Al Qamar Online Urdu News Network
SMS Guru
Al Qamar Online Urdu News Network
  
Al Qamar Online Blogs
| | |
RSS Feed
Important News International News News From Pakistan News from India   Special Reports and Features Columns   Science and Technology News Business News Editorial SportS News News from India, Pakistan, Bangla Desh, SriLanga, Maldives, Bhutan Showbiz News Interviews Politics News
Al Qamar Online; The largest Online Urdu News Network containing dozens of Urdu Channels From London, Denmark, US & Pakistan

۔ 6 ۔ کیا مدرسوں میں پڑھے جاہل اور دہشتگرد ہوتے ہیں ؟

نام نہاد روشن خیال کہتے ہیں کہ مدرسوں میں پڑھنے والے طلباء و طالبات سائنسی دنیا کے لحاظ سے جاہل ہوتے ہیں اور مدرسے ان کو دہشت گرد بناتے ہیں ۔ پچھلے سال جولائی میں حکومت نے اپنے آقاؤں کو خوش کرنے کیلئے پاکستان میں لڑکیوں کا سب سے بڑا مدرسہ ۔ جامعہ حفصہ اسلام آباد تباہ کر دیا اور پاکستان میں لڑکوں کے چند بڑےمدرسوں میں سے ایک ۔ جامعہ فریدیہ کو بند کر کے پولیس کی تحویل میں دے دیا تھا [چند دن قبل فروری 2008ء کے انتخابات کے نتیجہ میں کامیاب ہونے والی حکومت نے وہاں سے پولیس ہٹا لی ہے] ۔ سینکڑوں طالبات و طلباء ہلاک کر دیئے ۔ ان مدرسوں کے مہتمم صاحبان میں سے ایک ہلاک کر دیئے گئے اور ایک ابھی تک قید میں ہیں ۔ ان کی والدہ اور قیدی مہتمم کا جواں سال بیٹا بھی ہلاک کر دئیے گئے ۔ اسلئے ان مدرسوں کے متعلق تعلیمی اعداد و شمار حاصل کرنا مشکل ہے ۔ البتہ دو دوسرےمدرسوں کے متعلق کچھ حقائق یہ ہیں

بنوری ٹاؤن کراچی میں ایک بہت پرانا مدرسہ بلکہ یونیورسٹی کہنا چاہیئے جامعہ علوم الاسلامیہ العالمیہ کے نام سے ہے ۔ مئی 2006ء میں اسی جامعہ میں تیسرے سال کے ایک طالب علم کا نام بہت مشہور ہوا ۔ یہ طالب علم جس کا نام سیّد عدنان کاکا خیل ہے نے اسلام آباد کے کنونشن ہال میں بلائے گئے طلباء کنونشن میں اس وقت کے صدر کے سامنے قابلِ تعریف ذہانت کے ساتھ کھری کھری باتیں کی تھیں ۔ سیْد عدنان کاکا خیلنے ریاضی میں ماسٹرز کی سند بھی حاصل کی ہوئی ہے ۔ اس موجودہ دور کی لاثانی تقریر کی وڈیو مندرجہ ذیل ربط پر کلِک کر کے یا اسے براؤزر میں لکھ کر کھولنے سے سنی اور دیکھی جا سکتی ہے

http://www.youtube.com/watch?v=qWGNZhbKjgo&mode=related&search=

اسلام آباد میں 1999ء میں قائم ہونے والے ایک چھوٹے سے دینی مدرسہ ۔ ادارہ علومِ اسلامیہ کے فیڈرل بورڈ کے چند نتائج نمونہ کے طور پر نقل کر رہا ہوں ۔ عمدہ کارکردگی اس مدرسے کا اول روز سے معمول ہے جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ان مدرسوں میں لڑکے لڑکیاں اپنے ذوقِ تعلیم کو پورا کرنے کیلئے پڑھتے ہیں بڑا افسر بننے کیلئے نہیں ۔

سن 2008ء میں اس کے طالب علموں نے انٹرمیڈیٹ [بارہویں جماعت] اور میٹرک [دسویں] دونوں کے جنرل گروپ میں دوسری پوزیشن حاصل کی ۔ باقی تفصیلات میں ابھی حاصل نہیں کر سکا ۔
سن 2007ء میں 25 طلباء نے انٹرمیڈیٹ کا امتحان دیا جن میں سے 3 نے گریڈ اے وَن ۔ 18 نے گریڈ اے اور 4 نے گریڈ بی حاصل کیا ۔
سن 2006ء میں انٹرمیڈیٹ جنرل گروپ میں پہلی اور تیسری سے دسویں پوزیشنیں اسی مدرسہ کے طالب علموں نے حاصل کیں ۔
سن 2005ء میں میٹرک کے امتحان میں لڑکوں میں پہلی گیارہ پوزیشنیں اس مدرسہ کے طلباء نے حاصل کیں ۔
سن 2004ء میں میٹرک کے امتحان میں لڑکوں میں پہلی چودہ پوزیشنیں اس مدرسہ کے طلباء نے حاصل کیں اور حافظ حارث سلیم نے جنرل سائنس میں پورے بورڈ میں سب سے زیادہ نمبر حاصل کئے ۔
اس مدرسہ کا کوئی طالب علم آج تک فیڈرل بورڈ کے امتحان میں فیل نہیں ہوا ۔

