قزاقوں سے ہو شیار؟
جب بھی پہونچا بام پر ہے قافلہ
آگیا وہ بیچ میں پھر سے بڑھانےفاصلہ
آخری موقعہ ہے یہ گرکرے توبہ کوئی
اے غافلا اے غافلا ،او عاقلہ او عاقلہ
| | ||
| |
|
|
| |
| |
| |
| |
| ||||
|
Al
Qamar Online; The largest Online Urdu News Network containing dozens of Urdu Channels
From London, Denmark, US & Pakistan |
جب بھی پہونچا بام پر ہے قافلہ
آگیا وہ بیچ میں پھر سے بڑھانےفاصلہ
آخری موقعہ ہے یہ گرکرے توبہ کوئی
اے غافلا اے غافلا ،او عاقلہ او عاقلہ
احمد فراز کی ایک نظم خود انہیں کی آواز میں
میرے غنیم نے مجھکو پیام بھیجا ہے
کہ حلقہ زن ہیں میرے گرد لشکری اُسکے
فصیل شہر کے ہر برج، ہر مینارے پر
کماں بدست ستادہ ہیں عسکری اُسکے
وہ برقِ لہر بجھا دی گئی ہے جسکی تپش
وجودِ خاک میں آتش فشاں جگاتی تھی
بچھا دیا گیا بارود اسکے پانی میں
وہ جوئے آب جو میری گلی کو آتی تھی
سبھی دریدہ دہن اب بدن دریدہ ہوئے
سپرد ِدار و رسن سارے سر کشیدہ ہوئے
تمام صوفی و سالک، سبھی شیوخ و امام
امید ِلطف پہ ایوان ِکجکلاہ میں ہیں
معززین ِعدالت حلف اٹھانے کو
مثال سائلِ مبرم نشستہ راہ میں ہیں
تم اہلِ حرف کے پندار کے ثنا گر تھے
وہ آسمان ِہنر کے نجوم سامنے ہیں
بس اس قدر تھا کہ دربار سے بلاوا تھا
گداگران ِسخن کے ہجوم سامنے ہیں
قلندرانِ وفا کی اساس تو دیکھو
تمھارے ساتھ ہے کون؟آس پاس تو دیکھو
تو شرط یہ ہے جو جاں کی امان چاہتے ہو
تو اپنے لوح و قلم قتل گاہ میں رکھ دو
وگرنہ اب کہ نشانہ کمان داروں کا
بس ایک تم ہو، تو غیرت کو راہ میں رکھ دو
یہ شرط نامہ جو دیکھا، تو ایلچی سے کہا
اسے خبر نہیں تاریخ کیا سکھاتی ہے
کہ رات جب کسی خورشید کو شہید کرے
تو صبح اک نیا سورج تراش لاتی ہے
تو یہ جواب ہے میرا میرے عدو کے لیے
کہ مجھکو حرصِ کرم ہے نہ خوفِ خمیازہ
اسے ہے سطوتِ شمشیر پہ گھمنڈ بہت
اسے شکوہِ قلم کا نہیں ہے اندازہ
میرا قلم نہیں کردار اس محافظ کا
جو اپنے شہر کو محصور کر کے ناز کرے
میرا قلم نہیں کاسہ کسی سبک سر کا
جو غاصبوں کو قصیدوں سے سرفراز کرے
میرا قلم نہیں اوزار اس نقب زن کا
جو اپنے گھر کی ہی چھت میں شگاف ڈالتا ہے
میرا قلم نہیں اس دزدِنیم شب کا رفیق
جو بے چراغ گھروں پر کمند اچھالتا ہے
میرا قلم نہیں تسبیح اس مبلغ کی
جو بندگی کا بھی ہر دم حساب رکھتا ہے
میرا قلم نہیں میزان ایسے عادل کی
جو اپنے چہرے پہ دوہرا نقاب رکھتا ہے
میرا قلم تو امانت ہے میرے لوگوں کی
میرا قلم تو عدالت میرے ضمیر کی ہے
اسی لیے تو جو لکھا تپاکِ جاں سے لکھا
جبھی تو لوچ کماں کا، زبان تیر کی ہے
میں کٹ گروں یا سلامت رہوں، یقیں ہے مجھے
