھا۔سب سے بڑا اور اہم کردار ہی صحافت کا ہے۔ مولانا ظفر علی خان اور ان کے رفقا نے جس جاں فشانی اور جواں مردی کا مظاہر کیا وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ مولانا حسرت موہانی کی خدمات کون بھلا پائے گا۔ان اکابرین نے اپنی جان ومال کی پروا نہ کرتے ہوئے انگریز سرکار کے خلاف نہ صرف لکھا بلکہ تحریکیں چلائیں اور اس کامیابی سے کہ پاکستان بن کے رہا۔ہم آج انھی لوگوں کے ناموں سے واقف نہیں___یاد ہیں تو صرف وہ آمر جو ہم پر مسلط رہے۔ضیا ء الحق کے دور میں کوڑے کھانے والی صحافی بھول گئے، جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے قید ہونے والے اور ملک بدر کر دیئے جانے والوں کو ہم نے بھلا دیا ۔ یہ وہ لوگ تھے جو ہمیں حقیقی آزادی یعنی جمہوریت کی طرف لے جانا چاہتے تھے ۔انھی لوگوں کی محنت کے نتیجے میں آج ہم آمروں کے خلاف بولنے کے قابل ہوئے ہیں۔ موجودہ جمہوری حکومت کے قیام میں سب سے زیادہ کردار صحافت نے ادا کیا جس کا اعتراف آج قوم سے خطاب میں وزیراعظم نے بھی کیا ہے۔
 میں پوری قوم کو اس موقع پرآزادی مبارک کہتا ہوں اور ساتھ ہی اپنے صحافی دوستوں سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ اپنی صفوں میں اتحاد لائیں تاکہ کوئی بھی شخص ان کے خلاف آنکھ اُٹھانے کی جرأت نہ کرسکے۔ ہم متحد ہوں گے تو صحیح طور پر اپنی ذمہ داریاں نبھا کر قوم کی خدمت کر سکیں گے۔
 کیا آپ لوگ اپنی نفرتیں ختم کر رہے ہیں؟
 

تبصرہ جات

باسٹھواں یومِ آزادی

آؤ بچو ۔ سیر کرائیں تم کو پاکستان کی
جس کی خاطر دی ہم نے قربانی لاکھوں جان کی
پاکستان زندہ باد ۔ پاکستان زندہ باد

آج آنے والی رات کو 12 بج کر 57 منٹ پر سلطنتِ خداداد پاکستان کو معرضِ وجود میں آئے پورے اکسٹھ سال ہو جائیں گے ۔ میں کئی دن سے سوچ رہا تھا کہ میں آزادی کی سالگرہ مبارک تو ہر سال ہی لکھتا ہوں اور اب یہ الفاظ ہی حالات نے پھیکے پھیکے کر دئیے ہیں ۔ آزادی کے 61 سال بعد بھی ہم پسماندگی اور پریشانی کا شکار کیوں ہیں ؟ اس پر غور کر کے ہمیں اپنی خامیاں دور کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔ جتنی جلد یہ خامیاں دور ہوں گی اتنی ہی تیز رفتاری سے ہمارا ملک ترقی کرے گا ۔ الحمدللہ ۔ اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے ہمارے مُلک کو ہر قسم کی نعمت سے مالامال کیا ہے لیکن ہموطنوں کی ناسمجھی کی وجہ سے قوم تنزل کا شکار ہے ۔

اندرونِ وطن

سب حقوق کا راگ الاپتے ہیں اور حقوق کے نام پر لمبی لمبی تقاریر اور مباحث بھی کرتے ہیں لیکن دوسروں کا حق غصب کرنا پیدائشی حق سمجھتے ہیں ۔ سڑک پر اپنی گاڑی میں نکلیں تو دوسری گاڑیوں میں سے اکثریت کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ وہ کسی طرح آپ سے آگے نکل جائیں یا آپ سے پہلے مُڑ جائیں ۔ چوراہے پر بتی ابھی سبز ہو نہیں پاتی کہ لوگ گاڑیاں بھگانے لگتے ہیں ۔ سڑک کے کنارے کھڑے کو کوئی سڑک پار کرنے نہیں دیتا

