Al Qamar Online Urdu News Network
SMS Guru
Al Qamar Online Urdu News Network
  
Al Qamar Online Blogs
| | |
RSS Feed
Important News International News News From Pakistan News from India   Special Reports and Features Columns   Science and Technology News Business News Editorial SportS News News from India, Pakistan, Bangla Desh, SriLanga, Maldives, Bhutan Showbiz News Interviews Politics News
Al Qamar Online; The largest Online Urdu News Network containing dozens of Urdu Channels From London, Denmark, US & Pakistan

مصنف کی سابقہ تحریریں

اسلام آباد دھماکہ ۔ کچھ پریشان کُن حقائق

اِنّا لِلہِ وَ اِنّا اِلیہِ راجِعُون

اسلام آباد کے کل کے دھماکے کے کچھ پریشان کُن حقائق ہیں مگر اس سے پہلے وقوعہ کا مختصر خاکہ ضروری ہے ۔ اربابِ اختیار کو اب دہشتگردی کے خلاف جنگ کی عینک اُتار کر شفاف عینک پہننا ہو گی تاکہ وطنِ عزیز کی تباہی میں کوشاں اصل مُجرموں تک پہنچ سکیں ورنہ “دہشتگردی کے خلاف جنگ” کے نعرے لگاتے لگاتے ۔ اللہ بچائے ۔ یہ مُلک خس و خاشاک ہو جائے گا ۔ اللہ بچائے ۔

امریکہ کی نام نہاد دہشتگردی کے خلاف جنگ جب سے شروع ہوئی ہے میرا وطن آئے دن آگ اور خون سے نہا رہا ہے اور انسان اور انسانیت کے چیتھڑے اُڑ رہے ہیں ۔ دُکھ اس بات کا ہے کہ اس کا شکار معاشی لحاظ سے درمیانے اور نچلے طبقہ کے ہموطن ہو رہے ہیں ۔ پرائی آگ میں اپنے وطن کو جھونکنے والے حکمران پہلی ہی سوچ میں ہر دھماکہ کا ذمہ دار طالبان ۔ انتہاء پسندوں یا عسکریت پسندوں کو ٹھہرا دیتے ہیں اور بیان داغتے ہیں جو ذرائع ابلاغ کو تو چارہ مہیاء کر دیتے ہیں لیکن دھماکے پر دھماکہ ہوتا چلا جا رہا ہے ۔

“انتہاء پسندو ں یا عسکریت پسندوں یا دہشتگردوں سے سختی سے نبٹا جائے گا ”
“دہشتگردی کے خلاف جنگ جاری رہے گی”

20 ستمبر 2008ء کا سورج غروب ہوتے ہی ہم نے روزہ افطار کیا اور مغرب کی نماز سے فارغ ہو کر ٹی وی لگایا کہ خبریں سُنی جائیں ۔ کچھ دیر ہی گذری تھی کہ ایک زوردار آواز سے ہم اُچھل پڑے ۔ میں گھر سے باہر نکلا کہ دیکھوں کیا ہوا ۔ کچھ پتہ نہ چلا ۔ چھوٹا بھائی مُلحقہ مکان میں رہتا ہے اسے پوچھا “یہ کیا آواز تھی ؟” وہ بولا “بہت زوردار آواز تھی ۔ ضرور کہیں قریب ہی دھماکہ ہوا ہے”۔ میں واپس آ کر ٹی وی کے سامنے بیٹھا ہی تھا کہ ایک پٹی آئی “اسلام آباد میں دھماکہ”۔ پھر لمحہ لمحہ بعد خبریں آتی رہیں اور واضح ہوا کہ اسلام آباد بلکہ پورے پاکستان میں محفوظ ترین سمجھا جانے والے میریئٹ ہوٹل کے گیٹ کے پاس دھماکہ ہوا ہے ۔ ہمارے گھر سے میریئٹ ہوٹل تک سیدھی لکیر کھنچی جائے تو فاصلہ ساڑھے چار یا پانچ کلو میٹر بنتا ہے ۔ بیچ میں عمارات اور درخت ہیں جو دھمک اور آواز کو جذب کر لیتے ہیں پھر بھی دھمک اتنی شدید تھی کہ دل نے کہا “یا اللہ خیر”۔

