Al Qamar Online Urdu News Network
SMS Guru
Al Qamar Online Urdu News Network
  
Al Qamar Online Blogs
| | |
RSS Feed
Important News International News News From Pakistan News from India   Special Reports and Features Columns   Science and Technology News Business News Editorial SportS News News from India, Pakistan, Bangla Desh, SriLanga, Maldives, Bhutan Showbiz News Interviews Politics News
Al Qamar Online; The largest Online Urdu News Network containing dozens of Urdu Channels From London, Denmark, US & Pakistan

زارداری کی جے۔۔

حیرت اور افسوس ہے کہ کل جب تک زرداری ہاؤس میں خود زرداری صرف شوہر کی حیثیت سے رہ رہے تھے تو سب اُنکو 10 پرسینٹ کہہ کر پُکارتے تھے، صحافت کے بڑے بڑے جغادری اُنکو دُنیاءِ سیاست کا چور اور جانے کیا کیا کہتے تھے، آج اُنکو سانپ کیوں سونگھ گیا ہے۔ صًُم” بُکم” والی کیفیت کیوں ہو گئی ہے۔ کیا آج اُنکے گھوڑے مربہ نہیں کھاتے کیا بقولِ کسے اگر جیل میں وہ عیاش ترین قیدی تھے تو آزاد رہ کر کیا کیفیت ہونی چاہیے، بقول میڈیا ہر حکومتی کنٹریکٹ اِن کو 10 پرسینٹ دیئے بغیر پاس نہیں ہو سکتا تھا،اب تو پورے مُلک کا کنٹریکٹ اُنکے ایک دستخط کی مار ہے، بس لکھنا ہی ہے نہ کہ جاؤ ہم نے یہ سنگلاخ پہاڑوں کے سِسِلے والا بنجر علاقہ اصلاحِ احوال کے لیئے کِسی بہادر کو 50 سالہ لیز پر دیا۔ یا آیندہ ہم بِجلی خود پیدا نہیں کریں گے آپ آیئں اور خود بھی روشن رہیں اور ہمیں بھی روشن رکھیں، خواہ اُس روشنی کے لیئے کِتنی آنکھوں کے دیئے ہمیشہ ہمیشہ کیلیئے کیوں نہ بُجھانے پڑیں یا کِتنی بے کار مزارعوں کی خواتین کی چادروں کو آگ کیوں نہ لگانی پڑے، اِتنا ہی تو کرنا ہے۔ اب وہ سارے غلط لِکھنے والے جذباتی صحافی کیوں چُپ ہیں۔ کیا اب اُنکی آنکھوں کے خونی آنسو اُنکی اُنگلیوں کی پوروں کو روشنائی نہیں دے رہے؟ یا اب وہ بھی سب زمینی حقایق کو دیکھتے ہوئے محسوس کر رہے ہیں کہ جو لِکھا تھا وہ کونسا قُرآن یا حدیث تھا۔ اور زرداری جی کی جے ہی لِکھنا چاہیئے۔ آخر اسلامی جمہوریہ پاکستان کے سب سے زیادہ مقبول و معروف صدر ہیں۔ آیئں نعرہ لگایئں ۔۔ زرداری ساڈا شیر اے،باقی ہیر پھیر اے۔
جانے یہ نگوڑے آنسو کیوں نِکل جاتے ہیں۔ آخر اتنی خوشی کا موقعہ ہے۔

AddThis Social Bookmark Button AddThis Feed Button

16 تبصرے »

  1. صفدر ہمدانی نے لکھا؛

    September 7, 2008 at 6:35 pm

    جناب عمران چوہدری.کیا کہنے.بہت خوب
    آپ کم از کم گجرات کے چوہدریوں سے بہت بڑے ہیں اور وطن عزیز کے لاتعداد صحافیوں سے بہتر ہیں.آپکی تحریر آپکی طرح لاجواب ہے.

  2. اکمل سید UNITED KINGDOM نے لکھا؛

    September 7, 2008 at 6:37 pm

    عمران بھائی
    یو تو جے نہیں قے ہے اور جب روزے میں قے ہوئے جائے تو روزہ برقرار نہیں رہتا ہے

  3. ازفر حسین سید UNITED KINGDOM نے لکھا؛

    September 7, 2008 at 6:46 pm

    عمران چاچا
    خوب تحریر کیا آپ نے شیخ رشید کی طرح آپ بھی جوتشی سے کم نہیں بس کتنا کہوں گا ”پوشیدہ کب رہی ہے کسی حق ادا کی بات”

