ویژن 2015
ترقی کی جانب سفر
گدھا گاڑیوں پر
آلودگی سے پاک
ایکو فرینڈلی

شاید کسی اخبار سے لیا گیا کارٹون ہے ۔ میں نے نیٹ سے کاپی کیا ہے
والسلام
زرقا
| | ||
| |
|
|
| |
| |
| |
| |
| ||||
|
Al
Qamar Online; The largest Online Urdu News Network containing dozens of Urdu Channels
From London, Denmark, US & Pakistan |
ترقی کی جانب سفر
گدھا گاڑیوں پر
آلودگی سے پاک
ایکو فرینڈلی

شاید کسی اخبار سے لیا گیا کارٹون ہے ۔ میں نے نیٹ سے کاپی کیا ہے
والسلام
زرقا
بہت دن بعد ایک سادہ سی نظم آپ کی بصارتوں کی نذر
ٰٰان ڈور پلانٹ
میں کسی سرمائی پودے کی طرح
تیرے ہی سائے تلے رہتی ہوں
روشنی مجھ سے گریزاں کب سے ہے
کب سے محرومِ صبا ہے تن مرا
کب سے ساون میں نہیں بھیگا بدن
چاند کھڑکی سے بھی تکتا ہی نہیں
تارے آنگن میں اُترتے ہی نہیں
دیکھ اب سانسیں مری رکنے لگیں
اب نہیں باقی مرے تن میں لچک
زرد چہرہ ، ڈھل چکا ہے جوبن
جل رہی ہیں میرے تن کی شاخیں
جھڑ گئے ہیں برگ جتنے تھے ہرے
اپنے سائے کو ہٹا لے اب تو
آخری سانسیں ہوا میں لے لوں
پھول کی خوشبو کودل میںبھر لوں
اک نظر میں آسماں کو چھو لوں
چاند تاروں سے دو باتیں کر لوں
اب مجھے آزاد کرہی دے تُو
زرقامفتی
دو چار دن پہلے بی بی سی پر محترمہ بانو قدسیہ صاحبہ کا انٹرویو پڑھا
http://www.bbc.co.uk/urdu/specials/1…en/page5.shtml
اس انٹرویو سے ایک اقتباس پیش کر رہی ہوں »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔
آج القمر پر ایک بلاگ پڑھ کر دل کو بہت تکلیف ہوئی
نا معلوم ہم کب اپنا قومی تشخص بنائیں گے۔اگر پڑھے لکھے دانشور ہی صوبائی تفریق و منافرت کو ہوا دیں گے تو عام کچے ذہنوں سے کیا توقع کی جا سکتی ہے۔اگر ہم ناکام ہیں تو ہماری ناکامی اجتماعی ناکامی ہے ۔اگر ہم اپنے فیصلے نہیں کر سکتے تو ہماری اجتماعی ذہنیت غلام ہے اس کے لئے کسی ایک صوبے یا کسی قومیت کو نشانہ بنانے سے دوسرےصوبوں یا قومیتوں کو بری الذمہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔
سبھی اہلِ قلم خواتین و حضرات سے درخواست ہے کہ کسی طبقے ، فرقے ، یا قومیت کو نشانہ نہ بنائیں۔ کیونکہ ایسا کرنے سے ہم کوئی قومی خدمت انجام نہیں دے سکیں گے
سمع خراشی کے لئے معذرت خواہ
زرقا مفتی
دائرے
دائروں کا مرکز ہوں
خا موشی کا مظہر ہوں »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔
ہائے میرا ڈبو!
سیمی فون پر روئے جا رہی تھی ’’خالہ جانی آپ تو جانتی ہیں میں صرف آپ سے ہی اپنے »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔
وہی لہجہ وہی باتیں
وہی گھوڑے وہی گھاتیں
وہی خواہش وہی مقصد
وہی رنجش وہی بدلہ
نہیں بدلے نہ بدلیں گے
شریفوں کے جو تیور ہیں
ایک سادہ سی نظم
آپ کی بصارتوں کی نذر »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔
اپنی ایک کاوش آپ کی بصارتوں کی نذر
پل بھر رکی بہار خزاں میں بدل گئی
چاہت کی چاندنی بھی اماوس میں ڈھل گئی