ہفتہ تحفیف اسلحہ ،دوہرے معیار
تخفیف اسلحہ کا ہفتہ ہر سال 24 تا 30 اکتوبر منایا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں آئی اے ای اے کی رپورٹ پر مباحثہ کے دوران اقوام متحدہ کیلئے پاکستان کے مندوب رضا بشیر ترار نے واضع کیا ہے کہ پاکستان ایٹمی عدم پھیلائو کے عزم پر قائم ہے اور پاکستان کا سیف گارڈ کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم انتہائی موثر ہے۔ نیو کلیئر توانائی کا پرامن استعمال ہر ملک کا حق ہے اس بات کو یقینی بنانے کیلئے عالمی سطح پر بلا امتیاز طریقہ کار وضع کیا جائے اور سول نیو کلیئر ٹیکنالوجی تک رسائی کیلئے مصلحت اور کاروباری مفادات سے بالاتر ہوکر اصول وضع کئے جائیں۔ پاکستان اپنے نیو کلیئر پاور جنریشن پلان کی تکمیل میں آئی اے ای اے کی معاونت کا خواہاں ہے۔ بین الاقوامی معیار کے مطابق پاکستان کا اٹامک انرجی ڈویلپمنٹ پروگرام ہمیشہ نیو کلیئر سیفٹی اور سیکورٹی کے لئے تسلیم شدہ ہے۔
دنیا میں امن قائم کرنے کے نام پر ہلاکت خیز ہتھیاروں کی تیاری اور خریدوفروخت کا عمل تخفیف اسلحہ اور ہتھیاروں کے عدم پھیلائو پر مبنی معاہدوں، ضابطوں اور اس ضمن میں کی جارہی کوششوں کا منہ چڑا رہا ہے۔
بڑی طاقتیں اس ضمن میں بے حد ستم ظریف واقع ہوئی ہیں۔ ایک طرف تو یہ تخفیف اسلحہ اور عدم پھیلائو کی کوششوں میں شریک اور سرگرم ہوتی ہیں اور دوسری طرف ہتھیاروں کی پیداوار، ترقی اور خریدوفروخت کا بازار کبھی ٹھنڈا نہیں پڑنے دیتیں۔ کسی ملک کی مشکیں کسنا مقصود ہو تو عدم پھیلائو کے کسی بھی بے کار پڑے ہوئے معاہدے کو اٹھایا جاتا ہے اور اس کے اطلاق اور نفاذ کا پروپیگنڈہ کرکے ناپسندیدہ ملک کو دھونس اور دھمکیاں دے کر دبائو ڈالنے کا عمل شروع کردیا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ کے کسی ادارے کو متحرک کرتے ہوئے مخالف ملک پر چڑھائی کرنے کی راہ ہموار کی جات یہے۔ عموماً آئی اے ای اے کو اس مقصد کیلئے استعمال میں لایا جاتا ہے۔ ایسا کچھ نہ ہوسکے تو براہ راست الزامات عائد کردیئے جاتے ہیں۔ جس طرح پاکستان کیخلاف ایٹمی پھیلائو کی بے بنیاد اور بے اصل مہم چلائی گئی اور پھر بھارت کے ساتھ سٹرٹیجک تعاون کے یک نئے مرحلے کا آغاز کردیا گیا۔ امریکہ اور فرانس نے بھارت کے ساتھ جوہری معاہدے کرلئے ہیں۔ تخفیف اسلحہ کی تمام کوششیں اور سمجھوتے دھرے کے دھرے رہ گئے۔ امریکہ اور یورپ کی یہی روایت رہی ہے کہ انہوں نے ہتھیاروں کی تجارت کو کبھی کم نہیں ہونے دیا۔ جسے چاہا اور جیسے چاہا اسلحہ فروخت کیا، ٹیکنالوجی منتقل کی۔ بھارت نے اپنے قیام کے پہلے دن سے جدید ہتھیاروں بالخصوص غیر روایتی ہتھیاروں کی ٹیکنالوجی حاصل کرنے کی تگ و دو شروع کردی تھی اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کی کوششوں میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ اسے دنیا کی دو بڑی جنگی صنعتوں کا تعاون اور اشتراک ہمیشہ حاصل رہا ہے۔ 1947ء میں کشمیر پر قبضہ کرنے کے بعد بھارت نے اپنی جنگی صلاحیت بڑھانے پر توجہ مرکوز کرلی۔ 1965ء میں اس نے پاکستان پر جنگ مسلط کی تو امریکہ نے فوراً پاکستان کو ہتھیاروں کی فراہمی بند کردی۔ پاکستان اور بھارت کی جنگی مشینری میں واضح فرق تھا لیکن دوست ممالک کے تعاون اور جوانوں کی سرفروشی کے علاوہ برتر مہارت نے بھارت کے عزائم ناکام بنائے۔ اس جنگ کے بعد بھارت نے روایتی ہتھیاروں کی تیاری اور حصول کو تیز تر کردیا۔ 1971ء میں اس نے جنگ کے میدان کے بجائے سازشوں کا میدان چنا اور مشرقی پاکستان کو الگ کروا دیا۔ سقوط ڈھاکہ کے بعد بھارت نے اپنی جنگی صلاحیت مزید بڑھانا شروع کردی۔ ایٹمی صلاحیت کے حصول پر وہ 15اگست 1947ء سے کام کرتا آرہا ہے تھا چنانچہ 18مئی 1974ء کو اس نے راجھستان کے صحرا میں پہلا ایٹمی تجربہ کامیابی سے کیا۔ دوسری طرف اس نے سوویت یونین سے جدید جنگی طیاروں کا حصول جاری رکھا اور فضائیہ کو دنیا کی بڑی فضائی طاقتوں میں لاکھڑا کرنے میں کامیاب رہا۔ 1983ء میں اس نے سویت یونین کی مدد سے بیلسٹک میزائلوں کی تیاری بھی شروع کردی۔ 1988ء میں اس نے ”پرتھوی” میزائل کی آزمائشوں کا آغاز کیا۔ 80ء کی دہائی میں اس نے سوویت یونین سے تمام جدید لڑاکا طیارے حاصل کئے۔ پرتھوی بیلسٹک میزائل کے بعد بھارت نے اگنی دور مار میزائل بھی تیار کرلئے۔ 2005ء میں اس نے روس کے تعاون سے کروز میزائل ”براہموس” کے تجربات کا آغاز کردیا۔ 2005ء میں بھارت نے اپنی تاریخ کی سب سے بڑی جنگی پیشرفت کی۔ اس برس کے دوران اس نے میزائل تجربات، جنگی مشقوں اور ہتھیاروں کے حصول کے متعدد معاہدے کئے۔ 2006ء میں یہ سلسلہ مزید آگے بڑھا۔ اس برس امریکی صدر بش نے مارچ میں بھارت کا دورہ کیا اور جوہری تعاون کے معاہدے پر دستخط ہوئے۔ 2007ء میں روسی صدر ولادی میر پوٹن جنوری میں بھارتی یوم جمہوریہ کے موقع پر دہلی گئے اور بھارت کے ساتھ متعدد اہم سمجھوتے کئے۔ 2008ء میں بھارتی یوم جمہوریہ کی تقریبات کے موقع پر فرانس کے صدر نکولس سرکوزی نے مہمان خصوصی کے طور پر دہلی کا دورہ کیا اور متعدد دفاعی معاہدے کئے۔ سرکوزی نے 25جنوری کو پریس کانفرنس میں بھارت، فرانس جوہری معاہدے کا عندیہ دیا تھا جو حال ہی میں 30ستمبر کو پیرس میں طے پاگیا۔ فرانسیسی صدر کے دورہ میں بھارت نے آئندہ 5سال کے دوران فرانس سے 30 ارب ڈالر کا اسلحہ خریدنے کے معاہدے کئے تھے۔ فرانس کی طرف سے بھارت کو 40جدید لڑاکا طیارے”رافیل” فروخت کرنے کی پیشکش بھی ہوئی۔ 