پاک فضائیہ کی کارگردگی ہمیشہ مثالی رہی ہے
مو جودہ دور میں تین طرح کی افواج کا تصور پا یا جا تا ہے۔بری،بحری اور فضائی۔اگر کسی ملک میں سمندر مو جود ہے تو تینوں افواج ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔موجودہ دور میں فتح و شکست کا زیادہ تر دارومدار فضائیہ کی مضبوطی پر ہے۔کیوں کہ بری و بحری افواج کے لیے فضائیہ کی مدد کے بغیر پیش قدمی کرنا تقریباََ ناممکن ہے اور دشمن کی فضائیہ کی موجودگی میں تو اپنی تباہی کو آواز دینے کے مترادف ہے۔آخر فضائیہ میں ایسی کیا خوبی ہے جو اسے باقی دو افواج سے ممتاز کرتی ہے۔بانی پاکستان حضرت قائد اعظم محمد علی جناح کی دورس نگاہ نے بہت پہلے ہی فضائیہ کی اہمیت کا اندازہ لگا لیا تھا،جس کا اظہار 1941 ء میں علی گڑھ کے طلبہ سے خطاب کے دوران ایک سوال کے جواب میں کہے گئے ان کلمات سے بخوبی ہو تا ہے۔”فضائیہ جدید فنِ حرب کا فیصلہ کن ہتھیار ہے’قائد اعظم محمد علی جناح نے پاک فضا ئیہ کی ایک تقریب کے دوران یہ کلمات کہے”کوئی بھی ملک ،مضبوط فضائیہ کے بغیر کسی نہ کسی جارحانہ طاقت کے رحم و کرم پر ہو تا ہے۔پاکستان کو اپنی فضائی فوج جس قدر جلد ممکن ہو تعمیر کر نا ہو گی۔اس کے لیے ایک ایسی موثر قوت بننا لازم ہے جو کسی مقابلے میں فرو تر نہ ہو ” ہماری فضائیہ کا شمار دنیا کی چند بہترین فضائی افواج میں ہو تا ہے۔جنگ ستمبر اس بات کا بہترین ثبوت فراہم کرتی ہے۔ہماری فضائیہ نے فضا میں ایسے معرکے انجام دئیے اور زمین پر دشمن کی فوجوں پر اس کے ملک میں جا کر اس کے مختلف فضائی مستقروں پر ایسے حملے کئے کہ جنگ شروح ہو نے کے چوتھے دن ہی دشمن کی فضائیہ فضاء سے غائب ہو چکی تھے۔ قارئین محترم دنیا میں ہمیشہ وہی قومیں زندہ وپائندہ رہتی ہیں جو اپنے نظریے اور وطن کی حفاظت کو اپنی جان و مال سے زیادہ عزیز رکھتی ہیں زمانے میں ان ہی کی کہانیاں اور داستانیں یاد و رقم کی جاتی ہیں جو آزمائش کی ہر گھڑی پر پورا اترنے کے ڈھنگ و انداز جانتی نہیں۔ کہتے ہیں کہ جب چینی لیڈر مائوزے تنگ کا آخری وقت آیا وہ فالج زدہ تھے ان کی زبان میں لکنت آ چکی تھی۔ چین کے ممتاز رہنما اپنے قومی محسن کے سرہانے آبدیدہ کھڑے تھے انہوں نے مائوزے تنگ پر جب نزع کی کیفیت طاری دیکھی تو ”مائو” سے استدعا کی کہ ”بابا” آپ اپنے وسیع و عریض تجربے کی روشنی میں ہماری قوم کے نام آخری پیغام کے طور پر چند نصیحت آموز کلمات ارشاد فرمائیں۔ چنانچہ مائوزے تنگ نے کپکپاتے ہونٹوںاور لرزتے ہاتھوں کو جنبش دیتے ہوئے کہا کہ مجھے اس بات کا کوئی خدشہ یا ڈر نہیں ہے کہ چین میں کوئی بیرونی ملک حملہ کر کے اس کی آزادی سلب کر سکے گا۔ البتہ مجھے اس بات کا اندیشہ ضرور لاحق ہے کہ اگر ہماری قوم نے کسی وقت اپنی تاریخ کو فراموش کر دیا تو اسے کسی بیرونی حملہ آور کی ضرورت نہیں رہے گی اور وہ ایک نہ ایک روز آزادی کی نعمت سے ضرور محروم ہو جائے گی۔ چینی لیڈر مائوزے تنگ کا یہ ارشاد اگرچہ چینی قوم کے نام تھا اور بلاشبہ موتیوں میں تولنے کے لائق ہی نہیںبلکہ آزادی کی نعمت کو برقرار رکھنے کا ایک تیر بہدف نسخہ بھی ہے جس پر عمل کر کے بہت کچھ کھویا ہوا پایا جا سکتا ہے۔ ایک وقت تھا جب مسلمان نہ صرف مسلم لیگ کے سبز ہلالی پرچم تلے متحد ہو گئے تھے،بلکہ انہوں نے اپنے تمام فروعی اختلافات کو طاق نسیاں کی زینت بنا دیا تھا اور جذبہ ایثار و قربانی کا مجسمہ بن گئے تھے۔ پوری قوم مالا کے دانوں کی طرح وحدت کی لڑی میں پروئی گئی تھی جس کے نتیجے میں ہمیں آزادی کی وہ گرنقدر نعمت حاصل ہوئی جو صدیوں کی جدوجہد کے بعد قوموں کا مقدر بنا کرتی ہے۔ ہندو اور انگریز کی غلامی سے نجات کامنظر ہمارے ازلی دشمن بھارت کو نہ اس وقت ایک آنکھ بھایا تھا اور نہ آج تک وہ ذہنی طور پر ہمارے ملک کو تسلیم کرنے پر آمادہ ہوا ہے، تاہم جب پاکستان دنیا کے نقشے پر ایک جیتی جاگتی حقیقت بن کر ابھرا آیا تو ہمارے دشمن بھارت نے زخم خوردہ سانپ کی طرح ہمارے وطن کی سلامتی کے خلاف نہ صرف سازشیں شروع کر دیں بلکہ حیدر آباد اور جونا گڑھ کی مسلم اکثریتی ریاستوں کو ہڑپ کر لیا۔ اس طرح کشمیر پر بھی غاصبانہ قبضہ جمالیا۔ اس کی ہوس ملک گیری کی آگ کی طرح ٹھنڈی ہونے میں نہیں آ رہی تھی کہ 6 ستمبر 1965ء کی رات ہمارے پاک وطن کی سرحد پر جنگ کااعلان کئے بغیر یلغار کر کے جنگ شروع کر دی۔واہگہ، کھیم کرن، سیالکوٹ، چونڈہ اور چھمب جوڑیاں کے مقامی افراد نے محاذوں پر جا کر فوجی جوانوں کے جذبوں کو قریب سے دیکھا، ایسے بھی لمحات دیکھے کہ سترہ روزہ جنگ کے دوران بسا اوقات کھانے کو کچھ میسر نہ ہوتا اور نہ ہی سکھ چین کی نیند اور آرام کرنے کا موقع۔ بھارتی فوج چھمب کے فلک بوس پہاڑوںکے فولادی مورچوں میں بیٹھ کر کھلے میدان میں پیش قدمی کرنے والے پاک فوج کے جوانوں پر اندھا دھند گولے برسا ر ہی تھی۔ آفرین ہماری فوج کے جیالوں کی ہمت مردانہ پر کہ وہ اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرتے ہوئے اس حد تک آگے چلے گئے کہ وہ بزدل آہنی مورچوں سے دم دبا کر بھاگنے پر مجبور ہو گئے۔ عینی شاہدین نے بددل دشمن کے بھگوڑے فوجیوں کی جوتیاں اور نیکریں دریائے توی کے کنارے (چھمب) کے میدان میں بکھری ہوئی دیکھیں جس سے اندازہ ہوتا تھا کہ بھارتی بھگوڑے پاکستانی فوج سے اس حد تک خوفزدہ ہو گئے تھے کہ اپنے پائوں کی جوتیاں تک چھوڑ کر بھاگ گئے۔ اہل سیالکوٹ نے نہ صرف اپنی آنکھوں سے چونڈہ محاذ کی ٹینکوں کی خوفناک جنگ ہوتی ہوئی دیکھی بلکہ تاریخ گواہ ہے کہ سارے بہادر جوانوں نے دشمن کے ٹینکوں کے آگے لیٹ کر وطن کے دفاع کے لئے اپنی جانیں نثار کر دی تھیں اور ایک انچ زمین پر دشمنوں کو قابض نہیں ہونے دیا تھا۔ معرکہ ستمبر جنگ عالمی جنگ کے بعد تاریخ کی سب سے بڑی جنگ قرار پائی جس میں پاک فضائیہ کے طیاروں ایف 86 نے ٹینک شکن ہتھیاروں کے ذریعے جنگ کا نقشہ پلٹ دیاتھا۔ جنگ ستمبر میں پاک فضائیہ نے اپنی مہارت کا لوہا منوا لیا اور ایسے ایسے فضائی اور زمینی معرکے سر انجام دیے جو ناممکنات میں سے محسوس ہو تے ہیں۔ایم ایم عالم نے ایک ہی معرکے میں دشمن کے 5 ہنٹر طیارے تباہ کر دئیے جن میں سے چار طیارے ایک ہی ہلے میں نشانہ نبے ، جو ایک عالمی ریکارڈ ہے۔فضائیہ کی سب سے اہم خوبی اس کا بلندی سے مشاہدہ کر کے اپنے ٹارگٹ کو تلاش کر اور پھر نہایت خوبی سے اسے نشانہ بنا لینا ہے۔فضائیہ کی دوسری اہم خصوصیت اس کی برق رفتاری ہے۔موجودہ دور میں اچھی فضائیہ نہایت ہی کم وقت میں دشمن کو جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔فضائیہ کی تیسری اور اہم ترین خوبی اس کا کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ فاصلہ طے کرنے کی صلاحیت ہے۔علاوہ ازیں موجودہ دور میں ایجاد ہو نے والے تباہ کن ہتھیار جنہیںMass Destruction Wepons کہتے ہیں انہیںاستعمال کر نے کے لیے بھی زیادہ تر فضائیہ ہی کا استعمال کیا جا تا ہے۔ہرسال کی طرح اس سال بھی یوم فضائیہ انتہائی جوش و جذبے سے منایا جا رہا ہے۔جس میں ساڑھے تین سو سے زائد ہر قسم کے طیارے حصہ لے رہے ہیں۔بھارت جو اس وقت دفاعی سرگرمیوں میں اپنے عروج پر ہے اور وہ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ساتھ روس کے ساتھ بھی دفاعی منصوبوں کو حتمیٰ شکل دے چکا ہے کو سامنے رکھتے ہو ئے پاکستان کے دفاعی ماہرین کو اس سلسلہ میں ہمہ وقت چوکس رہنا چا ہئیے۔1965 کی جنگ میں پاک فضائیہ کی کارکردگی مثالی نوعیت کی تھی۔اس لیے فضائیہ کی پاکستان کی فوج کے لیے بہت زیادہ خدمات ہیں۔پاکستان کو چاہئیے کہ پاک فضائیہ کے ساتھ ساتھ بری و بحری فوج کو بھی جدید اسلحہ ،ساز و سامان سے لیس کر نے کی کوشش کر ے تاکہ دشمن ملک اس پاک سر زمین کی طرف میلی آنکھ سے نہ دیکھ سکے۔































اکمل سید
نے لکھا؛
September 8, 2008 at 2:14 pm
آپ سے اتفاق ہے اشفاق رحمانی قلم دوست جناب کیانی زندہ آباد