September 26, 2008 at 8:56 am |
راقم : سیدمصباح حیسن |
بلاگنگ میں شائع کیا گیا
چند برس پہلے پاکستان کی ایک تنظیم لشکر طیبہ کے نام سے کشمیر وغیرہ میں جہادی کاروائیوں میں مصروف عمل نظر آتی تھی۔ اس تنظیم کے پوسٹر تب بھی الدعوہ کے نام سے چھپتے رہتے تھے۔ مرید کے کے مقام پر انکا سالانہ اجلاس بھی ہوا کرتا تھا جو راےونڈ کے تبلیغی اجتماع کے بعد سب سے بڑا اجتماع بن گیا تھا۔ »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔
مستقل لنک
September 21, 2008 at 1:43 am |
راقم : سیدمصباح حیسن |
دین, سیاست میں شائع کیا گیا
رمضان الکریم میں قتل کا مذموم فعل
اسلام آباد میں ایک خود کش بم دھماکے میں ساٹھ افراد ہلاک۔ دھماکے میں ایک کار اور ایک (ڈمپر) گند اٹھانے والا ٹرک استعمال کئے گئے جس میں ایک ہزار کلو دھماکہ خیز مواد تھا۔ یہ دھماکہ اسی دن ہوا جب صدر زرداری پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کر رہے تھے اور اسلام آباد پہلے ہی انتہائی سخت حفاظتی انتظامات کے کے ماحول میں تھا۔ نجانے کیسے حفاظتی اقدامات تھے جن میں ایک بارود سے بھرا ٹرک دندناتا ہوا میریٹ ہوٹل تک جا پہنچا؟ کیا یہ حکومت کی مشینری کی کھلی نا اہلی کا ثبوت ہے یا اس ٹرک کو راستہ جان بوجھ کر دیا گیا؟ اسکے بعد پاکستان کے ساتھ کیا ہوتا ہے، اس کا علم تو ذات احدیت کو ہی ہے، لیکن لگتا ہے کہ بلی تھیلے سے نکلنے کو ہے۔
بطور مسلمان، رمضان الکریم کا تقدس پامال کرنے اور انسانی جانوں کے ظالمانہ قتال کے اس مذموم فعل کی ہم سب شدید ترین مذمت کرتے یں اور اسکے پس پشت ہاتھوں کے لئے اللہ تعالیٰ سے شکایت و بد دعا کرتے ہیں کہ اللہ انہیں دنیا و آخرت میں رسوا کرے۔
میں چاھوں گا کہ ہم سب جسقدر زیادہ ہو سکے، اس مذمتی بلاگ میں شامل ہو کر اپنی قومی سوچ کا اظہار کریں۔
مستقل لنک
September 20, 2008 at 2:35 pm |
راقم : سیدمصباح حیسن |
بلاگنگ میں شائع کیا گیا

پاکستان کے صدر جناب آصف علی زرداری نے ١١ ستمبر کو مزار قائد پر حاضری دی اور زائرین کی نوشت میں اپنے احساست رقم کئے۔ ذرا تحریر اور اسکے ہجے ملاحظہ ہوں۔ یہ انکی پہلی تحریر ہے جو منظر عام پر آئی ہے۔ مکمل عکس کے لئے تحریر کے عکس پر کلک کیجئے۔

مستقل لنک
September 17, 2008 at 1:17 pm |
راقم : سیدمصباح حیسن |
بلاگنگ, علم و ادب میں شائع کیا گیا
یوں تو لکھنا اور ادب تراشی اپنے اندر کئی پہلو سمیٹے ہوئے ہے۔ جس میں ادب برائے تفریح، ادب برائے اصلاح اور ادب برائے تفریق سمیت کئی اقسام شامل ہیں۔ لیکن چاہے کوئی بھی صنف ہو، جب لکھاری کچھ لکھتا ہے تو اس کا مدعا صرف اپنے احساسات کو ایک کاغذ پر منتقل کرنا ہر گز نہیں ہوتا۔ بلکہ لکھنے کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ اسے عوام تک بھی پہنچایا جا سکے۔ »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔
مستقل لنک
August 26, 2008 at 12:11 pm |
راقم : سیدمصباح حیسن |
بلاگنگ میں شائع کیا گیا
کتنا آساں تھا ترے ہجر میں مرنا جاناں
