Al Qamar Online Urdu News Network
SMS Guru
Al Qamar Online Urdu News Network
  
Al Qamar Online Blogs
| | |
RSS Feed
Important News International News News From Pakistan News from India   Special Reports and Features Columns   Science and Technology News Business News Editorial SportS News News from India, Pakistan, Bangla Desh, SriLanga, Maldives, Bhutan Showbiz News Interviews Politics News
Al Qamar Online; The largest Online Urdu News Network containing dozens of Urdu Channels From London, Denmark, US & Pakistan

بے انتہا برکتوں اور بخششوں کے موسم کی آمد…

اللہ تعالیٰ نے انسان کو روحانیت اور حیوانیت یا دوسرے الفاظ میں ملکوتیت اور بہیمیت کا نسخہ جامعہ بنایا ہے۔ اس کی طبیعت اور جبلت میں وہ سارے مادی اور سفلی تقاضے بھی ہیں جو دوسرے حیوانوں میں ہوتے ہیں اور اسی کے ساتھ اس کی فطرت میں روحانیت اور ملکوتیت کا وہ نورانی جوہر بھی ہے جو ملاء اعلیٰ کی لطیف مخلوق فرشتوں کی خاص دولت ہے، انسان کی سعادت کا دارومدار اس پر ہے کہ اس کا یہ روحانی اور ملکوتی عنصر، بہیمی اور حیوانی عنصر پر غالب اور حاوی رہے اور اس کی حدود کا پابند رکھے اور یہ تب ہی ممکن ہے جبکہ بہیمی پہلو روحانی اور ملکوتی پہلو کی فرمان برداری اور اطاعت شعاری کا عادی ہو جائے اور اس کے مقابلے میں سرکشی نہ کر سکے۔ روزہ کی ریاضت کا خاص مقصد و موضوع یہی ہے کہ اس کے ذریعے انسان کی حیوانیت اور بہیمیت کو اللہ تعالیٰ کے احکام کی پابندی اور ایمانی و روحانی تقاضوں کی تابعداری و فرمانبرداری کا خوگر بنایاجائے اور چونکہ یہ چیز نبوت اور شریعت کے خاص مقاصد میں سے ہے اس لئے پہلی تمام شریعتوں میں بھی روزہ کا حکم رہا ے۔ قرآن مجید میں اللہ رب العزت اس امت کو روزے کا حکم دیتے ہوئے فرماتے ہیں: ”اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کئے گئے جس طرح تم سے پہلی امتوں پر بھی فرض کئے گئے تھے۔ (روزوں کا یہ حکم تم کو اس لئے دیا گیا ہے) تاکہ تم میں تقویٰ پیدا ہو”۔
بہرحال روزہ چونکہ انسان کی قوت، بہیمی کو اس کی ملکوتی اور روحانی قوت کے تابع رکھنے اور اللہ کے احکام کے مقابلے میں نفس کی خواہشات اور پیٹ اور شہوت کے تقاضوں کو دبانے کی عادت ڈالنے کا خاص ذریعہ اور وسیلہ ہے، اس لئے اگلی امتوں کو بھی اس کا حکم دیا گیا تھا۔ اگرچہ روزوں کی مدت اور بعض دوسرے تفصیلی احکام ان ا متوں کے خاص حالات اور ضروریات کے لحاظ سے کچھ فرض بھی تھا۔ اس آخری امت کے لئے جس کا دور دنیا کے آخری دن تک ہے۔ سال میں ایک مہینے کے روزے فرض کئے گئے ہیں اور روزے کا وقت طلوع سحر سے غروب آفتاب تک رکھا گیا ہے اور بلاشبہ یہ مدت اور یہ وقت مذکورہ بالا مقصد کے لئے اس دور کے واسطے مناسب ترین اور نہایت معتدل مدت اور وقت ہے، اس لئے کم میں ریاضت اور نفس کی تربیت کا مقصد حاصل نہیں ہوتا اور اگر اس سے زیادہ رکھا جاتا ہے۔ مثلاً روزے میں دن کے ساتھ رات بھی شامل کر دی جاتی اور بس سحر کے وقت کھانے پینے کی اجازت ہوتی یا سال میں دوچار مہینے مسلسل روزے رکھنے کا حکم ہوتا تو انسانوں کی اکثریت کے لئے ناقابل برداشت اور ان کی صحتوں کے لئے مضر ہوتا۔ بہرحال طلوع سحر سے غروب آفتاب تک کا وقت اور سال میں ایک مہینے کی مدت اس دور کے عام انسانوں کے حالات کے لحاظ سے ریاضت و تربیت کے مقصد کے لئے بالکل مناسب اور معتدل ہے۔ پھر اس کے لئے جو مہینہ مقرر کیا گیا ہے آیئے ذرا دیکھیں کہ اس کی عظمت و فضیلت کے بارے میں قرآن مجید میں اور رسول اللہۖ کے ارشادات فرمایا گیا ہے۔
