August 1, 2008 at 2:30 pm |
راقم : نگہت نسیم |
بلاگنگ, سماج میں شائع کیا گیا
آخر وہ دن بھی آن پہنچا جس دن میں نے لاما ھیمو کے ساتھ فادر جم سے ملنے جانا تھا۔ لاما کی ایک خوبی اُس کی ڈرائیونگ بھی ھے ۔ وہ کہی بھی پہنچ سکتی ھے اور گاڑی کہی نہ کہی پارک بھی کر سکتی ھے اور خیر سے یہ دونوں خوبیاں مجھ میں مجبورا تھی ۔ ھمارا سینٹر فادر جم کے بتائے ھوئے پتے کے پاس ھی تھا سو دس منٹ کی ڈرایئو کے بعد ھم دونوں “ ھاؤس آف ویلکم “ کے سامنے تھے ۔ ۔۔۔مزید پڑھنے کے لیئے اس لنک پر کلک کریں۔
مستقل لنک
July 27, 2008 at 2:45 am |
راقم : نگہت نسیم |
بحثو مباحثہ, شاعری, علم و ادب میں شائع کیا گیا
بات میں اُسی شخص کی کر رھی ھوں جس نے ساری عمر جمہوریت کے گیت گائے اور اُس کی بحالی کے لیئے کئی سرکاری اعزازات سرکار کو یہ کہہ کر واپس کر دیئے تھے کہ انہیں لے کر وہ اپنے نظریوں سے آنکھ نہیں ملا سکے گے ۔ آج وہی احمد فراز ایک جمہوری حکومت میں اپنے نظریاتی حامیوں کی بے حسی کی نظر ھو رھا ھے ۔ سرکار اپنے سرکاری اور غیر سرکاری دوروں پر کروڑوں خرچ کر سکتی ھے پر جن لوگوں نے ساری عمر اپنے ملک کی سفارت کی ھوتی ھے ، اُن کے لیئے طبی اخراجات تو دور کی بات ھے ۔ اُن کے منہ سے تو اہل ٍخانہ سے ہمدردی کے چند لفط بھی نہیں نکلتے ۔ مزید پڑھنے کے لیئے اس لنک پر کلک کریں۔
مستقل لنک
July 14, 2008 at 7:08 pm |
راقم : نگہت نسیم |
بلاگنگ, شاعری, علم و ادب میں شائع کیا گیا
دوستو آج مجھے جناب عدیل بٹ صاحب نے پاکستان سے ایک بڑا خوبصورت سا اعتراف بھیجا ھے جو ھر مسلمان اپنے رب سے کرنا چاھتا ھے ۔ میں القمر آن لائن کی جانب سے »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔
مستقل لنک
July 11, 2008 at 4:28 pm |
راقم : نگہت نسیم |
بحثو مباحثہ, بلاگنگ, سماج میں شائع کیا گیا
آج ایک بہت ھی اھم بات کرنے کو جی چاھتا ھے جس سے پتہ نہیں آپ سب پریشان ھیں کہ نہیں لیکن میں ضرور ھوں ۔ بات یہ ھے کہ مجھے ایسے لوگوں کی بھی ای میلز آتی ھیں جنہیں میں جانتی تک نہیں ھوں ۔ »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔
مستقل لنک
July 6, 2008 at 2:57 pm |
راقم : نگہت نسیم |
بحثو مباحثہ, بلاگنگ, سماج, سیاست, شاعری میں شائع کیا گیا
کسی بھی ملک کا وقار اُس کے سایئنسدان ، ڈاکٹر ، انجینیر ، ادیب ، شاعر اور مزدور ھوتےھیں اور باقی سب وقت کے ساتھ بدلتے رھتے ھیں جیسے حکمران اور حکومتی مشینیریاں ۔ لیکن اپنا پاکستان خطہ ارض پر نیپال اور برما سے بھی نایاب ترین ھے کہ ھماری عزت قومی چور اور ڈاکوؤں سے بنی ھوئی ھے ۔ ھماری حکومت کا یہ بھکاری مزاج آج چور ڈاکوؤں کی سزائے موت کو عمر قید میں بدل کر ساری دنیا کو یہ بتا رھا ھے کہ ھمیں نہ ڈاکٹر قدیر چاھیئے ،نہ اعتزاز چاھیئے بلکہ ھمیں تو اپنےھی جیسے چور ، لٹیرے ، ڈاکو اور بھکاری چاھئیں جو ھمارے کام میں ھمارا ھاتھ بٹا سکیں ۔ مزید پڑھنے کے لیئے یہاں کلک کیجئے۔
مستقل لنک
July 1, 2008 at 7:53 pm |
راقم : نگہت نسیم |
بحثو مباحثہ, بلاگنگ, علم و ادب میں شائع کیا گیا
