Al Qamar Online Urdu News Network
SMS Guru
Al Qamar Online Urdu News Network
  
Al Qamar Online Blogs
| | |
RSS Feed
Important News International News News From Pakistan News from India   Special Reports and Features Columns   Science and Technology News Business News Editorial SportS News News from India, Pakistan, Bangla Desh, SriLanga, Maldives, Bhutan Showbiz News Interviews Politics News
Al Qamar Online; The largest Online Urdu News Network containing dozens of Urdu Channels From London, Denmark, US & Pakistan

مصنف کی سابقہ تحریریں

شناخت (افسانہ( ایک تازہ افسانہ احباب کی نذر

تبصرہ جات (2)

” پاکستان کی حقیقی آزادی میں صحافت کا کردار“

آج 14۔ اگست 2008ء کوتحصیل کونسل آفس حضرو میں پریس کلب حضرو کی طرف سے ذیل کے عنوان سے تقریب کا انعقاد ہوا ۔ جس میں کی گئی اپنی گفتگو یہاں پیش کرتا ہوں۔

 ” پاکستان کی حقیقی آزادی میں صحافت کا کردار“

خاورچودھری

 آج پاکستان کی 61ویں سالگرہ ہے۔ میں ہمیشہ کی طرح اس بار بھی دو کیفیات کا اسیر ہوں۔اُداس بھی ہوں اور خوش بھی۔اُداس اس لیے کہ ہم اُن لوگوں کو بھولتے جارہے ہیں جن کے دَم قدم سے ہم آج آزاد فضاوٴں میں سانس لے رہے ہیں اور خوش اس لیے ہوں کہ آج کے دن اس خطہٴ زمین کوآزادی کا سورج دیکھنا نصیب ہوا۔ بہت برس پہلے اسی روز جب مزارقائدپرحاضری کا موقع ملا تھا تو میں بہت رویا تھا۔اس لیے کہ ہم قائد کا پاکستان اُس طرح نہ بنا پائے جس طرح وہ چاہتے تھے۔ ہمارے یہاں جس محبت کی بنیاد رکھی گئی تھی وہ دیر پا نہ ثابت ہوئی اور ہم باہمی رنجشوں میں اُلجھ کر دشمنی پر اُترآئے۔اسی دشمنی کے نتیجے میں پہلے ہم بیوروکریسی کی قید میں آئے پھرآمریت نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ہماری حالت یہ ہوگئی کہ ہم پہچان کی دولت سے عاری ہو گئے اور اپنے ہی بھائیوں کے خلاف زہر اُگلنے لگے جس کے نتیجے میں ہمیں اپنے ہے وجودکوچھلنی دیکھنا پڑا۔ ہمارے وہ بھائی جوآزادی کے حصول میں ہم سے کہیں آگے تھے ہمارا ساتھ چھوڑنے پر تیا ر ہوگئے اور پھراس خطہٴ زمین کو دولخت کر دیا۔ نفرتوں کی نہ ختم ہونے والی دیوار بیچ میں حائل ہو گئی۔اَب ہم اُن کی خیر خیریت سے بھی آگا ہ نہیں ہوتے۔ میری اُداسی میں تقسیم ِ پاکستان کا دُکھ بھی شامل رہتا ہے۔
 ہماری آج کی محفل کا موضوع ہے ” پاکستان کی حقیقی آزادی میں صحافت کا کردار“۔ یہ موضوع اپنے عنوان کے اعتبار سے قدرے مختلف ہے۔حقیقی آزادی کا ایک ہی مفہوم ہے کہ زمین کا خطہ تو ہم نے آزاد کرالیا مگرہمارے دل و دماغ آج بھی گوروں کی غلامی میں ہیں۔ پُرا نی باتیں کیا دہراوٴں آج صبح ہمارے وزیر اعظم نے پرچم کشائی کی تقریب میں قوم سے خطاب میں اپنے عزائم کا اظہار کیا تو مجھے بہت خوشی ہوئی مگر جب انھوں نے اپنے دورہٴ امریکا کا تذکرہ کرنے کے بعد اُس کی امداد سے پاکستان کی قسمت سنور جانے کا مژدہ سنایا تو ساری خوشی کافور ہوگئی۔
 میں اس دوران سوچتا رہا کہ ہمیں اپنے آپ پر بھروسا کیوں نہیں رہا؟ کیوں ہم ہمیشہ دوسرے کے دستِ نگر رہتے ہیں،کیوں ہم اپنے لیے خود راہیں تلاش نہیں کرتے۔ یہ ہے اس عنوان کی تفہیم۔
 اَب آتے ہیں حقیقی آزادی کی طرف ___تو اس حوالے سے گزارش یہ ہے کہ قائداعظم سمیت سیکڑوں لوگوں نے صحافتی میدان میں خدمات انجام دے کرآزادی کی شمع کو روشن رکھا۔سب سے بڑا اور اہم کردار ہی صحافت کا ہے۔ مولانا ظفر علی خان اور ان کے رفقا نے جس جاں فشانی اور جواں مردی کا مظاہر کیا وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ مولانا حسرت موہانی کی خدمات کون بھلا پائے گا۔ان اکابرین نے اپنی جان ومال کی پروا نہ کرتے ہوئے انگریز سرکار کے خلاف نہ صرف لکھا بلکہ تحریکیں چلائیں اور اس کامیابی سے کہ پاکستان بن کے رہا۔ہم آج انھی لوگوں کے ناموں سے واقف نہیں___یاد ہیں تو صرف وہ آمر جو ہم پر مسلط رہے۔ضیا ء الحق کے دور میں کوڑے کھانے والی صحافی بھول گئے، جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے قید ہونے والے اور ملک بدر کر دیئے جانے والوں کو ہم نے بھلا دیا ۔ یہ وہ لوگ تھے جو ہمیں حقیقی آزادی یعنی جمہوریت کی طرف لے جانا چاہتے تھے ۔انھی لوگوں کی محنت کے نتیجے میں آج ہم آمروں کے خلاف بولنے کے قابل ہوئے ہیں۔ موجودہ جمہوری حکومت کے قیام میں سب سے زیادہ کردار صحافت نے ادا کیا جس کا اعتراف آج قوم سے خطاب میں وزیراعظم نے بھی کیا ہے۔
 میں پوری قوم کو اس موقع پرآزادی مبارک کہتا ہوں اور ساتھ ہی اپنے صحافی دوستوں سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ اپنی صفوں میں اتحاد لائیں تاکہ کوئی بھی شخص ان کے خلاف آنکھ اُٹھانے کی جرأت نہ کرسکے۔ ہم متحد ہوں گے تو صحیح طور پر اپنی ذمہ داریاں نبھا کر قوم کی خدمت کر سکیں گے۔
 کیا آپ لوگ اپنی نفرتیں ختم کر رہے ہیں؟
 

