August 11, 2008 at 12:12 am |
راقم : چوہدری عمران |
سیاست میں شائع کیا گیا
بابا بُلھے شاہ نے تصوف کی کِسی خاص لہر میں کِسی خاص پیرائے میں اپنے مُرشد کو منانے کے لئے یہ کہا تھا اور گُھنگرو باندھ کے ناچے بھی تھے۔ اُسی قِسم کا عمل ہماری سندھ اسمبلی کی ڈپٹی سپیکر راحیلہ ٹوانہ نے بھی ہندوستان کی سرکار کو منانے کے لیئے اپنی خاص عشوا طرازیوں سے اسمبلی کے اندر کیا ہے، اب تو ہندوستان کو مان جانا چاہئے کہ ہماری مُنتخب کردہ خاتون ڈپٹی سپیکر نے سرکاری طور پر ہندی گانوں کی طرز پر سرکاری رقص پیش کر دیا ہے جیسے بادشاہوں کو یا دیوتاؤں کو منانے کے لیئے اُنکے دربار میں کیا جاتا ہے، جانے یہ کیا منوانا چاہتے ہیں۔
http://www.halchal.net/halchal/index.php?page=videos§ion=view&vid_id=100005
مستقل لنک
August 7, 2008 at 3:29 am |
راقم : چوہدری عمران |
شاعری میں شائع کیا گیا
ہم ابھی تک چاند کی اور چاندنی کی زد میں ہیں
زُلف کی رُخسار کی بیکار سی قدغن میں ہیں
وہ تو ساری کہکشاں اپنے جلَو میں لے چُکے
اور ہم تاروں بھری راتوں کے اِس مدفن میں ہیں
مستقل لنک
August 6, 2008 at 2:38 pm |
راقم : چوہدری عمران |
بحثو مباحثہ, علم و ادب میں شائع کیا گیا
بات یہ ہے کہ حالات کُچھ اِتنے سنجیدہ ہیں کہ کم گوئی یاروں کا خاصہ ہو رہا ہے اِس لیئے کِسی ہلکے پُھلکے موضوع پر بحث کر لی جائے اگر طبع نازُک پر گِراں نہ گُذرے تو
اب بحث کرنے کے لئے تو یہ بھی کافی ہے کہ تعطیل میں ایک بار ‘ت‘ اور ایک بار ‘ط‘ کیوں اِستعمال کیا گیا ہے اِسی طرح کالج دور کی بات ہے کہ کیمسٹری لیب میں چٹھہ صاحب ہُوا کرتے تھے، ایک دِن کِسی نے کالج فون کیااور کہا کہ چیمسٹری کے چٹھہ سے بات کرا دیں تو آپریٹر نے کہا کہ جناب انگریزی میں سی اور ایچ اِکٹھا آ جائیں تو ‘کاف‘ کی آواز نِکلتی ہے، تو کالر نے فورا“ کہا جناب ٹھیک ہے آپ ایسا کریں کہ کیمسٹری کے کٹھہ صاحب کو بُلا دیں۔ ویسے ہے تو یہ ایک لطیفہ نُما واقعہ لیکن ایک دعوتَ سُخن بھی ہے یارانِ نُکتہ داں کے لئے، کہ زُبانوں میں اِس طرح کیوں کیا جاتا ہے، اب یہ اہلَ زُبان زیادہ بہتر بتا سکیں گے لیکن ہم جیسے بے زُبانوں کے لئے بھی کوئی پابندی نہیں ہونی چاہئے۔ اِس لئے سب بتائیں کہ ایسا کیوں ہے
مستقل لنک
August 6, 2008 at 2:08 am |
راقم : چوہدری عمران |
سماج میں شائع کیا گیا
جہاں عورتوںسے تعلیم کے حصول کے وسایل چھین لیے جائیں اُن کو معاشرے میں تیسرے درجے کا شہری رکھنے کیلئے جبر کی اِنتہا کر دی جائے، وہاں اسلام نہیں بلکہ قبلِ اِسلام کے دورِ جہالت کا نظارا ہوتا ہے، اور کہاں یہ طالبانِ اِسلام۔ کِسی بھی قوم کے خِلاف سب سے بڑی سازش ہوتی ہے کہ اُس قوم کی خواتین کو تعلیم سے دور کر دیا جائے، تاکہ آیندہ نسل کو تعلیم یافتہ ماں نصیب نہ ہو سکیں، اللہ اکبر کتنا ذہین ہے پاکِستان اور اِسلام کا دُشمن۔۔۔
مستقل لنک
July 31, 2008 at 10:53 pm |
راقم : چوہدری عمران |
سیاست میں شائع کیا گیا
