Al Qamar Online Urdu News Network
SMS Guru
Al Qamar Online Urdu News Network
  
Al Qamar Online Blogs
| | |
RSS Feed
Important News International News News From Pakistan News from India   Special Reports and Features Columns   Science and Technology News Business News Editorial SportS News News from India, Pakistan, Bangla Desh, SriLanga, Maldives, Bhutan Showbiz News Interviews Politics News
Al Qamar Online; The largest Online Urdu News Network containing dozens of Urdu Channels From London, Denmark, US & Pakistan

Archive for بلاگنگ

احمد فراز کی ایک نظم

احمد فراز کی ایک نظم خود انہیں کی آواز میں

میرے غنیم نے مجھکو پیام بھیجا ہے

کہ حلقہ زن ہیں میرے گرد لشکری اُسکے

فصیل شہر کے ہر برج، ہر مینارے پر

کماں بدست ستادہ ہیں عسکری اُسکے

وہ برقِ لہر بجھا دی گئی ہے جسکی تپش

وجودِ خاک میں آتش فشاں جگاتی تھی

بچھا دیا گیا بارود اسکے پانی میں

وہ جوئے آب جو میری گلی کو آتی تھی

سبھی دریدہ دہن اب بدن دریدہ ہوئے

سپرد ِدار و رسن سارے سر کشیدہ ہوئے

تمام صوفی و سالک، سبھی شیوخ و امام

امید ِلطف پہ ایوان ِکجکلاہ میں ہیں

معززین ِعدالت حلف اٹھانے کو

مثال سائلِ مبرم نشستہ راہ میں ہیں

تم اہلِ حرف کے پندار کے ثنا گر تھے

وہ آسمان ِہنر کے نجوم سامنے ہیں

بس اس قدر تھا کہ دربار سے بلاوا تھا

گداگران ِسخن کے ہجوم سامنے ہیں

قلندرانِ وفا کی اساس تو دیکھو

تمھارے ساتھ ہے کون؟‌آس پاس تو دیکھو

تو شرط یہ ہے جو جاں کی امان چاہتے ہو

تو اپنے لوح و قلم قتل گاہ میں رکھ دو

وگرنہ اب کہ نشانہ کمان داروں کا

بس ایک تم ہو، تو غیرت کو راہ میں رکھ دو

یہ شرط نامہ جو دیکھا، تو ایلچی سے کہا

اسے خبر نہیں تاریخ کیا سکھاتی ہے

کہ رات جب کسی خورشید کو شہید کرے

تو صبح اک نیا سورج تراش لاتی ہے

تو یہ جواب ہے میرا میرے عدو کے لیے

کہ مجھکو حرصِ کرم ہے نہ خوفِ خمیازہ

اسے ہے سطوتِ شمشیر پہ گھمنڈ بہت

اسے شکوہِ قلم کا نہیں ہے اندازہ

میرا قلم نہیں کردار اس محافظ کا

جو اپنے شہر کو محصور کر کے ناز کرے

میرا قلم نہیں کاسہ کسی سبک سر کا

جو غاصبوں کو قصیدوں سے سرفراز کرے

میرا قلم نہیں اوزار اس نقب زن کا

جو اپنے گھر کی ہی چھت میں شگاف ڈالتا ہے

میرا قلم نہیں اس دزدِنیم شب کا رفیق

جو بے چراغ گھروں پر کمند اچھالتا ہے

میرا قلم نہیں تسبیح اس مبلغ کی

جو بندگی کا بھی ہر دم حساب رکھتا ہے

میرا قلم نہیں میزان ایسے عادل کی

جو اپنے چہرے پہ دوہرا نقاب رکھتا ہے

میرا قلم تو امانت ہے میرے لوگوں کی

میرا قلم تو عدالت میرے ضمیر کی ہے

اسی لیے تو جو لکھا تپاکِ جاں سے لکھا

جبھی تو لوچ کماں کا، زبان تیر کی ہے

میں کٹ گروں یا سلامت رہوں، یقیں ہے مجھے

کہ یہ حصارِ ستم کوئی تو گرائے گا

تمام عمر کی ایذا نصیبیوں کی قسم

میرے قلم کا سفر رائیگاں نہ جائے گا

تبصرہ جات (5)

کتنا آساں تھا ترے ہجرمیں مرنا جاناں

  کتنا آساں  تھا  ترے   ہجر  میں  مرنا جاناں

پھر بھی اک عمر لگی جان سے جاتے جاتے۔

آج احمد فراز ہمارے مابین نہیں ہیں، لیکن انکے الفاظ اسی شدت سے بیدار ضمیروں کو جگاتے رہیں گے  ۔ احمد فراز کی میرے نزدیک سب سے بڑی خوبی یہی تھی کہ اچھا کیا یا برا، سب کچھ کھل کر کیا۔۔۔۔ایک شیشے کی طرح شفاف شخصیت جس میں منافقت کا کہیں کوئی خول نہ تھا۔  ٓ۔۔۔۔۔آج انکے انتقال پر ہمارے قلم مغموم اور اداس ہیں۔  مجھے یقین ہے کہ انکے قلم کا سچ انکی غیر موجودگی میں بھی غیرت و عزت کا علم بلند کرتا رہے گا۔ 

تبصرہ جات (4)

اِنّا للہِ وَ اِنّا اِلَیہِ راجِعُون

 نصر ملک صاحب کے محترم والد صاحب کے انتقال کا پڑھ کر دکھ ہوا ۔ اللہ ان کے محترم والد صاحب پر اپنی رحمت نازل فرمائے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے ۔

