Al Qamar Online Urdu News Network
SMS Guru
Al Qamar Online Urdu News Network
  
Al Qamar Online Blogs
| | |
RSS Feed
Important News International News News From Pakistan News from India   Special Reports and Features Columns   Science and Technology News Business News Editorial SportS News News from India, Pakistan, Bangla Desh, SriLanga, Maldives, Bhutan Showbiz News Interviews Politics News
Al Qamar Online; The largest Online Urdu News Network containing dozens of Urdu Channels From London, Denmark, US & Pakistan

Archive for سیاست

زارداری کی جے۔۔

حیرت اور افسوس ہے کہ کل جب تک زرداری ہاؤس میں خود زرداری صرف شوہر کی حیثیت سے رہ رہے تھے تو سب اُنکو 10 پرسینٹ کہہ کر پُکارتے تھے، صحافت کے بڑے بڑے جغادری اُنکو دُنیاءِ سیاست کا چور اور جانے کیا کیا کہتے تھے، آج اُنکو سانپ کیوں سونگھ گیا ہے۔ »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔

تبصرہ جات (3)

پاک فضائیہ کی کارگردگی ہمیشہ مثالی رہی ہے

مو جودہ دور میں تین طرح کی افواج کا تصور پا یا جا تا ہے۔بری،بحری اور فضائی۔اگر کسی ملک میں سمندر مو جود ہے تو تینوں افواج ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔موجودہ دور میں فتح و شکست کا زیادہ تر دارومدار فضائیہ کی مضبوطی پر ہے۔کیوں کہ بری و بحری افواج کے لیے فضائیہ کی مدد کے بغیر پیش قدمی کرنا تقریباََ ناممکن ہے اور دشمن کی فضائیہ کی موجودگی میں تو اپنی تباہی کو آواز دینے کے مترادف ہے۔ »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔

تبصرہ جات

۔ 6 ۔ کیا مدرسوں میں پڑھے جاہل اور دہشتگرد ہوتے ہیں ؟

نام نہاد روشن خیال کہتے ہیں کہ مدرسوں میں پڑھنے والے طلباء و طالبات سائنسی دنیا کے لحاظ سے جاہل ہوتے ہیں اور مدرسے ان کو دہشت گرد بناتے ہیں ۔ پچھلے سال جولائی میں حکومت نے اپنے آقاؤں کو خوش کرنے کیلئے پاکستان میں لڑکیوں کا سب سے بڑا مدرسہ ۔ جامعہ حفصہ اسلام آباد تباہ کر دیا اور پاکستان میں لڑکوں کے چند بڑے »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔

تبصرہ جات (3)

6 ستمبر …جب پوری قوم ایثار و قربانی کا پیکر بن گئی

دنیا میں ہمیشہ وہی قومیں زندہ وپائندہ رہتی ہیں جو اپنے نظریے اور وطن کی حفاظت کو اپنی جان و مال سے زیادہ عزیز رکھتی ہیں زمانے میں ان ہی کی کہانیاں اور داستانیں یاد و رقم کی جاتی ہیں جو آزمائش کی ہر گھڑی پر پورا اترنے کے ڈھنگ و انداز جانتی نہیں۔ »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔

تبصرہ جات

مسلمانوں پر امریکی حملہ کی خفیہ اجازت۔۔۔؟

امریکن ری پبلیکن پارٹی نے اپنے سیاسی حریف جماعت امریکن ڈیموکریٹک پارٹی کو شکست دینے کیلئے تخلیقی القاعدہ و طالبان تحریک جو سیاسی حکمت اپنا رکھی ہے۔ کہ اس تحریک کو تخلیقی کیسٹوں سے امریکہ عوام کو ڈرانے و دھمکانے کیلئے اجاگر کیا جاتا ہے۔ »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔

تبصرہ جات (2)

الٹی بہتی گنگا دیس میں قتل عام کب تک؟

بھارتی حکمران اور اکثر مغربی ذرائع ابلاغ یہ ڈعوے کرتے ہوئے نہیں تھکتے کہ بھارت ایک سیکولر اور بڑا جمہوری ملک ہے جہاں جمہوری اقدار کو زبردست فروغ حاصل ہوا ہے اور حکمرانوں کے طرز عمل نے جمہوریت کو استحکام بخشا ہے اور اقلیتیں سیکولر بھارت کی چھتری تلے سکھ چین کی زندگی گزار رہی ہیں »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔

