رسم ایسی بھی میرےشہر میں ڈالی جائے
رسم ایسی بھی میرےشہر میں ڈالی جائے
بے نواؤں کی دستار نہ اچھالی جاۓ
دیپ اشکوں کے سر شام بھلے لگتے ہیں
ہجر کی شب بھی سر شام منالی جاۓ
| | ||
| |
|
|
| |
| |
| |
| |
| ||||
|
Al
Qamar Online; The largest Online Urdu News Network containing dozens of Urdu Channels
From London, Denmark, US & Pakistan |
رسم ایسی بھی میرےشہر میں ڈالی جائے
بے نواؤں کی دستار نہ اچھالی جاۓ
دیپ اشکوں کے سر شام بھلے لگتے ہیں
ہجر کی شب بھی سر شام منالی جاۓ
نصیرالدین نے بتایا کہ جب چودہ اگست کی صبح جناح صاحب اور ماؤنٹ بیٹن سجے بنے اسمبلی کی طرف تشریف لا رہے تھے تو میں بھی سڑک کے کنارے کھڑے ان ہزاروں آبدیدہ لوگوں میں شامل تھا جو جناح صاحب کو دیکھ کر ہاتھ ہلا رہے تھے اور شکرگزار تھے کہ اس نے ایک ایسا ملک بنا دیا جس کی چھت سب کو خوف اور روز روز کے جھنجھٹوں سے محفوظ رکھے گی۔
میں آلتی پالتی مار کر بیٹھ گیا اور لالچی نگاہوں سے نصیرالدین کو دیکھنے لگا تاکہ اس کی باتیں ضائع ہونے سے پہلے لپک لوں۔
پھر بابو جی جنرل ایوب آیا۔ہم سب لوگ بہت خوش ہوئے۔اس نے آتے ہی کہا کہ میں گندم اور چینی چھپانے والوں کو خود گولی ماروں گا۔کسی نے سڑک پر کچرا پھینکا تو کھال کھینچ لی جائےگی۔ڈاکوؤں اور چوروں کو اسی جگہ لٹکا دوں گا۔سب لوگ ملک کے لیے کام کریں۔ سب کو برابر کا پھل ملے گا۔
اس کے بعد نصیرالدین چپ ہوگیا۔
پھر کیا ہوا؟ میں نے بےصبری سے پوچھا۔ میں چاھتا تھا کہ وہ بولتا رہے۔
نصیر الدین ہنس پڑا۔بابو جی تمھیں تو سب معلوم ہے۔آگے کیا بتاؤں!
اچھا نصیر الدین تم نے کبھی ووٹ ڈالا ؟
جی ہاں ! ستر میں پہلی اور آخری دفعہ ڈالا تھا۔یہاں چوک میں تھڑے پر رات رات بھر بحثیں ہوتی تھیں۔بہت سوں کا خیال تھا کہ چلو دیر سویر سہی اب خدا نے سن ہی لی اور بھٹو کو بھیج دیا ہے۔ روٹی، کپڑے اور مکان کی تو بے فکری ہو ہی جائےگی۔
|
|
بابوجی جب اس کے جیتنے کی خبر آئی تو میری سمجھ میں نہیں آ رھا تھا کہ خوشی میں سامنے والی بلڈنگ پر چڑھ کر اڑنے لگوں، بھاگنا شروع کردوں کہ چیخوں۔یہاں چوک پر اتنی مٹھائی بٹی کہ حلوائی نے دوپہر کو ہاتھ اٹھا لیا اور دوکان بند کرکے چلا گیا۔
جب ضیاء الحق آیا تب بھی حلوائی کی دکان لٹ گئی۔جب بے نظیر آئی تب بھی دکان خالی ہوگئی۔مشرف کے ٹیم ( ٹائم) پر بھی یہی ہوا۔ بابو جی سمجھ میں نہیں آتا کہ ہماری قوم اتنی پاگل کیوں ہو جاتی ہے۔ آنے پر بھی مٹھائی بانٹتی ہے اور جانے پر اس سے بھی زیادہ۔۔۔۔۔
لیکن نصیر الدین تمہاری زندگی کا وہ کونسا دن تھا جب تم سب سے زیادہ خوش ہوئے تھے ؟
سچی سچی بتاؤں بابو جی ! میرا خیال ہے کہ جب میں اپنی بیوی کے ساتھ اپنے بچے کی انگلی پکڑ کر چودہ اگست سے آٹھ دن پہلے کراچی کے ریلوے سٹیشن پر اترا تھا تو اس دن جیسی میٹھی نیند آئی ویسی پھر نہیں آئی۔ایک سیٹھ نے مجھے اپنے مل میں مزدوری دی، رہنے کوکوارٹر دیا، تنخواہ کم تھی مگر گزارہ ہوجاتا تھا۔ تیرہ چودہ سال نوکری کی، پھر سیٹھ کا دوالہ پٹ گیا، بیوی مر مرا گئی، لڑکا نشے میں پڑ گیا۔ میٹرک کیا تھا اس نے، کہیں کورنگی میں ہوتا ہے۔کبھی کبھار ادھر بھی نکل آتا ہے۔سیٹھ کا دوالہ پٹنے کے بعد میں نے جونا مارکیٹ میں ریڑھا کھینچنا شروع کردیا۔اب آٹھ دس سال سے یہ بھی نہیں کر پا رھا۔
آج نصیر الدین بیاسی تراسی برس کا ہوچکا ہے اور کراچی کے پاکستان چوک کی ایک بغلی گلی کی ایک کھولی میں زندگی کے دن گن رھا ہے۔محلے والے آتے جاتے کچھ نہ کچھ خاموشی سے دے دلا جاتے ہیں۔
باتوں باتوں میں نصیر الدین کو اچانک خیال آیا کہ میں تو مہمان ہوں۔اس نے جست کی ایک پرانی سی پلیٹ سے کپڑا ھٹا کر میرے سامنے رکھ دی۔
لو کھاؤ! ایک لونڈا زرداری صاحب کی خوشی میں مٹھائی کے یہ تین ٹکڑے دے گیا ہے۔۔۔۔۔۔اب جانے اگلی مٹھائی کب آئے۔۔۔۔۔۔۔۔
اور پھر نصیر الدین نے اپنی ہی بات پر ہنسنا شروع کردیا۔اور پھر اس پر کھانسی کا دورہ پڑ گیا۔۔۔۔۔
سورج سے عجیب دوستی ہے
تن من میں دھوپ اُتر رہی ہے
یہ کس نے نقابِ رُخ اُٹھایا
پہلے سے زیادہ روشنی ہے
اک ہجر کے روگ ہی میں یہ عمر
روتے روتے گزر گئی ہے
جاگ اُٹھا وہاں وہاں پہ سبزہ
وہ دھوپ جہاں جہاں چلی ہے
رُسوائی کا غم بھلا کسے ہو
ہر شخص یہاں پر اجنبی ہے
اب کون مجھے بتائے آکر
اِس شہر سے وہ کہاں گئی ہے
آنسو مرے کہ رہے ہیں فرہاد
اِس دل کو تیری آگہی ہے
جرمنی میں دونوں بازوئوں سے محروم شخص سپرسٹور سے سی سی ٹی وی کیمرہ کے ساتھ منسلک ٹی وی سیٹ چوری کر کے لے گیا۔ »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