قزاقوں سے ہو شیار؟
جب بھی پہونچا بام پر ہے قافلہ
آگیا وہ بیچ میں پھر سے بڑھانےفاصلہ
آخری موقعہ ہے یہ گرکرے توبہ کوئی
اے غافلا اے غافلا ،او عاقلہ او عاقلہ
| | ||
| |
|
|
| |
| |
| |
| |
| ||||
|
Al
Qamar Online; The largest Online Urdu News Network containing dozens of Urdu Channels
From London, Denmark, US & Pakistan |
جب بھی پہونچا بام پر ہے قافلہ
آگیا وہ بیچ میں پھر سے بڑھانےفاصلہ
آخری موقعہ ہے یہ گرکرے توبہ کوئی
اے غافلا اے غافلا ،او عاقلہ او عاقلہ
ایک جھو ٹا کیا گیا جھوٹوں سے پالا پڑگیا
ا ُس کی ہر کرتوت پر ان کا دوشالہ پڑگیا
جب بھی آنے کو ہوئی جمہوریت اس ملک میں
چلتے چلتے راہ میں د یکھا گھٹالا پڑگیا
ڈس لے جو تمہیں روز کیا وہ سانپ نہیں ہے
موذی کو سزا عد ل ہے وہ پاپ نہیں ہے
یہ مصلحت بینی ہے کہیں اہلِ سیاست ؟
گردن ذرا موٹی ہے بنا ناپ نہیں ہے
کل کو سنیں گے آپ وہ ٹرکی چلے گئے
ٹرکی بنائے آئے تھےپھر ٹھرکی چلے گئے
اپنے ہی ہاتھ میں ہےکہ ہو کیسی زندگی
چوٹی انہوں نے نَار کی سَر کی چلے گئے
جو آگے بڑھتا ہے پہلے امام کہتے ہیں
ہم ہر ایک شخص کو عالی مقام کہتے ہیں
کھلے ہےجب جہل اسکاتو کھینچ کر کرسی
ادب کے ساتھ پھر اس کو سلام کہتے ہیں
کد ھر یہ کارواں اب جا رہا ہے ہر اک ششدر ہے اور پچھتا رہا ہے
سنو بازی گری صیاد کی تھی کہ پھر سے جال کستا جا رہا ہے
ابھی بھارت بھی دھمکی دیر ہا ہے سنولوگو! ہمارا کر زءی دھمکا رہا ہے
کہ نا اہلی قیادت کی ہے ثابت اور آمر آسنبھا لے گا نظر یوں آرہا ہے
کوئی آیا کسی نے صور پھو نکاکراچی میں دھماکے پر دھماکہ ہو رہاہے
ہوا کر تا تھا جو پہلے یہاں پر ، وہی پھر سے تماشہ ہو رہا ہے
یہ کو شش ہے کہ لڑا دیں سب کو باہم کہ ہو جائے مزاجِ قوم بر ہم
توجہ بس ہٹا نی ہے وہاں سے جہا ں پہ ظلم کچھ پر بے تحا شہ ہو رہا ہے
ابھی تو پیٹ کو روٹی ہر ایک بیکار چاہے، ہے
ہے اسکو خود نہیں معلوم کیا سر کار چاہے ، ہے
وہاں چلتی نہ جنتا کی نہ کٹھ پتلی کی چلتی ہے
وہی ہو تا وہاں دیکھا جو ساہوکا ر چاہے چاہے
الصبح جو شر وع ہو کر کہ شب بھر بات ہو تی ہے
کبھی تنہا بھی ملتے ہیں کبھی با ر ات ہو تی ہے
یہ عقدہ ہی نہیں کھلتا کہاں پر وہ اٹکتے ہیں
کہ بس لفظوں کی بارش ہے سدا بر سات ہو تی ہے
دکھتی نہیں بھلائی ابھی جس کی ذات میں
جوکہ لگے کھلو نا عدو کے ہے ہاتھ میں
باقی وزن نہیں ہے ابھی جس کی با ت میں
جھو ٹا نہیں ہے ایساکو ئی کا ئینات میں
بو جھیئےکون ہے ؟