Al Qamar Online Urdu News Network
SMS Guru
Al Qamar Online Urdu News Network
  
Al Qamar Online Blogs
| | |
RSS Feed
Important News International News News From Pakistan News from India   Special Reports and Features Columns   Science and Technology News Business News Editorial SportS News News from India, Pakistan, Bangla Desh, SriLanga, Maldives, Bhutan Showbiz News Interviews Politics News
Al Qamar Online; The largest Online Urdu News Network containing dozens of Urdu Channels From London, Denmark, US & Pakistan

Archive for سیاست

”را” کے تربیتی کیمپ

بھارتی خفیہ ایجنسی ”را”امریکی سی آئی اے اور نیٹو افواج کو دھوکا دے کر دہشت گردی کیخلاف جنگ کے نام پر خطے میں اپنی اجارہ داری قائم کرنے کے منصوبے پر کام شروع کردیا ہے جس میں پاکستان کے اندر ملک دشمن عناصر کی مدد شامل ہے۔ »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔

تبصرہ جات

چاند رات کے تحفے

سب مسلمانوں کو چاند رات مبارک چاند رات میں ہر حکمران اپنی رعایا کو کچھ نہ کچھ تحفہ تو دیتا ہی ہے اسی رسم کونبھاتے ہوئے منڈی بہاؤالدین کے ناظم نجم الحسن نے اپنی ایک ووٹر عصمت پروین کی اپنے دوستوں کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کر کے دیا اور چاند رات منائی، اسی طرح اپنے حکمرانوں نے چاند رات کو آٹا 5 روپے فی کلو مہنگا کر کے دیا، جس مہینے میں کھانا نہیں تھا آٹا سستا کر دیا اور جب کھانے کے دن آئے تو مہنگا۔ امریکہ کہاں پیچھے رہتا اس نے بھی طوری قبایل کے سرخ خون کے ساتھ چاند رات منائی اور حکمران چَین کی بانسری بجا رہے ہیں حالانکہ چِین کی بانسری بجانی چاہیئے۔ امریکہ کی دوستی تو کھجور کی دوستی ہے، دھوپ لگے تو چھاؤں نہیں، بھوک لگے پھل دور۔خطرات دروازے پر دستک دے رہے ہیں اور اپنے محمد شاہ رنگیلا صاحب کی دِلی ابھی دور ہے۔

تبصرہ جات

میریئٹ ہوٹل کی تباہی کا ذمہ دار کون ؟

پہلے دھماکے ابھی ذہن سے محو نہیں ہو پا رہے مگر اسلام آباد میں رہنے والوں کیلئے میریئٹ ہوٹل کا دھماکہ بھُولنا بہت مشکل ہو گا ۔ اب تک کچھ حقائق اور کچھ افواہیں ذرائع ابلاغ کے ذریعہ سب تک پہنچ چکی ہیں مگر میں ابھی تک اس گورکھ دھندے میں پھنسا ہوں کہ اس تباہی کی ذمہ داری کسی پر عائد ہوتی ہے ؟

ہوٹل کے سکیورٹی سٹاف بالخصوص گارڈز نے تو اپنا فرض خُوب نبھایا اور تعریف اور دعائے خیر کے مستحق ہیں کہ آخر وقت تک وہ ڈمپر ٹرک کے انجن میں لگی آگ کو بجھاتے رہے اور اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر دیا ۔ اللہ اُنہیں جنت میں جگہ دے اور اُن کے پسماندگان پر بھی اپنی رحمتیں نازل کرے ۔ آمین

معمول سے ہٹ کر اس بار حکومت نے طالبان کی بجائے کسی تحریک جہاد اسلامی پر شُبہ ظاہر کیا ہے ۔ جس نے بھی دھماکہ کروایا وہ پاکستان کا دشمن ہے ۔ دشمن کی کاروائی کیلئے دفاعی نظام مضبوط ہونا ضروری ہے ۔ لیکن ہر دھماکہ پر دفاعی نظام غائب محسوس ہوتا ہے ۔