پریشان کُن حقائق

۔ 1 ۔ ایک چھوٹی گاڑی آ کر میریئٹ ہوٹل کے گیٹ پر لگے بیریئر سے ٹکرائی ۔ اس میں سے ایک شخص نکل کر چیخا

“جس نے نکلنا ہے نکل جائے ۔ تم لوگوں کے پاس صرف تین منٹ ہیں”۔

اس کے بعد سائرن کی آواز گونجی اور تین منٹ بعد ایک ڈَمپَر ٹرک ہوٹل کے گیٹ کے سامنے رکھے کنکریٹ کے بلاکس سے ٹکرایا ۔ اُس کے انجن سے آگ نکلی ۔ پھر اُس پر لَدے ڈبوں سے شعلہ بلند ہوا اور ساتھ ہی قیامت خیز دھماکہ ہو گیا ۔ سڑک پر پندرہ فُٹ گہرا اور پچیس تیس فُٹ چوڑا گڑھا پڑ گیا اور چاروں طرف انسانی اعضاء بکھر گئے
[ترمیم ۔ چھوٹی گاڑی جو پہلے داخل ہوئی وہ بیریئر سے نہیں ٹکرائی ۔ وہ ہوٹل کی گاڑی تھی تیزی سے آئی اور ایک دم سے بیریئر کھول کے بند کر دیا گیا ۔ نکل جانے کا اعلان ہوٹل کی سکیورٹی والے نے کیا اور سائرن بھی بجایا ۔ ڈمپر ٹرک کیلئے بیریئر نہ کھولا گیا اور وہ اس ڑکرا گیا ۔ ہوٹل کی سکیورٹی والے ٹرک کی آگ بجانے کی کوشش کرتے رہے اور سب سب شہید ہو گئے]

۔ 2 ۔ دھماکے کی وجہ سے قدرتی گیس کا پائپ پھٹنا اور آگ لگنا تو عین ممکن ہے لیکن پریشان کُن حقیقت یہ ہے کہ آگ جس کمرے سے شروع ہوئی وہ پانچویں منزل پر ہے اور ہوٹل کے کمروں میں گیس کی سپلائی نہیں ہے کیونکہ ٹھنڈا اور گرم کرنے کا نظام مرکزی ہے ۔ صرف چند دن پہلے کے ایک واقعہ کا اس سے گہرا تعلق معلوم ہوتا ہے ۔

جس دن امریکی ایڈمرل مائیک میولن وزیر اعظم یوسف رضاگیلانی اور دیگر سے ملے تھے اُسی دن آدھی رات کے وقت امریکی سفارتخانے کا ایک بڑا سفید ٹرک میریئٹ ہوٹل آیا تھا ۔ اس ٹرک سے آہنی صندوق اُتارے گئے اور انہیں میریٹ ہوٹل کے اندر منتقل کر دیا گیا ۔ اس کاروائی کے دوران ہوٹل کے دونوں مرکزی دروازے بند کردیئے گئے تھے اور امریکی میرینز کے علاوہ کسی کو ٹرک کے قریب جانے کی اجازت نہیں تھی ۔ یہ صندوق ان سکینرز سے بھی نہیں گزارے گئے تھے جو کہ ہوٹل کی لابی کے داخلی راستے پر نصب تھے ۔ ان بکسوں کو ہوٹل کی پانچویں منزل پر منتقل کر دیا گیا تھا ۔ ان صندوقوں میں کیا تھا ؟ ان کو اندر لیجانے کیلئے سارے سکیورٹی سسٹم کو کیوں معطل کیا گیا ؟ ان کو ہوٹل میں لیجانے کا مقصد کیا تھا ؟ کیا پانچویں منزل کے کمرہ میں آگ لگنے کا سبب ان صندوقوں کے اندر تھا ؟