26فروری کو بھارت نے سمندر سے زمین پر مار کرنے والے ”ساگاریکا” بیلسٹک میزائل آب دوز سے لانچ کئے جانے کی صلاحیت سے لیس ہے۔ تجربے کے دوران یہ میزائل 50کلو میٹر گہرائی سے دغام گیا۔ اس پر 500 کلو گرام وزنی وار ہیڈ نصب کیا جاسکتا۔ 5 مارچ کو بھارت نے کروز میزائل ”براہموس” کے بحری ورژن کا تجربہ جزائر انڈیمان میں کیا جس میں اس میزائل کو سمندر سے خشکی پر فائر کیا گیا۔ 23مارچ کو اگنی 1ایٹمی میزائل کا تجربہ اڑیسہ میں ہوا جس کی حد ضرب 700 کلو میٹر اور 1ٹن وزنی ہتھیار اٹھانے کی صلاحیت ہے۔ یہ تجربہ راجھستان کے صحرا میں 20 مارچ سے جاری فوجی مشقوں کے دوران کیا گیا جو بھارتی تاریخ کی سب سے بڑی مشقیں تھیں۔ 59 ممالک کے سفارتکاروں اور فوجی اتاشیوں نے ان مشقوں کا مشاہدہ کیا۔ بھارت کے آرمی چیف جنرل دیپک کپور کے مطابق ان مشقوں کا مقصد جدید ہتھیاروں کی صلاحیت جانچنا تھا۔ پوکھران فیلڈ فائرنگ رینج میں ہونے والی مشقوں میں ٹی 90- ٹینک، طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل، جاسوس طیاروں اور لڑاکا طیاروں کے علاوہ ائیر ڈیفنس گن سسٹم کا استعمال کیا گیا۔ 28اپریل کو بھارت نے اپنے خلائی پروگرام کو آگے بڑھاتے ہوئے 10 مواصلاتی سیارے خلاء میں روانہ کئے جن میں 8 غیر ملکی نینو سیارے بھی شامل تھے۔ بھارت کا کہنا تھا کہ اس نے اپنے خلائی پروگرام کی اہلیت ثابت کردی۔ 29 اپریل کو بھارتی وزیر دفاع اے کے انتھونی نے ایوان زیریں لوک سبھا میں بتایا کہ بھارت نے 51 میراج طیاروں کو اپ گریڈ کرنے کیلئے فرانس کی طیارہ ساز کمپنی کے ساتھ ایک ارب یورو کا معاہدہ کیا۔ 7مئی کو بھارت نے اگنی 3میزائل کا تجربہ کیا جس کی رینج ساڑھے تین ہزار کلو میٹر ہے اور بھارت اس میزائل کو بین البراعظمی میزائل کے طور پر اپ گریڈ کررہا ہے۔ 23 مئی کو بھارت نے پرتھوی میزائل کی آزمائش کی۔ 13اور 14 ستمبر کو بھارت نے فضاء سے فضاء میں مار کرنے والے ”آسٹرا” میزائل کے تجربات کئے جس کی رینج 25سے 40 کلو میٹر ہے۔
بھارت نے فضائیہ کے لئے اسرائیل سے سریع الحرکت جاسوس میزائل سسٹم خریدنے کا معاہدہ بھی کیا ہے زمین سے فضاء میں مارکرنے والے اسرائیلی ”باراک” میزائل سسٹم کی تیاری کیلئے بھی دونوں حکومتوں میں معاہدہ ہوا ہے۔
بھارت اپنے فضائی بیڑے کیلئے چوتھی نسل کے 230 روسی لڑاکا طیارے ایس یو 30 ایم کے آئی طیارے خریدنے کا معاہدہ بھی کرلیا ہے جو پہلے ہی اس کی فضائیہ کا حصہ ہیں۔ بھارت ایٹمی آب دوز کی تیاری پر بھی کام کررہا ہے جو وشاکاپٹنم کی بندرگاہ پر قائم خفیہ بحری مرکز میں جاری ہے۔ اس کے علاوہ روس کے ساتھ ایک خفیہ معاہدے کے تحت 65 کروڑ ڈالر کے عوض دسمبر 2009ء تک بھارت ایک ایٹمی آب دوز 10 سال کی لیز پر حاصل کریگا جسے کروز اور بیلسٹک میزائل اگنی 3سے لیس کیا جائیگا۔ ”پراجیکٹ ون” کے نام سے یہ معاہدہ جنوری 2004ء میں خفیہ طور پر طے پایا تھا۔