دھماکہ میں استعمال ہونے والی تین چیزیں ہیں ۔ ایک شخص ۔ دھماکہ خیز مواد اور گاڑی جس پر لایا گیا ۔ چوتھی مگر بڑی اہم چیز دھماکہ ہو جانے کے بعد بچانے کا عمل ہوتا ہے ۔

۔ 1 ۔ ٹرک بیریئر سے ٹکرانے کے تین چار منٹ [بقول حکومتی ترجمان سات منٹ] بعد دھماکہ ہوا ۔ اس دوران کسی حکومتی سکیورٹی والے نے نہ ٹرک کی آگ بُجھانے کی کوشش کی اور نہ ٹرک چلانے والے تک پہنچ کر اسے دیکھنے کی کوشش نہ کی کہ تفتیش میں آسانی ہوتی

۔ 2 ۔ بتایا گیا ہے کہ اس دھماکہ میں 600 کلو گرام ٹی این ٹی اور آر ڈی ایکس استعمال کیا گیا ہے ۔ اتنی بڑی مقدار میں یہ ہائی ایکسپلوسوز دھماکہ کرنے والے لوگ کہاں سے لاتے ہیں ؟ سرکاری ادارے پاکستان آرڈننس فیکٹریز میں ایکسپلوسوز بنتے ہیں لیکن اُنہیں وہاں بننے والے گولوں اور بموں میں بھرا جاتا ہے جو کہ افواجِ پاکستان کو بھیجے جاتے ہیں ۔ کوئی ایکسپلوسِو کھُلا یا پیکٹوں میں کسی کو نہیں دیا جاتا ۔ اگر یہ درآمد کیا جا رہا ہے تو کیسے ؟ کیا یہ شک نہیں کیا جا سکتا کہ جو ٹرک افغانستان میں موجود امریکی فوج کو لاجسٹک سپورٹ دینے کیلئے استعمال کئے جا رہے ہیں واپسی پر ان ٹرکوں پر ایکسپلوسِوز اور دھماکہ کرنے کے دیگر آلات پاکستان بھیجے جا رہے ہیں ؟

۔ 3 ۔ ڈمپر ٹرک ۔ یہ ٹرک صرف بڑے پیمانے کی تعمیرات میں استعمال کیا جاتا ہے ۔ میریئٹ ہوٹل کے گرد و نواح میں کوئی تعمیراتی کام نہیں ہو رہا تو یہ ڈمپر ٹرک اس ہائی سکیورٹی زون میں پولیس اور خفیہ والوں کی نظروں سے بچ کر کیسے آ گیا ؟ بالخصوص جبکہ اس پر بجری یا ریت کی بجائے ڈبے لدے ہوئے تھے ۔ ڈمپر ٹرک مٹی ۔ ریت ۔ بجری اور اینٹیں گرانے کیلئے استعمال کئے جاتے ہیں ۔

۔ 4 ۔ ہوٹل کی پانچویں منزل میں آگ لگی اور بڑھتی چلی گئی ۔ فائر بریگیڈ دیر سے پہنچی اسلئے آگ پھیل چکی تھی ۔ اس کے دیر سے پہنچنے کا کیا جواز ہے ؟ پہنچنے کے بعد بھی وہ اپنی مہارت کا مظاہرہ نہ کر سکے لیکن اس میں اُن کا قصور نہ تھا ۔ فائر ٹینڈر تو جدید ترین منگوا لئے گئے لیکن ان کے استعمال کی کسی کو تربیت نہ دی گئی تھی اور نہ ان سب کو منظم کرنے والا کوئی نہ تھا ۔ ہر فائر ٹنڈرز کا عملہ خود مختار تھا جو جس کی سمجھ میں آیا اْس نے کیا ۔

آگ بجھانے مین ناکامی کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اُن کے پاس اِنٹرسٹیج بُوسٹر پمپ ہی نہ تھے جن کی مدد سے پانچویں منزل اور اس سے اُوپر پانی پھینکا جا سکتا ۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ سب انتظامات کسی کی ذمہ داری تھی ؟ کیا حکومت کا یہ فرض نہیں ؟

یہ بات بھی سمجھ سے باہر ہے کہ آگ بجھانے کیلئے ہیلی کاپٹر کیوں استعمال نہ کئے گئے ؟ جب کہ دو منٹ کی اُڑان پر راول جھیل موجود تھی جو پانی سے بھری ہوئی تھی ۔ کیا کوئی نشان مٹانا مقصود تھا ؟

