بدمعاش بھارت کی دہشت گرد ”را”
نئی دہلی میں ہونے والے انسداد دہشت گردی میکنزم اجلاس میں بھارت کے خصوصی سیکرٹری برائے خارجہ تعلقات ووک کاتجو نے بغیر ثبوت فراہم کئے ایک بار پھر کابل میں بھارتی سفارتی خانے بم دھماکے کا الزام پاکستانی آئی ایس آئی پر عائد کردیا۔ اس موقع پر پاکستان کی وزارت خارجہ کے ایڈیشنل سیکرٹری اعزاز احمد چوہدری نے واضح کیا ہے کہ پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی کا مخالف ہے اور اس کے خاتمے کیلئے ہر ممکن کوششیں کرتا رہے گا۔ کابل بم دھماکہ دہشت گردی کی ایک گھنائونی کارروائی تھی جس کی پاکستان نے ہر سطح پر مذمت کی لہٰذا آئی ایس آئی یا کسی بھی پاکستانی کے ملوث ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا الزام تراشی درست راستہ نہیں۔ بھارت نے کابل بم دھماکے کے کوئی ٹھوس ثبوت فراہم نہیں کیے صرف پروپیگنڈہ کیا گیا جس سے پرہیز کیا جائے۔ دہشت گردی صرف ہمارے خطے کا نہیں پوری دنیا کا مسئلہ ہے اور اس کے حتمی حل کیلئے انتہائی ضروری ہے کہ تمام ممالک مل کر کام کریں اور دہشت گردوں کو مکمل طور پر شکست دی جائے جبکہ پاکستان خود بدترین دہشت گردی کا شکار ہے اور افغانستان میں پائیدار ترقی، امن و استحکام کا خواہاں ہے مگر بھارت آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کررہا ہے۔ افغانستان کے راستے بلوچستان اور قبائلی علاقوں میں بھارتی سفارتی مشنز کی مداخلت اور دہشت گرد کارروائیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔
بھارت میں پٹاخہ چلتا ہے تو اس کا الزام پاکستان اور آئی ایس آئی پر دھر دیا جاتا ہے حالانکہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں جاری دہشت گردانہ کارروائیوں کے پیچھے بھارت کا ہاتھ بے نقاب ہوچکا ہے۔ بلوچستان میں شورش بھارت کی پیدا کردہ ہے اور اب تو بھارت امریکہ کے ساتھ ایٹمی معاہدہ کرکے امریکی شہ پر اسرائیل کے ساتھ گٹھ جوڑ کرتے ہوئے پاکستان کے قبائلی علاقوں کے علاوہ پنجاب اور دیگر صوبوں تک اپنی کارروائیوں کا دائرہ کار بڑھا رہا ہے۔
صوبہ سرحد کے قبائلی علاقہ جات میں بھارتی طالبان ”را”کے ایجنٹس ، امریکہ اور سی آئی اے کے تحفظ میں لڑنے والے بیت اللہ مسعود اور اس کے زیر اثر جنگجو اور اسرائیل کی انٹیلی جنس ایجنسی ”موساد” سے تربیت اور اسلحہ حاصل کرنے والے پاکستان دشمن عناصر سرگرم عمل ہیں۔ گورنر سرحد اویس غنی کے الفاظ میں ” یہ تربیت یافتہ جنگجو ہیں ان طالبان کو چھ ہزار سے دس ہزار روپے طالبان کمانڈر کو بیس ہزار روپے ملتے ہیں۔ ڈبل کیبن گاڑیاں ہیں اسلحے اور پٹرول کی قلت نہیں ہے ان کا سالانہ بجٹ چار ارب روپے سے زیادہ ہے۔ہم خاصہ دار کو تین سے چار ہزار روپے دیتے ہیں لیوی کویہی ملتا ہے۔ ہمارا واسطہ غیرتعلیم یافتہ دیہاتی سے نہیں ہے ان سے پکڑے گئے جدید ترین ہتھیار ایکوپمنٹ پاکستان کی فیلڈ لیول آرمی کے پاس بھی نہیں ہیں کمپیوٹرائزڈ آلات ہیں۔ ان کے پاس جدید ترین لیب ٹاپس ہیں آئی ای ڈی ہیں۔ پہلے موٹے جیکٹ تھے اب بے حد باریک جیکٹ طالبان کے پاس ہیں باجوڑ میں آپریشن کے دوران دو مقامات پر انہونی صورتحال پیش آئی۔ بارہ کلو میٹر فوج آگے گئی ان کے گھروں کے اندر سرنگوں کے راستے تھے۔ فاکس آئی نیکرز وہاں بنے ہوئے تھے۔ گھر کے اوپر عورتیں بچے رہتے ہیں نیچے جنگجو رہتے ہیں۔ پاکستان دشمن غیرملکی ایجنسیاں فاٹا میں پوری طرح ملوث ہیں۔ قبائلی ملکوں سے زیادہ فنڈز ان دہشت گردوں کے پاس ہیں اسی تنازعے میں امریکہ یورپ روس چین انڈیا ایران مڈل ایسٹ ترکی پاکستان کا مفاد ہے۔ افغانستان میں ”موساد” بڑی متحرک ہے تربیت، اسلحہ دے رہی ہے۔ یہ لوگ پاکستانی ہیں ایسے حالات پیدا کر رہے ہیں کہ یہاں کی قوم مشتعل ہو کر انٹرنیشنل مداخلت کی دعوت دے اور انٹرنیشنل کمیونٹی کہے کہ پاکستان میں ایٹمی اثاثے محفوظ ہاتھوں میں نہیں رہے اس لئے عالمی برادری ان کی حفاظت کیلئے آئے۔ ” (حالانکہ پاکستان نے اپنی ایٹمی اثاثوں کی حفاظت کیلئے بین الاقوامی معیار کا حامل فول پروف حفاظتی انتظام اور ڈھانچہ تشکیل دیا ہوا ہے)۔
”را” بھارت کی غیر ملکی انٹیلی جنس ایجنسی ہے۔ ”را” بھارت کی قومی طاقت کا ایک موثر ہتھیار بن چکی ہے۔ بھارت کی داخلی اور خارجہ پالیسیوں کیلئے اہم کردار کی حیثیت اختیار کرچکی ہے۔ ”را” پاکستان اور دوسرے ہمسایہ ممالک کے خلاف جاسوسی اور دہشت گردی کرنے میں مکمل ملوث ہے۔ اسے ان کوششوں میں بھارتی حکومت کی مسلسل پشت پناہی حاصل ہے۔ وزیر اعظم کے تحت کام کرنے والی اس ایجنسی کی بناوٹ اور اس کے اہداف پارلیمنٹ سے خفیہ رکھے جاتے ہیں۔ 1968ء میں اپنے قیام سے ہی ”را” کا مرکز و محور زیادہ تر پاکستان ہی رہا ہے۔ ”را” کی تخلیق سے لیکر آج تک بہت سے مشن اسے سونپے گئے جن میں ہمسایہ ممالک کی سیاسی و فوجی بالیدگیوں پر نظر رکھنا جو بھارتی قومی دفاع کو اثر انداز کرسکتے ہیں۔ آج کل بلوچستان ، فاٹا کی طرح مشرقی پاکستان میں مکتی بانی کی تشکیل دہشت گردی اور گوریلا جنگ کی تربیت اسلحہ سرمایہ کی فراہمی اور پھر پاکستان کا مشرقی بازو کاٹ کر اسے بنگلہ دیش بنا دینا ”را” کا قابل ذکر مشن ہے۔سقوط ڈھاکہ کے بعد بھارتی وزیر اعظم اندھرا گاندھی نے نئی دہلی کے گرائونڈ میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”آج بھارت کی ایک ناری نے مسلمانوں سے ایک ہزار سال کی ازیمتوں کا بدلہ لے لیا ہے اور دو قومی نظریہ خلیج بنگال میں غرق کردیا گیا ہے”۔ بہرحال پاکستان اور چین جو بھارت کے روایتی حریف ممالک ہیں پر ”را” نے خصوصی توجہ دی۔ ”را” نے اپنی ابتداء سے بھارتی بالاتر انٹیلی جنس تنظیم میں ترقی تک انٹیلی جنس بیورو کے ایک حصے کے طور پر اپنا اظہار کیا۔