۔ 3 ۔ کچھ دن قبل خفیہ والوں نے وزارتِ داخلہ کو مطلع کیا تھا کہ اسلام آباد میں خاص طور پر 20 ستمبر کو دہشتگردی کی بڑی کاروائی متوقع ہے ۔ اس کاروائی میں ایک ٹینکر استعمال ہو گا جس کے آگے ایک چھوٹی گاڑی ہو گی ۔ وزارتِ داخلہ نے اسلام آباد میں داخل ہونے والی گاڑیوں کی چیکنگ شروع کر دی تھی اور خاص کر 20 ستمبر کو کوئی ٹینکر اسلام آباد داخل نہیں ہونے دیا گیا ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کاروائی اسلام آباد کے اندر ہی سے کی گئی ۔ اتنا ہائی ایکسپلوسِو مواد کہاں سے آیا ؟

۔ 4 ۔ غیر ممالک سے آنے والے تاجر اور کارخانہ دار یا دوسرے سرمایہ کار میریئٹ ہوٹل میں قیام کرتے ہیں ۔ سرمایہ کاروں کو واضح پیغام دیا گیا ہے کہ اس ملک میں آپ کے سرمائے اور آپ کی جان کو بھی خطرہ ہے ۔ یہ سب کچھ وطنِ عزیز کو معاشی لحاظ سے تباہ کرنے کیلئے کیا جا رہا ہے ۔ عراق اور افغانستان کو تو فوجی طاقت سے تباہ کیا گیا جس میں تباہ کرنے والوں کا مالی کے ساتھ بہت سا جانی نقصان بھی ہوا ۔ پاکستان کو بغیر اپنی فوجی قوت کو استعمال کئے تباہ کرنے کے منصوبہ پر عمل کیا جا رہا ہے ۔

۔ 5 ۔ اطلاع واضح طور پر مل چکی تھی اور پارلمنٹ ہاؤس اور وزیرِ اعظم ہاؤس کی حفاظت پر پولیس ۔ خفیہ والے اور ٹرِپل ون بریگیڈ کے کمانڈو تعینات کر دیئے گئے تھے لیکن عوام کو بالخصوص بڑے ہوٹلوں یا دوسری عمومی جگہوں کو تحفظ فراہم نہیں کیا گیا ۔

پڑے پالا مریں غریب ۔ پڑے گرمی مریں غریب
‘۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔
میرے مولا تو ہی بتا ۔ میں کس سے کروں شکوہ
میں کدھر جاؤں تیرے سوا ۔ کس سے مدد مانگوں
‘۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔
تو رحیم ہے کریم ہے مگر تیرے جہاں میں
ہیں تلخ بہت بندہءِ مزدور کے اوقات

تبصرہ جات (12)

قوم اپنی موت کی تیاری میں

معاندانہ پروپیگنڈہ اور کج بحثی تو ہمیشہ سے ہے لیکن وطنِ عزیز میں ہموطن اپنے ہی ہموطنوں کے خلاف صرف یہ نہیں کہ معاندانہ اور بے بنیاد پروپیگنڈہ کرتے ہیں بلکہ بغیر کسی ثبوت کے اس پر بحث بھی کرتے ہیں ۔ »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔

تبصرہ جات (3)

کیا ہمیں اللہ پر یقین ؟

عبداللہ سوات کے پہاڑوں کی ایک خطرناک ڈھلوان پر چل رہا تھا کہ اس کا پاؤں پھسل گیا ۔ کچھ لڑھکنے کے بعد اس کے ہاتھ میں ایک جھاڑی کی ٹہنیاں آ گئیں اور وہ »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔

تبصرہ جات (7)

میں پاگل ہوں بیوقوف نہیں

دماغی امراض کے ہسپتال کے سب سے بڑے ڈاکٹر صاحب شام کو فارغ ہو کر گھر جانے کے لئے اپنی کار کے پاس پہنچے تو سر پکڑ کر رہ گئے ۔ ایک مریض اپنے کمرے کی کھڑکی سے دیکھ رہا تھا بولا ۔

مریض ۔ ڈاکٹر صاحب کیا پریشانی ہے ؟

ڈاکٹر ۔ کوئی شریر میری کار کے ایک پہیئے کی چاروں ڈِھبریاں اتار کر لے گیا ہے ۔ ڈِھبری کو انگریزی میں نٹ کہتے ہیں ۔