اپنی ذمہ داری نہ نبھانے والے اہلکار سارا ملبہ کبھی طالبان ۔ کبھی جہادیوں اور کبھی مُلا پر ڈال دیتے ہیں ۔ جب تک متعلقہ ادارے اور حکمران امریکہ کی حسب منشاء الزام تراشی چھوڑ کر اپنا کام درست طریقہ سے نہیں کریں گے یہ دھماکے رُک نہیں سکتے ۔

تبصرہ جات (3)

پاکستان کب تک جلتا رہے گا۔

آج اسی ملک میں اپنی ماں بہن کی عزت محفوظ نہیں۔آج بھی لوگوں کے لہو سے راستے بن رہے ھیں لیکن یہ آیندہ آنے والی نسلوں کے لیے ھرگز ھرگز نہیں ھیں ۔ یہ تو اپنے ھی ملک میں اپنوں کے ہاتھوں ھو رہا ھے۔ ھمارے اپنے ھی ھمارے دشمن ھیں ۔ کیا اسی کو جمہوریت کہتے ھیں کیا یہی آزادی ھے ۔
مزید پڑھنے کے لیئے اس لنک کو کلک کریں

تبصرہ جات (21)

وزیرِ اعظم کی ہوشیا ری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قابلِ تحسین

وزیر اعظم پاکستان کا فرمان ھے کہ دھشت گردوں کا نشانہ تو وزیرِ اعظم ہاؤس اور پارلیمنٹ تھا لیکن ان کی ہوشیاری اور سیکورٹی سینس کی وجہ سے دُشمن کا رُخ پھیر دیا گیا، ایک سکھہ کا ہاتھہ لکڑی چیرنے والے آرے میں آکر کٹ گیا، اُس کا ایک دوست افسوس کرنے گیا اور کہا کہ شُکر ہے سردار جی کہ آپ کا بایاں ہاتھہ کٹا اگر دایاں کٹ جاتا تو زندگی مشکل ہو جاتی۔ سردار نے اپنی ہوشیاری ثابت کرنے کیلئے کہا کہ جناب اصل میں ہاتھہ تو دایاں ہی آیا تھا آرے میں لیکن میں نے ہوشیاری سے دایاں ہاتھہ نکال کر بایاں آگے کر دیا۔

تبصرہ جات (20)

اسلام آباد دھماکہ ۔ کچھ پریشان کُن حقائق

اِنّا لِلہِ وَ اِنّا اِلیہِ راجِعُون

اسلام آباد کے کل کے دھماکے کے کچھ پریشان کُن حقائق ہیں مگر اس سے پہلے وقوعہ کا مختصر خاکہ ضروری ہے ۔ اربابِ اختیار کو اب دہشتگردی کے خلاف جنگ کی عینک اُتار کر شفاف عینک پہننا ہو گی تاکہ وطنِ عزیز کی تباہی میں کوشاں اصل مُجرموں تک پہنچ سکیں ورنہ “دہشتگردی کے خلاف جنگ” کے نعرے لگاتے لگاتے ۔ اللہ بچائے ۔ یہ مُلک خس و خاشاک ہو جائے گا ۔ اللہ بچائے ۔

امریکہ کی نام نہاد دہشتگردی کے خلاف جنگ جب سے شروع ہوئی ہے میرا وطن آئے دن آگ اور خون سے نہا رہا ہے اور انسان اور انسانیت کے چیتھڑے اُڑ رہے ہیں ۔ دُکھ اس بات کا ہے کہ اس کا شکار معاشی لحاظ سے درمیانے اور نچلے طبقہ کے ہموطن ہو رہے ہیں ۔ پرائی آگ میں اپنے وطن کو جھونکنے والے حکمران پہلی ہی سوچ میں ہر دھماکہ کا ذمہ دار طالبان ۔ انتہاء پسندوں یا عسکریت پسندوں کو ٹھہرا دیتے ہیں اور بیان داغتے ہیں جو ذرائع ابلاغ کو تو چارہ مہیاء کر دیتے ہیں لیکن دھماکے پر دھماکہ ہوتا چلا جا رہا ہے ۔