قبائلی علاقہ کے دہشت گرد ؟

کنور ادریس صاحب جو کہ روشن خیال شخص ہیں اور سابق بیوروکریٹ ہیں ۔ کسی زمانہ میں وہ قبائلی علاقہ میں تعینات تھے ۔ پچھلے سال اگست میں انہوں نے ڈان میں اپنے ایک مضمون میں لکھا کہ اس قیام کے دوران وہ قبائلیوں کی قانون کی پاسداری سے بہت متأثر ہوئے ۔

میں خود 1964ء سے 1975ء تک سرکاری اور غیر سرکاری کاموں کیلئے قبائلی علاقوں میں جاتا رہا ہوں اور اس کے بعد مختلف معاملات میں قبائلیوں سے واسطہ پڑتا رہا ۔ میں نے جتنا ان لوگوں کو انسانیت کے قریب پایا اتنا پاکستان کے کسی اور علاقہ میں بسنے والوں کو نہیں پایا ۔ ان جیسا حسنِ سلوک پاکستان کے دوسرے علاقوں میں کم کم ہی ملتا ہے ۔

پچھلے پانچ چھ سال سے ہمارے حکمران اپنے آقاؤں کو خوش کرنے کیلئے ۔ ان محبِ وطن غریب لوگوں کو بم برسا کر ہلاک کر رہے ہیں ۔ چند ماہ قبل میں کسی کام سے اسلام آباد کے ایک سرکاری دفتر گیا وہاں ایک آفیسر قبائلی علاقہ سے تعلق رکھتے ہیں ۔ میں نے خیریت دریافت کی تو کہنے لگے “خیریت کیا ؟ ظلم ہو رہا ہے ۔ ہماری حکومت امریکا کی خوشنودی کیلئے محبِ وطن اور پاکستان کے محافظ لوگوں کو بیوی بچوں سمیت مار مار کر ختم کر رہی ہے ۔ آج تک انہی لوگوں نے بغیر حکومت کی مدد کے ملک کی مغربی سرحد کی حفاظت کی ہے”۔ میں نے کہا “حکومت کہتی ہے وہ تاجک ہیں”۔ اس پر اس نے کہا ” پچھلے سال جب سی ڈی اے والے بُلڈوزر لے کر جامعہ حفصہ کو گرانے آئے تھے تو طالبات ایک دو دن ڈنڈے لے کر سڑک پر کھڑی ہوئی تھیں ۔ اس کی فلم کئی ماہ ٹی وی پر چلتی رہی تھی ۔ اگر ایک بھی تاجک مارا گیا ہوتا تو اس کی تصویر حکمران ٹی وی پر نہ دکھاتے ؟”

پاکستانی مدرسوں کا غریب بچوں کو پڑھانے میں بہت بڑا کردار ہے بلکہ ہم لوگ جو اسلام کے متعلق تھوڑا بہت علم رکھتے ہیں وہ ان مدرسوں کے پڑھے ہوئے علماء کی وجہ سے ہے ۔ دینی مدرسوں کی موجودگی کا ایک آئینی پہلو بھی ہے ۔ تمام دینی اور مذہبی مدرسوں یا سکولوں کو آئینی تحفظ حاصل ہے چاہے وہ رجسٹرڈ ہوں یا نہ ہوں ۔ ان مدرسوں کے تعلیمی کام یا نظام میں حکومت کی طرف سے مداخلت پاکستان کے آئین کی خلاف ورزی ہے ۔ یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ امریکی حکومت کے ایماء پر پچھلے سال سکولوں اور کالجوں کے اسلامیات یا دینیات کے کورس میں سے وہ سب آیاتِقرآنی نکال دی گئی تھیں جن میں جہاد کا ذکر ہے یا کفّار کی ملامت کی گئی ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے آئین کی جن شقوں کی بنیاد پر حسبہ ایکٹ کی پانچ شقوں کی انیس ذیلی شقوں کو آئین کے خلاف قرار دیا تھا ۔ حکومت نے مدرسوں کے معاملات میں دخل اندازی کر کے اور مدرسوں کی انتظامیہ کو مختلف حُکم دے کر آئین کی ان ہی شقوں کی صریح خلاف ورزی کی ۔ ملاحظہ ہو ۔ ۔ ۔

Chapter 1. FUNDAMENTAL RIGHTS

20. Subject to law, public order and morality:-
(a) every citizen shall have the right to profess, practice and propagate his religion; and
(b) every religious denomination and every sect thereof shall have the right to establish, maintain and manage its religious institutions.