تبصرہ جات

او ائی سی کی بجائے مسلم یونین ناگزیر کیوں؟

سلطنت عثمانیہ اپنی زندگی کے اخری ہچکولے لے رہی تھی تو برطانیہ میں معروف مصنف والٹیر کا ایک ڈرامہ نمائش کے لئے پیش ہوا لیکن اس ڈرامے میں مسلمانوں کی دل ازاری کے لئے تکذیب اسلام کے مناظر بھی شامل تھے بلکہ ڈرامے کی کئی تحریروں میں حضرت محمد صلعم کی شان کی بے اکرامی اور بے حرمتی نے مسلمانوں کے سینے میں اگ بڑھکادی. »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔

تبصرہ (1)

مروجہ سیاست اور موجود سیاست دان

یہی اس رائج سیاست کی بدبختی ہے، اور موجودہ سیاست دانوں کی کمزوری کہ جب سے یہ انہی خواص کے بقول عوامی حکومت آئی ہے، عوام کے مسائل پر ایک بات بھی آن ائیر نہیں ہُوئی کِسی حاکم کو نہین پتہ کہ کِس کی ماں کیا بیچ کر اپنے بچے کے لیئے روٹی لے کر آتی ہے، کِتنی بہنیں ہیں جو گھر میں بیٹھی بوڑھی ہو رہی ہیں کتنے باپ ہیں جو جوان اولاد کے سامنے اتنے بے بس ہو چکے ہیں کہ خود کُشی پر مجبور ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ جمہوریت کی روشنی کِتنے گھروں ً میں اندھیرے کا باعث بن رہی ہے۔ انکو پتہ ہے تو صرف یہ کہ ہمارے کِتنے نمبر ہیں کِتنے چاہیئں۔ کیا اب تک کوئی ایسا فیصلہ کیا گیا ہے جو عوام سے براہ راست مربوط ہو؟ کیا کوئی ایسا قدم اُٹھایا گیا ہے جِس کی وجہ سے کِسی بوجھ تلے دبے ہوئے باپ کو ایک سانس لینے کی مہلت مِلی ہو؟ اگر نہیں تو کیا یہ عوامی حکومت ہے؟

تبصرہ جات

جیسا بادشاہ بادشاہوں سے کرتے ہیں۔۔

یہ تو سب جانتے ہیں کہ یہ جُملہ کِس نے کِس سے کہا تھالیکن اُس عمل کی ضرورت اب آن پڑی ہے۔ یہ اگر ہماری تاریخ کا حِصہ نہیں رہا کہ کوئی آمر از خُد چلا جائے اور اب ہو گیا ہے تو موجودہ رجیم کو بھی چاہیئے کہ پیٹھہ میں خنجر نہ ہی مارا جائے۔ یہ تو کُھلا راز ہے کہ کوئی نہ کوئی ڈیل پسِ پُشت رہی ہے لیکن یہ بھی سب جانتےہیں کہ پی پی پی اپنی کِسی ڈیل پر قائم نہیں رہی۔ اور پھر احتساب وہ کرے جِس کا اپنا دامن صاف ہو۔ چور کسی دوسرے چور کو سزا دینے کا اھل ہی نہیں ہو سکتا اور جہاں‌سب لُٹیرے اور قاتل جمع ہوں اُس جنگل میں ایک اور حیوان کا اضافہ کوئی اہمیت نہیں رکھتا، لیکن یہ معافی کی رسم کا اِجراء ضرورکر دیتا ہے اور بہادری سزا دینا نہیں طاقت رکھتے ہوئے معاف کر دینے میں ہے۔

تبصرہ جات (3)

” پاکستان کی حقیقی آزادی میں صحافت کا کردار“

آج 14۔ اگست 2008ء کوتحصیل کونسل آفس حضرو میں پریس کلب حضرو کی طرف سے ذیل کے عنوان سے تقریب کا انعقاد ہوا ۔ جس میں کی گئی اپنی گفتگو یہاں پیش کرتا ہوں۔