“انتہاء پسندو ں یا عسکریت پسندوں یا دہشتگردوں سے سختی سے نبٹا جائے گا ”
“دہشتگردی کے خلاف جنگ جاری رہے گی”

20 ستمبر 2008ء کا سورج غروب ہوتے ہی ہم نے روزہ افطار کیا اور مغرب کی نماز سے فارغ ہو کر ٹی وی لگایا کہ خبریں سُنی جائیں ۔ کچھ دیر ہی گذری تھی کہ ایک زوردار آواز سے ہم اُچھل پڑے ۔ میں گھر سے باہر نکلا کہ دیکھوں کیا ہوا ۔ کچھ پتہ نہ چلا ۔ چھوٹا بھائی مُلحقہ مکان میں رہتا ہے اسے پوچھا “یہ کیا آواز تھی ؟” وہ بولا “بہت زوردار آواز تھی ۔ ضرور کہیں قریب ہی دھماکہ ہوا ہے”۔ میں واپس آ کر ٹی وی کے سامنے بیٹھا ہی تھا کہ ایک پٹی آئی “اسلام آباد میں دھماکہ”۔ پھر لمحہ لمحہ بعد خبریں آتی رہیں اور واضح ہوا کہ اسلام آباد بلکہ پورے پاکستان میں محفوظ ترین سمجھا جانے والے میریئٹ ہوٹل کے گیٹ کے پاس دھماکہ ہوا ہے ۔ ہمارے گھر سے میریئٹ ہوٹل تک سیدھی لکیر کھنچی جائے تو فاصلہ ساڑھے چار یا پانچ کلو میٹر بنتا ہے ۔ بیچ میں عمارات اور درخت ہیں جو دھمک اور آواز کو جذب کر لیتے ہیں پھر بھی دھمک اتنی شدید تھی کہ دل نے کہا “یا اللہ خیر”۔

پریشان کُن حقائق

۔ 1 ۔ ایک چھوٹی گاڑی آ کر میریئٹ ہوٹل کے گیٹ پر لگے بیریئر سے ٹکرائی ۔ اس میں سے ایک شخص نکل کر چیخا

“جس نے نکلنا ہے نکل جائے ۔ تم لوگوں کے پاس صرف تین منٹ ہیں”۔

اس کے بعد سائرن کی آواز گونجی اور تین منٹ بعد ایک ڈَمپَر ٹرک ہوٹل کے گیٹ کے سامنے رکھے کنکریٹ کے بلاکس سے ٹکرایا ۔ اُس کے انجن سے آگ نکلی ۔ پھر اُس پر لَدے ڈبوں سے شعلہ بلند ہوا اور ساتھ ہی قیامت خیز دھماکہ ہو گیا ۔ سڑک پر پندرہ فُٹ گہرا اور پچیس تیس فُٹ چوڑا گڑھا پڑ گیا اور چاروں طرف انسانی اعضاء بکھر گئے
[ترمیم ۔ چھوٹی گاڑی جو پہلے داخل ہوئی وہ بیریئر سے نہیں ٹکرائی ۔ وہ ہوٹل کی گاڑی تھی تیزی سے آئی اور ایک دم سے بیریئر کھول کے بند کر دیا گیا ۔ نکل جانے کا اعلان ہوٹل کی سکیورٹی والے نے کیا اور سائرن بھی بجایا ۔ ڈمپر ٹرک کیلئے بیریئر نہ کھولا گیا اور وہ اس ڑکرا گیا ۔ ہوٹل کی سکیورٹی والے ٹرک کی آگ بجانے کی کوشش کرتے رہے اور سب سب شہید ہو گئے]

۔ 2 ۔ دھماکے کی وجہ سے قدرتی گیس کا پائپ پھٹنا اور آگ لگنا تو عین ممکن ہے لیکن پریشان کُن حقیقت یہ ہے کہ آگ جس کمرے سے شروع ہوئی وہ پانچویں منزل پر ہے اور ہوٹل کے کمروں میں گیس کی سپلائی نہیں ہے کیونکہ ٹھنڈا اور گرم کرنے کا نظام مرکزی ہے ۔ صرف چند دن پہلے کے ایک واقعہ کا اس سے گہرا تعلق معلوم ہوتا ہے ۔

