Al Qamar Online Urdu News Network
SMS Guru
Al Qamar Online Urdu News Network
  
Al Qamar Online Blogs
| | |
RSS Feed
Important News International News News From Pakistan News from India   Special Reports and Features Columns   Science and Technology News Business News Editorial SportS News News from India, Pakistan, Bangla Desh, SriLanga, Maldives, Bhutan Showbiz News Interviews Politics News
Al Qamar Online; The largest Online Urdu News Network containing dozens of Urdu Channels From London, Denmark, US & Pakistan

Archive for شاعری

رسم ایسی بھی میرےشہر میں ڈالی جائے

رسم ایسی بھی میرےشہر میں ڈالی جائے

بے    نواؤں   کی   دستار  نہ  اچھالی  جاۓ

 

دیپ   اشکوں کے سر شام بھلے لگتے ہیں

ہجر  کی شب  بھی   سر  شام    منالی  جاۓ

»۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔

تبصرہ جات

غزل

مسعود مُنّور ، اوسلو، ناروے ۔

حرف آشنا تھے ، حرف کی جادو گری نہ کی
ہم نے تو ایک عمر تلک شاعری نہ کی
ہم تو تُمھارے حسن کی دہشت سے مر گئے
جینے کی آرزو تھی مگر زندگی نہ کی
اُس بُت سے چوٹ کھا کے ہم ایسے ہوئے نراش
پھر بُت کدوں میں جا کے کبھی آزری نہ کی
الحاد کا سا عشق تھا، اُس شہرِ حسن میں
ہم کو کوئی خُدا نہ ملا ، بندگی نہ کی
دادو ستد کی ہم سے روایت نہیں نبھی
ہم نے تعلقات کی سوداگری نہ کی
دل کا دیا جو تم نے بجھایا تو اُس کے بعد
ان کھنڈروں میں ہم نے کبھی روشنی نہ کی
شاید اذیتوں کو ہی مذہب سمجھ لیا
سہتے رہے عذاب مگر خود کُشی نہ کی
مسعود، اُس بدن کی عبادت کے باب میں
دن تھا کہ رات،ہم نے کبھی کاہلی نہ کی

تبصرہ (1)

غزل

مسعود مُنّور ، اوسلو، ناروے ۔

حرف آشنا تھے ، حرف کی جادو گری نہ کی
ہم نے تو ایک عمر تلک شاعری نہ کی
ہم تو تُمھارے حسن کی دہشت سے مر گئے
جینے کی آرزو تھی مگر زندگی نہ کی
اُس بُت سے چوٹ کھا کے ہم ایسے ہوئے نراش
پھر بُت کدوں میں جا کے کبھی آزری نہ کی
الحاد کا سا عشق تھا، اُس شہرِ حسن میں
ہم کو کوئی خُدا نہ ملا ، بندگی نہ کی
دادو ستد کی ہم سے روایت نہیں نبھی
ہم نے تعلقات کی سوداگری نہ کی
دل کا دیا جو تم نے بجھایا تو اُس کے بعد
ان کھنڈروں میں ہم نے کبھی روشنی نہ کی
شاید اذیتوں کو ہی مذہب سمجھ لیا
سہتے رہے عذاب مگر خود کُشی نہ کی
مسعود، اُس بدن کی عبادت کے باب میں
دن تھا کہ رات،ہم نے کبھی کاہلی نہ کی

تبصرہ جات

شریعت سے شریّت تک

از: مسعود مُنّور ، اسلو ، ناروے ۔

نوائے حضرتِ اقبال کل شب
یہ سرگوشی میں مجھ سے کہہ گئی ہے
شریعت سے ہوا ہے عین معدوم
شریعت اب شریت رہ گئی ہے
عبارت تھا عبودیت سے یہ عین
یہ نعمت تیل بن کر بہہ گئی ہے
شریّت ، شر کی ہے اب پٹّہ داری
خُدائی وار کیا کیا سہہ گئی ہے

—————————————————–
( از؛ مسعو منور ، اوسلو، ناروے )

تبصرہ جات (2)

شریعت سے شریّت تک

ار : مسعود منور ۔ اوسلو ناروے ۔

شریعت سے شریّت تک

مسعود مُنّور

نوائے حضرتِ اقبال کل شب
یہ سرگوشی میں مجھ سے کہہ گئی ہے
شریعت سے ہوا ہے عین معدوم
شریعت اب شریت رہ گئی ہے
عبارت تھا عبودیت سے یہ عین
یہ نعمت تیل بن کر بہہ گئی ہے
شریّت ، شر کی ہے اب پٹّہ داری
خُدائی وار کیا کیا سہہ گئی ہے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
( از؛ مسعو منور ، اوسلو، ناروے )