 ” پاکستان کی حقیقی آزادی میں صحافت کا کردار“

خاورچودھری

 آج پاکستان کی 61ویں سالگرہ ہے۔ میں ہمیشہ کی طرح اس بار بھی دو کیفیات کا اسیر ہوں۔اُداس بھی ہوں اور خوش بھی۔اُداس اس لیے کہ ہم اُن لوگوں کو بھولتے جارہے ہیں جن کے دَم قدم سے ہم آج آزاد فضاوٴں میں سانس لے رہے ہیں اور خوش اس لیے ہوں کہ آج کے دن اس خطہٴ زمین کوآزادی کا سورج دیکھنا نصیب ہوا۔ بہت برس پہلے اسی روز جب مزارقائدپرحاضری کا موقع ملا تھا تو میں بہت رویا تھا۔اس لیے کہ ہم قائد کا پاکستان اُس طرح نہ بنا پائے جس طرح وہ چاہتے تھے۔ ہمارے یہاں جس محبت کی بنیاد رکھی گئی تھی وہ دیر پا نہ ثابت ہوئی اور ہم باہمی رنجشوں میں اُلجھ کر دشمنی پر اُترآئے۔اسی دشمنی کے نتیجے میں پہلے ہم بیوروکریسی کی قید میں آئے پھرآمریت نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ہماری حالت یہ ہوگئی کہ ہم پہچان کی دولت سے عاری ہو گئے اور اپنے ہی بھائیوں کے خلاف زہر اُگلنے لگے جس کے نتیجے میں ہمیں اپنے ہے وجودکوچھلنی دیکھنا پڑا۔ ہمارے وہ بھائی جوآزادی کے حصول میں ہم سے کہیں آگے تھے ہمارا ساتھ چھوڑنے پر تیا ر ہوگئے اور پھراس خطہٴ زمین کو دولخت کر دیا۔ نفرتوں کی نہ ختم ہونے والی دیوار بیچ میں حائل ہو گئی۔اَب ہم اُن کی خیر خیریت سے بھی آگا ہ نہیں ہوتے۔ میری اُداسی میں تقسیم ِ پاکستان کا دُکھ بھی شامل رہتا ہے۔
 ہماری آج کی محفل کا موضوع ہے ” پاکستان کی حقیقی آزادی میں صحافت کا کردار“۔ یہ موضوع اپنے عنوان کے اعتبار سے قدرے مختلف ہے۔حقیقی آزادی کا ایک ہی مفہوم ہے کہ زمین کا خطہ تو ہم نے آزاد کرالیا مگرہمارے دل و دماغ آج بھی گوروں کی غلامی میں ہیں۔ پُرا نی باتیں کیا دہراوٴں آج صبح ہمارے وزیر اعظم نے پرچم کشائی کی تقریب میں قوم سے خطاب میں اپنے عزائم کا اظہار کیا تو مجھے بہت خوشی ہوئی مگر جب انھوں نے اپنے دورہٴ امریکا کا تذکرہ کرنے کے بعد اُس کی امداد سے پاکستان کی قسمت سنور جانے کا مژدہ سنایا تو ساری خوشی کافور ہوگئی۔
 میں اس دوران سوچتا رہا کہ ہمیں اپنے آپ پر بھروسا کیوں نہیں رہا؟ کیوں ہم ہمیشہ دوسرے کے دستِ نگر رہتے ہیں،کیوں ہم اپنے لیے خود راہیں تلاش نہیں کرتے۔ یہ ہے اس عنوان کی تفہیم۔
 اَب آتے ہیں حقیقی آزادی کی طرف ___تو اس حوالے سے گزارش یہ ہے کہ قائداعظم سمیت سیکڑوں لوگوں نے صحافتی میدان میں خدمات انجام دے کرآزادی کی شمع کو روشن رکھا۔سب سے بڑا اور اہم کردار ہی صحافت کا ہے۔ مولانا ظفر علی خان اور ان کے رفقا نے جس جاں فشانی اور جواں مردی کا مظاہر کیا وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ مولانا حسرت موہانی کی خدمات کون بھلا پائے گا۔ان اکابرین نے اپنی جان ومال کی پروا نہ کرتے ہوئے انگریز سرکار کے خلاف نہ صرف لکھا بلکہ تحریکیں چلائیں اور اس کامیابی سے کہ پاکستان بن کے رہا۔ہم آج انھی لوگوں کے ناموں سے واقف نہیں___یاد ہیں تو صرف وہ آمر جو ہم پر مسلط رہے۔ضیا ء الحق کے دور میں کوڑے کھانے والی صحافی بھول گئے، جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے قید ہونے والے اور ملک بدر کر دیئے جانے والوں کو ہم نے بھلا دیا ۔ یہ وہ لوگ تھے جو ہمیں حقیقی آزادی یعنی جمہوریت کی طرف لے جانا چاہتے تھے ۔انھی لوگوں کی محنت کے نتیجے میں آج ہم آمروں کے خلاف بولنے کے قابل ہوئے ہیں۔ موجودہ جمہوری حکومت کے قیام میں سب سے زیادہ کردار صحافت نے ادا کیا جس کا اعتراف آج قوم سے خطاب میں وزیراعظم نے بھی کیا ہے۔
 میں پوری قوم کو اس موقع پرآزادی مبارک کہتا ہوں اور ساتھ ہی اپنے صحافی دوستوں سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ اپنی صفوں میں اتحاد لائیں تاکہ کوئی بھی شخص ان کے خلاف آنکھ اُٹھانے کی جرأت نہ کرسکے۔ ہم متحد ہوں گے تو صحیح طور پر اپنی ذمہ داریاں نبھا کر قوم کی خدمت کر سکیں گے۔
 کیا آپ لوگ اپنی نفرتیں ختم کر رہے ہیں؟
 

تبصرہ جات