September 6, 2008 at 7:58 am |
راقم : افتخار اجمل بھوپال |
سماج, سیاست میں شائع کیا گیا
نام نہاد روشن خیال کہتے ہیں کہ مدرسوں میں پڑھنے والے طلباء و طالبات سائنسی دنیا کے لحاظ سے جاہل ہوتے ہیں اور مدرسے ان کو دہشت گرد بناتے ہیں ۔ پچھلے سال جولائی میں حکومت نے اپنے آقاؤں کو خوش کرنے کیلئے پاکستان میں لڑکیوں کا سب سے بڑا مدرسہ ۔ جامعہ حفصہ اسلام آباد تباہ کر دیا اور پاکستان میں لڑکوں کے چند بڑے »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔
مستقل لنک
September 3, 2008 at 10:26 am |
راقم : افتخار اجمل بھوپال |
سماج میں شائع کیا گیا
سب بزرگان ۔ بہنوں ۔ بھائیوں ۔ بھتیجیوں ۔ بھتیجوں ۔ بھانجیوں اور بھانجوں کو رمضان مبارک ۔ اللہ آپ سب کو اور مجھے بلکہ تمام مسلمانوں کو رمضان کا صحیح اہتمام اور احترام کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔
مستقل لنک
August 31, 2008 at 4:24 pm |
راقم : افتخار اجمل بھوپال |
سماج میں شائع کیا گیا
جاہل مُلّا اور فرقہ واریت پھیلانے والے مُلّا حکرانوں یا اجارہ داروں کی لگائی ہوئی پنیری ہیں ۔ حکمران ان لوگوں کو علماء و مشائخ کے نام سے یاد کرتے ہیں ۔ ان میں مساجد کے امام بھی ہیں اور شیخ بے مسجد بھی ۔
پچھلی حکومت نے کنونشن سنٹر اسلام آباد میں حکومت کے خرچ پر ایک علماء و مشائخ کانفرنس منعقد ہوئی تھی جس سے صدر جنرل پرویز مشرف نے خطاب کیا تھا اور ان سے اپنے حق میں قرارداد منظور کروائی تھی ۔ اس کانفرنس کا ایم ایم اے ۔ بے نظیر کی پی پی پی اور نواز شریف کی مسلم لیگ نے بائیکاٹ کیا تھا ۔ اس کے باوجود صرف راولپنڈی سے 260 علماء و مشائخ شامل ہوئے جبکہ راولپنڈی میں 150 مساجد بھی نہیں اور ان میں سے بھی زیادہ تر کے اماموں کا تعلق متذکرہ تین جماعتوں سے ہے ۔
صرف حکومت ہی کو نہیں علاقہ کے وڈیروں یا چوہدریوں کو بھی ایسے داڑھی والوں کی ضرورت ہوتی ہے جو ان کے حق میں فتوٰی دیں ۔ باقی وقت اپنا ٹَیکا رکھنے کے لئے یہ نام نہاد علماء و مشائخ فرقہ پرستی کو ہوا دیتے ہیں ۔
ان کے خلاف اگر حکومت یا بارسُوخ لوگ کوئی قدم اٹھائیں گے تو پھر حکومت اور ان بارسُوخ لوگوں کے حق میں فتوے کون دے گا ؟
یا رب ۔ دلِ مُسلم کو وہ زندہ تمنّا دے
جو قَلب کو گرما دے جو رُوح کو تڑپا دے
مستقل لنک
August 29, 2008 at 8:55 am |
راقم : افتخار اجمل بھوپال |
دین, سماج میں شائع کیا گیا
ملّا اور جاہل ۔ اس حقیقت نے مجھے لڑکپن ہی میں پریشان کر دیا تھا ۔ میں اس کا منبع تلاش کرنے میں لگ گیا ۔ حالات کی سختیاں جھیلتے سال گذرتے گئے مگر میری جستجو جاری رہی ۔ آخر عُقدہ کھلا ۔