کہ یہ حصارِ ستم کوئی تو گرائے گا
تمام عمر کی ایذا نصیبیوں کی قسم
میرے قلم کا سفر رائیگاں نہ جائے گا
ایک جھو ٹا کیا گیا جھوٹوں سے پالا پڑگیا
ا ُس کی ہر کرتوت پر ان کا دوشالہ پڑگیا
جب بھی آنے کو ہوئی جمہوریت اس ملک میں
چلتے چلتے راہ میں د یکھا گھٹالا پڑگیا
ڈس لے جو تمہیں روز کیا وہ سانپ نہیں ہے
موذی کو سزا عد ل ہے وہ پاپ نہیں ہے
یہ مصلحت بینی ہے کہیں اہلِ سیاست ؟
گردن ذرا موٹی ہے بنا ناپ نہیں ہے
کل کو سنیں گے آپ وہ ٹرکی چلے گئے
ٹرکی بنائے آئے تھےپھر ٹھرکی چلے گئے
اپنے ہی ہاتھ میں ہےکہ ہو کیسی زندگی
چوٹی انہوں نے نَار کی سَر کی چلے گئے
ہم ابھی تک چاند کی اور چاندنی کی زد میں ہیں
زُلف کی رُخسار کی بیکار سی قدغن میں ہیں
وہ تو ساری کہکشاں اپنے جلَو میں لے چُکے
اور ہم تاروں بھری راتوں کے اِس مدفن میں ہیں
جو آگے بڑھتا ہے پہلے امام کہتے ہیں
ہم ہر ایک شخص کو عالی مقام کہتے ہیں
کھلے ہےجب جہل اسکاتو کھینچ کر کرسی
ادب کے ساتھ پھر اس کو سلام کہتے ہیں
ا ے بندے تو دیکھتا یہاں وہاں کیا ھے
محبت تو تیرے اندر ھی پنہاں ھے
یہ تو کبھی خدا کی صورت میں جلوہ گر ھے
تو کبھی خدا کی بنائی ھوئی خدائی میں ھے »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔
بات میں اُسی شخص کی کر رھی ھوں جس نے ساری عمر جمہوریت کے گیت گائے اور اُس کی بحالی کے لیئے کئی سرکاری اعزازات سرکار کو یہ کہہ کر واپس کر دیئے تھے کہ انہیں لے کر وہ اپنے نظریوں سے آنکھ نہیں ملا سکے گے ۔ آج وہی احمد فراز ایک جمہوری حکومت میں اپنے نظریاتی حامیوں کی بے حسی کی نظر ھو رھا ھے ۔ سرکار اپنے سرکاری اور غیر سرکاری دوروں پر کروڑوں خرچ کر سکتی ھے پر جن لوگوں نے ساری عمر اپنے ملک کی سفارت کی ھوتی ھے ، اُن کے لیئے طبی اخراجات تو دور کی بات ھے ۔ اُن کے منہ سے تو اہل ٍخانہ سے ہمدردی کے چند لفط بھی نہیں نکلتے ۔ مزید پڑھنے کے لیئے اس لنک پر کلک کریں۔
ایک لڑکا بہت ھی اچھے خاندان سے تعلق رکھتا ھے۔جس کے لیئے لڑکی درکار ھے۔
آمدن بے حساب ھے۔جو اپنا نہیں دوسروں کا مال ھے
عمر کچھ ذیادہ نہیں بس یہی کوئی ٥٥ سال ھے۔
دیکھنے میں خوش شکل اور توند با کمال ھے
لیکن چلنے میں تھوڑا سا لاغر اور نڈحال ھے۔
قریب کی نظر کمزور پردور کی نظر بحال ھے۔
بچپن کی شادی کیوجہ سے بیوی کوجاننا محال ھے۔
بچے ایک دو نہیں پورے کا پورا پنڈال ھے ۔
خوبصورت خوب سیرت بچی درکار ھے۔
عمر کچھ ذیادہ نہیں بس ١٨ سال ھے۔
جہیز پر ھمارا کوئی نہیں اختیار ھے۔
ماں باپ کی مرضی اور بچی کا سوال ھے
یوں تو دولت میرے پاس بے شمار ھے
لیکن ذیادہ کا لالچ مجھے میری سرکار ھے
غریب غرباء کے لیے ھرگزنہیں یہ اشتہار ھے