September 30, 2008 at 6:03 am |
راقم : افتخار اجمل بھوپال |
بلاگنگ میں شائع کیا گیا

کُلُ عام انتم بخیر
سب قارئین اور ان کے اہلِ خانہ کو عید الفطر کی خوشیاں مبارک
آیئے ہم سب مل کر مکمل خلوص اور یکسوئی کے ساتھ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیم کے حضور عاجزی سے اپنی دانستہ اور نادانستہ غلطیوں کی معافی مانگیں اور استدعا کریں کہ مالک و خالق و قادر و کریم رمضان المبارک میں ہمارے روزے اور دیگر عبادتیں قبول فرما اور ہم پر اپنا خاص کرم فرماتے ہوئے ہمارے ملک کو امن کا گہوارہ بنا دے اور اسے صحیح طور مُسلم ریاست بنا دے ۔ آمین ثم آمین
اے مددگارِ غریباں ۔ اے پناہِ بے کساں
اے نصیرِ عاجزاں ۔ اے مایہءِ بے مائیگاں
خلق کے راندھے ہوئے ۔ دنیا کے ٹھکرائے ہوئے
آئے ہیں آج در پہ تیرے ہاتھ پھیلائے ہوئے
خوار ہیں بدکار ہیں ڈوبے ہوئے ذلت میں ہیں
کچھ بھی ہے لیکن تیرے محبوب کی اُمّت میں ہیں
رحم کر تو اپنے نہ آئینِ کرم کو بھول جا
ہم تجھے بھولے ہیں لیکن تو نہ ہم کو بھول جا
مستقل لنک
September 29, 2008 at 7:09 pm |
راقم : نگہت نسیم |
بلاگنگ, دین, سماج, شاعری میں شائع کیا گیا
دوستو عید کا دن ھے ۔ سوچ رھی ھوں کہ عید پر ھم سب ایک محفل مشاعرہ رکھتے ھیں جس میں اس بات کی قید ھو گی کہ اشعار میں عید کا حوالہ ھو اور عید کا زکر ضرور ھو چاھے کسی بھی طریقے سے ھو یعنی ھنس کر ھو یا افسردگی سے ھو ۔ اور اس پر کوئی پابندی نہیں کہ اشعار لکھنے والے کے اپنے ھی لکھے ھوئے ھوں ۔ اگر کسی کے اپنے لکھے ھوئے ھیں تو ضرور بتایئں تاکہ دل کھول کر داد دی جاسکے ۔ اور اگر کسی اور شاعر کے ھیں تو یاداشت پر ضرور زور ڈال کر شاعر کا نام بھی لکھ دیں تاکہ کہی بھی حوالہ دینے کے لیئے سہولت رھے۔
اور دوستو دوسری بات یہ کہ سب نے خوش ھونا ھے اور تنقید کسی پر نہیں کرنی چاھے شعر کیسا بھی ھو اور چاھے کسی دوست نے ایک ساتھ درجن اشعار ، کئی بار ھی کیوں نہ لکھے ھوں ۔
چلیئے جی سب سے پہلے میں عرض کرتی ھوں لیکن یہ اشعار میرے نہیں ھیں بلکہ سیما سراج صاحبہ کے ھیں۔
میں سوچتی ھوں رسم عبادت کہوں اسے
یا صرف ایک جشن مسرت کہوں اسے
آیئنہ دار دولت و ثروت کہوں اسے
یا اجتماع مہر و محبت کہوں اسے
سچ پوچھیئے عید سے ھم آشنا نہیں
ان زر خرید جلوؤں میں روح وفا نہیں
سج دھج میں اپنی حسن کے جلوے دکھایئں ھم
کھا پی کے خوب شاد رہیں مسکرایئں ھم
ہاں شوق سے یہ جشن مسرت منایئں ھم
لیکن نہ اس خوشی میں انہیں بھول جایئں ھم
جو ھہیں غریب ان کی بھی دید و شنید ھو
یہ عید بس ھماری نہیں سب کی عید ھو
مستقل لنک
September 29, 2008 at 6:14 am |
راقم : افتخار اجمل بھوپال |
سماج, علم و ادب میں شائع کیا گیا