ہندوستان ميں انگریزوں کی حکومت بننے سے پہلے بڑی مساجد علم کا گھر ہوا کرتی تھیں اور انہیں جامع یعنی یونیورسٹی کہا جاتا تھا ۔ وہاں دینی تعلیم کے ساتھ دنیاوی علوم بھی پڑھائے جاتے تھے ۔ طلباء دور دراز سے بلکہ دوسرے ممالک سے بھی آکر سالہا سال قیام کرتے اور علم حاصل کرتے ۔ اساتذہ اور تعلیم کا خرچ چلانے کے لئے ان مساجد کے ساتھ بڑی بڑی جاگیریں تھی ۔ اس کے علاوہ مسلمان بادشاہ اور مالدار طلباء نذرانے بھی دیتے تھے ۔
جنگِ آزادی کی ناکامی کے بعد 1857ء میں جب ہندوستان پر انگریزوں کا مکمل قبضہ ہو گیا تو انہوں نے ہنرمندوں اور علماء کو قتل کروا دیا تاکہ ہندوستانی مسلمان پھر نہ اُبھر سکیں ۔ مساجد کی جاگیریں ضبط کر لیں ۔ اس کے بعد پسماندہ علاقوں سے جوان چُنے جو دینی علم صرف نماز روزہ کی حد تک جانتے تھے ۔ ان لوگوں کو برطانیہ بھیج کر چند ماہ کا امام مسجد کا کورس کرایا گیا اور واپسی پر مساجد کا بغیر تنخواہ کے امام مقرر کر دیا ۔ ان اماموں کا نان و نفقہ علاقہ کے لوگوں کے ذمہ کر دیا اور ان کی نگرانی علاقہ کے نمبردار یا چوہدری یا وڈیرے یا سردار وغیرہ جو خود انگریزوں کے مقرر کردہ تھے کے ذمہ کر دی ۔
آجکل کے جاہل ملّا زیادہ تر اسی عمل کا نتیجہ ہیں ۔ باپ امام مسجد تھا اسلئے بیٹا بھی امام مسجد بن بیٹھا ۔ اس صورتِ حال کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے کئی ایسے لوگ جنہوں نے کبھی نماز بھی نہ پڑھی تھی داڑھی رکھ کر مسجد کے امام بن بیٹھے یا کسی بارسوخ شخص نے اپنی مطلب براری کے لئے بنا دیا ۔ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ پاکستان کے معرضِ وجود میں آنے کے اکسٹھ سال بعد بھی یہ غلط عمل جاری ہے ۔
کسی نے کہا تھا کہ داڑھی میں اسلام نہیں ہے بلکہ اسلام میں داڑھی ہے ۔
اس خلافِ دین صورتِ حال کے ذمہ دار خود پاکستانی عوام بھی ہیں جو اپنی مطلب براری کیلئے ایسے لوگوں کو امام مسجد کے طور پر نہ صرف قبول کرتے ہیں بلکہ خود بھی یہی چاہتے ہیں ایسے امام ہوں جو اُن کی برائیوں کو بُرا نہ کہیں ۔ ستم یہ کہ بجائے اس خرابی کو دور کرنے کے لوگ تمام مولویوں کے دشمن بن بیٹھے ہیں ۔
مستقل لنک
August 26, 2008 at 2:46 pm |
راقم : افتخار اجمل بھوپال |
دین, سماج میں شائع کیا گیا
نِیم حکیم خطرہء جان نِیم ملّا خطرہء ایمان
میرے ہموطن یہ کہاوت عام استعمال کرتے ہیں لیکن بہت کم ہوں گے جنہوں نے اس کا صحیح استعمال کیا ۔ یہ کہاوت صرف مُلّا اور حکیم یا ڈاکٹر کیلئے نہیں ہے بلکہ سب کیلئے ہے ۔ نِیم فارسی کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے آدھا ۔ مطلب یہ کہ انسان جو کچھ بھی ہو پورا ہو ۔