وجاہت عمرانی
نے لکھا؛
April 16, 2009 at 1:23 pm
ڈیرہ اسما عیل خان کے دو غیرتمند سپوت جنکے دل میں ہمیشہ ڈیرہ اسما عیل خان کی حق تلفی کا درد رہتا ہے
منیر فردوس
یہ کائنات ایک کتاب بھی ہے اور ایک حجاب بھی ہے اور ایک پردہ بھی ہے ۔ انسان بھی تہ بہ تہ ایک جہان و فکر واحساس ہے۔ حقائق کے چپھے ہو ئے خزانے تجسس کو مہمیز کرتے ہیں ۔ انسان کبھی وادی تحقیق میں سرگرداں اور کبھی تلاش َ تعبیر میں حیران ، عہد بہ عہد صدی بہ صدی معلومات کے انبار لگاتا ہوا چلا آرہاہے لیکن معلومات کے دفتر میں اسے صداقت کا وہ ہیرا نہیں ملتا جس کی تڑپ نے اسے آمادہ سفر کیا تھا۔ نہ پائے جستجو رکتے ہیں نہ نشان َ منزل کا پتا چلتا ہے ۔ لیکن زمانہ سرگرم َ سفر ہے۔
اسی سفر کے دو راہی ایک منیر فردوس جو اپنے اندر کے درد ، دکھ ، کرب میں الفاظ کو ڈبو کر صفحہ قرطاس پر غم کی ایک ایسی لکیر کھنچتا ہے جس سے اس کے سینے میں ڈیرہ کی انمول اور پیار میں ڈوبی ہوئی لیکن آج کل بے گناہوں کے خون میں گوندھی ہوئی مٹی کے رونے ، بین کرنے اور دہائی دینے کی آواز صاف سنائی دیتی ہے۔ اگر کوئی اپنی اآنکھوں سے فرقہ واریت، دہشت گردی اور ظلم اور سیاسی مفادات کی عینک کو ایک لمحہ کے لیے ہٹا کر دیکھے تو اسے اپنی ماں سر زمین ڈیرہ ، بال کھولے ہوئے ، ننگے پاوں، پٹھے ہو ئے کپڑوں، جسم خون آلودہ ، آنکھوں میں خون کے آنسووں کا ایک سمندر لیئے گلی گلی ، کوچے کوچے محلے محلے میں ایک ہی صدادیتی ہوئی نظر آئے گی۔ امن امن امن ۔ اور یہی درد میں ڈوبی ہوئی آواز اس ماں کے ایک غیرتمند بیٹے منیر نے سنی جس نے اس آواز کی، اپنی ماں کی اس بے تابی کو سمجھتے ہوئے قلم اٹھا کر لفظوں کی شکل میں لکھ ڈالا کہ اے ڈیرے والو یہ میری نہیں، یہ ہم سب کی سانجھی ماں کی آواز ہے اسے پڑھو، سمجھو اور اس پر عمل کرو کہ ہماری ماں کیا چاہتی ہے ۔
میں امید کرتا ہوں کہ انشاء اللہ وہ دن ضرور آئے گا جب ڈیرہ ایک دفعہ پھر پھلاں دا سہرا ہو گا اور ہم سب اپنی ماں کی گود میں بیٹھ کر، سندھ کنارے ایک ہی آواز میں کہیں گے۔ کوکلے چھپاکے جمعرات آئی ہے ۔ جیڑھا ساڈو اکھ ڈیکھسی اوندی شامت آئی ہے
انشاء اللہ منیر کو صداقت کا ہیرا بھی ملے گا جس کی تڑپ نے اسے آمادہ سفر کیا ہے
عباس سیال
تکلم آدمیت کا شرف ہے ، قوت اظہار بنی نو ع انسان کااعزاز ہے مافی الضمیر کو الفاظ کے روپ میں پیش کرنا انسان کی ضرورت ہے اور ضروریات خواہشات سے متصل ہو تی ہیں لہذا انسان خواہ کسی نسل ، کسی مذہب اور کسی خطے سے تعلق رکھتا ہو اپنی خواہشات کو حسب َ ضرورت گفتگو کا لباس پہناتا رہتا ہے ۔