  4. نگہت نسیم AUSTRALIA نے لکھا؛

    September 7, 2008 at 7:47 pm

    عمران صاحب ، پتہ کیا انسان چاھے صحافی ھویانہ ھو جب وہ بہت داد فریاد کر لیتا ھے تو کچھ وقت کے لیئے کچھ نہ بدلنے پر وہ بھی چپ ھوجاتا ھے اور سوچتا ھے کہ میں نے آخر کیوں اتنی چیخیں ماری تھیں اور جب اُسے اس بات کا بھی جواب نہیں ملتا تو کچھ دیر بعد ایک نئے شور کے ساتھ زندہ ھوتا ھے . مجھے اُسی خاموشی کے بعد کے نئے شور کی آوازیں آ رھی ھیں. اور مجھے یقین ھے کہ وہ پہلے سے بھی زیادہ تیز اور جاندار ھونگی. پر کتنی زیادتی کی بات ھے کہ پاکستان پر وہ راج کرے گا جسے پاکستانیوں نے چنُا ھی نہیں ھے . اب اٍس سے بڑا عذاب کیا ھو سکتا ھے جو اُس پراُس کے کیئے کا نہ ھو بلکہ دوسروں نے اپنے ساتھ شیئر کیا ھو .

  5. چوہدری عمران BELGIUM نے لکھا؛

    September 8, 2008 at 1:50 am

    آپ تینوں دوستوں کا شُکریہ مُجھے آج تک وہ مظلوم کا قتل نہیں بھولا جِسکا نام سید جاوید شاہ تھا اور نواب شاہ کے نواب سید نواب شاہ کا پوتا تھا۔ جِسکے دادا کے ہاںاِسی آصف ذرداری کا پردادا مُنشی ہوا کرتا تھا۔ جِسکو صرف اِسی جُرم میں قتل کر دیا گیا کہ اُس نے ذرداری صاحب کو بِلا مقابلہ منتخب نہیں ہونے دیا اور الیکشن کے چند روز بعد اُنکی اپنی جیپ سے اُنکی لاش مِلی سر میں ایک گولی لگی تھی۔

  6. چوہدری عمران BELGIUM نے لکھا؛

    September 8, 2008 at 8:42 am

    ازفر میاں شاید اپ کچھ اور لکھنا چاہتے تھے اور جوتش لکھ دیا، پحر حال لکھنے کی آزادی ہو تو ایسا ھہ ہوتا ہے۔ اور یہ کوئی مستقبل بینی نہیں ماضی کے دھندلکے ہیں، مستقبل تو ہم سب کو مل کر بچانا ہے۔
    اور کیا شیخ رشید اور کیا شیخ رشید کا شوربہ

  7. ازفر حسین سید UNITED KINGDOM نے لکھا؛

    September 8, 2008 at 2:09 pm

    عمران چاچا
    درست کہا آپ نے کے مستقبل کی فکر تو سب کو ہے آپ تو معربی ممالک میں آزدای سے رہ رہے ہیں اور قلم کے ساتھ خوپ دوستی ہے اصل میں یہ لفط (جوتشی) تھا یعنی مستقبل کا حال بتانے والا. ہندی میں خوب استمعال ہوتا ہے مستبقل کی فکر تو ہم کو ہے کہ دنیا جہاں کے ٹھوکریں کھانے کے بعد بھی ہم ان حکمرانوں کے بس میں پڑے ہوئے ہیں کل صفدر بھائی کی نظم میں سردای کے بارے میں بڑھا تو خیال آیا کہ سرداری نہیں یہ تو قوم سے غداری ہے.

  8. افتخار اجمل بھوپال PAKISTAN نے لکھا؛

    September 8, 2008 at 4:03 pm

    صدیوں قبل قومیں حکمرانوں کے غلط صلاح کاروں کی وجہ سے تباہ ہوتی تھیں ۔ فی زمانہ مطلب پرست / خوشامدی صحافیوں کی کثرت کی وجہ سے ہوتی ہیں