جس دن امریکی ایڈمرل مائیک میولن وزیر اعظم یوسف رضاگیلانی اور دیگر سے ملے تھے اُسی دن آدھی رات کے وقت امریکی سفارتخانے کا ایک بڑا سفید ٹرک میریئٹ ہوٹل آیا تھا ۔ اس ٹرک سے آہنی صندوق اُتارے گئے اور انہیں میریٹ ہوٹل کے اندر منتقل کر دیا گیا ۔ اس کاروائی کے دوران ہوٹل کے دونوں مرکزی دروازے بند کردیئے گئے تھے اور امریکی میرینز کے علاوہ کسی کو ٹرک کے قریب جانے کی اجازت نہیں تھی ۔ یہ صندوق ان سکینرز سے بھی نہیں گزارے گئے تھے جو کہ ہوٹل کی لابی کے داخلی راستے پر نصب تھے ۔ ان بکسوں کو ہوٹل کی پانچویں منزل پر منتقل کر دیا گیا تھا ۔ ان صندوقوں میں کیا تھا ؟ ان کو اندر لیجانے کیلئے سارے سکیورٹی سسٹم کو کیوں معطل کیا گیا ؟ ان کو ہوٹل میں لیجانے کا مقصد کیا تھا ؟ کیا پانچویں منزل کے کمرہ میں آگ لگنے کا سبب ان صندوقوں کے اندر تھا ؟

۔ 3 ۔ کچھ دن قبل خفیہ والوں نے وزارتِ داخلہ کو مطلع کیا تھا کہ اسلام آباد میں خاص طور پر 20 ستمبر کو دہشتگردی کی بڑی کاروائی متوقع ہے ۔ اس کاروائی میں ایک ٹینکر استعمال ہو گا جس کے آگے ایک چھوٹی گاڑی ہو گی ۔ وزارتِ داخلہ نے اسلام آباد میں داخل ہونے والی گاڑیوں کی چیکنگ شروع کر دی تھی اور خاص کر 20 ستمبر کو کوئی ٹینکر اسلام آباد داخل نہیں ہونے دیا گیا ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کاروائی اسلام آباد کے اندر ہی سے کی گئی ۔ اتنا ہائی ایکسپلوسِو مواد کہاں سے آیا ؟

۔ 4 ۔ غیر ممالک سے آنے والے تاجر اور کارخانہ دار یا دوسرے سرمایہ کار میریئٹ ہوٹل میں قیام کرتے ہیں ۔ سرمایہ کاروں کو واضح پیغام دیا گیا ہے کہ اس ملک میں آپ کے سرمائے اور آپ کی جان کو بھی خطرہ ہے ۔ یہ سب کچھ وطنِ عزیز کو معاشی لحاظ سے تباہ کرنے کیلئے کیا جا رہا ہے ۔ عراق اور افغانستان کو تو فوجی طاقت سے تباہ کیا گیا جس میں تباہ کرنے والوں کا مالی کے ساتھ بہت سا جانی نقصان بھی ہوا ۔ پاکستان کو بغیر اپنی فوجی قوت کو استعمال کئے تباہ کرنے کے منصوبہ پر عمل کیا جا رہا ہے ۔

۔ 5 ۔ اطلاع واضح طور پر مل چکی تھی اور پارلمنٹ ہاؤس اور وزیرِ اعظم ہاؤس کی حفاظت پر پولیس ۔ خفیہ والے اور ٹرِپل ون بریگیڈ کے کمانڈو تعینات کر دیئے گئے تھے لیکن عوام کو بالخصوص بڑے ہوٹلوں یا دوسری عمومی جگہوں کو تحفظ فراہم نہیں کیا گیا ۔

پڑے پالا مریں غریب ۔ پڑے گرمی مریں غریب
‘۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔
میرے مولا تو ہی بتا ۔ میں کس سے کروں شکوہ
میں کدھر جاؤں تیرے سوا ۔ کس سے مدد مانگوں
‘۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔
تو رحیم ہے کریم ہے مگر تیرے جہاں میں
ہیں تلخ بہت بندہءِ مزدور کے اوقات

