اترپردیش کی دلت وزیر اعلیٰ مایا وتی کی جان کو خطرہ؟
ائر پردیش کی پہلی دلت وزیر اعلیٰ مایا وتی کے پچھلے ہفتے اپنے پارٹی بی ایس پی کے سالانہ کنونشن میں یہ اعلان کرکے اپنی ہی پارٹی میں کھلبلی مچا دی کہ انہوں نے اپنے وارث کا انتخاب کرلیا ہے جو ان کے بعد ان کی پارٹی کی کمان سنبھالے گا۔ مایاوتی نے اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ انہوں نے یہ تک کہہ دیا کہ کانگریس کی مرکزی حکومت سی بی آئی کو ان کیخلاف استعمال کررہی ہے اور انہیں جیل بھیجنے کی کوشش میں ہے۔ وہ اپنے سیاسی مخالفین سے جان کا بھی خطرہ محسوس کرتی ہیں لہٰذا انہوں نے اپنے سیاسی وارث کا انتخاب کرلیا ہے۔ غیر شادی شدہ دلت لیڈر مایا وتی کی عمر 48 سال ہے اور ان کے بموجب ان کا سیاسی وارث ان سے تقریباً بیس سال چھوٹا ہے۔ مایا وتی نے بڑے ڈرامائی انداز میں کہا کہ ان کا وارث چمار برادری سے ہے اور انہوں نے اس کا نام ایک کاغذ پر لکھ کر محفوظ جگہ پر رکھ دیا ہے۔ ان کے بعد ان کے دو معتمد اس شخص کے نام کا اعلان کرینگے۔
مایا وتی کا یہ اعلان چونکانے والا ان معنوں میں ہے کہ ان کی پارٹی میں نہ تو کوئی انتخاب ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی شخص پارٹی کا ترجمان ہے جو کچھ ہیں وہ صرف مایا وتی ہی ہیں۔ اس لئے ان کی جانب سے اپنے وارث کے اعلان پر سیاسی مبصرین طرح طرح کے قیاس لگا رہے ہیں کہ مایا وتی کو اچانک ہی اپنے وارث کے انتخاب کی ضرورت کیوں آن پری؟۔ مایا وتی نے یہ بھی کہا ہے کہ ان کی جان کو سخت خطرہ ہے۔ مایا وتی اس خطرے کو برابر محسوس کررہی ہیں۔ اس لئے انہوں نے عدالت میں سی بی آئی کے خلاف ایک بیان حلفی داخل کیا ہے کہ جس میں انہوں نے کانگریس پر الزام عائد کیا ہے کہ جب وزیر اعظم منموہن سنگھ اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کیلئے تگ و دو کررہے تھے تب ایک شخص نے مایا وتی کے ایک ممبر پارلیمنٹ سے ملاقات کرکے خود کو سی بی آئی کا افسر ظاہر کیا ہے اور اسے دھمکی دی تھی کہ اگر بی ایس پی کے ممبران پارلیمنٹ میں منموہن سنگھ کی حکومت کے حق میں ووٹ نہ دیا تو مایا وتی کو جیل بھیج دیا جائیگا۔
مایا وتی نے ایک لاکھ سے زائد افراد کے ہجوم میں یہ دعویٰ بھی کیا کہ وہ اس ملک کی پہلی دلت وزیر اعظم ہونگی۔ انتہاء پسند ہندو جماعت بی جے پی کو تو مایا وتی کے نام سے ہی نفرت ہے۔ بھلا ایک چمار کی بیٹی کو بھارت کے وزیر اعظم بننے کا خواب کوئی کیوں دیکھنے دیگا۔
یہ بات مدنظر رکھنی چاہئے کہ آریا سماج یا ہندو وویدک معاشرہ دراصل نسل برتری کے اصولوں قر قائم ہے جس نے نازی جرمنی اور صیہونی یہودیت کے افکار کو بھی مات دی ہوئی ہے۔ 1944ء میں انگریز مصنف بیورلے نکلسن نے اپنی کتاب (Verdict on India) میں لکھا کہ ”ہندو مذہب بہت سی رسومات، توہمات اور روایات کا مجموعہ ہے یہ کوئی باقاعدہ مذہب ہے اور نہ عیسائیوں کی طرح کوئی باقاعدہ چرچ، نہ پوپ اور بائیبل ، صرف چند قبل از مسیح تاریخی تحریریں، گانے اور قصے کہانیاں ہیں جنہیں ہندو اپنی مقدس کتاب کا درجہ دیتے ہیں۔ ہندو مذہب البتہ ذات پات اور چھوت چھات کی مضبوط بنیادوں پر استوار ہے۔ اچھوت ڈاکٹر امبید کر کولمبیا یونیورسٹی سے فارغ التحصیل اور ایڈل برگ یونیورسٹی سے علمی اعزازات حاصل کرنے اور ہندوستان کے چھ قابل ترین لوگوں میں شامل ہونے کے باوجود تنگ نظر ہندو اکثریت کیلئے محض نجس ہے۔ اگر کسی اونچی ذات کے ہندو کی میلی دھوتی بھی اسے چھو جائے تو نجس ہو جائیگی۔ ان کی نجاست ایسی ہی ہے جیسے ایک صحت مند آدمی کو کسی کوڑھی سے بچنا چاہئے۔ ہندو دھرم میں انسانیت کی تذلیل کا یہ عالم ہے کہ اچھوت/شودر ہندو عام کنوئوں کا پانی استعمال نہیں کرسکتے کیونکہ یہ اونچی ذات کے ہندوئوں کیلئے نجس ہو جائیگا۔ اچھوت بچے سکولوں میں تعلیم سے محروم ہیں۔ نچلی ذات کے ہندوئوں اور اچھوتوں کیلئے مندروں میں داخلہ ممنوع ہے۔ سرکاری سرپرستی میں اگر اچھوتوں کیلئے مندروں میں داخلے کا بندوبست کیا بھی گیا تو اعلیٰ ذات کے ہندوئوں نے ایسے مندروں کا بائیکاٹ کیا”۔