مریض ۔ ڈاکٹر صاحب اس میں پریشانی کی کیا بات ہے ۔ باقی تین پہیئوں سے ایک ایک ڈِھبری اتار کر اس میں لگا لیں اور کار آہستہ چلاتے ہوئے سپیئر پارٹس کی دکان تک چلے جائیں ۔ وہاں سے چار ڈِھبریاں خرید کر لگا لیں پھر گھر چلے جائیں ۔

ڈاکٹر ۔ تم نے پاگل ہوتے ہو وہ بات کہہ دی جو میری عقل میں نہیں آئی تھی ۔

مریض ۔ ڈاکٹر صاحب ۔ میں پاگل ہوں مگر بیوقوف نہیں ۔

تبصرہ جات

اللہ کو کيسے مُخاطب کريں ؟

اِس سلسلہ ميں قرآن شريف کی متعلقہ آيات ميں سے کُچھ کا ترجمہ

سُورَت ۔ 7 ۔ الْأَعْرَاف ۔ آيت 180
اور اللہ ہی کے لئے اچھے اچھے نام ہیں ۔ سو اسے ان ناموں سے پکارا کرو اور ایسے لوگوں کو چھوڑ دو جو اس کے ناموں میں حق سے انحراف کرتے ہیں ۔ عنقریب انہیں ان (اعمالِ بد) کی سزا دی جائے گی جن کا وہ ارتکاب کرتے ہیں

سُورَت ۔ 17 ۔ الْاِسْرَء / بَنِیْ ِإسْرَآءِيْل ۔ آيت 110
کہہ دیجئے کہ اﷲ کو پکارو یا رحمان کو پکارو ۔ جس نام سے بھی پکارتے ہو اچھے نام اسی کے ہیں

سُورت ۔ 20 ۔٠ طٰہٰ ۔ آيت 14١٤
بیشک میں ہی اللہ ہوں میرے سوا کوئی معبود نہیں سو تم میری عبادت کیا کرو اور میری یاد کی خاطر نماز قائم کیا کرو

سُورَت ۔ 27 ۔ النَّمْل ۔ آيت 9
اے موسٰی! بیشک وہ میں ہی اللہ ہوں جو نہایت غالب حکمت والا ہے

سُورَت ۔ 28 ۔ الْقَصَص ۔ آيت 30
جب موسٰی وہاں پہنچے تو وادئ کے دائیں کنارے سے بابرکت مقام میں ایک درخت سے آواز دی گئی کہ اے موسٰی! بیشک میں ہی اللہ ہوں تمام جہانوں کا پروردگار

سُورَت ۔ 55 ۔ الرَّحْمٰن ۔ آيت 78
آپ کے رب کا نام بڑی برکت والا ہے ۔ جو صاحبِ عظمت و جلال اور صاحبِ اِنعام و اِکرام ہے

سُورَت ۔ 59 ۔ الْحَشْر ۔ آيات 22 تا 24
وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، پوشیدہ اور ظاہر کو جاننے والا ہے ۔ وہی بے حد رحمت فرمانے والا نہایت مہربان ہے ۔ وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ بادشاہ ہے ۔ ہر عیب سے پاک ہے ۔ ہر نقص سے سالم ہے ۔ امن و امان دینے والا ہے ۔ محافظ و نگہبان ہے ۔ غلبہ و عزّت والا ہے ۔ زبردست عظمت والا ہے ۔ سلطنت و کبریائی والا ہے ۔ اللہ ہر اُس چیز سے پاک ہے جسے وہ اُس کا شریک ٹھہراتے ہیں ۔ وہی اللہ ہے جو پیدا فرمانے والا ہے ۔ عدم سے وجود میں لانے والا ہے ۔ صورت عطا فرمانے والا ہے ۔ سب اچھے نام اسی کے ہیں ۔ اس کے لئے وہ (سب) چیزیں تسبیح کرتی ہیں جو آسمانوں اور زمین میں ہیں ۔ اور وہ بڑی عزت والا ہے بڑی حکمت والا ہے