تبصرہ جات (12)

رمضان الکریم میں قتل کا مذموم فعل

رمضان الکریم میں قتل کا مذموم فعل

اسلام آباد میں ایک خود کش بم دھماکے میں ساٹھ افراد ہلاک۔ دھماکے میں ایک کار اور ایک (ڈمپر)  گند اٹھانے والا ٹرک استعمال کئے گئے جس میں ایک ہزار کلو دھماکہ خیز مواد تھا۔ یہ دھماکہ اسی دن ہوا جب صدر زرداری پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کر رہے تھے اور اسلام آباد پہلے ہی انتہائی سخت حفاظتی انتظامات کے کے ماحول میں تھا۔ نجانے کیسے حفاظتی اقدامات تھے جن  میں ایک بارود سے بھرا ٹرک دندناتا ہوا میریٹ ہوٹل تک جا پہنچا؟ کیا یہ حکومت کی مشینری کی کھلی نا اہلی کا ثبوت ہے یا اس ٹرک کو راستہ جان بوجھ کر دیا گیا؟ اسکے بعد پاکستان کے ساتھ کیا ہوتا ہے، اس کا علم تو ذات احدیت کو ہی ہے، لیکن لگتا ہے کہ بلی تھیلے سے نکلنے کو ہے۔ 
بطور مسلمان، رمضان الکریم کا تقدس پامال کرنے اور انسانی جانوں کے ظالمانہ قتال کے  اس مذموم فعل کی  ہم سب شدید ترین مذمت کرتے یں اور اسکے پس پشت ہاتھوں کے لئے اللہ تعالیٰ سے شکایت و بد دعا کرتے ہیں کہ اللہ انہیں دنیا و آخرت میں رسوا کرے۔

میں چاھوں گا کہ ہم سب جسقدر زیادہ ہو سکے، اس مذمتی بلاگ میں شامل ہو کر اپنی قومی سوچ کا اظہار کریں۔

تبصرہ جات (11)

قوم اپنی موت کی تیاری میں

معاندانہ پروپیگنڈہ اور کج بحثی تو ہمیشہ سے ہے لیکن وطنِ عزیز میں ہموطن اپنے ہی ہموطنوں کے خلاف صرف یہ نہیں کہ معاندانہ اور بے بنیاد پروپیگنڈہ کرتے ہیں بلکہ بغیر کسی ثبوت کے اس پر بحث بھی کرتے ہیں ۔ »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔

تبصرہ جات (3)

جمہوریت کا عالمی دن

پہلے عالمی یوم جمہوریت کے موقع پر آج کا کالم پاکستان کی نقاب پوش جمہوری حکومت کے نام کہ جو فروری کے انتخابات میں کامیابی کے نو ماہ بعد بھی یہ فیصلہ نہیں کر پائی کہ جمہوری روش پر چلنا ہے یا پھر اپنے پیشرو آمر مشرف کی پالیسیوں کو دوام بخشنا ہے۔
اکثر لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ مشرف کے جانے کے بعد آخر ملک میں کیا بدلا ہے؟میں ان لوگوں کو کہتا ہوں کہ یہ بتاؤ کہ کیا نہیں بدلا؟ ملک کا صدر بدل گیا، وزیر اعظم بدل گیا، ایوان صدر کا نظام بدل گیا، عدالت کی قسمت بدل گئی، ججوں کا کام بدل گیا، چوروں کا بھی احترام شروع ہو گیا، لوٹ کھسوٹ کا انداز بدل گیا۔مزید پڑھنے کے لیئے اس لنک پر کلک کریں۔،

تبصرہ جات (2)

ہادی دوراں کے انقلاب کا منتظر

پاکستانی قوم نے بے شمار قربانیاں دیکر اورسخت جدوجہد کے بعد اپنا وطن پاکستان حاصل کیا سیاسی لحاظ سے اس وقت پاکستانی قوم باشعور اور انقلابی فطرت رکھتی تھی لیکن قیام پاکستان کے بعد ہی قوم نے نہایت مشکل حالات دیکھے »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔

تبصرہ جات (5)