اچھوتوں کے ساتھ امتیازی سلوک کے بڑھتے ہوئے واقعات نے بھارتی جمہوریت کا پول کھول دیا۔ حال ہی میں مدھیہ پردیش کے 50 اونچی ذات کے ہندوئوں نے ایک نچلی ذات کے ہندو بھوراجی کو کھیت میں کام کرنے سے انکار پر اتنا پیٹا کہ اس کی موت واقع ہوگئی۔ اسی طرح 18 اگست کو ہریانہ پولیس کے دو کانسٹیبلوں وکرانت اور سندیپ کو اونچی ذات کے ہندوئوں نے گولی مار کر زخمی کردیا۔ حملہ کی وجہ نسلی دشمنی تھی کیونکہ وکرانت جو کہ نچلی ذات کا ہندو تھا نے ایک اونچی ذات کی لڑکی دیپتی سے شادی کرلی۔ تاحال بھارت میں ایک اونچی ذات کی نچلی ذات سے شادی ناجائز ہے اور ابھی تک نچلی ذات کے ہندوئوں کے ساتھ اس طرح کا ظلم عام ہے اور ملزم سزا سے بچے ہوئے ہیں۔ اسی طرح ایک اور واقعہ میں ایک بیوہ للیتا جس کے شوہر کو اونچی ذات کے ہندوئوں نے بیدردی سے قتل کردیا تھا حکومت کی طرف سے ملنے والے معاوضے کا انتظار کررہی ہے۔ حکومت نے دو لاکھ معاوضے کا وعدہ کیا تھا مگر وسیع کرپشن اور حکام کے امتیازی سلوک کی وجہ سے للیتا معاوضے کے حصول میں ناکام ہے۔ صرف یہ ہی نہیں بھارت میں روزانہ اس نوعیت کے بے شمار واقعات رونما ہوتے ہیں۔ ہیومن رائٹس موومنٹ آف انڈیا کے مطابق ہر ایک گھنٹہ میں دو دلت پر حملہ ہوتا ہے، تین دلت خواتین کی عزت پامال ہوتی ہے، دو دلت قتل اور دو دلت گھر جلا دیتے جاتے ہیں۔ قابل افسوس امر یہ ہے کہ ایسے مجرموں میں سے صرف ایک فیصد سزا پاتے ہیں۔
بھارت جو بڑی جمہوریت ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اکثر یہ بھول جاتا ہے کہ اس کے دو سویلین دلت نسلی امتیاز کا شکار ہیں اور بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔ جسمانی اور جنسی تشدد کے علاوہ دلت الگ رستورانوں سے کھانا کھانے، الگ مذہبی رسومات میں شرکت کرنے اور پانی حاصل کرنے کیلئے میلوں کا سفر کرنے پر مجبور ہیں۔ دلت کا لفظی مطلب، ”دبا ہوا طبقہ” ہے۔ ہندی ذات پات کے نظام میں دلت سب سے کمتر سمجھے جاتے ہیں۔ دلت ہمیشہ وہ پیشہ اختیار کرتے ہیں جسے دوسری ذاتیں گھٹیا سمجھتی ہیں۔ اس کے علاوہ دلت اونچی ذاتوں خصوصاً برہمن کے برے سلوک کا شکار ہیں۔ مثال کے طور پر اگر کسی دلت کا سایہ برہمن پر پڑ جائے تو اس پر غسل واجب ہوجاتا ہے، وہ دلت کے ہاتھ کا بنا ہوا کھانا نہیں کھاتا اور اس کے کنوئیں کا پانی نہیں پیتا۔ دلت ذات پات کے نظام کو چھوڑ نہیں سکتے ایسا کرنے کی صورت میں انہیں سزا ملتی ہے۔
بلا شبہ بھارت ایک ناکام جمہوریت ہے کیونکہ یہ ان قوانین کو جو دلت کے حقوق کی ضمانت دیتے ہیں لاگو کرنے سے قاصر ہے۔ اگرچہ بھارتی آئین کی دفعہ 17 ذات پات کے نظام کو ختم کرتی ہے اس کے باوجود دلت امتیازی سلوک کا شکار ہیں۔ مقامی قانون نافذ کرنے والے حکام اکثر اوقات دلت کی شکایتیں درج کرنے اور ان پر تحقیقات کرنے سے اجتناب کرتے ہیں۔ امتیازی سلوک پر احتجاج کی صورت میں دلت اونچی ذات کے ہندوئوں کا نشانہ بنتے ہیں۔ ہندو معاشرے میں ذاتوں کے مابین روایتی خلیج آج بھی جاری و ساری ہے۔ سرکاری ملازمتوں میں کوٹہ سسٹم کے باوجود دلت روایتی پیشوں سے منسلک ہیں۔ ملازمتوں میں دلت کیلئے کوٹہ اونچی داتوں کیلئے باعث پریشانی ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ پڑھے لکھے دلت کو نچی شعبے میں بھی ملازمت کے حصول کیلئے سخت تگ و دو کرنا پڑتی ہے جو بیشتر اوقات ضائع جاتی ہے۔






