پھر بھی اک عمر لگی جان سے جاتے جاتے۔
آج احمد فراز ہمارے مابین نہیں ہیں، لیکن انکے الفاظ اسی شدت سے بیدار ضمیروں کو جگاتے رہیں گے ۔ احمد فراز کی میرے نزدیک سب سے بڑی خوبی یہی تھی کہ اچھا کیا یا برا، سب کچھ کھل کر کیا۔۔۔۔ایک شیشے کی طرح شفاف شخصیت جس میں منافقت کا کہیں کوئی خول نہ تھا۔ ٓ۔۔۔۔۔آج انکے انتقال پر ہمارے قلم مغموم اور اداس ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ انکے قلم کا سچ انکی غیر موجودگی میں بھی غیرت و عزت کا علم بلند کرتا رہے گا۔
مستقل لنک
August 12, 2008 at 8:29 am |
راقم : سیدمصباح حیسن |
بلاگنگ میں شائع کیا گیا
برادر عالی قدر و محترم نصر ملک صاحب۔
موت ایک ایسی حقیقت ہے جس کو مختلف لوگ اپنے اپنے انداز سے دیکھتے ہیں۔ لیکن امر حق یہی ہے کہ مؤمن کے لئے یہ دنیا ایک قید خانہ ہی ہوا کرتا ہے جس رہائی امر الٰہی سے ملا کرتی ہے۔۔۔گویا مردِ حق پرست کو نعمت مل گئی اور جن کو متوفی سے جدائی ملی ان لواحقین کے لئے ابتلا۔ اس موقع پر جہاں میں آپ سے آپ کے والد مقدس کے ارتحال پر تعزیت گزار ہوں، ساتھ ہی انکا ایک پیغام بھی آپ کو سنائے دیتا ہوں جو ہر مؤمن کے دل کی صدا ہے کہ
حب حیدر ہے زندگی اپنی
اس سے قائم ہے تازگی اپنی
قبر میں انک آمد آمد ہے
موت تو عید ہو گئی اپنی۔
اللہ کریم آپکے والد ماجد کو سایہ ختمی المرتبت میں مامؤن و شادکام رکھے اورآپکو اس صدمہ کو صبر جمیل کے ساتھ برداشت کرنے کی سعی عطا فرمائے اور آپکے پورے حانوادے کو اپنے اجداد عالی کے نقش قدم پر قائم رکھے۔۔۔۔۔آمین۔
بجا رہا ہے زمانے میں دف حسین کا غم
ہر آدمی سے کہے لا تخف حسین کا غم
جو رو رہے ہیں سر عاقبت نہ روئیں گے
اٹھا رہا ہے فلک پر حلف حسین کا غم
حسب نسب کی طہارت بھی شرط ہے حسنی
کہاں کرے گ ا کوئی نا خلف حسین کا غم۔
مستقل لنک
June 9, 2008 at 9:12 pm |
راقم : سیدمصباح حیسن |
سیاست میں شائع کیا گیا
ججوں کی بحالی اور صدر مشر ف کی رخصتی کے حوالہ سے نقار خانے میں بہت سے طوطی بچ چکے۔لکھنے والے لکھتے رہے لیکن »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔
مستقل لنک
September 30, 2000 at 12:00 am |
راقم : سیدمصباح حیسن |
بحثو مباحثہ, بلاگنگ, بین الاقوامی تعلقات, دین, سماج, سیاست, شاعری, علم و ادب, مزاح, مضامین, گپ شپ میں شائع کیا گیا
آج مجھے بڑا عجیب محسوس ہورہا ہے کہ اپنے قلم کی حرمت بچانے کے کئے مجھے یہ اعلان کرنا پڑ رہا ہے کہ میں آج سے اس بلاگ پر نہیں لکھوں گا۔ در اصل القمر میں چند تبدیلیاں ایسی نا قابل برداشت حد تک رونما ہو چکی ہیں جن کے سبب کونوا مع الصادقین پر یقین رکھنے والا یہاں نہیں ٹھہر پا رہا۔ کچھ عرصہ پہلے چند نوسر بازوں کے متعلق معلوم ہوا کہ وہ القمر کے بلاگ اور خبریں چرا چرا کر اپنے نجی آن لائن اخبار پر مصنف کا نام ہٹا کر لگا رہے تھے۔ یہی نوسر باز القمر پر بھی کچھ نہ کچھ اگل رہے تھے۔ ایڈیٹر انچیف، ایڈیٹر، پولیٹیکل ایڈیٹر، اور گروپ ایڈیٹر سمیت تمام احباب کے فیصلے سے ان لوگوں کے القمر سے اکاؤنٹ بند کر دئے گئے۔ ۔۔۔۔لیکن چونکہ یہ احباب ہماری ہی ایک مچھلی کا پیٹ بھر رہے تھے، اس لئے جب یہ لوگ چلے گئے تو اس مچھلی کو اپنے پیٹ کی فکر ہوئی اور القمر کو داؤ پر لگا دیا۔ اس عرصے میں پہلے القمر کو بند کردیا گیا، پھر دوبارہ چلا کر ایڈیٹر اینچیف سمیت کئی قلمکاروں کے اکاؤنٹ بند کر دئیے گئے۔ پھر جب ان سے ہم لوگوں نے استفسار کیا تو بولے کچھ تکنیکی مسائل ہیں، حل کرلوں گا۔ حل کی اگلی منزل یہ آئی کہ ایڈیٹر انچیف کا نام اور دیگر محترم ساتھیوں جناب آصف جیلانی اور ڈاکٹر نگہت نسیم کے نام ادارتی فہرست سے بھی ہٹا دئیے گئے۔ میں یہاں سڈنی میں متفکر ہوا اور گروپ ایڈیٹر صاحب سے ربطہ کیا کہ حالات سے آگاہی مل سکے تو انکے ایک نائب الکذب نے بتایا کہ یہ صرف تکنیکی مسائل کے سبب ہے لیکن ہم حل کر لیں گے۔ ۔۔۔لیکن جب حقائق کی جانکاری حاصل کی تو معلوم ہوا کہ معاملہ کچھ اور ہے۔ اس سے پہلے کہ میں کسی نتیجے پر پہنچتا، جب پرانے نوسر بازوں کو پھر سے بلاگ میں دندناتے دیکھا تو میں جان گیا کہ معاملہ کیا ہے۔ اب بات اس منزل پر پہنچ گئی ہے کہ چند سکوں کے عوض القمر کو ہی بدنام کیا جا رہا ہے اور نا اہل لوگوں کے ہاتھوں میں دیا جا رہا ہے۔ گویا جس تھالی میں کھا رہے ہیں اسی میں چھید بھی کر رہے ہیں۔ اسطرح تو سارا شوربا نہ صرف ضائع ہوگا بلکہ مکرمیان کے ملبوس بھی آلودہ ہونگے۔ اب اس گرہ زدہ چاند پر الو ہی بولتے نطر آتے ہیں۔ ایک صاحب ہیں کہ اپنی مخصوص کنویں میں پلی مذھبی ذھنیت کو بلا روک ٹوک لکھے جارہے ہیں جس چاہے کسی کی جتنی ہی دل آزاری کیوں نہ ہو۔ لیکن چونکہ گروپ ایڈیٹر صاحب اپنے مالی حساب کتاب میں اتنے مشغول ہیں کہ اس طرف دیکھ بھی نہیں سکتے کہ کون کیا کر ہا ہے، اس لئے ایسے ضال و مضل لوگ یہاں پر ڈیرا جمائے بیٹھے ہیں۔ ہمارے کئی دوست اپنی اپنی وجوہات کی بناء پر یہ بلاگ چھوڑ چکے ہیں- موجودہ حالات میں ہمارے کئی مہربان خاموشی سے اس بلاگ کو چھوڑ گئے ہیں جن میں تانیہ رحمان، شمس جیلانی، زرقا مفتی، سعدیہ سحر، خاور چوہدری، سمیت اور کئی علم پرور دوست احباب شامل ہیں۔ تاہم میں اجہل جانے سے قبل اپنی علیحدگی اعلان ضروری جانتا ہوں تاکہ میرے احباب حالا ت سے آگاہ ہو سکیں۔ القمر کے نام استعمال کر کے بیوروکریسی سے کیا میا مفاد اٹھائے گئے اور بد عنوانیوں کے جو ڈیرے مری اور اس کے مضافات میں چند لوگوں نے قائم کئے میں انکا ذکر یہاں مناسب نہیں سمجھتا۔ عقلمند کے لئے تو اشارہ ہی کافی ہوتا ہے۔
مجھے تعجب یہی ہے کہ میرا اور عالی قدر بھائی میرے واجب صد احترام نصر ملک صاحب کا نام کس بناء پر اس ادارتی فہرس سے نہیں ہٹایا گیا۔ بہر کیف میں تو چونکہ صرف اپنے فیصلے کرنے کا حق دار ہوں، اس لئے آج سے گروپ ایڈیٹر صاحب کو بھی مراسلہ بھجو چکا ہوں کہ میں آج سے القمر سے جدا ہوں، دوسرے بلاگ پر مشتری ہشیار باش کر رہا ہوں تاکہ باقی احباب بھی حقائق جان سکیں۔ اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو۔ وما توفیقی الا باللہ۔
مستقل لنک