لیکن فکر کے اظہار کا ایک عنوان ایسا بھی ہے جو پوری طرح خالص ہے اور نہ اس کا محرک دنیا کی ضرورت ہے اور نہ اسکا باعث انسان کی زاتی خواہشات ہیں اور وہ عنوان ہے صرف اور صرف ڈیرہ
میں نے جب بھی کسی اخبار میں ، انٹر نیٹ پر یا دوستوں کی لائبریری میں اگر عباس سیال کی کوئی تحریر پڑھی ہے تو وہ صرف اور صرف ڈیرہ والوں کے اردگرد گھومتی ہے ۔ جس میں عباس سیال کی بے لوث اور زاتی مفادات ہے ہٹ کر ڈیرہ اور ڈیرہ والوں کی چاہت نظر آتی ہے کہں سینے میں بے گناہوں کے خون کا درد، کہیں ڈیرے والوںکی حق تلفی کے آنسو، کہیں سرداروں وڈیروں کے ڈرائنگ رومز میں ہونے والی ڈیرہ وال کُش پالیسی کی دھمک ، کہیں زاتی مفادات کی آڑ میں اپنی ماں کی بولی لگانے والوں کے خلاف اپنی صحت اور طبیعت سے زیادہ بلند صدا، کہیں داڑھی اور مذہب کی آڑ میں فرقہ واریت پھیلانے والوں کے چہروں سے اپنے نفیس و نازک ہاتھوں سے بھر پور طریقے سے بے نقاب کرنا، کبھی ڈیرہ کے گمشدہ خزانے “ سچے تے کھرے ڈیرے والوں کی تلاش“ کبھی ڈیرہ کے ماتھے کا رنگین جھو مر بننے والے اختر ظوفان اور قادا کرڑی، کہیں ڈیرہ کی غیرتمند مٹی میں پلنے والے بھائی لوگ، کہیں ڈیرہ کو پھلاں دا سہرا بنانے والے لالہ بھوانی داس پپلانی ، لالہ رام داس بھگائی ، نواب اللہ نواز سدوزئی کا زکر ملے گا۔ میرے علم کے مطابق عباس سیال کا قلم صرف ڈیرہ ہی لکھنا جانتا ہے اور اسکی زبان صرف ڈیرہ ہی بولنا جانتی ہے اور اسکا دماغ صرف ڈیرہ کے ہی گرد گھومتا ہے ۔ کیوں نہ ہو۔ یہی تو ایک احساس میں ڈوبے ہوئے غیرتمند سپوت کی نشانی ہے کہ چاہے وہ کہیں پر ، کیسا بھی ہو اپنی مٹی کی عزت کرنا اور کروانا خوب جانتا ہے ۔ شرط غیرت ہے اور ایسے ہی لوگوں پر ماں فخر کرتی ہے اور اتراتی ہوئی ہر جگہ پر کہتی ہے ابھی میرا لال زندہ ہے ۔ وہ اپنی قلم کی دھار سے میرے دشمنوں کو چیرتا ہوا۔پھاڑتا ہوئے مجھے فرقہ واریت کی آگ سے، تعصب کی بدبودار فضا سے، گندی سیاست میں الجھی ہوئی میری جوانی، زاتی مفادات کی جنگ میں میرے ترقی کے پھنسے ہوئے قدم، مزہب کے نام پر میرے بیٹوں کی جوانیوں سے کھیلنے والے، اپنی ہوس کے لیئے قید کی ہوئی میری خوشبو، مجھے پھلاں دا سہرے بنانے والے کی کردار کشی کرنے والوں سے چھڑا کر لے جائے گا اور پھر میری گود میں اپنا سر رکھ کر میرے بال سلجھاتے ہوئے ، مسکراتے ہوئے، مجھ سے اٹھکیلیاں کرتے ہوئے کہے گا ۔۔۔ ماں ۔۔۔۔ اج پولو گراونڈ وچ میلہ اسپان لگے میں ونجاں ۔۔ اج ساڈے سنگتیاں نے دریا تے دھاونی دا پروگرام بنڑائے جلدی ونجنڑیں جو وت جھاہ نہ ملسی