بھارتی جنگی جنون
بھارت جہاں 50فیصد سے زائد آبادی غربت کی اتھاہ گہرائیوں میں گھری ہوئی ہے۔ ننگی بھوکی بھارتی جنتا بے بسی اور بے کسی کی تصویر بنی ہوئی ہے۔ مزدوروں اور کسانوں کی لاکھوں کی تعداد میں خودکشیاں بھارت میں سماجی معاشی ناانصافیوں کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ مگر یہ سب کچھ حادثاتاً یا اتفاقاً نہیں بلکہ بھارتی حکمرانوں کے جنگی جنون تناظر میں طے شدہ پالیسی کا حصہ ہے۔ بھارتی حکمرانوں نے بہت پہلے طے کرلیا تھا اور یہ سوچ لیا تھا کہ دنیا میں سلامتی کونسل کی مستقل نشست حاصل کرنے کیلئے خوشحالی اور سرمائے کی طاقت یا پھر فوجی اور ایٹمی قوت کے دو راستے ہیں بھارتی حکمران جانتے تھے کہ وہ کرپشن اور بدعنوانی میں گھری ہوئی قوم اور حکومت کے ہوتے ہوئے خوشحالی سے کبھی ہمکنار نہیں ہونگے لیکن آدھی سے زیادہ آبادی کو بھوک و افلاس، بیماری، تنگ دستی کا شکار رکھ کر ایٹمی اور فوجی قوت عوام کی لاشوں پر ضرور بنیں گے۔ چنانچہ آج بھارت نیو کلیئر کلب کا ممبر بن چکا ہے ساری دنیا سے جدید ترین جنگی اسلحہ جمع کرنے کا جنون اس پر سوار ہے اور نئے عالمی سامراج کے طور پر وہ دنیا کے کئی ممالک میں فوجی استعماری کردار ادا کرنے کے عزائم رکھتا ہے جبکہ بھارت میں ہر روز بھوک ننگ اور بیماری سے مرنے والے کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔
گزشتہ دنوں بھارت حکومت نے امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی، اسرائیل اور روس سے گزشتہ 3برس کے دوران اربوں ڈالر مالیت کا دفاعی سازو سامان خریدا جو ملک کی تینوں مسلح افواج کو فراہم کیا گیا۔
بھارت کے وزیر دفاع اے کے انتھونی نے گزتشہ روز پارلیمنٹ کے ایوان زیریں لوک سبھا کو بتایا کہ بھارت نے گزشتہ 3سال میں 37149 کروڑ روپے مالیت کا دفاعی سامان خریدا۔ انہوں نے کہا کہ مالی سال 2005-06ء میں 12101.49 کروڑ کا فوجی سامان خریدا گیا۔ 2006-07ء میں 10022 کروڑ روپے جبکہ مالی سال 2007-08ء کروڑ روپے کا جنگی سازوسامان خریدا گیا۔
انہوں نے کہا کہ زیادہ تر اسلحہ اور دیگر فوجی سازوسامان امریکہ، برطانیہ، جرمنی ،اسرائیل اور روس سے خریدا گیا۔ بھارتی وزیر دفاع کے مطابق اس عرصے کے دوران بھارت کی تینوں مسلح افواج نے چین، مالدیپ، منگولیا، روس، سنگاپور، تھائی لنیڈ، اومان، سری لنکا، برازیل، جنوبی افریقہ، امریکہ، برطانیہ اور فرانس کی مسلح افواج سے جنگی اور تربیتی مشقوں میں حصہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت آئندہ بھی ایسی مشقوں میں حصہ لینے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اے کے انتھونی نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ بھارتی حکومت 1998ء کروڑ روپے کے جدید ریڈار خریدنے کا ارادہ رکھتی ہے جس کا مقصد دشمن کے توپخانے کے حملوں کو روکنا ہے۔
بھارت جو ایک طرف تو گاندھی کے عدم شدد اور امن کے نظریے کو دنیا میں روشناس کراتا ہے مگر دوسری طرف عملی طور پر بڑی طاقتوں کے ساتھ ملکر عسکری منصوبہ کرتا ہے اور ہر جائز و ناجائز طریقے سے فوجی طاقت میں اضافہ کرتا ہے جو گاندھی کے امن کے نظریے کے ساتھ کھلا مذاق ہے۔ ماضی میں اس کی فوج کا مرکز و محور عموماً پاکستان اور چین رہے ہیں لیکن حالیہ برسوں میں جب دنیا کی توجہ چین کی فوج پر مرکوز ہے۔ بھارت اپنے آپ کو مسلح عالمی طاقت کے طور پر ثابت کرنے کیلئے بے قرار ہے۔ ایک ایسی طاقت جو برصغیر سے ہزاروں میل دور تیل کے بحری بیڑوں اور تجارتی راستوں کی حفاظت اور بین الاقوامی امن قائم رکھنے کیلئے دنیا کا ساتھ دینے اور مشرق وسطیٰ میں اپنے لوگوں کی بڑی تعداد کے دفاع کی خاطر فوجی دستے روانہ کرنے کی اہلیت رکھتی ہے۔