کوئی صاحبِ علم بتا سکتے ہیں کہ ہند و پاکستان میں “اللہ” کیلئے لفظ “خُدا” کیونکر رائج ہوا ۔ میرے علم کے مطابق یہ لفظ فارس [ایران] سے فارسی زبان کے ساتھ اُس وقت کے ہند [پاکستان ۔ بھارت ۔ بنگلا دیش] میں داخل ہوا ۔ اور فارسی زبان میں یہ لفظ اُس زبان سے آیا جو فارس کے قدیم آتش پرست حکمرانوں کی تھی ۔

یہاں پر مجھے ایک غلط العام ضرب المثل یاد آئی ۔ عام طور پر کہا جاتا ہے

لکھے موسٰی پڑھے خُدا ۔ یہ غَلَط ہے ۔ اصل ضرب المثل ہے

لکھے مُو سا پڑھے خُود آ ۔ مُو کا مطلب ہے بال یعنی بالوں جیسا لکھے گا تو پھر خُود ہی آ کر پڑھے

تبصرہ جات (2)

محبت کی کُنجی

گھر میں پیار و محبت کی فضا زندگی کی بنیاد ہے

اپنے عزیزوں سے اختلاف کی صورت میں
صرف حال کے معاملہ پر ہی نظر رکھیئے
ماضی کی رنجشوں کو بیچ میں نہ لائیے

یاد رکھیئے کہ بہترین تعلقات وہ ہوتے ہیں
جن میں آپس میں ایک دوسرے سے محبت
ایک دوسرے کی ضرورت سے بڑھ جائے

تبصرہ (1)

۔ 6 ۔ کیا مدرسوں میں پڑھے جاہل اور دہشتگرد ہوتے ہیں ؟

نام نہاد روشن خیال کہتے ہیں کہ مدرسوں میں پڑھنے والے طلباء و طالبات سائنسی دنیا کے لحاظ سے جاہل ہوتے ہیں اور مدرسے ان کو دہشت گرد بناتے ہیں ۔ پچھلے سال جولائی میں حکومت نے اپنے آقاؤں کو خوش کرنے کیلئے پاکستان میں لڑکیوں کا سب سے بڑا مدرسہ ۔ جامعہ حفصہ اسلام آباد تباہ کر دیا اور پاکستان میں لڑکوں کے چند بڑے »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔

تبصرہ جات (4)

میرا روزہ ہے ؟

سب بزرگان ۔ بہنوں ۔ بھائیوں ۔ بھتیجیوں ۔ بھتیجوں ۔ بھانجیوں اور بھانجوں کو رمضان مبارک ۔ اللہ آپ سب کو اور مجھے بلکہ تمام مسلمانوں کو رمضان کا صحیح اہتمام اور احترام کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔

تبصرہ جات

۔ 5 ۔ فرقہ واریت

جاہل مُلّا اور فرقہ واریت پھیلانے والے مُلّا حکرانوں یا اجارہ داروں کی لگائی ہوئی پنیری ہیں ۔ حکمران ان لوگوں کو علماء و مشائخ کے نام سے یاد کرتے ہیں ۔ ان میں مساجد کے امام بھی ہیں اور شیخ بے مسجد بھی ۔

پچھلی حکومت نے کنونشن سنٹر اسلام آباد میں حکومت کے خرچ پر ایک علماء و مشائخ کانفرنس منعقد ہوئی تھی جس سے صدر جنرل پرویز مشرف نے خطاب کیا تھا اور ان سے اپنے حق میں قرارداد منظور کروائی تھی ۔ اس کانفرنس کا ایم ایم اے ۔ بے نظیر کی پی پی پی اور نواز شریف کی مسلم لیگ نے بائیکاٹ کیا تھا ۔ اس کے باوجود صرف راولپنڈی سے 260 علماء و مشائخ شامل ہوئے جبکہ راولپنڈی میں 150 مساجد بھی نہیں اور ان میں سے بھی زیادہ تر کے اماموں کا تعلق متذکرہ تین جماعتوں سے ہے ۔

صرف حکومت ہی کو نہیں علاقہ کے وڈیروں یا چوہدریوں کو بھی ایسے داڑھی والوں کی ضرورت ہوتی ہے جو ان کے حق میں فتوٰی دیں ۔ باقی وقت اپنا ٹَیکا رکھنے کے لئے یہ نام نہاد علماء و مشائخ فرقہ پرستی کو ہوا دیتے ہیں ۔