تبصرہ جات

سورج سے عجیب دوستی ہے

سورج سے عجیب دوستی ہے
تن من میں دھوپ اُتر رہی ہے

یہ کس نے نقابِ رُخ اُٹھایا
پہلے سے زیادہ روشنی ہے

اک ہجر کے روگ ہی میں یہ عمر
روتے روتے گزر گئی ہے

جاگ اُٹھا وہاں وہاں پہ سبزہ
وہ دھوپ جہاں جہاں چلی ہے

رُسوائی کا غم بھلا کسے ہو
ہر شخص یہاں پر اجنبی ہے

اب کون مجھے بتائے آکر
اِس شہر سے وہ کہاں گئی ہے

آنسو مرے کہ رہے ہیں فرہاد
اِس دل کو تیری آگہی ہے

تبصرہ جات (5)

عید کا دن ھے

eid mubarakدوستو عید کا دن ھے ۔ سوچ رھی ھوں کہ عید پر ھم سب ایک محفل مشاعرہ رکھتے ھیں جس میں اس بات کی قید ھو گی کہ اشعار میں عید کا حوالہ ھو اور عید کا زکر ضرور ھو چاھے کسی بھی طریقے سے ھو یعنی ھنس کر ھو یا افسردگی سے ھو ۔ اور اس پر کوئی پابندی نہیں کہ اشعار لکھنے والے کے اپنے ھی لکھے ھوئے ھوں ۔ اگر کسی کے اپنے لکھے ھوئے ھیں تو ضرور بتایئں تاکہ دل کھول کر داد دی جاسکے ۔ اور اگر کسی اور شاعر کے ھیں تو یاداشت پر ضرور زور ڈال کر شاعر کا نام بھی لکھ دیں تاکہ کہی بھی حوالہ دینے کے لیئے سہولت رھے۔
اور دوستو دوسری بات یہ کہ سب نے خوش ھونا ھے اور تنقید کسی پر نہیں کرنی چاھے شعر کیسا بھی ھو اور چاھے کسی دوست نے ایک ساتھ درجن اشعار ، کئی بار ھی کیوں نہ لکھے ھوں ۔
چلیئے جی سب سے پہلے میں عرض کرتی ھوں لیکن یہ اشعار میرے نہیں ھیں بلکہ سیما سراج صاحبہ کے ھیں۔

میں سوچتی ھوں رسم عبادت کہوں اسے
یا صرف ایک جشن مسرت کہوں اسے

آیئنہ دار دولت و ثروت کہوں اسے
یا اجتماع مہر و محبت کہوں اسے

سچ پوچھیئے عید سے ھم آشنا نہیں
ان زر خرید جلوؤں میں روح وفا نہیں

سج دھج میں اپنی حسن کے جلوے دکھایئں ھم
کھا پی کے خوب شاد رہیں مسکرایئں ھم

ہاں شوق سے یہ جشن مسرت منایئں ھم
لیکن نہ اس خوشی میں انہیں بھول جایئں ھم

جو ھہیں غریب ان کی بھی دید و شنید ھو
یہ عید بس ھماری نہیں سب کی عید ھو

تبصرہ جات (33)

خواہش

nighatمیرے پاس آؤ نا
ان گھنے درختوں کی چھاؤں تلے
میں تم میں بکھرنا چاھتی ھوں
تم سے جو
میرے ھونے کا رشتہ جڑا ھے
اسی روح کی پکار سنانا چاھتی ھوں
کئی باتیں تمھاری امانتوں کی طرح رکھی ھیں
انہی صداقتوں سے ایک گھر بنانا چاھتی ھوں
سچ کہوں
تو
تمہاری ہتھیلیوں کی روشنی میں چھپ کر
واپسی کا سارے رستے بھولنا چاھتی ھوں

تبصرہ جات (13)

آپ احباب بھی اس پر طبع آزمائی کیجئے

یہ کیا ہوا ہے کہ پیغام بھی نہیں آتا
ہمیں تو ذات کا نیلام بھی نہیں آتا

اسے یہ دعویٰ کہ آتا ہے پیار اسکو فقط
مجھے تو سچ ہے کوئی کام بھی نہیں آتا

یہ ایک ہم ہیں کہ ہر روز ایک نیا الزام
اور ایک آپ پہ الزام بھی نہیں آتا

عجب طرح سے وہ بھولا ہے خانماں برباد
لبوں پہ اس کے مرا نام بھی نہیں آتا

جو جام بزم میں خالی پڑا ہے مدت سے
ہمارے ہاتھ تو وہ جام بھی نہیں آتا

ہیں ایک وہ کہ انہیں صرف آتا ہے آرام
اور ایک ہم ہیں کہ آرام بھی نہیں آتا

جو خود کُشی کو شہادت کا نام دیتے ہیں
نظر انہیں کبھی انجام بھی نہیں آتا

میں سوچتی ہوں کہ کیسے طواف ہوگا نسیم
ہمیں تو باندھنا احرام بھی نہیں آتا

تبصرہ جات (51)

لاعلاج

لا علاج

تجھے بھلانا جو چاھا

تو مجھے احساس ھوا

کہ تیری محبت کا زھر

میرے وجود میں

کینسر کی طرح

پھیل چکا ھے

تبصرہ جات (6)