کلنٹن انتظامیہ کے سیکرٹری دفاع ولیم ایس کوہن جو آج کل بھی بین الاقوامی معاہدوں کیلئے امریکی کمپنی کی نمائندگی کرتے ہیں کے مطابق ”بھارت اپنے آپ کو نہ صرف داخلی طور پر اور صرف پاکستان کی حد تک مضبوط دیکھتا ہے بلکہ عالمی سطح پر روشن ہورہا ہے”۔
بھارت امریکی طرز کا جنگی ہوائی سازو سامان خرید کر اپنی ہوائی فوج کو مضبوط کررہا ہے۔ اس سلسلے میں بھارت نے C-130J طیارے اور ”ائیر بورن ری فلنگ ٹینکرز وغیرہ خریدے ہیں۔ اسی طرح تاجکستان میں بھارت نے ایک چھوٹا ائیر بیس تیار کرنے میں مدد کی ہے جو میزبان ملک (تاجکستان) کے ساتھ شراکت کی بنیاد پر تعمیر ہوگا۔ یہ جدید بھارت کا پہلا کامیاب تجربہ ہے کہ اس نے بیرونی طور پر فوجی چوکی قائم کی ہے۔ بھارت بحر ہند کے محافظ و نران کے طور پر بھی اپنے آپ کو پیش کرتا ہے۔بھارتی نژاد امریکی سکالر اور بش انتظامیہ کے ایڈوائزر ایشلے جے ٹیلس کا کہنا ہے کہ ”آج سے دس سال بعد بھارت بحر ہند کے تمام جزیروں کو سیکورٹی فراہم کرنے کے قابل ہو جائیگا”۔ اس نے مزید کہا کہ ”میں دیکھ رہا ہوں کہ بھارت امریکی کے تعاون سے خلیج فارس میں بھی سیکورٹی فراہم کرنے والی طاقت بن جائیگا۔ یہی کچھ وسطی ایشیاء میں بھی ہوتا ہوا نظر آرہا ہے”۔ بھارت آہستہ آہستہ ایک بڑی طاقت میں تبدلی ہورہا ہے۔
جب 2006ء میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان لڑائی میں بھارتی تارکین وطن دھمکیوں کی زد میں تھے تو بھارت نے لبنان سے نہ صرف بھارتی بلکہ سری لنکا، نیپال اور دیگر ممالک کے باشندوں کو بھ یخیریت سے امداد پہنچائی اور انہیں نکالا۔ سونامی کے دوران بھی بھارتی نیوی نے نہ صرف اپنے ملک کے جنوبی ساحل پر بلکہ تمام ایشیاء کو مصیبت سے نکالنے میں بھرپور تعاون کیا۔ نیوی کے 1600 دستے، 32وارشپ، 41طیارے اور ایک فلوٹنگ ہسپتال امدادی کاموں میں مصروف تھے۔بھارتی وزیر خارجہ پرناب مکھر جی نے کہا ہے کہ ”اب چیزیں بدل چکی ہیں ہمیں اپنے ملک کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے اپنی سیکورٹی فورسز کو جدید اور ترقی یافتہ بنانا ہوگا انہیں مضبوط کرنا ہوگا”۔ مکھر جی نے انٹرویو میں مزید کہا کہ ”ہم اپنا ذمہ دارانہ کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہیں لیکن ہم دوسروں کو اپنے اوپر حاوی نہیں ہونے دینگے”۔
نہاتی قابل توجہ خریداری میں چھ IL-78 ائیر بورن ٹینکر جو ایک ہی وقت میں تین جیٹ طیاروں میں ایندھن بھر سکتے ہیں۔ دیگر فوجی سازوں سامان میں جو حاصل کیا جاچکا ہے یا مستقبل قریب میں حاصل کیا جائیگا۔ ایٹمی سب میرین، ہوائی جہازوں کو اٹھانے والے سامان، نیوی کا امدادی سامان اور C-130J طیارے شامل ہیں۔ راہول گاندھی نے کہا کہ ”ہمیں دنیا کے متعلق یہ نہیں سوچنا چاہئے کہ دنیا ہمیں کس نظر سے دیکھتی ہے ہمیں دنیا کی فکر نہ کرتے ہوئے صرف اپنے مفاد میں سوچنا چاہئے۔ دنیا کیا اثر لے رہی ہے اس سے ہمیں خوفزدہ نہیں ہونا چاہئے”۔






