آٹھویں جماعت میں سکول میں دینیات کی تعلیم کا حال دیکھ کر والد صاحب نے راولپنڈی شہر میں محلے کی مسجد کے امام صاحب کی ٹیوشن مقرر کی کہ میں قرآن شریف دوہرا لوں ۔ میں تلاوت شروع کرتا تو مولوی صاحب سو جاتے ۔ پارہ ختم ہو جاتا تو وہ جاگ جاتے ۔ اسی طرح دو ماہ میں پورا قرآن شریف پڑھا ۔ یہ صاحب جمعرات کی روٹیوں والے مُلّا تھے اور بغیر دینی مدرسہ گئے مولوی بن گئے تھے ۔ میری تلاوت کی تصحیح پھر میری والہ محترمہ نے کی ۔ اللہ جنّت نصیب کرے ۔
حکومت نے 1984ء میں سکولوں میں مدرسوں سے سند یافتہ دینیات کے استاذ رکھنے کا فیصلہ کیا ۔ یہ کام ایک سیکشن آفیسر کے سپرد ہوا جو ہمارے سیٹلائٹ ٹاؤن راولپنڈی والے گھر جہاں ہم اُن دنوں رہتے تھے کے قریب مسجد کے خطیب بھی تھے ۔ ایک شام میں کسی کام سے ان کے پاس گیا تو پریشان پایا ۔ وجہ پوچھی تو کہنے لگے پہلی قسط میں پانچ سو استاد بھرتی کرنا ہیں ۔ ایک سالہ کورس کی سند ہونی چاہیئے میں نے چھ اور تین ماہ والوں کے نام بھی لکھ لئے ہیں اس کے باوجود 247 ہوئے ہیں ۔ میں نے کہا جناب اتنے سارے امام مسجد خیراتی روٹیوں پر پل رہے ہیں ان کو لے لیں ۔ فرمانے لگے محلہ میں جو بقیہ چار مساجد ہیں ان کے امام ایک دن کے لئے مدرسہ نہیں گئے ۔ میں نے حیرت سے کہا تو یہ امام کیسے بن گئے ۔ فرمایا لوگوں نے اپنی مقصد براری کے لئے بنا دیئے یا خود زورآوری سے بن گئے ہوں گے ۔ اس پر میں نے سوال کیا کہ جو لوگ منظور شُدہ مدرسوں سے فارغ التحصیل ہوتے ہیں وہ سب کہاں گئے ؟ بولے کہ اُنہوں نے آٹھیوں کے بعد 8 سال یا دسویں کے بعد 6 سال پڑھائی کر کے سند حاصل کی ہوتی ہے وہ تنخواہ کے سکیل نمبر 9 پر کیسے نوکری کریں گے ؟ ہاں اگر تنخواہ کا سکیل کم از کم 16 کر دیں تو اُن میں سے کچھ آ جائیں گے ۔
مستقل لنک
August 20, 2008 at 10:28 am |
راقم : افتخار اجمل بھوپال |
دین, سماج میں شائع کیا گیا
میں نے 1983ء میں بوائے آرٹیزن کے لئے 1200 فرسٹ ڈویژن میٹرک پاس امیدواروں کا انٹر ویو لیا ۔ ہر امیدوار سے انگریزی ۔ حساب اور دینیات کا ایک ایک سوال پوچھا ۔ سوائے تھوڑے سے امیدواروں کے کسی کو معلوم نہیں تھا کہ خلفائے راشدین کیا ہوتا ہے ۔ اکثر لڑکوں کو نماز کا صحیح طریقہ معلوم نہ تھا ۔
ایک امیدوار نے دینیات کے سوال کا بہت اچھا جواب دیا تو میں نے مزید سوال کئے جن کے اس نے فرفر جواب دیئے ۔ ایڈمن آفیسر نے میرے کان میں بتایا کہ یہ لڑکا عیسائی ہے تو میں نے لڑکے سے پوچھا کہ آپ عیسائی ہوتے ہوئے دینیات پڑھتے ہیں ؟ کہنے لگا بائبل کا کورس بہت زیادہ ہے ۔ دینیات کی چھوٹی سی کتاب ہے اس لئے میں نے دینیات کا مضمون رکھا تاکہ اچھے نمبر آ جائیں ۔
