Al Qamar Online Urdu News Network
SMS Guru
Al Qamar Online Urdu News Network
  
Al Qamar Online Blogs
| | |
RSS Feed
Important News International News News From Pakistan News from India   Special Reports and Features Columns   Science and Technology News Business News Editorial SportS News News from India, Pakistan, Bangla Desh, SriLanga, Maldives, Bhutan Showbiz News Interviews Politics News
Al Qamar Online; The largest Online Urdu News Network containing dozens of Urdu Channels From London, Denmark, US & Pakistan

مصنف کی سابقہ تحریریں

زارداری کی جے۔۔

حیرت اور افسوس ہے کہ کل جب تک زرداری ہاؤس میں خود زرداری صرف شوہر کی حیثیت سے رہ رہے تھے تو سب اُنکو 10 پرسینٹ کہہ کر پُکارتے تھے، صحافت کے بڑے بڑے جغادری اُنکو دُنیاءِ سیاست کا چور اور جانے کیا کیا کہتے تھے، آج اُنکو سانپ کیوں سونگھ گیا ہے۔ »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔

تبصرہ جات (3)

سائینس تخلیق ہے تحقیق نہیں

جناب سعید اختر کا کام نظر سے گُذرا دِلکش لکھتے ہیں، لیکن محترم یہ بات غلط ہے کہ آپ سایئنس اور چرچ کی دُشمنی کو اسلام اور سائینس پر فِٹ کر دیں۔ جدید سائینسی علوم کا منبہ ایک ایسی شخصیت تھی جو اسلام کی بُلند ترین شخصیت تھی۔ »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔

تبصرہ جات

مروجہ سیاست اور موجود سیاست دان

یہی اس رائج سیاست کی بدبختی ہے، اور موجودہ سیاست دانوں کی کمزوری کہ جب سے یہ انہی خواص کے بقول عوامی حکومت آئی ہے، عوام کے مسائل پر ایک بات بھی آن ائیر نہیں ہُوئی کِسی حاکم کو نہین پتہ کہ کِس کی ماں کیا بیچ کر اپنے بچے کے لیئے روٹی لے کر آتی ہے، کِتنی بہنیں ہیں جو گھر میں بیٹھی بوڑھی ہو رہی ہیں کتنے باپ ہیں جو جوان اولاد کے سامنے اتنے بے بس ہو چکے ہیں کہ خود کُشی پر مجبور ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ جمہوریت کی روشنی کِتنے گھروں ً میں اندھیرے کا باعث بن رہی ہے۔ انکو پتہ ہے تو صرف یہ کہ ہمارے کِتنے نمبر ہیں کِتنے چاہیئں۔ کیا اب تک کوئی ایسا فیصلہ کیا گیا ہے جو عوام سے براہ راست مربوط ہو؟ کیا کوئی ایسا قدم اُٹھایا گیا ہے جِس کی وجہ سے کِسی بوجھ تلے دبے ہوئے باپ کو ایک سانس لینے کی مہلت مِلی ہو؟ اگر نہیں تو کیا یہ عوامی حکومت ہے؟

تبصرہ جات

غیرت مند مے کَش بلاخر گذر گیا

شِدتِ تِشنگی میں بھی غیرتِ میکشی رہی
اُس نے جو پھیر لی نظر میں نے بھی جام رکھ دیا
لوگوں کو جینے کا حوصلہ دیتے دیتے خود موت کی آغوش میں چلا گیا، ہر عمر کے لوگوں میں انکی ٹین ایج کے حوصلے، ولولے اور جوش کو زندہ رکھنے والا دِلنشیں شاعر دعوتِ اجل پر لبیک کہتا ہوا اپنی جان جانِ
آفرین کے سپرد کر گیا۔ انا لِلہِ وا اِنا الیہِ راجِعون۔
سب کہاں کُچھ لالہ و گُل میں نُمایاں ہو گیئں
خاک میں کیا صورتیں ہونگی کہ پِنہاں ہو گیئں

تبصرہ جات (4)

دعوت باسمتی یا دعوتِ گناہ

اے آر وائی ٹی وی پر ایک چاول کی مشہوری دیکھنے میں آتی ہے جِسمیں ایک ٹیبل پر کھانا کھاتے ہوئے ایک شخص کے منہہ پر چاول کا دانہ چمٹا رہ گیا اور تیسرے ٹیبل پر بیٹھی ہوئی دِلکش خاتون لپک کر آتی ہے اور اپنے ہونٹوں سے وہ چاول کا دانہ اُچک لیتی ہے، اب اس کے بعد کیا یہ لوگ یہ چاہتے ہیں کہ لڑکے بالے اپنے چہرے پر چاول کے دانے چِپکا کر گلے میں دعوت باسمتی کے آویزے لٹکا کر پھرتے رہیں اور یا ہماری خواتین کوکِسی خاص معرکے پر اُکسایا جا رہا ہے۔ کیا یہ میڈیا کی آزادی کا منفی اثر ہے یا ہمارے صبر کا امتحان کہ کب چاکِ گریباں چاکِ داماں کے ساتھ آ مِلے۔

تبصرہ جات (6)