  9. صفدر ہمدانی نے لکھا؛

    September 8, 2008 at 4:33 pm

    محترم ازفر حسین سید. آپ کی خدمت عالی میں عرض کرؤں کہ جس ملک کے عوام اور جو قومیں اپنے حکمرانوں کا احتساب نہیں کرتیں اور جو عوام ظالم و جابر حکمرانوں کے مسموم دور میں بھی سانس لیتے رہتے ہیں اُن کے ساتھ یہی ہوتا ہے کہ وہ ”دنیا جہاں کے ٹھوکریں کھانے کے بعد بھی ان حکمرانوں کے بس میں پڑے رہتے ہیں ” پاکستان کے عوام سے کوئی دو چار سال سے نہیں 61 برس سے یہی ہوتا چلا آ رہا ہے لیکن یہ خود سر جھکائے بس ان نامرآد حاکموں کو ووٹ دینے کی مشین بنے ہوئے ہیں جو ہر بار انکو ڈستے ہیں. کبھی سوچیں کیا ہمارے عوام نیپال کے عوام سے بھی گئے گزرے ہیں جنہوں نے کوئی سیاسی شعور اور سیاسی تاریخ نہ ہونے کے باوجود دنیا کی ایک بڑی بادشاہت کو گٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا اور بادشاہ کو محل سے نکال کر کرائے کے مکان میں بھیج دیا.جس ملک میں سیاست چور بازاری ہو،جہاں قلم چند ٹکوں اور چند گز زمین کے بدلے بک جائے،جہاں عدل و عدالت کو زر خرید غلام کی طرح قید کر لیا جائے، جہاں عوام بھیڑ بکریوں سے زیادہ اہمیت نہ رکھتے ہوں، جہاں آئین و قانون پاؤں کا جوتا ہو،جہاں ایوان صدر اور ایوان وزیر اعظم کی دیواریں اتنی اونچی ہوں کہ مظلوم اور غریب کی صدا بھی سنائی نہ دے،جہاں حکمرانوں کے کُتے اور گھوڑے عوام سے بہتر زندگی گزارتے ہوں،جہاں عوام کو اسلام کے نام پرلوٹا جاتا ہو، جہاں عالم دین تک اپنے ضمیر بیچ ڈالیں،جہاں لوگ بار بار اپنے قاتلوں اور ڈاکوؤں کو اپنا رہبر اور رہنما منتخب کریں….میرے خیال میں وہاں کے عوام کی یہی سزا ہے جو وہ بھگت رہے ہیں. سنیئے کہ لوگوں کو اپنی تضحیک کا بدلہ لینے کے لیئے گھروں سے باہر نکلنا ہو گا،عدل و عدالت کو آزاد کروانا ہو گا، مشرف اور دوسرے امریکہ کے حواریوں اور عوام دشمن لوگوں کو چوراہوں میں لٹکانا ہو گا اور اپنا حساب بے باک کرنا ہو گا. بس ایک یہی صورت بچاؤ کی ہے.
    رہی بات ازفر بھائی میری نظم کی تو اگر آپ اسے پورے کالم کے ساتھ ملا کر پڑھیں تو آپ کو معلوم ہوجائے گا کہ یہ ”سرداری” میں نے ”غداری” سے بھی بڑھ کر لکھی ہے.
    میں اور میرا قلم باب العلم کے صدقے میں گزشتہ 35 برس میں نہ بکا ہے اور نہ تا دمِ نزاع بکے گا.
    یہ ہم ہی ہیں جنہوں نے بہت عرصہ پہلے لکھا تھا کہ ” دستار میں سر ہوتا ہے یہ دھیان میں رکھنا” اور آج بھی یہی لکھ رہے ہیں کہ ….
    بیعت ہو کسی بھی آمرکی
    یہ میرا قلم انکاری ہے
    ۔۔۔۔
    صفدر یہ قلم سچ لکھے گا
    ہر قوت پر یہ بھاری ہے

  10. افتخار اجمل بھوپال PAKISTAN نے لکھا؛

    September 9, 2008 at 8:03 am

    صفدر ہمدانی صاحب سے بصد احترام عرض ہے کہ
    اس سب کچھ کی ابتداء 61 سال نہیں بلکہ 55 سال قبل ہوئی تھی اور آہستہ آہستہ بڑھتی رہی ۔
    اس کی رفتار 36 سال قبل تیز ہوئی اور اب اس کو تھامنے کیلئے بڑی قربانیوں کی ضرورت ہو گی ۔

  11. صفدر ہمدانی نے لکھا؛

    September 9, 2008 at 2:21 pm

    افتخار صاحب یہ آپ کی رائے ہے اور آپکی رائے کا احترام. اور جو میں نے لکھا ہے وہ میرا لکھا ہے اور اسکے دلائل بھی ہیں میرے پاس. تا ہم جواب ِآں غزل پر وقت ضائع نہیں کرنا چاہتا کیونکہ اور بہت سے دہگر اہم کام بھی ہیں. اہم ترین بات ایک دوسرے کی رائے کا احترام ہے جو انشااللہ ہم قائم رکھیں گے.