بارہ دن میں انٹرویو ختم ہوئے تو لیبر یونین کے صدر جو سیّد ۔ ۔ ۔ شاہ تھے میرے پاس آئے اور کہا سر آپ نے ظُلم کیا ہے ۔ دینیات نہ کوئی پڑھتا ہے نہ کوئی پڑھاتا ہے ۔ میٹرک میں دینیات میں فیل ہونے کے باوجود لڑکے پاس کئے جاتے ہیں ۔ کوئی سائنس وائنس کی بات کرتے تو ٹھیک تھا ۔ میں نے اُنہیں بتایا کہ جنہوں نے سائنس اور حساب کے سوالوں کے صحیح جواب دئیے ان سب کو میں نے کامیاب قرار دیا ۔
چاروں طرف نظر دوڑائی جائے تو جو منظر سامنے آتا ہے یہ ہے کہ والدین اپنے بچوں کو انگریزی اور غیرملکی سکولوں میں پڑھانے کیلئے اپنی استداد سے زیادہ محنت کرتے ہیں ۔ پھر سکول سے آنے کے بعد اور سکول سے چھٹیوں کے دوران اعلٰی سے اعلٰی اور مہنگے ٹیوشن سینٹر جنہیں آجکل اکیڈمی کا نام دیا گیا ہے میں پڑھواتے ہیں اور اس پر پانچ سے دس ہزار روپے ماہانہ فی بچہ خرچ کرتے ہیں مگر قرآن شریف صحیح پڑھوانے کیلئے کسی صحیح مدرس کے پاس بھیجنے کی بجائے پچاس یا زیادہ سے زیادہ ایک سو روپے ماہانہ والے کسی امام مسجد کے پاس بھیجھتے ہیں جو کسی مدرسہ کا باقاعدہ تعلیم یافتہ نہیں ہوتا ۔
مستقل لنک
August 17, 2008 at 7:54 am |
راقم : افتخار اجمل بھوپال |
دین, سماج, علم و ادب میں شائع کیا گیا
گرچہ بُت ہیں جماعت کی آستینوں میں
مُجھے ہے حُکمِ اذاں لا الہ الا اللہ
وطن عزیز میں فی زمانہ جس موضوع پر سب سے زیادہ بات کی جاتی ہے لیکن عملی طور پر اصلاح کی کوشش مفقود ہے مدرسہ اور دہشتگرد ۔ میں ان پر اِن کے پسِ منظر کے ساتھ مختصر اظہارِ خیال کرنے کی جراءت کر رہا ہوں ۔ اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی کی بارگاہ میں استدعا ہے کہ اس موضوع کے تحت لکھنے میں میری رہنمائی اور مدد فرمائے ۔ قارئین سے درخواست ہے کہ میرے حق میں دعا فرمائیں ۔ میں پچھلے ساٹھ سال میں اپنے تجربات اور مشاہدات کا مختصر سا بیان کروں گا لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہموطنوں کی اکثریت کی بھی یہی کہانی ہے ۔ اس تحریر کو میں نے مندرجہ ذیل موضوعات کے تحت تقسیم کیا ہے
۔ 1 ۔ سرکاری سکولوں
۔ 2 ۔ عملی زندگی
۔ 3 ۔ جاہل ملّا
۔ 4 ۔ جاہل ملّا کہاں سے آئے
۔ 5 ۔ فرقہ واریت
۔ 6 ۔ کیا مدرسوں میں پڑھے جاہل اور دہشتگرد ہوتے ہیں ؟
۔ 1 ۔ سرکاری سکولوں