جیسا بادشاہ بادشاہوں سے کرتے ہیں۔۔

یہ تو سب جانتے ہیں کہ یہ جُملہ کِس نے کِس سے کہا تھالیکن اُس عمل کی ضرورت اب آن پڑی ہے۔ یہ اگر ہماری تاریخ کا حِصہ نہیں رہا کہ کوئی آمر از خُد چلا جائے اور اب ہو گیا ہے تو موجودہ رجیم کو بھی چاہیئے کہ پیٹھہ میں خنجر نہ ہی مارا جائے۔ یہ تو کُھلا راز ہے کہ کوئی نہ کوئی ڈیل پسِ پُشت رہی ہے لیکن یہ بھی سب جانتےہیں کہ پی پی پی اپنی کِسی ڈیل پر قائم نہیں رہی۔ اور پھر احتساب وہ کرے جِس کا اپنا دامن صاف ہو۔ چور کسی دوسرے چور کو سزا دینے کا اھل ہی نہیں ہو سکتا اور جہاں‌سب لُٹیرے اور قاتل جمع ہوں اُس جنگل میں ایک اور حیوان کا اضافہ کوئی اہمیت نہیں رکھتا، لیکن یہ معافی کی رسم کا اِجراء ضرورکر دیتا ہے اور بہادری سزا دینا نہیں طاقت رکھتے ہوئے معاف کر دینے میں ہے۔

تبصرہ جات (3)

کُل و نفسُُ ُذائقہ الموت

موت ہی ایک ایسی حقیقت ہے جِسکا سامنا ہر ذی روح کو کرنا ہے، اور ابھی تک بہت سے لوگ اس حیقت کو جانتے ہوئے بھی اسکو ماننے پر تیار نہیں ہیں اور اپنے آپ پر، اپنے اِختیار پر، اپنی قوت پر اور اپنے اقتدار پر اِتنے نازاں ہیں کہ اُنکو باقی ساری مخلوق کمتر نظر آتی ہے۔ اور خود کوتکبر کی اُس منزل پر فائز کر چُکے ہیں کہ لوگوں کو زندگی اور موت دینے کے دعوے بھی کرنا شروع کر دیئے گئے۔ کشمیر، افغانستان، فلسطین، عراق، افغانستان یا جارجیہ، ہر طرف یہی صورتِحال ہے۔ آزادیِ انساں و اظہار جو کہ فِطری حق ہے اُسکو غصب کر لیا گیا، زندگی کے ہر شعبے میں خواہ سیاست ہو یا سماج، فن ہو یا ادب، ایسے چھوٹے چھوٹے فرعون ہر جگہ مِل جاتے ہیں۔
انسان خُدا بننے کی کوشش میں ہے مصروف،،، لیکن یہ تماشہ بھی خُدا دیکھ رہا ہے۔
ہم سب نصر ملک صاحب کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ اللہ انہیں صبرِ جمیل عطا کرے اور اُنکے مرحوم والد کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے۔۔ آمین۔

تبصرہ جات (10)

مینوں نچ کے یار مناون دے۔۔۔

بابا بُلھے شاہ نے تصوف کی کِسی خاص لہر میں کِسی خاص پیرائے میں اپنے مُرشد کو منانے کے لئے یہ کہا تھا اور گُھنگرو باندھ کے ناچے بھی تھے۔ اُسی قِسم کا عمل ہماری سندھ اسمبلی کی ڈپٹی سپیکر راحیلہ ٹوانہ نے بھی ہندوستان کی سرکار کو منانے کے لیئے اپنی خاص عشوا طرازیوں سے اسمبلی کے اندر کیا ہے، اب تو ہندوستان کو مان جانا چاہئے کہ ہماری مُنتخب کردہ خاتون ڈپٹی سپیکر نے سرکاری طور پر ہندی گانوں کی طرز پر سرکاری رقص پیش کر دیا ہے جیسے بادشاہوں کو یا دیوتاؤں کو منانے کے لیئے اُنکے دربار میں کیا جاتا ہے، جانے یہ کیا منوانا چاہتے ہیں۔
http://www.halchal.net/halchal/index.php?page=videos&section=view&vid_id=100005

تبصرہ (1)

فی الحال

ہم ابھی تک چاند کی اور چاندنی کی زد میں ہیں
زُلف کی رُخسار کی بیکار سی قدغن میں ہیں
وہ تو ساری کہکشاں اپنے جلَو میں لے چُکے
اور ہم تاروں بھری راتوں کے اِس مدفن میں ہیں

تبصرہ جات (9)

بِلا عُنوان۔۔۔۔۔۔۔

بات یہ ہے کہ حالات کُچھ اِتنے سنجیدہ ہیں کہ کم گوئی یاروں کا خاصہ ہو رہا ہے اِس لیئے کِسی ہلکے پُھلکے موضوع پر بحث کر لی جائے اگر طبع نازُک پر گِراں نہ گُذرے تو
اب بحث کرنے کے لئے تو یہ بھی کافی ہے کہ تعطیل میں ایک بار ‘ت‘ اور ایک بار ‘ط‘ کیوں اِستعمال کیا گیا ہے اِسی طرح کالج دور کی بات ہے کہ کیمسٹری لیب میں چٹھہ صاحب ہُوا کرتے تھے، ایک دِن کِسی نے کالج فون کیااور کہا کہ چیمسٹری کے چٹھہ سے بات کرا دیں تو آپریٹر نے کہا کہ جناب انگریزی میں سی اور ایچ اِکٹھا آ جائیں تو ‘کاف‘ کی آواز نِکلتی ہے، تو کالر نے فورا“ کہا جناب ٹھیک ہے آپ ایسا کریں کہ کیمسٹری کے کٹھہ صاحب کو بُلا دیں۔ ویسے ہے تو یہ ایک لطیفہ نُما واقعہ لیکن ایک دعوتَ سُخن بھی ہے یارانِ نُکتہ داں کے لئے، کہ زُبانوں میں اِس طرح کیوں کیا جاتا ہے، اب یہ اہلَ زُبان زیادہ بہتر بتا سکیں گے لیکن ہم جیسے بے زُبانوں کے لئے بھی کوئی پابندی نہیں ہونی چاہئے۔ اِس لئے سب بتائیں کہ ایسا کیوں ہے

تبصرہ جات (11)