  12. ازفر حسین سید نے لکھا؛

    September 10, 2008 at 10:21 pm

    قبلہ ہمدانی صاحب درست لکھا آپ نے کہ 61 سال سےاپ اس چکی میں پس رہے ہیں ہمدانی صاحب آپ خود بتائے کے کیا اس ملک کو آپ جسیون کی فرورت نہین ہیے اپ نی کئی برس پہلے اس ملک کی خدمت کی اور اس کو چھوڑ کر جاپان چل دئے اس کی بعد جو موقع ملا تو مغرب میں جا کر ڈیرے ڈال دئے ہم تو 91 کی پیدوار ہیں اور آپ جیسے کی تحریر کو پڑھ کو ہمت کرتے ہیں ورنہ ہم بھی یہ ملک چھؤڑ کہ نہ جاتے کیاں یوتے باب العلم کے صدقے میں ہمارا بھی احوال ان کے غلامون جیسا ہے اور نہ تو کسی سے ڈرتے ہیں اور نہ یی کسی سے دبے ہیں جو بات ہے ہو منہہ بر بر ملا کہتے ہین اسی باب علم کے صدقے مین بسط ذہن پر جدت کے باغ کھلتے ہیں اور دربوتراب سے جو گلاب ملتے ہیں آپ جیسے پر نہال کرتے ہین. ہماری تو حیاتبو تراب کے قلم سے وابستہ ہے اور یہ ہی نشہ مجھے شہر بلاگ میں لایا ہے.کہ سچ لکھنے اور پڑھنے کا موقع ملے گا.

  13. نگہت نسیم AUSTRALIA نے لکھا؛

    September 12, 2008 at 2:03 am

    ازفر صاحب آپ کو بلاگ کی محفل میں خوش آمدید . .. ستم دیکھیئے کہ سچ کی تلاش میں آپ کو شہرٍ بلاگ میں آنا پڑا .. زرا دھیان سے یہاں کبھی کبھی سچ کہنے والے سچ سننا پسند نہیں کرتے اور کم ظرفی یوں سامنے آ جاتی ھے کہ پھر انہیں اپنی بھی کہی ھوئی بات یاد نہیں رھتی .. مجھے امید ھے کہ جس فراغ دلی سے آپ نے سچ لکھا ھے اُتنے ھی حوصلے سے سنننا بھی چاھے گے . اور پھر رائے کا احترام اسی کو تو کہتے ھیں اور یہ سچ ھی تو ھے کہ اختلاف رائے سے کسی کی قدر و قیمت اور عزت میں کمی نہیں ھوتی بلکہ علم کے نئے باب کھلتے ھیں .
    .
    میں تمام نئے بلاگرز کو ادارہ القمر کی جانب سے قلبی خوش آمدید کہتی ھوں .

  14. عمران چوہدری نے لکھا؛

    September 12, 2008 at 3:05 pm

    جناب ازفر صاحب آپکی آمد بہت ُپر شور ہے، یقینا دل میں خون بھی بہت ہوگا۔ جیو۔ اچھی انٹری ہے۔ اجمل صاحب ابھی ہمدانی صاحب نے ہاتھ ہلکا رکھا ہے کہ 61 سال کا لکھا ہے۔ دراصل ہمدانی صاحب ایک شخصیت نہیں ایک نظریہ ہے اور یہ وہی نظریہ ہے جو ہابیل کا تھا۔ یہ تو اس وقت سے اس چکی میں پس رہے ہیں جب قابیل نے ہابیل کو قتل کیا تھا، اور یہ نظریہ اُس وقت بھی سوسایٹی میں مسفٹ تھا اور اب بھی ہے۔ اسر جب تک جبر کا نظام قوی رہے گا تب تک ایسا ھی تکلیف دہ احساس رہے گا،
    میں آج کل سفر پر نکلا ہوا ہوں اس لیے کچھ غیر حاضری ہے،

  15. صفدر ہمدانی UNITED KINGDOM نے لکھا؛

    September 12, 2008 at 4:43 pm

    قبلہ عمران صاحب اب آپ کس سفر پر ہیں……………
    اب اسکے شہر میں ٹھہریں کہ کوچ کر جائیں
    فراز آؤ ستارے سفر کے دیکھتے ہیں

  16. ازفر حسین سید نے لکھا؛

    September 13, 2008 at 2:56 am

    تمام اھباب کا شکرگزار ہوں اسی کو معرفت نفس اور اعتراف عجز کہتے ہیں اسی لیے تو ہمیں داعوی ہے کہ ہمارا تمام وجود پردردگار کی عطا کردہ نعمت ہے اور نعمت بزات خود اپنی زبان سے کیس طرح پروردگار کا شکر بجا لاسکتی ہے. یہ ھقیقت ہے کشے اپنی ذات کی معرفت اور پحچان ہو جائے وہ خدا کا عرفان حاصل کر ہی لیتا ہے یاد رہے خود شناسی خد شناسی اور موجودات شناسی کا موجب ہوتی ہے .

اس تحریر پر تبصرے کی آر ایس ایس فیڈ | ٹریک بیک

اس تحریر پر تبصرہ کیجئے

Englishاردو