ہموطنوں کی اکثریت کو ہر چیز غیرملکی پسند ہے ۔ اپنے وطن کی بنی عمدہ چیز کو وہ حقیر جانتے ہیں اور دساور کی بنی گھٹیا چیز کو عمدہ سمجھ کر خریدتے ہیں ۔ کئی بار میرے مشاہدے میں آیا ہے کہ کوئی صاحب دساور کی بنی چیز زیادہ دام دے کر خرید لائے اور بعد میں پتہ چلا کہ وہ پاکستان کی بنی ہوئی ہے اور کم قیمت پر ملتی ہے ۔ مقامی دکاندار جب گاہکوں کی نفسیات تبدیل کرنے میں ناکام رہے تو انہوں نے مال پر فرانس ۔ جرمنی ۔ جاپان یا چین کا بنا ہوا لکھوانا شروع کر دیا ۔ میں اور دفتر کا ساتھی بازار کچھ خرید کرنے گئے وہاں ایک چیز پر چینی یا جاپانی زبان میں کچھ لکھا تھا ۔ اتفاق سے قریبی دکان سے دو جاپانی کچھ خرید رہے تھے ۔ میرا ساتھی وہ چیز لے کر ان کے پاس گیا اور پوچھا کہ کیا یہ جاپان کا بنا ہوا ہے تو وہ مسکرا کر کہنے لگے کہ یہ لکھا ہے پاکستان کا بنا ہوا

ملبہ یا کُوڑا کرکٹ بنائی گئی جگہ کی بجائے اپنے گھر کے قریب جہاں بھی خالی پلاٹ یا جگہ ہو وہاں انبار لگا دینا اپنی خُوبی سمجھا جاتا ہے ۔ قومی یا دوسروں کی املاک کو نقصان پہنچانا شاید بہادری سمجھا جاتا ہے اور بجلی کی چوری کئی ہموطنوں کی فطرت ہے اور وہ اسے اپنی عقلمندی یا چابکدستی سمجھتے ہیں ۔ دکاندار مال کا عیب گاہک کی نظروں سے اوجھل کر کے عیب دار مال بیچتے ہیں

میرے ہموطن ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں پاکستان میں کیا رکھا ہے ؟ یا کہہ دیں گے یہ بھی کوئی ملک ہے ۔ اپنے ہموطنوں کے متعلق کہیں گے کہ سب چور ہیں ۔ اس وقت وہ بھول جاتے ہیں کہ وہ اپنے آپکو بھی چور کہہ رہے ہیں

بیرونِ وطن

بیرونِ وطن ہموطنوں کی اکثریت بھی پاکستان اور پاکستانیوں کو نیچا دِکھانے پر تُلے رہتے ہیں ۔ گو اپنا یہ حال کہ عمر برطانیہ میں گذاری مگر صحیح انگریزی بولنا اور لکھنا نہ سیکھا ۔ سعودی عرب میں بیس پچیس سال رہے اور قرآن شریف صحیح طور پڑھنا نہیں آتا ۔

ایک صاحب جو برطانوی شہری ہیں پاکستان آئے ۔ ایک پتلون مجھے دکھا کر کہنے لگے “یہ میں نے لندن سے خریدی ہے ۔ ایسی اچھی کوئی پاکستان میں بنا سکتا ہے ؟” میں نے پتلون پکڑ کر دیکھی تو خیال آیا کہ یہ کپڑا تو وطنِ عزیز میں ملتا ہے ۔ میں نے پتلون بنانے والی کمپنی کا نام ڈھونڈنا شروع کیا ۔ پتلون کے اندر کی طرف ایک لیبل نظر آیا جس پر انگریزی میں لکھا تھا “پاکستان کی بنی ہوئی”۔

کچھ سالوں سے ایک نیا موضوع مل گیا ۔ “پاکستان خطرناک مُلک ہے ۔ وہاں روزانہ دھماکے ہوتے ہیں ۔ جان کو ہر وقت خطرہ رہتا ہے”۔ جس کو دیکھو وہ ہر باعمل مسلمان کو دہشتگرد قرار دے رہا ہے ۔

میں پاکستان سے باہر درجن بھر ملکوں میں گیا ہوں اور آٹھ دس دوسری قوموں سے میرا واسطہ رہا ہے ۔ میں نے کسی کے منہ سے اپنے ملک یا قوم کے خلاف ایک لفظ نہیں سُنا لیکن جس ملک میں بھی میں گیا وہاں کے پاکستانی یا جن کے والدین پاکستانی تھے کو پاکستان اور پاکستانیوں کے خلاف وہاں کے مقامی لوگوں کے سامنے باتیں کرتے سنا ۔

کاش ہموطن ایک قوم بن جائیں اور ہم صحیح طور سے یومِ پاکستان منا سکیں

تبصرہ جات

اِنّا للہِ وَ اِنّا اِلَیہِ راجِعُون

 نصر ملک صاحب کے محترم والد صاحب کے انتقال کا پڑھ کر دکھ ہوا ۔ اللہ ان کے محترم والد صاحب پر اپنی رحمت نازل فرمائے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے ۔

