ہندو دہشت گرد تنظیموں کی مسلم کشی
ہندو انتہاء پسند تنظیموں ”آر ایس ایس” اور ”بجرنگ دل” کے اقلیتوںپر حملوں کی وجہ سے بھارت میں مختلف ریاستوں میں پُرتشدد کارروائیوں کی بڑھتی ہوئی لہر دیکھی جارہی ہے۔ بھارتی اقلیتیں جن میں مسلمان اور عیسائی شامل ہیں۔ بار بار حملوں کے خوف سے ایک بے یقینی کی کیفیت میں زندگی گزار رہے ہیں۔ ان واقعات پر چیئرمین ایڈمنسٹریٹو ریفارم کمیشن، ”واریا موئیالی” نے ہندو انتہاء پسند تنظیموں کو اپنی پُرتشدد کارروائیاں ترک کرنے کی وارننگ دی ہے۔ موئیالی نے واضح کیا کہ وہ ہیومن رائٹس کمیشن کی رپورٹ کا انتظار کررہا ہے اور اگر رپورٹ کے مطابق یہ انتہاء پسند تنظیمیں فرقہ وارانہ تشدد میں ملوث پائی گئیں تو ان پر پابندی عائد کردی جائیگی۔ یہاں پر ذکر کرنا بھی مناسب ہوگا کہ ان انتہاء پسندوں کے اقلیتوں پر حملوں کی وجہ سے کئی ریاستوں میں صورتحال انتہائی کشیدہ اور خراب نظر آرہی ہے۔ یہاں تک کہ سیکورٹی فورسز صورتحال کو قابو پر لانے میں ناکام ہوچکی ہیں اور انتہاء پسند ہندو آزادانہ طور پر اقلیتوں کے جان و مال پر حملے کررہے ہیں۔ اقلیتیں حکومت پر سخت دبائو ڈال رہی ہیں کہ ان کے جان و مال کو تحفظ فراہم کیا جائے اور انتہاء پسند ہندوئوں کیخلاف کارروائی عمل میں لائی جائے لیکن بھارتی حکومت ان مسلم اور عیسائی اقلیتوں کے مطالبات پر کان نہیں دھرتی اور نہ ہی انتہاء پسند ہندوئوں کو ان کی وحشیانہ کارروائیوں سے روکتی ہے۔
بھارتی خبر رساں ادارے کے مطابق بھارتی ہندو انتہاء پسند رہنماء ہراج ٹھاکرے کی گرفتاری کے بعد مہاراشٹر کے دارالحکومت ممبئی میں بہاریوں کو شدید زدو کوب کیا گیا اور انتہاء پسند ہندوئوں کے ہاتھوں ایک مسلمان پروفیسر کی ہلاکت کے بعد ریاست بہار میں ہنگامے پھوٹ پڑے جس کے بعد بائیں بازو کی طلباء تنظیموں نے ریاست میں ہڑتال کی کال دی تھی جس کے بعد مشتعل مظاہرین جن میں زیادہ تر طلباء تنظیموں کے کارکن تھے نے ریاست کے چار بڑے ریلوے اسٹیشنوں پر قبضہ کرکے متعدد ٹرینوں کی کھڑکیاں توڑ ڈالیں۔ کئی ریلوے ریزرو آفس اور ٹکٹ گھروں کو بھی پتھروں اور ڈنڈوں سے تباہ کردیا جس کے بعد پولیس نے لاٹھی چارج کیا جس سے کئی طلباء زخمی اور درجنوں کو گرفتار کیا گیا تاہم ریاست کے دیگر حصوں کے برعکس حکومت کے دارالحکومت پٹنہ میں سیکورٹی اقدامات سخت کررکھنے کے باعث کم مظاہرے ہوئے اور ٹریفک کا نظام معمول پر رہا تاہم پٹنہ میں تعلیمی ادارے مکمل بند رہے۔ پٹنہ کی ضلعی حکومت نے اضافی سیکورٹی تعینات کررکھی تھی اور ہڑتال کی کال کے فوری بعد طلباء رہنمائوں سمیت 150 طلباء کو بھی گرفتار کرلیا گیا۔
ہندوستان میں مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ ڈھانے کا یہ کوئی پہلا واقعہ یا نئی داستان نہیں۔ تقسیم ہند سے قبل ”راشٹریہ سیوک سنگھ” ایک خفیہ ہندو تنظیم کے طور پر جرمنی کے ہٹلر اور اٹلی کے مسولنی کے فاشٹ اصولوں پر بنائی گئی تھی مگر بعد میں اس نے مسلمانوں کیخلاف شدت پسندی کا کھلے عام پرچار کیا۔ تقسیم ہند سے پہلے ہونے والے ہندو مسلم فسادات میں سنگھٹن اور آر ایس ایس کے رضا کار مسلمانوں کے قتل عام میں ہمیشہ پیش پیش رہے جن سنگھ کا ارتقاء آر ایس ایس کے سیاسی آرگن کے طور پر ہوا۔ ڈاکٹر مونجے کے علاوہ لالہ ہردیال نے بھی ہندو سنگھٹن کو پھیلانے میں اہم رول ادا کیا۔ لالہ ہردیال ہندوئوں کی قومی روایات پر مبنی ہندو ریاست قائم کرنے کے حامی تھے جس میں سنسکرت، ہندی زبان، ہندو میلوں کے فروغ، ہندو قومی مشاہیر کے احترام، ہندوئوں کے مقدس مقامات اور ثقافت سے محبت اور مسلمانوں کو شدھی کے ذریعے ہندو بنانا شامل تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مسلمان ہندوئوں کی رسومات کو اپنا لیں اور ہندو اکابرین کا احترام کریں اور اپنے آپ کو محمڈن ہندو کہلائیں تو انہیں اس ہندو ریاست میں جینے کا حق دیا جاسکتا ہے اور یہ حیثیت کسی طرح بھی اچھوتوں سے زیادہ نہ تھی۔ رانا عبدالباقی کی کتاب جنوبی ایشیا میں تہذیبی کشمکش میں بحوالہ پروفیسر محمد منور اپنی کتاب تحریک پاکستان میں ڈاکٹر ہردیال کے مقالے ”میرے وچار” کے حوالے سے لکھتے ہیں ”جنوبی ایشیاء میں آئندہ ہندو نسلوں کی بقاء کا انحصار ہندو سنگھٹن، ہندو راج، مسلمانوں کی زبردستی شدھی، افغانستان اور قبائلی علاقوں کی فتح اور وہاں کی آبادی کی شدھی پر ہے”۔ یہ وچار بھارت ماتا کے نام پر افغانستان سے جرائر انڈیمان تک کے علاقے میں انتہاء پسند ہندوئوں کے عزائم کی تصدیق کرتے ہیں۔
آج بھارت کی ڈیڑھ لاکھ فوج افغانستان میں بھیجنے کی تیاریاں مکمل ہیں۔ افغانستان میں بھارتی قونصل خانے ”را” کے دہشت گردوں اور بھارتی طالبان کو بلوچستان اور سرحد کے قبائلی علاقوں میں جدید ترین اسلحے اور سرمائے کے ساتھ بھیجنے کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔ اس ساری کارروائی کو ڈاکٹر ہردیال کے ”میرے وچار” کے تناظر میں ہی دیکھنا چاہئے۔
یہ درست ہے کہ گاندھی جی انتہاء پسند دہشت گرد ہندوئوں کے ہاتھوں ہندوستان کے طول و عرض میں بے گناہ مسلمانوں کے قتل عام اور اچھوتوں کے ساتھ ظالمانہ روئیے کیخلاف تھے۔ جنوری 1948ء میں انہوں نے بھارتی مسلمانوں کے قتل عام کیخلاف مرن برت رکھا تو راشٹریہ سیوک سنگھ/ہندو مہا سبھا کے ایک دہشت گرد نے انہیں سرعام گولی مار کر ہلاک کردیا کیونکہ آریا سماج کے دہشت گرد کسی اچھوت یا ملیچھ (مسلمان، عیسائی) کی حمایت کرنے کا حق کسی ہندو لیڈر کو نہیں دیتے۔ اسی پر اکتفا نہیں کیا گیا بلکہ اونچی ذات کے متعصب ہندوئوں نے دہشت پسندآنہ سرگرمیوں کو آگے بڑھانے کیلئے ہندوستان کے طول و عرض میں انتہاء پسند ہندو تنظیموں کو منظم کیا جن میں ہندو مہا سبھا، راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) جن سنگھ، بجرنگ دل، شیو سینا اور ویشوا ہندو پریشد قابل ذکر ہیں۔ یہ انتہاء پسند گروپ ہندوستان میں سنگھ پریوار کے نام سے مشہور ہیں جنہوں نے انتہاء پسند ہندوئویت کو ہندو توا کے فلسفے کے نام سے مسلمانوں و دیگر ہندوستانی اقلیتوں کے خلاف دہشت گردی کی منصوبہ بندی اور قتل و غارت گری کو اپنا مقصد حیات بنانا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ جن سنگھ پارٹی نے بتدریج بھارتیہ جنتا پارٹی کا روپ دھار کر سنگھ پریوار کے سیاسی ونگ کی شکل اختیار کرلی اور بھارتی سیاست میں غلبہ حاصل کیا۔ تقسیم ہند کے بعد ان تمام ہندو انتہاء پسند، بنیاد پرست گروپوں کا ایک ہی مقصد تھا کہ بھارت ماتا کو سیکولر ریاست کے بجائے ایک فاشٹ ہندو ریاست بنایا جائے اور ہندوستان میں مسلمانوں کو تباہ و برباد کیا جائے۔ ان مقاصد کو حاصل کرنے کیلئے ہندو نوجوانوں کو مسلمانوں کے خلاف تشدد پر ابھارا گیا۔
مہاتما گاندھی نے ساری زندگی ہندوستان کی آزادی کی جنگ لڑنے کے باوجود ”آر ایس ایس ”کے دہشت گردوں کے سامنے اپنی زندگی ہار دی۔ 1948ء میں گاندھی جی کی موت سے ہندوستانی قوم کا ضمیر کچھ عرصے کیلئے جاگا اور دہشت گردوں کیخلاف ملک گیر مظاہرے کئے گئے جس کے نتیجے میں وقتی طور پر مسلمانوں کے قتل عام کا سلسلہ رک گیا۔ دنیا کو دکھانے کیلئے آر ایس ایس پر پابندی عائد کردی گئی لیکن جلد ہی یعنی 1949ء میں کانگریس حکومت نے ہندو انتہاء پسندوں کے دبائو پر یہ پابندی اٹھالی اور بھارت میں ”فرقہ وارانہ فسادات” کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوا جو آج تک جاری ہے اور حقیقت یہ ہے کہ ان فسادات کو ہر گز فرقہ وارانہ نہیں کہا جاسکتا جس کی سب سے بڑی مثال موالی کے ایک گائوں میں مسلمانوں کے واحد گھر کو رات کے اندھیرے میں آگ لگا دینا ہے جس کے نتیجے میں بچوں سمیت گھر کے تمام افراد جل کر جاں بحق ہوگئے جبکہ اس گھر کا سربراہ سرحدوں پر وطن کی حفاظت کا فریضہ انجام دینے گیا ہوا تھا۔






