ان کے خلاف اگر حکومت یا بارسُوخ لوگ کوئی قدم اٹھائیں گے تو پھر حکومت اور ان بارسُوخ لوگوں کے حق میں فتوے کون دے گا ؟

یا رب ۔ دلِ مُسلم کو وہ زندہ تمنّا دے
جو قَلب کو گرما دے جو رُوح کو تڑپا دے

تبصرہ جات

۔ 4 ۔ جاہل ملّا کہاں سے آئے

ملّا اور جاہل ۔ اس حقیقت نے مجھے لڑکپن ہی میں پریشان کر دیا تھا ۔ میں اس کا منبع تلاش کرنے میں لگ گیا ۔ حالات کی سختیاں جھیلتے سال گذرتے گئے مگر میری جستجو جاری رہی ۔ آخر عُقدہ کھلا ۔

ہندوستان ميں انگریزوں کی حکومت بننے سے پہلے بڑی مساجد علم کا گھر ہوا کرتی تھیں اور انہیں جامع یعنی یونیورسٹی کہا جاتا تھا ۔ وہاں دینی تعلیم کے ساتھ دنیاوی علوم بھی پڑھائے جاتے تھے ۔ طلباء دور دراز سے بلکہ دوسرے ممالک سے بھی آکر سالہا سال قیام کرتے اور علم حاصل کرتے ۔ اساتذہ اور تعلیم کا خرچ چلانے کے لئے ان مساجد کے ساتھ بڑی بڑی جاگیریں تھی ۔ اس کے علاوہ مسلمان بادشاہ اور مالدار طلباء نذرانے بھی دیتے تھے ۔

جنگِ آزادی کی ناکامی کے بعد 1857ء میں جب ہندوستان پر انگریزوں کا مکمل قبضہ ہو گیا تو انہوں نے ہنرمندوں اور علماء کو قتل کروا دیا تاکہ ہندوستانی مسلمان پھر نہ اُبھر سکیں ۔ مساجد کی جاگیریں ضبط کر لیں ۔ اس کے بعد پسماندہ علاقوں سے جوان چُنے جو دینی علم صرف نماز روزہ کی حد تک جانتے تھے ۔ ان لوگوں کو برطانیہ بھیج کر چند ماہ کا امام مسجد کا کورس کرایا گیا اور واپسی پر مساجد کا بغیر تنخواہ کے امام مقرر کر دیا ۔ ان اماموں کا نان و نفقہ علاقہ کے لوگوں کے ذمہ کر دیا اور ان کی نگرانی علاقہ کے نمبردار یا چوہدری یا وڈیرے یا سردار وغیرہ جو خود انگریزوں کے مقرر کردہ تھے کے ذمہ کر دی ۔

آجکل کے جاہل ملّا زیادہ تر اسی عمل کا نتیجہ ہیں ۔ باپ امام مسجد تھا اسلئے بیٹا بھی امام مسجد بن بیٹھا ۔ اس صورتِ حال کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے کئی ایسے لوگ جنہوں نے کبھی نماز بھی نہ پڑھی تھی داڑھی رکھ کر مسجد کے امام بن بیٹھے یا کسی بارسوخ شخص نے اپنی مطلب براری کے لئے بنا دیا ۔ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ پاکستان کے معرضِ وجود میں آنے کے اکسٹھ سال بعد بھی یہ غلط عمل جاری ہے ۔

کسی نے کہا تھا کہ داڑھی میں اسلام نہیں ہے بلکہ اسلام میں داڑھی ہے ۔

اس خلافِ دین صورتِ حال کے ذمہ دار خود پاکستانی عوام بھی ہیں جو اپنی مطلب براری کیلئے ایسے لوگوں کو امام مسجد کے طور پر نہ صرف قبول کرتے ہیں بلکہ خود بھی یہی چاہتے ہیں ایسے امام ہوں جو اُن کی برائیوں کو بُرا نہ کہیں ۔ ستم یہ کہ بجائے اس خرابی کو دور کرنے کے لوگ تمام مولویوں کے دشمن بن بیٹھے ہیں ۔

تبصرہ جات