چھٹی اور ساتویں جماعت میں ہمارے جو دینیات کے استاذ تھے اُن کی مولوی ہونے کی نشانی صرف اُن کی داڑھی تھی ۔ دینی مدرسہ سے پڑھے ہوئے ہونا تو کُجا میرا نہیں خیال کہ وہ کچھ پڑھے لکھے تھے کیونکہ اُنہوں نے کبھی ایک آیت بھی ہمیں نہیں پڑھائی تھی ۔ ایک لڑکے کو کہتے پڑھو ۔ وہ کھڑا ہو کر دوسرے پارہ کی بلند آواز سے تلاوت شروع کر دیتا ۔ تھوڑی دیر بعد استاذ کہیں چلے جاتے اور طلباء اپنی مرضی سے پڑھتے رہتے ۔ دو سال ہم صرف دوسرا پارہ پڑھتے رہے ۔ میں آٹھویں جماعت میں دوسرے سکول چلا گیا ۔ وہاں کے استاذ بھی کسی دینی مدرسہ کے پڑھے ہوئے نہیں تھے ۔ وہ کسی لڑکے کو پڑھنے کا کہہ کر خود کرسی پر دونوں پاؤں رکھ کر اکڑوں سو جاتے ۔ لڑکوں کے شور سے جاگ جاتے تو جو سامنے ہوتا اس کی پٹائی ہو جاتی ۔ ایک دن ایک لڑکا نیکر پہن کر آگیا ۔ استاذ اسے شیطان کا بچہ شیطان کا بچہ کہتے گئے اور چھڑی سے پٹائی کرتے گئے ۔ اس کی ٹانگوں پر نیل پڑ گئے ۔ وہ لڑکا ذہین محنتی اور خوش اخلاق تھا ۔ وہ سکول چھوڑ گیا ۔ وہ کمشنر راولپنڈی کا بیٹا تھا ۔ سکول والوں نے استاذ کی چھٹی کر دی ۔
پھر مولوی عبدالحکیم صاحب کو کنٹریکٹ پر رکھا گیا ۔ وہ مدرسہ حقانیہ اکوڑہ خٹک کے فارغ التحصیل تھے اور راولپنڈی کی پانچ بڑی مساجد میں سے ایک کے خطیب تھے ۔ انہوں نے نویں جماعت میں سلیبس کے علاوہ ہمیں اچھا انسان بننے کے اصول بھی قرآن اور سنّت کی روشنی میں بڑی اچھی طرح سمجھائے ۔ ایک دن پڑھانے کے دوران ایک لڑکا شرارتیں کر رہا تھا ۔ دو بار منع کرنے پر بھی منع نہ ہوا تو مولوی صاحب نے اس کی پٹائی کر دی ۔ اگلے دن کلاس میں مولوی صاحب نے اس لڑکے کے پاس جا کر کہا بیٹا غصہ انسان کو پاگل کر دیتا ہے اسی لئے حرام ہے ۔ مجھے غصہ آگیا تھا اور میں نے آپ کی پٹائی کر دی مجھے معاف کر دو ۔ مولوی صاحب کے اس کردار پر لڑکا زار و قطار روتا ہوا مولوی صاحب کے قدموں میں گر گیا ۔ مولوی صاحب نے اسے گلے لگایا اور دلاسہ دیا ۔ اس واقعہ کے بعد وہ جماعت کا شریر ترین لڑکا ایک سُلجھا ہوا محنتی طالب علم بن گیا ۔ ایک سال بعد مولوی عبدالحکیم صاحب نے سکول کے ایک خلاف دین فنکشن میں شامل ہونے سے انکار کر دیا چنانچہ ان کی چھٹی ہو گئی ۔
دسویں جماعت میں جو صاحب دینیات کے استاذ مقرر ہوئے انہوں نے ہمیں دینیات بالکل نہیں پڑھائی صرف شعر سناتے رہے اور کبھی کبھی افسانے ۔ چھوٹی سی داڑھی رکھی تھی شائد اسی لئے دینیات کے استاذ بنا دیئے گئے ۔ ارباب اختیار سے اپنی پریشانی کا اظہار کیا تو بتایا گیا کہ فکر کی ضرورت نہیں اسلامیات کا امتحان نہیں ہو گا ۔
مستقل لنک
August 14, 2008 at 8:17 am |
راقم : افتخار اجمل بھوپال |
سماج میں شائع کیا گیا
آؤ بچو ۔ سیر کرائیں تم کو پاکستان کی
جس کی خاطر دی ہم نے قربانی لاکھوں جان کی
پاکستان زندہ باد ۔ پاکستان زندہ باد