22.
(1) No person attending any educational institution shall be required to receive religious instruction, or take part in any religious ceremony, or attend religious worship, if such instruction, ceremony or worship relates to a religion other than his own.
(2) In respect of any religious institution, there shall be no discrimination against any community in the granting of exemption or concession in relation to taxation.
(3) Subject to law:
(a) no religious community or denomination shall be prevented from providing religious instruction for pupils of that community or denomination in any educational institution maintained wholly by that community or denomination; and
(b) no citizen shall be denied admission to any educational institution receiving aid from public revenues on the ground only of race, religion, caste or place of birth.

مندرجہ بالا شقیں 1956ء اور 1962ء کے آئین میں بھی موجود تھیں ۔

مدرسوں اور مسجدوں پر پابندی نہیں ہونا چاہیئے اور نہ یہ حکومت کے کنٹرول میں ہونا چاہئیں ۔ ورنہ وہی ہو گا جو ترکی میں ہوا ۔ جن کا اب یہ حال ہے کہ نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم ۔ نہ اِدھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے ۔ مارچ 1924ء میں مصطفٰے کمال پاشا نے سلطنت عثمانیہ کو ختم کر کے سیکولر حکومت قائم کی ۔ کسی کا عربی لباس پہننا ۔ عورتوں کا سر کو ڈھانپنا ۔ عربی زبان میں قرآن اور نماز پڑھنا اور اسلام یا اسلامی معاشرہ کا نام لینا ممنوع قرار دیا اور یورپین لباس کو قومی لباس قرار دیا گیا ۔ مسجدیں حکومت نے اپنے کنٹرول میں لے لیں اور سرکاری امام مقرر کئے جو نماز ترکی زبان میں پڑھاتے اور نماز کے وقت کے علاوہ مسجدوں پر تالے رہتے ۔ ان اقدامات کو مصطفٰے کمال پاشا نے ترقی کی نشانی کہا اور یورپین بننے کا دعوی کیا ۔ آج 84 سال بعد بھی ترکی یورپینوں کا باجگذار تو ہے مگر یورپی یونین میں شامل نہیں ہو سکا جبکہ ماضی قریب میں روس سے آزاد ہونے والی مشرقی یورپ کی کئی ریاستیں یورپین یونین کا حصہ بن چکی ہیں

AddThis Social Bookmark Button AddThis Feed Button

4 تبصرے »

  1. ازفر حسین UNITED KINGDOM نے لکھا؛

    September 6, 2008 at 5:30 pm

    اس بلاگ کو لکھنے والے زیادہ تر لوگ مدارس کے یہ پڑھے ہوئے ہیں کیا وہ سب دہست گرد ہیں کئی کو تو میں ذاتی طور پر جانتا ہوں

  2. افتخار اجمل بھوپال PAKISTAN نے لکھا؛

    September 7, 2008 at 10:12 am

    ازفر حسین صاحب
    میرے عِلم میں نہیں کہ القمر میں لکھنے والے کون مدرسہ کے پڑھے ہیں اور کون نہیں لیکن میں نے تو یہ بتانے کی ایک ادنٰی سی کوشش کی ہے کہ مدرسہ کے پڑھے دہشتگرد نہیں ہوتے اور اُن میں سے کئی دوسرے علوم میں بھی نام پیدا کرتے ہیں ۔

  3. نگہت نسیم AUSTRALIA نے لکھا؛

    September 7, 2008 at 7:52 pm

    دہشت گرد ھونے کے لیئے مدارس میں پڑھنا ضروری نہیں ھے بلکہ بے ضمیر ھونا اور بے خوف ھونا ھی کافی ھے اور مجھے نہیں لگتا کوئی بھی تعلیمی ادارہ بے ضمیری اور اللہ سے بے خوفی سکھاتا ھو .. مدارس کو صرف بدنام کیا جا رھاھے . بھلا امریکہ اور روس کے دہشت گرد کن مدارس کےھیں ؟

  4. افتخار اجمل بھوپال PAKISTAN نے لکھا؛

    September 8, 2008 at 3:47 pm

    نگہت نسیم صاحبہ
    آپ کا خیال درست ہے ۔

اس تحریر پر تبصرے کی آر ایس ایس فیڈ | ٹریک بیک

اس تحریر پر تبصرہ کیجئے

Englishاردو