رسم ایسی بھی میرےشہر میں ڈالی جائے
رسم ایسی بھی میرےشہر میں ڈالی جائے
بے نواؤں کی دستار نہ اچھالی جاۓ
دیپ اشکوں کے سر شام بھلے لگتے ہیں
ہجر کی شب بھی سر شام منالی جاۓ
| | ||
| |
|
|
| |
| |
| |
| |
| ||||
|
Al
Qamar Online; The largest Online Urdu News Network containing dozens of Urdu Channels
From London, Denmark, US & Pakistan |
رسم ایسی بھی میرےشہر میں ڈالی جائے
بے نواؤں کی دستار نہ اچھالی جاۓ
دیپ اشکوں کے سر شام بھلے لگتے ہیں
ہجر کی شب بھی سر شام منالی جاۓ
مسعود مُنّور ، اوسلو، ناروے ۔
حرف آشنا تھے ، حرف کی جادو گری نہ کی
ہم نے تو ایک عمر تلک شاعری نہ کی
ہم تو تُمھارے حسن کی دہشت سے مر گئے
جینے کی آرزو تھی مگر زندگی نہ کی
اُس بُت سے چوٹ کھا کے ہم ایسے ہوئے نراش
پھر بُت کدوں میں جا کے کبھی آزری نہ کی
الحاد کا سا عشق تھا، اُس شہرِ حسن میں
ہم کو کوئی خُدا نہ ملا ، بندگی نہ کی
دادو ستد کی ہم سے روایت نہیں نبھی
ہم نے تعلقات کی سوداگری نہ کی
دل کا دیا جو تم نے بجھایا تو اُس کے بعد
ان کھنڈروں میں ہم نے کبھی روشنی نہ کی
شاید اذیتوں کو ہی مذہب سمجھ لیا
سہتے رہے عذاب مگر خود کُشی نہ کی
مسعود، اُس بدن کی عبادت کے باب میں
دن تھا کہ رات،ہم نے کبھی کاہلی نہ کی
مسعود مُنّور ، اوسلو، ناروے ۔
حرف آشنا تھے ، حرف کی جادو گری نہ کی
ہم نے تو ایک عمر تلک شاعری نہ کی
ہم تو تُمھارے حسن کی دہشت سے مر گئے
جینے کی آرزو تھی مگر زندگی نہ کی
اُس بُت سے چوٹ کھا کے ہم ایسے ہوئے نراش
پھر بُت کدوں میں جا کے کبھی آزری نہ کی
الحاد کا سا عشق تھا، اُس شہرِ حسن میں
ہم کو کوئی خُدا نہ ملا ، بندگی نہ کی
دادو ستد کی ہم سے روایت نہیں نبھی
ہم نے تعلقات کی سوداگری نہ کی
دل کا دیا جو تم نے بجھایا تو اُس کے بعد
ان کھنڈروں میں ہم نے کبھی روشنی نہ کی
شاید اذیتوں کو ہی مذہب سمجھ لیا
سہتے رہے عذاب مگر خود کُشی نہ کی
مسعود، اُس بدن کی عبادت کے باب میں
دن تھا کہ رات،ہم نے کبھی کاہلی نہ کی
از: مسعود مُنّور ، اسلو ، ناروے ۔
نوائے حضرتِ اقبال کل شب
یہ سرگوشی میں مجھ سے کہہ گئی ہے
شریعت سے ہوا ہے عین معدوم
شریعت اب شریت رہ گئی ہے
عبارت تھا عبودیت سے یہ عین
یہ نعمت تیل بن کر بہہ گئی ہے
شریّت ، شر کی ہے اب پٹّہ داری
خُدائی وار کیا کیا سہہ گئی ہے
—————————————————–
( از؛ مسعو منور ، اوسلو، ناروے )
ار : مسعود منور ۔ اوسلو ناروے ۔
شریعت سے شریّت تک
مسعود مُنّور
نوائے حضرتِ اقبال کل شب
یہ سرگوشی میں مجھ سے کہہ گئی ہے
شریعت سے ہوا ہے عین معدوم
شریعت اب شریت رہ گئی ہے
عبارت تھا عبودیت سے یہ عین
یہ نعمت تیل بن کر بہہ گئی ہے
شریّت ، شر کی ہے اب پٹّہ داری
خُدائی وار کیا کیا سہہ گئی ہے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
( از؛ مسعو منور ، اوسلو، ناروے )
سورج سے عجیب دوستی ہے
تن من میں دھوپ اُتر رہی ہے