ایک جوان نوجوان عورت ایئر پورٹ کے روانگی کے لاؤنج میں داخل ہوئی تو جہاز کی روانگی میں ابھی ایک گھنٹہ باقی تھا ۔ اس نے وقت گذارنے کیلئے بسکٹوں کا ایک پیکٹ اور ایک رسالہ خریدا اور لاؤنج میں میز کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھ کر رسالہ پڑھنے لگی ۔ چند منٹ بعد ایک جوان لڑکا آیا اور اسی میز کے دوسری طرف والی کرسی پر بیٹھ کر ناول پڑھنے لگ گیا ۔ کچھ دیر بعد خاتون نے میز پر پڑے پیکٹ کو کھولا اور ایک بسکٹ لے کر کھانے لگی ۔ اس نے دیکھا کہ اس کے بعد لڑکے نے بھی اسی پیکٹ میں سے ایک بسکٹ نکال کر کھا لیا ۔ اسے یہ بات ناگوار گذری لیکن وہ خاموش رہی ۔ چند منٹ بعد خاتون نے دوسرا بسکٹ لے کر کھایا تو پھر لڑکے نے ایک بسکٹ لے کر کھا لیا ۔ لڑکی تَلملا اُٹھی لیکن ضبط سے کام لیا کہ اس کے چیخنے سے لاؤنج میں بیٹھے سب لوگ اس کی طرف متوجہ ہو جائیں گے اور ہو سکتا تھا کہ اسے گنوار جانیں ۔ یہ سلسلہ چلتا رہا ۔ آخر ایک بسکٹ رہ گیا اور وہ کنکھیوں سے دیکھنے لگی کہ وہ لڑکا کیا کرتا ہے ۔ اس لڑکے نے آخری بسکٹ نکالا اسے توڑ کر آدھا لڑکی کو دیا اور آدھا خود کھا لیا ۔ لڑکی آگ بگولا ہو کر لڑکے پر برس پڑی ۔ اسی وقت ہوائی جہاز کی روانگی کا اعلان ہو گیا اور وہ “ہونہہ” کہہ کر اپنا بیگ اُٹھا کر تیزی سے چلی گئی ۔
جہاز میں بیٹھنے کے تھوڑی دیر بعد وہ اپنے بیگ میں سے کنگھی نکالنے لگی تو دیکھا کہ اس کا بسکٹوں کا پیکٹ بیگ میں بند کا بند پڑا تھا ۔ اب اسے احساس ہوا کہ جس لڑکے کو اس نے بد تمیز اور نامعلوم کیا کیا کہا تھا وہ دراصل شریف اور اعلٰی کردار کا جوان تھا ۔
یاد رکھیئے کم از کم چار چیزیں واپس نہیں ہو سکتیں
1۔ لفظ جو کہہ دیا یا لکھ کر بھیج دیا
2 ۔ کمان سے نکلا تیر
3 ۔ موقع جو ہاتھ سے نکل گیا
4 ۔ گذرا ہوا لمحہ
مستقل لنک
September 28, 2008 at 8:59 am |
راقم : نگہت نسیم |
بلاگنگ, بین الاقوامی تعلقات, سماج میں شائع کیا گیا
دوستو عید کی آمد آمد ھے ۔ ھر ملک ھی کیا ھر گھر میں عید منانے کی اپنی روایات ھوتی ھیں ۔ کیوں نہ ھم سب اپنی عید کو اپنے القمر کے ساتھیو کے ساتھ بھی منایئں اور انہیں بتایئں کہ ھم سب جو دور دیس میں بیٹھیں ھیں ، عید کیسے مناتے ھیں اور جو دیس میں بیٹھیں ھیں وہ ھمیں بتایئں کہ عید مناتے ھوئے دور دیس میں رھنے والوں کو کتنا یاد کرتے ھیں ۔
آپ سب کو ادارہ القمر آن لائن ٹیم کی جانب سے دلی عید مبارک قبول ھو ۔ اس دعا کے ساتھ کہ اللہ پاک ھم سب کو اپنے حفظ و اماں میں رکھے اور ھمیں پیار اور علم بانٹنے والوں میں رکھے ۔ آمین
چلتے چلتے ڈاکٹر محمد یونس بٹ کی کتاب ” افرتفریح ” سے اقتباس عید کے پر مسرت موقع پر آپ سب کی نظر ۔اسے ھماری ٹیم کی طرف سے عید کارڈ سمجھیں ۔ اور ھماری “عیدی” آپ کی صرف ایک مسکراہٹ ھے جو اس اقتباس کو پڑھتے ھوئے خود بخود ھمیں مل جائے گی ۔ دعاؤں میں یاد رکھیئے گا ۔۔۔ شکریہ
ڈاکٹر محمد یونس بٹ لکھتے ھیں ۔۔۔
ہمارے یہاں عید ملنا، عید سے بہت پہلے شروع ہو جاتا ہے۔ دکاندار گاہکوں سے کلرک سائلوں سے اور ٹریفک پولیس والے گاڑی والوں کو روک روک کر ان سے عید ملتے ہیں۔بازاروں میں عید سے پہلے اتنا رش ہوتا ہے کہ وہاں سے گزرنا بھی عید ملنا ہی لگتا ہے۔ کچھ نوجوان تو لبرٹی اور بانو بازار میں عید ملنے کی ریہرسل کرنے جاتے ہیں۔