جو بھی اس دنیا میں آیا ہے اسے زود یا بدیر اللہ کی طرف لوٹ جانا ہے ۔ یہ دنیا انسان کی مسافت کا ایک چھوٹا سا پڑاؤ ہے ۔ موت کے بعد ہر انسان نے اس زندگی میں جانا ہے جو ہمیش ہے ۔

موت  تجدیدِ مذاقِ زندگی  کا  نام  ہے

خواب کے پردے میں بیداری کا اِک پیغام ہے

اتفاق سے میں نے موت کے حوالے سے اس زندگی کے بارے میں دو دن قبل ہی اظہارِ خیال کیا تھا ۔

تبصرہ (1)

موت ۔۔۔۔۔مصیبت بھی اور نعمت بھی

برادر عالی قدر و محترم نصر ملک صاحب۔
موت ایک ایسی حقیقت ہے جس کو مختلف لوگ اپنے اپنے انداز سے دیکھتے ہیں۔ لیکن امر حق یہی ہے کہ مؤمن کے لئے یہ دنیا ایک قید خانہ ہی ہوا کرتا ہے جس رہائی امر الٰہی سے ملا کرتی ہے۔۔۔گویا مردِ حق پرست کو نعمت مل گئی اور جن کو متوفی سے جدائی ملی ان لواحقین کے لئے ابتلا۔ اس موقع پر جہاں میں آپ سے آپ کے والد مقدس کے  ارتحال پر تعزیت گزار ہوں، ساتھ  ہی انکا ایک پیغام بھی آپ کو سنائے دیتا ہوں جو ہر مؤمن کے دل کی صدا ہے کہ
حب حیدر ہے زندگی اپنی
اس سے قائم ہے تازگی اپنی
قبر میں انک آمد آمد ہے
موت تو عید ہو گئی اپنی۔
اللہ کریم آپکے والد ماجد کو سایہ ختمی المرتبت میں مامؤن  و شادکام رکھے اورآپکو اس صدمہ کو صبر جمیل کے ساتھ برداشت کرنے کی سعی عطا فرمائے اور آپکے پورے حانوادے کو اپنے اجداد عالی کے نقش قدم پر قائم رکھے۔۔۔۔۔آمین۔

بجا  رہا  ہے  زمانے  میں  دف  حسین  کا  غم
ہر  آدمی  سے  کہے  لا  تخف   حسین  کا  غم
جو  رو  رہے  ہیں  سر  عاقبت  نہ  روئیں گے
اٹھا  رہا  ہے  فلک  پر  حلف   حسین   کا  غم
حسب نسب کی طہارت  بھی  شرط ہے حسنی
کہاں   کرے   گ ا  کوئی نا خلف حسین کا غم۔

تبصرہ جات (2)

کُل و نفسُُ ُذائقہ الموت

موت ہی ایک ایسی حقیقت ہے جِسکا سامنا ہر ذی روح کو کرنا ہے، اور ابھی تک بہت سے لوگ اس حیقت کو جانتے ہوئے بھی اسکو ماننے پر تیار نہیں ہیں اور اپنے آپ پر، اپنے اِختیار پر، اپنی قوت پر اور اپنے اقتدار پر اِتنے نازاں ہیں کہ اُنکو باقی ساری مخلوق کمتر نظر آتی ہے۔ اور خود کوتکبر کی اُس منزل پر فائز کر چُکے ہیں کہ لوگوں کو زندگی اور موت دینے کے دعوے بھی کرنا شروع کر دیئے گئے۔ کشمیر، افغانستان، فلسطین، عراق، افغانستان یا جارجیہ، ہر طرف یہی صورتِحال ہے۔ آزادیِ انساں و اظہار جو کہ فِطری حق ہے اُسکو غصب کر لیا گیا، زندگی کے ہر شعبے میں خواہ سیاست ہو یا سماج، فن ہو یا ادب، ایسے چھوٹے چھوٹے فرعون ہر جگہ مِل جاتے ہیں۔
انسان خُدا بننے کی کوشش میں ہے مصروف،،، لیکن یہ تماشہ بھی خُدا دیکھ رہا ہے۔
ہم سب نصر ملک صاحب کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ اللہ انہیں صبرِ جمیل عطا کرے اور اُنکے مرحوم والد کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے۔۔ آمین۔

تبصرہ جات (10)