یہ کس نے نقابِ رُخ اُٹھایا
پہلے سے زیادہ روشنی ہے
اک ہجر کے روگ ہی میں یہ عمر
روتے روتے گزر گئی ہے
جاگ اُٹھا وہاں وہاں پہ سبزہ
وہ دھوپ جہاں جہاں چلی ہے
رُسوائی کا غم بھلا کسے ہو
ہر شخص یہاں پر اجنبی ہے
اب کون مجھے بتائے آکر
اِس شہر سے وہ کہاں گئی ہے
آنسو مرے کہ رہے ہیں فرہاد
اِس دل کو تیری آگہی ہے
دوستو عید کا دن ھے ۔ سوچ رھی ھوں کہ عید پر ھم سب ایک محفل مشاعرہ رکھتے ھیں جس میں اس بات کی قید ھو گی کہ اشعار میں عید کا حوالہ ھو اور عید کا زکر ضرور ھو چاھے کسی بھی طریقے سے ھو یعنی ھنس کر ھو یا افسردگی سے ھو ۔ اور اس پر کوئی پابندی نہیں کہ اشعار لکھنے والے کے اپنے ھی لکھے ھوئے ھوں ۔ اگر کسی کے اپنے لکھے ھوئے ھیں تو ضرور بتایئں تاکہ دل کھول کر داد دی جاسکے ۔ اور اگر کسی اور شاعر کے ھیں تو یاداشت پر ضرور زور ڈال کر شاعر کا نام بھی لکھ دیں تاکہ کہی بھی حوالہ دینے کے لیئے سہولت رھے۔
اور دوستو دوسری بات یہ کہ سب نے خوش ھونا ھے اور تنقید کسی پر نہیں کرنی چاھے شعر کیسا بھی ھو اور چاھے کسی دوست نے ایک ساتھ درجن اشعار ، کئی بار ھی کیوں نہ لکھے ھوں ۔
چلیئے جی سب سے پہلے میں عرض کرتی ھوں لیکن یہ اشعار میرے نہیں ھیں بلکہ سیما سراج صاحبہ کے ھیں۔
میں سوچتی ھوں رسم عبادت کہوں اسے
یا صرف ایک جشن مسرت کہوں اسے
آیئنہ دار دولت و ثروت کہوں اسے
یا اجتماع مہر و محبت کہوں اسے
سچ پوچھیئے عید سے ھم آشنا نہیں
ان زر خرید جلوؤں میں روح وفا نہیں
سج دھج میں اپنی حسن کے جلوے دکھایئں ھم
کھا پی کے خوب شاد رہیں مسکرایئں ھم
ہاں شوق سے یہ جشن مسرت منایئں ھم
لیکن نہ اس خوشی میں انہیں بھول جایئں ھم
جو ھہیں غریب ان کی بھی دید و شنید ھو
یہ عید بس ھماری نہیں سب کی عید ھو
میرے پاس آؤ نا
ان گھنے درختوں کی چھاؤں تلے
میں تم میں بکھرنا چاھتی ھوں
تم سے جو
میرے ھونے کا رشتہ جڑا ھے
اسی روح کی پکار سنانا چاھتی ھوں
کئی باتیں تمھاری امانتوں کی طرح رکھی ھیں
انہی صداقتوں سے ایک گھر بنانا چاھتی ھوں
سچ کہوں
تو
تمہاری ہتھیلیوں کی روشنی میں چھپ کر
واپسی کا سارے رستے بھولنا چاھتی ھوں
یہ کیا ہوا ہے کہ پیغام بھی نہیں آتا
ہمیں تو ذات کا نیلام بھی نہیں آتا
اسے یہ دعویٰ کہ آتا ہے پیار اسکو فقط
مجھے تو سچ ہے کوئی کام بھی نہیں آتا
یہ ایک ہم ہیں کہ ہر روز ایک نیا الزام
اور ایک آپ پہ الزام بھی نہیں آتا
عجب طرح سے وہ بھولا ہے خانماں برباد
لبوں پہ اس کے مرا نام بھی نہیں آتا
جو جام بزم میں خالی پڑا ہے مدت سے
ہمارے ہاتھ تو وہ جام بھی نہیں آتا
ہیں ایک وہ کہ انہیں صرف آتا ہے آرام
اور ایک ہم ہیں کہ آرام بھی نہیں آتا
جو خود کُشی کو شہادت کا نام دیتے ہیں
نظر انہیں کبھی انجام بھی نہیں آتا
میں سوچتی ہوں کہ کیسے طواف ہوگا نسیم
ہمیں تو باندھنا احرام بھی نہیں آتا
لا علاج
تجھے بھلانا جو چاھا
تو مجھے احساس ھوا
کہ تیری محبت کا زھر
میرے وجود میں
کینسر کی طرح
پھیل چکا ھے