عید کے دن خوشبو لگا کر عیدگاہ کا رُخ کرتا ہوں۔ واپسی پر کپڑوں سے ہر قسم کی خوشبو آرہی ہوتی ہے سوائے اس خوشبو کے جو لگا کر جاتا ہوں۔عید مل مل کر وہی حال ہو جاتا ہے جو سو میٹر کی ھرڈل جیتنے کے بعد ہوتا ہے۔ اوپر سے گوجرانوالہ کی عید ملتی مٹی ایسی کہ جب واپس آ کر گھر کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہوں تو گھر والے گردن نکال کر کہتے ہیں
” جی ! کس سے ملنا ہے ”
سیاستدان تو عید یوں ملنے نکلتے ہیں، جیسے الیکشن کمپین پہ نکلے ہوں۔ جیتنے سے پہلے وہ عید مل کر آگے بڑھتے ہیں اور جیتنے کے بعد عید مل کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔پنجاب کے ایک سابق گورنر کا عید ملنے کا انداز نرالہ ہوتا تھا۔ ان کا حافظہ ہمارے ایک ادیب دوست جیسا تھا جو ایک ڈاکٹر سے اپنے مرضِ نسیان کا علاج کروا رہے تھے، دو ماہ کے مسلسل علاج کے بعد ایک دن ڈاکٹر نے پوچھا
” اب تو نہیں بھولتے آپ ”
” بالکل نہیں، مگر آپ کون ہیں اور کیوں پوچھ رہے ہیں ”
وہ سابق گورنر بھی عید پر معززیں سے عید ملنا شروع کرتے، ملتے ملتے درمیان تک پہنچتے تو بھول جاتے کہ کس طرف کے لوگوں سے مل لیا اور کس طرف کے لوگوں سے ابھی ملنا ہے۔ یوں وہ پھر نئے سرے سے عید ملنے لگتے۔ ایسے ہی ایک صاحب تیز دریا عبور کرنے کی کوشش میں تھے مگر عین دریا کے درمیان سے واپس پلٹ آئے۔ لوگوں نے وجہ پوچھی تو کہنے لگے، دراصل جب میں دریا کے درمیان پہنچا تو بہت تھک گیا سو واپس لوٹ آیا۔
شاعر وہ طبقہ ہے جو خوشی غمی دونوں موقعوں پرشعر کہتا ہے۔ کہتے ہیں کہ سکھ کرپان کے بغیر، بنگالی پان کے بغیر اور شاعر دیوان کے بغیر گھر سے نہیں نکلتا۔ اس لئے شاعر عید ملنے کے لئے بھی مشاعرے ہی کرتے ہیں۔ یوں مشاعروں کو لفظوں کا عید ملنا کہہ لیں اگرچہ وہ ہوتی تو لفظوں کی ہاتھاپائی ہے۔
بچّے پیار سے عید کو عیدی کہتے ہیں۔ اس لئے ان کو عیدی ملنا ان کا عید ملنا ہے۔ عورتیں بھی اکٹھی ہو کر عید ملتی ہیں، لیکن جہان چار عورتیں اکٹھی ہوں ویاں وہ ایک دوسرے سے نہیں، پانچویں سے خوب خوب ملتی ہیں۔ اور کوئی وہاں سے اٹھ کر اس لئے نہیں جاتی کہ جانے کے بعد وہاں بیٹھی رہنے والیاں اس سے ” عید ملنا ” نہ شروع کر دیں۔
عید کے روز امام مسجد سے عید ملنے کا یہ طریقہ ہے کہ اپنی مُٹھی مولوی صاحب کی ہتھیلی پر یوں رکھیں کہ ان کے منہ سے جزاک اللّہ کی آواز نکلے۔ چھوٹے شہروں میں نوجوانوں کی اکثریت سینما گھروں میں بھی عئد ملنے جاتی تھی۔ بکنگ کے سامنے وہ عید ملن ہوتی ہے کہ جو سفید سوٹ پہن کر آتا ہے وہ براؤن سوٹ بلکہ کبھی کبھی تو کالے سوٹ میں لوٹتا ہے، اکثر بنیان میں بھی واپس آتے ہیں۔ عید ملنا وہ ورزش ہے جس سے وزن بہت کم ہوتا ہے۔ میرا ایک دوست بتاتا ہے کہ بیرونِ ملک میں نے عید پر سو پاؤنڈ کم کئے۔
مستقل لنک
September 27, 2008 at 11:54 pm |
راقم : تانیہ رحمان |
بحثو مباحثہ, بلاگنگ میں شائع کیا گیا
پاکستانی صدر زرداری امریکی نائب صدر کی امیدوار سارہ پیلن سے ملاقات کی۔ وہ ان کے حسن کی تاب نا لاسکے یا پھر اپنی عادت سے مجبور تھے اور یہ بھول گیے کہ وہ پاکستانی صدر کی حیثیت سےآہئے ھیں ۔اور »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔
مستقل لنک
September 27, 2008 at 8:03 pm |
راقم : نگہت نسیم |
بلاگنگ, شاعری میں شائع کیا گیا
میرے پاس آؤ نا
ان گھنے درختوں کی چھاؤں تلے
میں تم میں بکھرنا چاھتی ھوں
تم سے جو
میرے ھونے کا رشتہ جڑا ھے
اسی روح کی پکار سنانا چاھتی ھوں
کئی باتیں تمھاری امانتوں کی طرح رکھی ھیں
انہی صداقتوں سے ایک گھر بنانا چاھتی ھوں
سچ کہوں
تو
تمہاری ہتھیلیوں کی روشنی میں چھپ کر
واپسی کا سارے رستے بھولنا چاھتی ھوں
مستقل لنک
September 27, 2008 at 8:40 am |
راقم : نگہت نسیم |
بلاگنگ, سماج, مضامین میں شائع کیا گیا
گڑھی حبیب اللہ کے قریب ایک وادی ہے جسے ‘‘شوگراں کی وادی‘‘کہا جاتا ہے اور سیاحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی وادی سوئٹزر لینڈ کے بعد صرف پاکستان میں ہے۔لیکن ہمارے صاحبان اقتدار نے کیا کبھی ایسا سوچا کہ باہر کے لوگوں کو اس طرف متوجہ کیا جائے۔ بھارت کے ساتھ اسلحے کی دوڑ تو ہو سکتی ہے لیکن سیاحت کی صنعت کی دوڑ کیوں نہیں۔ نہ جانے کیا اگلے پچاس برس میں بھی ہم بھارت کی سیاحت کی صنعت کے قریب بھی پہنچ سکیں گے۔کبھی سوچیئے اپنے ملک کی پچانوے فیصد سے زائد آبادی تو ایسی ہے جس نے اپنا ملک ہی نہیں دیکھا۔کیا کبھی ایسا وقت بھی آئے گا کہ اور کچھ نہیں تو کوئی حکومت سکولوں کے بچوں کو ہی اپنا ملک دکھانے کا انتظام کرے؟ کاش عالمی یوم سیاحت پر اقتدار کے یہ بھوکے لوگ ان عوام کے لیئے بھی کچھ سوچیں جنکے ووٹ سے یہ ایوانوں میں پہنچتے ہیں۔مزید پڑھنے کے لیئے یہاں کلک کریں۔
مستقل لنک
September 26, 2008 at 5:20 pm |
راقم : تانیہ رحمان |
بحثو مباحثہ, بلاگنگ میں شائع کیا گیا
عورت کی امامت کرنا جائز ھے ۔ کیا عورت نماز پڑھا سکتی ھے۔ اور اسکے پیچھے مرد حضرات نماز پڑھ سکتے ھیں ۔کیاعورت کا آذان دینا درست ھے۔ ؟؟؟آئے زرا دیکھیں۔



مستقل لنک
September 26, 2008 at 8:56 am |
راقم : سیدمصباح حیسن |
بلاگنگ میں شائع کیا گیا
چند برس پہلے پاکستان کی ایک تنظیم لشکر طیبہ کے نام سے کشمیر وغیرہ میں جہادی کاروائیوں میں مصروف عمل نظر آتی تھی۔ اس تنظیم کے پوسٹر تب بھی الدعوہ کے نام سے چھپتے رہتے تھے۔ مرید کے کے مقام پر انکا سالانہ اجلاس بھی ہوا کرتا تھا جو راےونڈ کے تبلیغی اجتماع کے بعد سب سے بڑا اجتماع بن گیا تھا۔ »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔
مستقل لنک
September 26, 2008 at 6:42 am |
راقم : افتخار اجمل بھوپال |
دین, سماج میں شائع کیا گیا
تخیّل ایک عجیب چیز ہے انسان کو کہاں سے کہاں لے جاتا ہے ۔ پینتیس چالیس سال پہلے کا واقع ہے میں کسی کو ملنے گیا ۔ اُنہوں نے مجھے بیٹھک میں بٹھایا جس میں ٹی وی پر کسی فلم کا گانا چل رہا تھا ۔ بول تھے ۔ ” تین بتّی چار راستہ ۔ تین دیِپ اور چار دوشائیں ۔ اِک رستے پہ مِل مِل جائیں ۔ تین دیِپ والا سین بہت خوبصورت تھا ۔ میں اُسے دیکھتے دیکھتے اُس میں کھو گیا ۔ »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔
مستقل لنک