1968 ء میں ”را” کے پاس 250 ایجنٹ اور 2 کروڑ روپے کا بجٹ تھا۔ یہ 2000ء تک اس قدر وسعت اختیار کرگئی تھی کہ اس کے ایجنٹ 8000سے تجاوز کرگئے اور اس کا بجٹ 1500 کروڑ تک پہنچ گیا جو 145 ملین ڈالر بنتے ہیں۔ 2008ء میں ”را” کا صرف پاکستان کیخلاف آپریشنل بجٹ 22ارب روپے اور افغانستان کیلئے اور وہاں سے پاکستان دشمنوں کی تربیت، روپے اور اسلحہ کی فراہمی کیلئے بجٹ 8ارب رکھا گیا ہے۔
ماضی میں بھی پاکستان نے ”را” پر پنجاب میں منفی سرگرمیوں کا الزام لگایا ہے کہ ”را” نے 1993ء میں نئی دہلی میں بین الاقوامی سرائیکی کانفرنس منعقد کرکے اور پاکستان میں حکومت مخالف عناصر اور ایجنٹوں کا وسیع نیٹ ورک رکھتی ہے جس میں مختلف فرقوں کے عناصر اور پنجاب اور سندھ کے نسلی و لسانی گروپ شامل ہیں۔ باوثوق رپورٹوں کے مطابق تقریباً 35000 ”را” کے ایجنٹ 1983ء سے 1993ء کے درمیان پاکستان میں داخل ہوئے جن میں سے 12000 سندھ میں، 10000پنجاب میں، 8000 سرحد میں اور 5000 بلوچستان میں کام کررہے تھے۔ ”را” بنگلہ دیش میں سرگرمیوں کی ایک طویل تاریخ لئے ہوئے ہے۔ اب صرف بلوچستان اور فاٹا میں ”را” کے 25000 ایجنٹ اور اسلحہ گوریلے بلوچستان، لبریشن آرمی اور طالبان کے روپ میں سرگرم عمل ہیں۔ جس میں اس نے دونوں طرف امداد کی یعنی سیکورٹی فورسز کو بھی اور ہندو اقلیت والے علاقے کو بھی۔
مشرقی پاکستان میں ”را” کی مداخلت 1960ء سے بیان کی جاتی ہے۔ ”را” نے مجیب الرحمن کو 1970ء کے جنرل انتخابات میں سپورٹ کیا اور بنگلہ دیشی آزادی کی جنگ لڑنے والے جنگجوئوں کو تربیت اور اسلحہ فراہم کیا۔ ”را” کی امداد مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا سبب بنی اور 1971ء میں پاکستان کا صوبہ بنگال الگ ہوکر بنگلہ دیش بن گیا۔
ابھی حال ہی میں ”را” نے افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کیلئے القاعدہ اور طالبان کے ٹارگٹ پر انٹیلی جنس کی جس کی فراہمی امریکہ کو کی گئی اس سے ”را” نے خصوصی اہمیت حاصل کرلی ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے اندر ”دہشت گردوں کے تربیتی کیمپوں کے فوٹو گراف اور نقشے” جن کے ساتھ ”دوسری شہادتیں”امریکی سی آئی اے کے عہدے داروں کے حوالے کی گئیں۔ ظاہر ہے گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے کے مصداق ”را” کے طالبان کو تربیت اسلحہ اور پاکستان میں داخل کرنے والوں سے بہتر معلومات ”را” کے علاوہ کس کو ہوسکتی ہے۔ ویسے بھی سی آئی اے آج کل پاکستان کو ”را” کی آنکھ سے دیکھ رہی ہے۔