ھر منگل کومجھے ایک گھنٹہ کے لیئے کنسلٹنٹ کی نگرانی میں اپنے مریض ڈسکس کرنے پڑتے ھیں ۔ آج تقریباً دس مریض ایسے تھے جس میں مجھے اُن کی رھنمائی کی ضرورت تھی ۔ اُن کے مسائل زیرٍ بحث رھے ۔ باتوں باتوں میں میرے کنسلٹنٹ نے مجھ سے پوچھا کہ آخر ھم لوگ زہنی بیماریوں کو تشخیص کرنے میں کیا ایسا دیکھتے ھیں جس کے لیئے اُن کا علاج ناگزیر ھو جاتا ھے ۔ کیا اُن کا کم سونا ، زیادہ کھانا یا پھر اُن کا لوگوں سے دور ھو جانا ۔۔ میں نے کہا نہیں اُن کی سوچ انہیں ھم سے الگ کرتی ھے ۔ میری کنسلٹنٹ نے مسکراتے ھوئے مجھے دیکھا اور پوچھا کہ اچھا “ آخر سوچ کیا ھے “ ۔ اور آج یہی سوال میں آپ سب سے کرناچاھتی ھوں ۔
دوستو مجھے یوں لگتا ھے جب ھم اپنے کسی خیال کو عملی جامعہ پہنا سکتے ھیں ، کسی کو سمجھا سکتے ھیں اور لوگوں کو وضاحت بھی دے سکتے اُسے سوچ یا فکر کہتے ھیں اور یہ ایک مسلسل فکری عمل ھے ۔جب اٍسی فکر اور خیال میں بے ترتیبی آ جاتی ھے تو اُسے ”فکری عدم تسلسل” کہتے ھیں ۔ سو جیئے میں نے آج دس مریض دیکھے تھے سب کی سوچ ایک دوسرے سے نہ صرف جدا تھی بلکہ نا قابلٍ فہم بھی ۔ مثلاً کسی نے یہ کہا کہ اُسے اپنا بلڈ سسٹم واش کرنا ھے کہ اُس نے چار سو ڈالر کی چاکلیٹ کھا لی ھیں ۔ کسی نے کہا کہ مجھے لگا کہ مجھے کوئی کہہ رھا ھے کہ کسی کو جان سے مار ڈالو سو اُس وقت گھر کا پالا ھوا کتا ھی سامنے تھا تو اُس نے ٹیبل منہ پر رکھ کر مار دیا اور وہ اُس وقت تک مارتی رھی جب تک کتا مر نہیں گیا ۔ ایک نے کہا کہ گاڑیاں اُڑ سکتی ھیں ۔ ایک نے کہا کہ اُسے کم کھانا چاھیئے جبکہ وہ سارا وقت کھاتا رھا ، اسی طرح سے ایک عورت تیس سالوں سے صرف کچرا اپنے گھر جمع کر رھی تھی ۔۔۔
ایسی لاتعداد باتیں ھیں جو سوچ کو ناقابلٍ فہم بنا دیتی ھیں اور کئی دفعہ یوں لگتا ھے جیسے وہ سب صیحع کہہ رھے ھیں اور ھم کہی غلطی کر رھے ھیں ۔۔ لیکن مجھے حیرت اُس وقت ھوتی ھے جب لوگ ادیبوں شاعروں اور فلسفیوں کو پاگل کہتے ھیں ۔ حالانکہ یہ لوگ تو ھم جیسوں کی فکر کو ایک نظم اور تسلسل میں لاتے ھیں ۔۔ دوستو آپ کیا سمجھتے ھیں کیا واقعی ادیب شاعر اور فلاسفر پاگل ھوتے ھیں یعنی ”فکری عدم تسلسل” کا شکارھوتے ھیں ؟؟ یا پھر ھمیں یہاں رک کر سوچنا ھو گا کہ آخر سوچ کیا ھے ؟؟
مستقل لنک
June 26, 2008 at 5:33 pm |
راقم : نگہت نسیم |
بحثو مباحثہ, دین, سماج میں شائع کیا گیا
آسٹریلیا کے سب سے بڑی مسجد کے معروف خطیب شیخ خلیل چامی نے حکومت سے درخواست کی کہ “ تمام مسلمان مردوں کو اسلام کی رو سے »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔
مستقل لنک
June 19, 2008 at 3:53 pm |
راقم : نگہت نسیم |
بحثو مباحثہ, بلاگنگ, سماج میں شائع کیا گیا