جو بھی اس دنیا میں آیا ہے اسے زود یا بدیر اللہ کی طرف لوٹ جانا ہے ۔ یہ دنیا انسان کی مسافت کا ایک چھوٹا سا پڑاؤ ہے ۔ موت کے بعد ہر انسان نے اس زندگی میں جانا ہے جو ہمیش ہے ۔

موت  تجدیدِ مذاقِ زندگی  کا  نام  ہے

خواب کے پردے میں بیداری کا اِک پیغام ہے

اتفاق سے میں نے موت کے حوالے سے اس زندگی کے بارے میں دو دن قبل ہی اظہارِ خیال کیا تھا ۔

تبصرہ (1)

موت ۔۔۔۔۔مصیبت بھی اور نعمت بھی

برادر عالی قدر و محترم نصر ملک صاحب۔
موت ایک ایسی حقیقت ہے جس کو مختلف لوگ اپنے اپنے انداز سے دیکھتے ہیں۔ لیکن امر حق یہی ہے کہ مؤمن کے لئے یہ دنیا ایک قید خانہ ہی ہوا کرتا ہے جس رہائی امر الٰہی سے ملا کرتی ہے۔۔۔گویا مردِ حق پرست کو نعمت مل گئی اور جن کو متوفی سے جدائی ملی ان لواحقین کے لئے ابتلا۔ اس موقع پر جہاں میں آپ سے آپ کے والد مقدس کے  ارتحال پر تعزیت گزار ہوں، ساتھ  ہی انکا ایک پیغام بھی آپ کو سنائے دیتا ہوں جو ہر مؤمن کے دل کی صدا ہے کہ
حب حیدر ہے زندگی اپنی
اس سے قائم ہے تازگی اپنی
قبر میں انک آمد آمد ہے
موت تو عید ہو گئی اپنی۔
اللہ کریم آپکے والد ماجد کو سایہ ختمی المرتبت میں مامؤن  و شادکام رکھے اورآپکو اس صدمہ کو صبر جمیل کے ساتھ برداشت کرنے کی سعی عطا فرمائے اور آپکے پورے حانوادے کو اپنے اجداد عالی کے نقش قدم پر قائم رکھے۔۔۔۔۔آمین۔

بجا  رہا  ہے  زمانے  میں  دف  حسین  کا  غم
ہر  آدمی  سے  کہے  لا  تخف   حسین  کا  غم
جو  رو  رہے  ہیں  سر  عاقبت  نہ  روئیں گے
اٹھا  رہا  ہے  فلک  پر  حلف   حسین   کا  غم
حسب نسب کی طہارت  بھی  شرط ہے حسنی
کہاں   کرے   گ ا  کوئی نا خلف حسین کا غم۔

تبصرہ جات (2)

نصر ملک صاحب کے والد وفات پا گئے

ڈنمارک میں مقیم معروف صحافی، براڈکاسٹر،محقق اور القمر آن لائن کے بیورو چیف برائےسکینڈے نیویا محترم نصر ملک کے والد محترم پاکستان کے شہر گوجرانوالہ میں وفات پا گئے ہیں۔ »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔

تبصرہ جات

رو کر ہنسایا مُسکرا کر رُلایئے

جب آپ پیدا ہوۓ تو آپ رو رہے تھے
اور باقی سب لوگ خُوش ہو رہے تھے

اپنی زندگی ایسے گذاریئے کہ جب موت آۓ
آپ مُسکرا رہے ہوں اور باقی سب رو رہے ہوں

تبصرہ جات (5)

ہاؤس آف ویلکم۔”القمر سپیشل”

آخر وہ دن بھی آن پہنچا جس دن میں نے لاما ھیمو کے ساتھ فادر جم سے ملنے جانا تھا۔ لاما کی ایک خوبی اُس کی ڈرائیونگ بھی ھے ۔ وہ کہی بھی پہنچ سکتی ھے اور گاڑی کہی نہ کہی پارک بھی کر سکتی ھے اور خیر سے یہ دونوں خوبیاں مجھ میں مجبورا تھی ۔ ھمارا سینٹر فادر جم کے بتائے ھوئے پتے کے پاس ھی تھا سو دس منٹ کی ڈرایئو کے بعد ھم دونوں “ ھاؤس آف ویلکم “ کے سامنے تھے ۔ ۔۔۔مزید پڑھنے کے لیئے اس لنک پر کلک کریں۔

تبصرہ جات

کتنے ہیرے پتھر ھوئے

سبحان اپنے نام کی طرح تعریف کے قابل تھا اپنے ھوں یا غیر سب اس کی تعریف کرتے تھے .اسکول میں نمبر ون تھا کالج اور یونیورسٹی میں نصابی اور غیر نصابی پروگرام میں سبحان کا نام سب سے پہلے آتا تھا تقریر کرتا تو لوگ دم سادھے سنتے تھے »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔

تبصرہ جات (15)

محبت کر کے تو دیکھ

ا ے بندے تو دیکھتا یہاں وہاں کیا ھے
محبت تو تیرے اندر ھی پنہاں ھے
یہ تو کبھی خدا کی صورت میں جلوہ گر ھے
تو کبھی خدا کی بنائی ھوئی خدائی میں ھے »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔

تبصرہ جات (3)

بڑائی کِس میں ہے ؟

بڑائی اِس میں ہے کہ آپ نے کتنے لوگوں کو اپنے گھر میں خوش آمدَید کہا
نہ کہ اِس میں کہ آپ کا گھر کتنا بڑا ہے »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔

تبصرہ جات (6)