اللہ کرے اللہ کرے
(صدائے آدم سکندرریاض چوہان(چوبیس اگست2007
اللہ کرے اللہ کرے
جب سے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جناب افتخار محمد چوہدری کی بحالی ہوئی ہے حکومت کو ایک انجانا خوف اور حکومتی لیگ کو ایک خدشے نے گھیر رکھاتھاان کویہ یقین نہیں تھا کہ شریف برادران کے فیصلے پر بھی سپریم کورٹ ایک ایسا فیصلہ دے گی جس سے حکومت کی مشکلات میں اضافہ ہوجائے گا۔تئیس اگست کے تاریخی فیصلے کے بعد جس میں سپریم کورٹ نے واضح طور پر حکومت کو تنبہیہ کی ہے کہ وہ شریف برادران کی وطن واپسی میں کوئی رکاوٹ نہ ڈالیں۔اس فیصلے کے بعد حکومتی اوراپوزیشن سیاسی راہنماؤں کے بیانات اور ان کی جانب سے ہونے والی مختلف گفتگو اور ان میں موجود خدشات،حکومتی ارکان اور مشرف کے ارکان میں سخت بے چینی پیدا ہوگئی ہے کہ اگر شریف برادران ملک واپس آتے ہیں تو کیا حکمت عملی ہونی چاہیے۔چوہدری برادران کی مشکلات میں اضافے کی انتہا ہوچکی ہے اور ان کو سیاسی مستقبل کو قائم رکھنے کے لیے اپنے آبائی شہر گجرات کی حقیقی سیاست کو عملی طور پر ملک میں لاگوکرنے کے علاوہ اورکوئی چارہ کار نہیں کہ سیاست دانوں کو اپنے قبضے میں کرکے کم از کم سیاسی طور پر اپنی پوزیشن کو مضبوط کرنے ہوگی۔یہ تمام خدشات ایک طرف سیاست کے اتار چڑھاؤ ایک طرف یہاں ایک اہم اور انتہائی نازک نکتہ پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ اگر خدانخواستہ اس راستے کو اپنایا گیا تو ملک میں خانہ جنگی جیسی صورت حال کو کوئی بھی پیدا ہونے سے نہیں روک سکتاہے اور وہ خدشہ یا راستہ یہ ہے کہ بہت ممکن ہے مشرف بچاؤ پارٹی مستقبل میں اعلیٰ عدالتوں کے ساتھ تصادم کی راہ اختیار کرے ۔عدلیہ کے فیصلوں کو پس پشت ڈالنے کی کوشش کی جائے سیاسی مخالفین کو ماورائے عدالت نقصان پہنچانے یا عدلیہ سے ایڈمنسٹریٹو پاور واپس لینے کی کوشش کی جائے جس کے نتیجہ میں اعلیٰ عدالتیں حکومت کے خلاف اقدامات کو اولین ترجیح دینے کی کوشش کریں اور یوں یہ سلسلہ عدلیہ فوج،مشرف پارٹی،اپوزیشن پارٹیوں،نواز لیگ،اور دیگر کئی سطحوں پر پھیل کر ایک دوسرے کے خلاف اقدامات کرنے شروع کردیں جس کا لازماًنیتجہ ملک میں سیاسی ابتری کے ساتھ ساتھ خانہ جنگی جیسی صورت حال بھی پیدا ہوسکتی ہے ۔یا ایسے حالات کو پیدا کرکے ملک میں امن عامہ کی صورت کو خراب پیش کرکے وردی کی مدت کو بڑھایا جاسکے اور تمام سیاسی عوامل کو روک دیا جائے اگر ایسی صورت حال ہوتی ہے تو عوام میں جواس وقت شعور پیدا ہوچکا ہے اور عوام میں جو سپریم کورٹ کے متعلق رائے قائم ہوچکی ہے جو ان کے ذہنوں میں سیاسی اور جمہوری اداروں کے کردار سے متعلق خاکہ بن چکا ہے ۔فوج کے احترام کی جو حد ان میں موجود ہے اورجن کی نظریں ایک ترقی کی راہ پر گامزن پاکستان کے بارے خواب کو سجا چکے ہیں اگرا ن کی توقعات کے خلاف ایسی راہیں اپنائی جاتی ہیں جس سے نا صرف ملک کو بلکہ تمام اداروں کو بھی متاثر ہونا پڑتاہے تو پھر ملک میں کسی بھی ناخوش گوار حالات کو پیدا ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔
اللہ کرے میرے یہ خدشات خام خیال ثابت ہوں اور ملک میں سیاسی فضا کی بحالی کے ساتھ ساتھ تمام قوم اپنے قومی فرض کو جاننے کی کوشش کرے تاکہ ملک میں کوئی بھی ایسی صورت پیدا نہ ہو جس سے ہماری آنے والی نسلیں بھی متاثر ہو۔اللہ کرے اللہ کرے۔






