اس مبارک مہینہ کی سب سے بڑی اور اصولی فضیلت تو وہی ہے جس کا ذکر قرآن پاک میں کیا گیاہے، یعنی یہ کہ اس میں اللہ کا مقدس کلام اور آخری پیغام نازل ہوا، جس نے ہمیشہ کے لئے نجات کی راہ اور حق کے راستہ کو روشن کر دیا اور جس کے ذریعے لوگوں پر سعادت کے دروازے کھول دیئے گئے۔ بہرحال رمضان المبار ک کا سب سے بڑا شرف یہی ہے کہ خدا کی رحمت کی آخری اور مکمل قسط، نجات و فلاح کا دستور اور حیات ابدی کا قانون بن کر قرآن کی شکل میں اس مبارک مہینہ میں نازل کی گئی یعنی اس ماہ مبارک میں اس کا نزول شروع ہوا۔ اب احادیث میں اس مہینہ کی جو اور برکتیں وارد ہوتی ہیں وہ سب درحقیقت اسی بنیاد پر مبنی ہیں یعنی ان برکتوں اور فضیلتوں کے ساتھ اس مہینے کو اس واسطے خاص کیا گیا ہے کہ وہ نزول قرآن کا مہینہ ہے اور چونکہ قرآن کا نزول براہ راست رسولۖ پر ہوا اور آپ ہی اس نعت الٰہی کی پوری طرح قدر پہچاننے والے تھے اس لئے رمضان کی رحمتوں اور برکتوں کا احساس بھی آپ کو بے حد و حساب تھا، جس کا کچھ اندازہ آپۖ کے اس ارشاد سے کیا جا سکتا ہے کہ ”اگر لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ رمضان المبارک کیا چیز ہے تو میری امت یہ تمنا کرے کہ سارا سال رمضان ہی ہو جائے”۔
حضرت سلمان فارسی کی روایت ہے حدیث کی متعدد کتابوں میں منقول ہے کہ شعبان کی آخری تاریخ کو رسول اللہۖ نے ہمارے سامنے عمومی طور پر ایک تقریر فرمائی جس میں آپۖ نے فرمایا: ”اے لوگو! تم پر ایک عظمت اور برکت والا مہینہ سایہ افگن ہو رہا ہے اس مبارک مہینہ کی ایک رات (شب قدر) ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ اس مہینے کے روزے اللہ تعالیٰ نے فرض کئے ہیں اور اس کی راتوں میں بارگاہ خداوندی میں کھڑے ہونے یعنی (نماز تراویح پڑھنے) کو نفل عبادات مقرر کیا ہے (جس کا بہت بڑا ثواب ہے) جو شخص اس مہینے میں اللہ کی رضا اور اس کا قرب حاصل کرنے کے لئے کوئی غیر فرض عبادت یعنی سنت یا نفل ادا کرے گا تو اس کو دوسرے زمانے کے فرضوں کے برابر اس کا ثواب ملے گا اور اس مہینے میں فرض ادا کرنے کا ثواب دوسرے زمانے ک یستر فرضوں کے برابر چلے گا۔ یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا بدلہ جنت ہے۔ یہ ہمدردی اور غم خواری کا مہینہ ہے اور یہی وہ مہینہ ہے جس میں مومن بندوں کے رزق میں اضافہ کیا جاتا ہے، جس نے اس مہینے میں کسی روزہ دار کو (اللہ کی رضا اور ثواب حاصل کرنے کے لئے) افطار کروایاتو اس کے لئے گناہوں کی مغفرت اور آتش دوزخ سے آزادی کا ذریعہ ہو گا اور اس کو روزہ دار کے برابر ثواب دیا جائے گا بغیر اس کے کہ روزہ دار کے ثواب میں کوئی کمی کی جائے! آپۖ سے عرض کیا گیا کہ یا رسول اللہۖ ہم میں سے ہر ایک کو تو افطار کرانے کا سامان میسر نہیں ہوتا تو کیا غرباء اس عظیم ثواب سے محروم رہیں گے؟ آپۖ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ یہ ثواب اس شخص کو بھی دے گا جو دودھ کی تھوڑی سی لسی پر یا صرف پانی ہی کے ایک گھونٹ پر کسی روزہ دار کا روزہ افطار کرا دے۔ رسول اللہۖ نے سلسلہ کام جاری رکھتے ہوئے آگے ارشاد فرمایا کہ اور جو کوئی کسی روزہ دار کو پورا کھانا کھلا دے اس کو اللہ تعالیٰ میرے حوض (یعنی کوثر) سے ایسا سیراب کرے گا جس کے بعد اس کو کبھی پیاس ہی نہیں لگے گی تاآنکہ وہ جنت میں پہنچ جائے گا۔ اس کے بعد آپۖ نے فرمایا اس ماہ مبارک کا ابتدائی حصہ رحمت اور درمیانی حصہ مغفرت اور آخری حصہ آتش دوزخ سے آزادی ہے اس کے بعد آپۖ نے فرمایا جو آدمی اس مہینے میں اپنے غلام و خادم کے کام میں تخفیف اور کمی کر دے گا اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرما دے گا اور اس کو دوزخ سے رہائی اور آزادی دے گا۔
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہۖ نے روزہ کی فضیلت اور قدر و قیمت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ آدمی کے ہر اچھے عمل کا ثواب دس گنا سے سو گنا تک بڑھایا جاتا ہے (یعنی اس امت مرحومہ کے اعمال خیر کے متعلق عام قانون الٰہی یہی ہے کہ ایک نیکی کا اجر اگلی امتوں کے الحاظ سے کم از کم دس گناہ ضرور عطا ہو گا اور بعض عمل کرنے والے کے خاص حالات اور اخلاص و خشیت وغیرہ کیفیات کی وجہ سے اس سے بھی بہت زیادہ عطا ہو گا یہاں تکہ کہ بعض مقبول بندوں کو ان کے اعمال حسینہ کا اجر سات سو گنا عطا فرمایا جائے گا۔
حضرت سہیل بن سعد ساعدی سے روایت ہے کہ رسول اللہۖ نے فرمایا: ”جنت کے دروازہ میں ایک خاص دروازہ روزہ داروں کے لئے ہے جسے ”باب الریان” کہا جاتا ہے۔ اس دروازے سے قیامت کے دن صرف روزہ داروں کا داخلہ ہو گا، ان کے سوا کوئی اس دروازے سے داخل نہیں سکے گا۔ اس دن پکارا جائے گا کہ کدھر ہیں وہ بندے جو اللہ کے لئے روزہ رکھا کرتے تھے اور بھوک پیاس کی تکلیف اٹھایا کرتے تھے اور اس پکار پر چل پڑیں گے ان کے سوا کسی اور کا اس دروازے سے داخلہ نہیں ہو سکے گا جب وہ روز دار اس دروازے سے جنت میں پہنچ جائیں گے تو یہ دروازہ بند کر دیا جائے گا پھر کسی کا اس سے داخلہ نہیں ہو سکے گا۔
رحمتہ اللعالمین نے فرمایا کہ ”جب رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے تو شیاطین اور سرکش جنات جکڑ دیئے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں، ان میں سے کوئی دروازہ رمضان ختم ہونے تک نہیں کھولا جاتا اور جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں، جن میں سے کوئی دروازہ ختم رمضان تک بند نہیں کیا جاتا ہے اور خدا کی طرف سے ایک پکارنے والا پکارتا ہے کہ اے خیر کے طلب کرنے والے آگے بڑھ اور اے شر کے تلاش کرنے والے رک جا اور بہت سے لوگوں کو اللہ تعالیٰ دوزخ سے آزاد کرتے ہیں اور ہر رات ایسا ہی ہوتا ہے”۔
اللہ رب العزت ہمیں رمضان المبارک میں زیادہ سے زیادہ اعمال صالح کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)

AddThis Social Bookmark Button AddThis Feed Button

اس تحریر پر تبصرے کی آر ایس ایس فیڈ | ٹریک بیک

اس تحریر پر تبصرہ کیجئے

Englishاردو