September 26, 2008 at 12:56 am |
راقم : تانیہ رحمان |
بحثو مباحثہ, بلاگنگ میں شائع کیا گیا
ڈاکڑ نگہت نسم کا کالم پڑھا جس میں ذکر ایک فاختہ کا تھا۔ ھم سب جانتے ھیں کہ امن کا پرندہ فاختہ کو کہا جاتا ھے،جس کسی نے فاختہ کو یہ خطاب دیا بڑا سوچ سمجھ کر دیا ھو گا۔ حقیقت میں وہ بہت معصوم ھوتی ھے۔بے زر اپنی دنیا میں رہنے والی ۔ باقی پرندے اس کو تکلیف دیں گیے »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔
مستقل لنک
September 24, 2008 at 3:39 pm |
راقم : سعدیہ سحر |
بحثو مباحثہ, بلاگنگ, شاعری میں شائع کیا گیا
لا علاج
تجھے بھلانا جو چاھا
تو مجھے احساس ھوا
کہ تیری محبت کا زھر
میرے وجود میں
کینسر کی طرح
پھیل چکا ھے
مستقل لنک
September 20, 2008 at 2:35 pm |
راقم : سیدمصباح حیسن |
بلاگنگ میں شائع کیا گیا

پاکستان کے صدر جناب آصف علی زرداری نے ١١ ستمبر کو مزار قائد پر حاضری دی اور زائرین کی نوشت میں اپنے احساست رقم کئے۔ ذرا تحریر اور اسکے ہجے ملاحظہ ہوں۔ یہ انکی پہلی تحریر ہے جو منظر عام پر آئی ہے۔ مکمل عکس کے لئے تحریر کے عکس پر کلک کیجئے۔

مستقل لنک
September 19, 2008 at 2:59 am |
راقم : چوہدری عمران |
بلاگنگ میں شائع کیا گیا
مستقل لنک
September 17, 2008 at 1:17 pm |
راقم : سیدمصباح حیسن |
بلاگنگ, علم و ادب میں شائع کیا گیا
یوں تو لکھنا اور ادب تراشی اپنے اندر کئی پہلو سمیٹے ہوئے ہے۔ جس میں ادب برائے تفریح، ادب برائے اصلاح اور ادب برائے تفریق سمیت کئی اقسام شامل ہیں۔ لیکن چاہے کوئی بھی صنف ہو، جب لکھاری کچھ لکھتا ہے تو اس کا مدعا صرف اپنے احساسات کو ایک کاغذ پر منتقل کرنا ہر گز نہیں ہوتا۔ بلکہ لکھنے کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ اسے عوام تک بھی پہنچایا جا سکے۔ »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔
مستقل لنک
September 15, 2008 at 5:56 pm |
راقم : نگہت نسیم |
بحثو مباحثہ, بلاگنگ, سماج میں شائع کیا گیا
اکیس جنوری کو میں نے ملٹی کلچر سایئکاٹری کلینک جوائن کیا تھا ۔سچ کہوں تو وہ ایک ایسا تجربہ تھا جس نے میرے دن لمبے کر دیئے تھے اور راتیں تھیں کہ کٹتی ھی نہ تھیں ۔ مجھے جن لوگوں کی دیکھ ریکھ کرنی پڑتی تھی وہ سب یا تو جنگ کے یا پھر دہشت گردی کے چشم دید گواہ ھوتے تھے یا پھر بلواسطہ اُس کے متاثرین میں سے ھوتے تھے ۔ »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔
مستقل لنک
September 15, 2008 at 11:26 am |
راقم : افتخار اجمل بھوپال |
بلاگنگ میں شائع کیا گیا
دماغی امراض کے ہسپتال کے سب سے بڑے ڈاکٹر صاحب شام کو فارغ ہو کر گھر جانے کے لئے اپنی کار کے پاس پہنچے تو سر پکڑ کر رہ گئے ۔ ایک مریض اپنے کمرے کی کھڑکی سے دیکھ رہا تھا بولا ۔
مریض ۔ ڈاکٹر صاحب کیا پریشانی ہے ؟
ڈاکٹر ۔ کوئی شریر میری کار کے ایک پہیئے کی چاروں ڈِھبریاں اتار کر لے گیا ہے ۔ ڈِھبری کو انگریزی میں نٹ کہتے ہیں ۔
مریض ۔ ڈاکٹر صاحب اس میں پریشانی کی کیا بات ہے ۔ باقی تین پہیئوں سے ایک ایک ڈِھبری اتار کر اس میں لگا لیں اور کار آہستہ چلاتے ہوئے سپیئر پارٹس کی دکان تک چلے جائیں ۔ وہاں سے چار ڈِھبریاں خرید کر لگا لیں پھر گھر چلے جائیں ۔
ڈاکٹر ۔ تم نے پاگل ہوتے ہو وہ بات کہہ دی جو میری عقل میں نہیں آئی تھی ۔
مریض ۔ ڈاکٹر صاحب ۔ میں پاگل ہوں مگر بیوقوف نہیں ۔
مستقل لنک
September 15, 2008 at 4:50 am |
راقم : صفدر ہمدانی |
بلاگنگ, سماج, سیاست میں شائع کیا گیا
پہلے عالمی یوم جمہوریت کے موقع پر آج کا کالم پاکستان کی نقاب پوش جمہوری حکومت کے نام کہ جو فروری کے انتخابات میں کامیابی کے نو ماہ بعد بھی یہ فیصلہ نہیں کر پائی کہ جمہوری روش پر چلنا ہے یا پھر اپنے پیشرو آمر مشرف کی پالیسیوں کو دوام بخشنا ہے۔
اکثر لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ مشرف کے جانے کے بعد آخر ملک میں کیا بدلا ہے؟میں ان لوگوں کو کہتا ہوں کہ یہ بتاؤ کہ کیا نہیں بدلا؟ ملک کا صدر بدل گیا، وزیر اعظم بدل گیا، ایوان صدر کا نظام بدل گیا، عدالت کی قسمت بدل گئی، ججوں کا کام بدل گیا، چوروں کا بھی احترام شروع ہو گیا، لوٹ کھسوٹ کا انداز بدل گیا۔مزید پڑھنے کے لیئے اس لنک پر کلک کریں۔،
مستقل لنک
September 10, 2008 at 3:09 pm |
راقم : محمد ہارون عباس قمر |
بلاگنگ, سیاست, مزاح میں شائع کیا گیا
محترمہ بینظیر بھٹو کے حوالے سے لوگوں نےیہ بات مشہور کر رکھی تھی کہ وہ تسبیح پر کرسی کرسی پڑھتی رہتی تھیں جو انہیں تو تیسری دفعہ نصیب نہ ہو سکی۔ البتہ ان کی تسبیح کا ثمر ان کے مجازی خدا کوصدارت کی شکل میں نصیب ہوا »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔
مستقل لنک
September 9, 2008 at 7:35 am |
راقم : افتخار اجمل بھوپال |
بلاگنگ, سماج میں شائع کیا گیا
گھر میں پیار و محبت کی فضا زندگی کی بنیاد ہے
اپنے عزیزوں سے اختلاف کی صورت میں
صرف حال کے معاملہ پر ہی نظر رکھیئے
ماضی کی رنجشوں کو بیچ میں نہ لائیے
یاد رکھیئے کہ بہترین تعلقات وہ ہوتے ہیں
جن میں آپس میں ایک دوسرے سے محبت
ایک دوسرے کی ضرورت سے بڑھ جائے
مستقل لنک