نظریات کو کبھی قتل نہیں کیا جا سکتا، ہاں البتہ نظریات رکھنے والے افراد پر موت ضرور طاری کی جا سکتی ہے۔ اور جیسا کہ ہوتا آیا ہے، بوسنیا کے مُسلمان لاکھوں کی تعداد بے گھر و بے آسرا ہو گئے اور »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔
مستقل لنک
July 29, 2008 at 5:45 am |
راقم : چوہدری عمران |
سیاست میں شائع کیا گیا
آج سے دو سال پہلے بیلجیم میں ڈاکٹرز نے اپنی کنسلٹینسی فیس 21 یورو سے بڑہا کر 26 یورو کر دی تھی تو سابق وزیرِاعظم نے اِس کی اِطلاع مِلتے ہی فورا” پریس کانفرنس کی اور ڈاکٹرز کو سختی سے ہدایت کی کہ فیس نہ بڑہائی جائے کیونکہ اُس سال بجٹ میں ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں کیا گیا تھا۔ اور »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔
مستقل لنک
July 29, 2008 at 5:15 am |
راقم : چوہدری عمران |
بین الاقوامی تعلقات میں شائع کیا گیا
چند دِن پہلےکی بات ہے نِگہت صاحبہ نے لِکھا تھا کہ حضرت ہمدانی صاحب کانام’ بابا’ پہلے اِنہوں اور محترم نصر ملک صاحب نے رکھا تھا اور بعد میں ہارون عباس صاحب شامل ہوئے جبکہ میرا »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔
مستقل لنک
July 27, 2008 at 5:21 am |
راقم : چوہدری عمران |
سیاست میں شائع کیا گیا
جب بھی دو اقوام یا دو نظریات ایک دوسرےسے بر سرِپیکار ہو جاتے ہیں، لاشیں بِکھرنا شِروع ہو جاتی ہیں اور خون بہنا شِروع ہو جاتا ہے تو پِھر کوئی نہ کوئی مُداخلت کار آہی جاتا ہے، »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔
مستقل لنک
July 21, 2008 at 10:05 pm |
راقم : چوہدری عمران |
بلاگنگ میں شائع کیا گیا
ایسٹ لندن کا رہنے والا ‘لوانگا’ ایک ڈکیت بچوں کے گینگ کا سربراہ ہے، جن میں 14 سے 16 سال کے بچے شامل ہیں، انہوں نے کیش وینز لوٹی ہیں اوراِس گینگ کے 6 ممبرز سکاٹ لینڈ یارڈ پولیس کے ہاتھوں گرفتار ہیں۔ »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔
مستقل لنک
July 21, 2008 at 9:41 pm |
راقم : چوہدری عمران |
سیاست میں شائع کیا گیا
اللہُ اکبر، ہمارے مُلک کے چیف ایگزیکٹو جناب یوسف رضاگیلانی کا فرمان ہے کہ ہمارے مُلک میں دہشت گردی کا راج ہے، جبکہ ہم آج تک یہی سمجھ رہے تھے کہ ہمارے مُلک میں عوام کی حکومت آ گئی ہے، واہ، کمال تو اِن لوگوں نے کیا ہے جِنہوں نے ہمیں یہ نوید دی تھی کہ بس اب ڈِکٹیٹر شِپ کی سیاہ رات تمام ہو گئی ہے اور جمہوریت کا سورج نکل آیا ہے۔ کِتنا خرچ ہُوا اور کِتنے لوگ کِتنا عرصا حکومت کی تبدیلی کے لئے مصروف رہے، اب جبکہ ہم سوچ رہے تھے کہ عوام کی حکومت آگئی ہے اب ہمیں اِنصاف مِلے گا، ہر مزدور کو اُس کا حق مِلے گا امن کا دور دورہ ہوگا تو ہمارے چیف ایگزیکٹو نے خود کہ دیا کہ عوام نہیں دھشت گردوں کا راج ہے ، یہ سب برائے نام حُکمران اپنے نام و نمود کی بڑھوتری کیلئے کوشاں ہیں اور عوام جِنہوں نے اِن لوگوں کو اِس مقام پر بِٹھایا ہے پہلے سے بھی بد تر حالت میں ہے،تو ہم کیا سمجھیں، کیا ایک شخص کی حکومت بہتر ہے یا (بقول انکے)عوام کی
مستقل لنک