تبصرہ جات

دیوانہ (افسانہ)

دیوانہ
خاورچودھری

یہ خلافِ معمول ہی تھاکہ میں صبح سویرے اُٹھتے ہی حجام کے پاس چلاآیا۔شیوتومیں گھرپرہی بنا لیتا ہوں مگربال بنانے کے لیے حجام کے پاس آنا ہی پڑتا ہے۔صبح آنے کا ایک فایدہ یہ ہوا کہ حجام بالکل فارغ بیٹھا تھاالبتہ تین آدمی لکڑی کے بنچ پرپاوٴں لٹکائے یوں بیٹھے تھے جیسے زندگی کے منتظر ہوں۔ »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔

تبصرہ جات (4)

جگ جگ اندر جال ہے سیتلتا بھی آگ

سن ری کوئل باوری ہردے آج سمائی
میٹھے سُر میں کوک تو میں رووں سودائی

باجے سیٹی ریل کی ہردے منہ کو آئے
آشاوں کی گور پر خاور نیر بہائے

ماریں پاتھر بالکے کھویا اپنا ہوش
کڑوے شبد ہیں ساچ کے اور نا کوئے دوش

اجیارے کی آس ماں جیون مورا ماند
دھن والوں کی بھور ہے دھن والوں کا چاند

جگ جگ اندر جال ہے سیتلتا بھی آگ
سُر سچا ہے بھیرویں نا ہی دیپک راگ

درش دکھائے مادھوی من بھیتر ماں‌اور
اندر جالک مادھری کھویا مورا ٹھور

سن ری چنچل مادھوی میں خاور سودائی
توری میٹھی واسنا روں روں آج سمائی

تبصرہ جات (5)