آج آنے والی رات کو 12 بج کر 57 منٹ پر سلطنتِ خداداد پاکستان کو معرضِ وجود میں آئے پورے اکسٹھ سال ہو جائیں گے ۔ میں کئی دن سے سوچ رہا تھا کہ میں آزادی کی سالگرہ مبارک تو ہر سال ہی لکھتا ہوں اور اب یہ الفاظ ہی حالات نے پھیکے پھیکے کر دئیے ہیں ۔ آزادی کے 61 سال بعد بھی ہم پسماندگی اور پریشانی کا شکار کیوں ہیں ؟ اس پر غور کر کے ہمیں اپنی خامیاں دور کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔ جتنی جلد یہ خامیاں دور ہوں گی اتنی ہی تیز رفتاری سے ہمارا ملک ترقی کرے گا ۔ الحمدللہ ۔ اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے ہمارے مُلک کو ہر قسم کی نعمت سے مالامال کیا ہے لیکن ہموطنوں کی ناسمجھی کی وجہ سے قوم تنزل کا شکار ہے ۔
اندرونِ وطن
سب حقوق کا راگ الاپتے ہیں اور حقوق کے نام پر لمبی لمبی تقاریر اور مباحث بھی کرتے ہیں لیکن دوسروں کا حق غصب کرنا پیدائشی حق سمجھتے ہیں ۔ سڑک پر اپنی گاڑی میں نکلیں تو دوسری گاڑیوں میں سے اکثریت کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ وہ کسی طرح آپ سے آگے نکل جائیں یا آپ سے پہلے مُڑ جائیں ۔ چوراہے پر بتی ابھی سبز ہو نہیں پاتی کہ لوگ گاڑیاں بھگانے لگتے ہیں ۔ سڑک کے کنارے کھڑے کو کوئی سڑک پار کرنے نہیں دیتا
ہموطنوں کی اکثریت کو ہر چیز غیرملکی پسند ہے ۔ اپنے وطن کی بنی عمدہ چیز کو وہ حقیر جانتے ہیں اور دساور کی بنی گھٹیا چیز کو عمدہ سمجھ کر خریدتے ہیں ۔ کئی بار میرے مشاہدے میں آیا ہے کہ کوئی صاحب دساور کی بنی چیز زیادہ دام دے کر خرید لائے اور بعد میں پتہ چلا کہ وہ پاکستان کی بنی ہوئی ہے اور کم قیمت پر ملتی ہے ۔ مقامی دکاندار جب گاہکوں کی نفسیات تبدیل کرنے میں ناکام رہے تو انہوں نے مال پر فرانس ۔ جرمنی ۔ جاپان یا چین کا بنا ہوا لکھوانا شروع کر دیا ۔ میں اور دفتر کا ساتھی بازار کچھ خرید کرنے گئے وہاں ایک چیز پر چینی یا جاپانی زبان میں کچھ لکھا تھا ۔ اتفاق سے قریبی دکان سے دو جاپانی کچھ خرید رہے تھے ۔ میرا ساتھی وہ چیز لے کر ان کے پاس گیا اور پوچھا کہ کیا یہ جاپان کا بنا ہوا ہے تو وہ مسکرا کر کہنے لگے کہ یہ لکھا ہے پاکستان کا بنا ہوا
ملبہ یا کُوڑا کرکٹ بنائی گئی جگہ کی بجائے اپنے گھر کے قریب جہاں بھی خالی پلاٹ یا جگہ ہو وہاں انبار لگا دینا اپنی خُوبی سمجھا جاتا ہے ۔ قومی یا دوسروں کی املاک کو نقصان پہنچانا شاید بہادری سمجھا جاتا ہے اور بجلی کی چوری کئی ہموطنوں کی فطرت ہے اور وہ اسے اپنی عقلمندی یا چابکدستی سمجھتے ہیں ۔ دکاندار مال کا عیب گاہک کی نظروں سے اوجھل کر کے عیب دار مال بیچتے ہیں