کیبنٹ سیکرٹریٹ میں ”را” کا چیف سیکرٹری (ریسرچ) کے عہدے پر تعینات ہوتا ہے۔ پاکستان اور چین کے مقابلے میں بہت سے ماہرین نے عہدوں پر قبضہ کررکھا ہے۔ ”را” کا سربراہ بہت سے اختیارات کا مالک ہے اور وزیر اعظم تک بلا واستہ رسائی کا حق رکھتا ہے جس طرح برطانیہ یا امریکہ میں ہوتا ہے۔ ”را” کے اوپر کیبنٹ سیکرٹری کا کنٹرول محدود ہے۔ اسی طرح ان کو امریکہ اور برطانیہ میں تربیت کے مواقع حاصل ہوتے ہیں بلکہ اب تو یہ سہولت اسرائیل میں بھی حاصل ہے۔ سیکرٹری (ریسرچ) انتظامی امور پر رپورٹ کیبنٹ سیکرٹری کو پیش کرتا ہے جو آگے یہ رپورٹ وزیر اعظم تک پہنچاتا ہے۔ تاہم سیکرٹری (ریسرچ) روزانہ کی بنیاد پر رپورٹس، نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر کو پیش کرتا ہے۔































محمد علیی نے لکھا؛
December 3, 2008 at 3:59 pm
Pakistan Should not be afraid. be courageous contact to China Russia Iran New Russian States Regional Powers UNO and her best friends
Think It is a big Game behind it
Sea Waters From Mumbai to Somalia going to be locked up.
India does not like the developments in GOWADAR for china Afaghanistan Iran and Pakistan.
To block Iran from Its Sea Water Big powers are acting behind it.
Is there any Pakistani who can understand these speculations and enemies tricks and deceptions.
If Sea waters are blocked all cargo Ships and Oil tankers will face difficulties. makig a tight circle against Pakistan will result in Hunger and srunder. terrible BUT THERE IS A GREAT POWER ALLAH Who Grandted PAKISTAN for MUSLIMS TO RECITE QURAN, PRAY
IN INDEPENTENLY. Never be afraid, SABAR & FIRM BELIEVE IN ALLHA
ڈاکٹرخواجہ اکرام
نے لکھا؛
April 20, 2009 at 5:33 pm
بدمعا ش بھارت کی دہشت گرد “را“ یہ تحریر پرانی ہے اور چونکہ میںاس اہم بلاگ کو جوائین کیا ہے ،اس لیے اب لکھ رہاہوں۔حالانکہ اس کی چنداںضروت نہیںکیونکہ اب یہ بات بھی لوگوںکے ذہنوںسے محو ہوگئی ہوگی ۔ میںاس پر صرف این بات کہنا چاہتا ہوں۔ میرے بھائی راجہ ماجد بھٹی نے جو کچھ لکھا ہے یہ ان کی اپنی ذاتی رائے ہے اور ہر شخص کو اظہار رائے کی آزادی ہے ۔لیکن اس طرح کی باتوں سے کہ ہم ایک دوسرے پر الزا م دھریں ہماری ذمہ داری ختم نہیںیو جاتی البتہ ہمارا غصہ اور دل کا غبار ضرور نکل جاتا ہے ۔لیکن یہ کافی نہیںہے ہمیںبڑی سنجیدگی سے اس جانب سوچنے کی ضروت ہے کہ آخر کیوںایسا ہوتا ہے کہ ہندستان پاکستان پر اور پاکستان ہندستان پر الزام رکھتے ہیں۔ بات یہ ہے کہ یہ لاچارگی ہے ہمارے ملک کہ ہم مسائل کا حل نہینڈھونڈ پاتے اور خود کو بر ی الذمہ کرنے کے لیے الزام تراشی کا سہارا لیتے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ کابل کے اس واقعے کے بعد امریکہ نے ہی یہ کہا تھا کہ اس میںپاکستان کا ہاتھ ہے ۔ لیکن ہم میںسے کتنے لوگ ہین کہ جنھوںنے امریکہ پر نشانہ سادھا جس نے دیوار پر شکر لگادی اور مکھیاںٹوٹپڑیں۔اس لیے اس حوالے سے را کو کچھ کہنا بہت قرین انصاف نہیں۔