آشاوٴں کی ہاٹ پر تن بکتا ہے آج

دوہے

خاور چودھری

آشاوٴں کی ہاٹ پر تن بکتا ہے آج
من بھیتر ماں ساچ ہو آوے جگ کو لاج

اوگُن دھو دے گات کے ٹوٹا من کا ماد
دونوں پاوٴں بیڑیاں سیاں کر آزاد

باہر کڑکے دامِنی بھیتر آگ لگائے
اَگنی جیسی کامنی شیتل ہوتی جائے

رُوپ رسیلا بھور ہے آنکھ ہوئی سیراب
مُکھڑا تیرا آد سے کرتا ہے بے تاب

حسن کی مالا جاپنا ہر پل اپنا کام
تورے عشق کا اوگُنی بھولا اپنا نام

تبصرہ جات (6)

زمین پھٹتی ہے اور نہ ہی آسمان

زمین اور آسمان بھی پھٹتے ہوں گے مگر ہماری آنکھیں ایسا کچھ نہیں‌دیکھ پائی ہیں۔۔۔۔۔
میرے آقا محمد عربی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ذات گرامی پر اُترنے والی کتاب پاک کو ظالموں‌نے دریوں‌میں لپیٹ کر جلا دیا ہے۔۔۔۔ »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔

تبصرہ جات (8)

سچ شہدسے میٹھاہے

کچھ کام نہیں ہوتا
عشق تمہارے میں
آرام نہیں ہوتا

ہووقت کبھی ملنا
زخم جدائی کا
مشکل ہے مگرسِلنا

زلفوں کوسنورنے دو
روزاُلجھتے ہو
کچھ کام بھی کرنے دو

ہیں بخت سیہ کالے
صرف تری خاطر
دستورمٹادالے

تم دردہوسینوں کا
حال نہیں پوچھا
ہم خاک نشینوں کا

جس سمت بھی دیکھوگی
یادرُلائے گی
جب بھی مجھے سوچوگی

جاتجھ سے نہیں ملنا
پھول محبت کا
آسان نہیں کِھلنا

رنگوں سے بھراموسم
بیت چکاساون
کیااشک بہائیں ہم

اک بارسُناؤگی
رازمحبت کا
کس کس سے چُھپاؤگی

مجبورجوانی پر
شہرامڈآیا
اک رات کی رانی پر

سجنی کاحسیں گِہنا
روٹھ گئے ہم تو
آوازنہیں دینا

سچ شہدسے میٹھاہے
رس ترے ہونٹوں کا
انعام وفاکاہے

تبصرہ جات (4)

مینوں نچ کے یار مناون دے

کسی صاحب نے ای میل ارسال کی ہے۔۔۔۔صدرمشرف اور سابق وزیراعظم شوکت عزیزاور ان کی بیگمات محفل میں شریک ہیں اور عبداللہ یوسف صاحب محو رقص ہیں۔۔۔۔۔۔ بغیرتبصرے کے متعلقہ لنک حاضر ہے۔۔۔۔

عبد اللہ یوسف محو رقص، کلک کیجئے

تبصرہ جات (9)

اک درخت آسیبی

اک درخت آسیبی
ہائیکوجاپانی صنف سخن ہے اور اردو میں پچیس تیس برس سے برتی جارہی ہے۔۔۔ اپنے چندہائیکوآپ کے ذوق کی نذرکرتاہوں۔ »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔

تبصرہ جات (8)

بے انت

بے انت (افسانہ)
خاورچودھری

توت کی مخروطی اُنگلیوں پرجگہ جگہ ااُبھارظاہرہورہے تھے…کہیں کہیں یہ انگلیاں زمرد سار ہونے لگی تھیں…بارش کے ننھے منھے قطرے ان اُبھرتے اورظاہرہوجانے والے حصوں پرسے یوں پھسل رہے تھے جیسے »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔

تبصرہ جات (10)