میرے ہموطن ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں پاکستان میں کیا رکھا ہے ؟ یا کہہ دیں گے یہ بھی کوئی ملک ہے ۔ اپنے ہموطنوں کے متعلق کہیں گے کہ سب چور ہیں ۔ اس وقت وہ بھول جاتے ہیں کہ وہ اپنے آپکو بھی چور کہہ رہے ہیں
بیرونِ وطن
بیرونِ وطن ہموطنوں کی اکثریت بھی پاکستان اور پاکستانیوں کو نیچا دِکھانے پر تُلے رہتے ہیں ۔ گو اپنا یہ حال کہ عمر برطانیہ میں گذاری مگر صحیح انگریزی بولنا اور لکھنا نہ سیکھا ۔ سعودی عرب میں بیس پچیس سال رہے اور قرآن شریف صحیح طور پڑھنا نہیں آتا ۔
ایک صاحب جو برطانوی شہری ہیں پاکستان آئے ۔ ایک پتلون مجھے دکھا کر کہنے لگے “یہ میں نے لندن سے خریدی ہے ۔ ایسی اچھی کوئی پاکستان میں بنا سکتا ہے ؟” میں نے پتلون پکڑ کر دیکھی تو خیال آیا کہ یہ کپڑا تو وطنِ عزیز میں ملتا ہے ۔ میں نے پتلون بنانے والی کمپنی کا نام ڈھونڈنا شروع کیا ۔ پتلون کے اندر کی طرف ایک لیبل نظر آیا جس پر انگریزی میں لکھا تھا “پاکستان کی بنی ہوئی”۔
کچھ سالوں سے ایک نیا موضوع مل گیا ۔ “پاکستان خطرناک مُلک ہے ۔ وہاں روزانہ دھماکے ہوتے ہیں ۔ جان کو ہر وقت خطرہ رہتا ہے”۔ جس کو دیکھو وہ ہر باعمل مسلمان کو دہشتگرد قرار دے رہا ہے ۔
میں پاکستان سے باہر درجن بھر ملکوں میں گیا ہوں اور آٹھ دس دوسری قوموں سے میرا واسطہ رہا ہے ۔ میں نے کسی کے منہ سے اپنے ملک یا قوم کے خلاف ایک لفظ نہیں سُنا لیکن جس ملک میں بھی میں گیا وہاں کے پاکستانی یا جن کے والدین پاکستانی تھے کو پاکستان اور پاکستانیوں کے خلاف وہاں کے مقامی لوگوں کے سامنے باتیں کرتے سنا ۔
کاش ہموطن ایک قوم بن جائیں اور ہم صحیح طور سے یومِ پاکستان منا سکیں
مستقل لنک
August 13, 2008 at 12:54 pm |
راقم : افتخار اجمل بھوپال |
بلاگنگ میں شائع کیا گیا
نصر ملک صاحب کے محترم والد صاحب کے انتقال کا پڑھ کر دکھ ہوا ۔ اللہ ان کے محترم والد صاحب پر اپنی رحمت نازل فرمائے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے ۔
جو بھی اس دنیا میں آیا ہے اسے زود یا بدیر اللہ کی طرف لوٹ جانا ہے ۔ یہ دنیا انسان کی مسافت کا ایک چھوٹا سا پڑاؤ ہے ۔ موت کے بعد ہر انسان نے اس زندگی میں جانا ہے جو ہمیش ہے ۔
موت تجدیدِ مذاقِ زندگی کا نام ہے
خواب کے پردے میں بیداری کا اِک پیغام ہے
اتفاق سے میں نے موت کے حوالے سے اس زندگی کے بارے میں دو دن قبل ہی اظہارِ خیال کیا تھا ۔
مستقل لنک
August 11, 2008 at 6:29 am |
راقم : افتخار اجمل بھوپال |
بلاگنگ میں شائع کیا گیا
جب آپ پیدا ہوۓ تو آپ رو رہے تھے
اور باقی سب لوگ خُوش ہو رہے تھے
اپنی زندگی ایسے گذاریئے کہ جب موت آۓ
آپ مُسکرا رہے ہوں اور باقی سب رو رہے ہوں
مستقل لنک