آج جب میں اپنی ڈیوٹی پر تھی تو ایک ایسی عورت مجھ سے ملنے آئی جو اپنے شوہر سے خفا تھی اور وہ بھی اتنی زیادہ کہ ایک ھی گھر میں رھتے ھوئے وہ دونوں کئی سالوں سے الگ الگ کمروں میں رہ رھے تھے اور اُن کے بچے بھی اٍس ماحول کے عادی ھوچکے تھے ۔ آج میرے پاس جب وہ بیٹھی اپنے دکھ مجھے سنا رھی تھی تو ایسے لگا جیسے کئی لوگوں کا دکھ ڈھو رھی ھو ۔ وہ پوچھ رھی تھی کہ لوگ اتنے بے حس کیوں ھوتے ھیں ۔ ھر وقت تنقید کر کے خود کو سب سے اھم کیوں سمجھتے ھیں ۔ ھر وقت حکم دینے والے کتنے نا قابلٍ برداشت ھوتے ھیں ۔ وہ مجھے بتا رھی تھی کہ تیس برس کے اٍس رشتے میں تیس منٹ بھی ایسے نہیں تھے جس کی بنا پر وہ اپنے شوہر کو معاف کر سکتی ۔ میں بس اُسے روتا دیکھتی رھی اور سوچتی رھی کہ ھماری زندگی کا سب سے بڑا رونا یہی تنقیدی بے حسی ھی تو ھے جس کی وجہ سے ھم کسی کو برداشت تو کجا تحمل سے سنتے بھی نہیں ھیں ۔
مستقل لنک
June 14, 2008 at 11:56 pm |
راقم : نگہت نسیم |
سیاست میں شائع کیا گیا
ملک کے کونے کونے سے ھر فرد نے بغیر کسی حوالے اور تشخص کے نہ صرف لانگ مارچ میں حصہ لیا ۔بلکہ پوری دنیا کو یہ بھی دکھا دیا کہ ھم اپنے حقوق کے لیئے گھروں سے نکل کر نہ صرف سڑکوں پر آ سکتے ھیں بلکہ دھرنا بھی مار کر بیٹھ سکتے ھیں اور وہ بھی ایسا پُر امن کہ اس لانگ مارچ کے دشمن بھی اس پر انگلی نہیں اٹھا سکتے۔مزید پڑھنے کے لیئے اس لنک پر کلک کریں۔http://www.alqamar.info/blog/2008/06/14/long-march/
مستقل لنک
June 5, 2008 at 4:07 am |
راقم : نگہت نسیم |
شاعری میں شائع کیا گیا
بہت دفعہ ایسا ھوتا ھے کہ مجھ سے مشورہ مانگنے والے مجھے اداس کر جاتے ھیں ۔ عورت کا دکھ کئی رنگوں میں اپنا آیئنہ ساتھ لیئے پھرتا ھے ۔۔ ایسے ھی ایک پس منظر میں لکھی گئی نظم آپ دوستو کی نظر ۔
تم کیسی مسیحا ھو
کچھ بھی کہتی نہیں ھو
بس ایک ٹک دیکھے جاتی ھو
سب سنے ھی جاتی ھو
تمہیں بھلا اٍس سے کیا
ھیمن تو میرا ھے نا
الگ تو وہ مجھ سے ھوا ھے نا
ایک ماہ سے گھر نہیں آیا نا
مجھے یاد ھے
میں تب اُس سے ملی تھی
مجھے جب جانتا کوئی نہ تھا
میں گلستان ٍ محبت کی حسین کلی تھی
شہرٍ محبوباں کی ایک چہکتی بلبل تھی
تمہیں کیا بتاؤں میری مسیحا
میرا ھمین کیسا دکھتا تھا
یہ لمبا قد
سرخ ھنستا چہرا
باتوں میں شرارت
آنکھوں میں رمز
ایسے چلتا تھا مانو کہ دل میں اترتا تھا
مجھے یاد ھے ابھی تک
چرچ میں اُس نے مجھے پہلی بار دیکھا تھا
نیلے اسکارف میں سنہری بالوں کو چھپائے
نیلی آنکھوں کو جھکائے
میں کچھ یسوع مسیح سے مانگ رھی تھی
اور میرا ھمین مجھے دیکھ رھاتھا
وہ مجھے یسوع سے مانگ رھا تھا
تم نہیں جانتی
میرا ھیمن بیس سال سے میرے اندر بستا ھے
میرے لہو میں بولتا ھے
میری روح میں گونجتا ھے
اُس نے مجھے شجر سایہ دار کیا
میرے مکاں کو گھر کیا
میری مسیحا کچھ تو کہو
وہ کیوں لوٹ کر نہیں آیا
کیوں میرے گھر میں بھی کوئی در نکل آیا
کیوں میری ھی محبت کو اجاڑنے کوئی آیا
میرا ھیمن کہتا تھا
وہ یسوع کا بھگت ھے
صرف پیار اور معافی پہ یقین رکھتا ھے
میری مسیحا
میں مسلمان عورت نہیں ھوں
جو خود کو چارحصوں میں بانٹ لوں
اور
اپنے حصے کی چادر اوڑھ کر سو رھوں
پر انتظار پورا کروں
میں تم جیسی نہیں ھوں
میری مسیحا
بس سنتی رھوں
دیکھتی رھوں
اور
گونگی رھوں ۔۔۔۔۔
مزید نظموں کے لیئے اس لنک پر کلک کریں۔۔۔۔۔۔۔http://www.shaairi.net/poetry/articles/41/1/-/Page1.html
مستقل لنک