مقام ِعبرت
کل کو سنیں گے آپ وہ ٹرکی چلے گئے
ٹرکی بنائے آئے تھےپھر ٹھرکی چلے گئے
اپنے ہی ہاتھ میں ہےکہ ہو کیسی زندگی
چوٹی انہوں نے نَار کی سَر کی چلے گئے
| | ||
| |
|
|
| |
| |
| |
| |
| ||||
|
Al
Qamar Online; The largest Online Urdu News Network containing dozens of Urdu Channels
From London, Denmark, US & Pakistan |
کل کو سنیں گے آپ وہ ٹرکی چلے گئے
ٹرکی بنائے آئے تھےپھر ٹھرکی چلے گئے
اپنے ہی ہاتھ میں ہےکہ ہو کیسی زندگی
چوٹی انہوں نے نَار کی سَر کی چلے گئے
ہم ابھی تک چاند کی اور چاندنی کی زد میں ہیں
زُلف کی رُخسار کی بیکار سی قدغن میں ہیں
وہ تو ساری کہکشاں اپنے جلَو میں لے چُکے
اور ہم تاروں بھری راتوں کے اِس مدفن میں ہیں
جو آگے بڑھتا ہے پہلے امام کہتے ہیں
ہم ہر ایک شخص کو عالی مقام کہتے ہیں
کھلے ہےجب جہل اسکاتو کھینچ کر کرسی
ادب کے ساتھ پھر اس کو سلام کہتے ہیں
ا ے بندے تو دیکھتا یہاں وہاں کیا ھے
محبت تو تیرے اندر ھی پنہاں ھے
یہ تو کبھی خدا کی صورت میں جلوہ گر ھے
تو کبھی خدا کی بنائی ھوئی خدائی میں ھے »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔
بات میں اُسی شخص کی کر رھی ھوں جس نے ساری عمر جمہوریت کے گیت گائے اور اُس کی بحالی کے لیئے کئی سرکاری اعزازات سرکار کو یہ کہہ کر واپس کر دیئے تھے کہ انہیں لے کر وہ اپنے نظریوں سے آنکھ نہیں ملا سکے گے ۔ آج وہی احمد فراز ایک جمہوری حکومت میں اپنے نظریاتی حامیوں کی بے حسی کی نظر ھو رھا ھے ۔ سرکار اپنے سرکاری اور غیر سرکاری دوروں پر کروڑوں خرچ کر سکتی ھے پر جن لوگوں نے ساری عمر اپنے ملک کی سفارت کی ھوتی ھے ، اُن کے لیئے طبی اخراجات تو دور کی بات ھے ۔ اُن کے منہ سے تو اہل ٍخانہ سے ہمدردی کے چند لفط بھی نہیں نکلتے ۔ مزید پڑھنے کے لیئے اس لنک پر کلک کریں۔
ایک لڑکا بہت ھی اچھے خاندان سے تعلق رکھتا ھے۔جس کے لیئے لڑکی درکار ھے۔
آمدن بے حساب ھے۔جو اپنا نہیں دوسروں کا مال ھے
عمر کچھ ذیادہ نہیں بس یہی کوئی ٥٥ سال ھے۔
دیکھنے میں خوش شکل اور توند با کمال ھے
لیکن چلنے میں تھوڑا سا لاغر اور نڈحال ھے۔
قریب کی نظر کمزور پردور کی نظر بحال ھے۔
بچپن کی شادی کیوجہ سے بیوی کوجاننا محال ھے۔
بچے ایک دو نہیں پورے کا پورا پنڈال ھے ۔
خوبصورت خوب سیرت بچی درکار ھے۔
عمر کچھ ذیادہ نہیں بس ١٨ سال ھے۔
جہیز پر ھمارا کوئی نہیں اختیار ھے۔
ماں باپ کی مرضی اور بچی کا سوال ھے
یوں تو دولت میرے پاس بے شمار ھے
لیکن ذیادہ کا لالچ مجھے میری سرکار ھے
غریب غرباء کے لیے ھرگزنہیں یہ اشتہار ھے
مکروفریب کی اس دنیا میں وفا ڈھونڈتی ھوں
مکروفریب کی اس دنیا میں وفا ڈھونڈتی ھوں
لوگوں کی نگاھوں میں حیا ڈھونڈتی ھوں »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔
خواب کتنے کے ھیں
میں نے اپنی بیٹی سے ایک روز کہا تھا
دیکھا ھے میں نے خواب ۔جو موتیوں سے بھرا تھا۔ »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔
دوستوں پہلی بار پنجابی میں عرض کیا ھے ۔
میں ہان کمی کمین اے ربا، میری کی اوقات
اوچا تیرا نام اے ربا، اوچی تیری ذات
رحمتاں تیریاں برسا برسن کی سیدہ تے کمہار
تیری نظروچی سب برابر نا کوئی موچی ناسردار
بندہ اوھی چنگہ جو کرے تیرے بندے نال پیار
میں ہاں کمی کمین اے ربا، میری کی اوقات
اوچا تیرا ناں اے ربا، اوچی تیری ذات
نا میں تکیا کعبہ تے نا گیا میں مسیتی
نا میں پڑھی نماز پانچگانہ ناخیرات کیتی
پھر وی تیرا کرم اے ربا، کوئی کمی نا کیتی
میں ہاں کمی کیمن اے ربا، میری کی اوقات
اوچا تیرا ناں اے ربا، اوچی تیری ذات
مرشد میرا توں اے ربا ،توں ھی میرا والی
اکو اک تیرا ناں ، کر دی تیری ذات رکھوالی
کرقبول میری عرضی میں ہاں ایک سوالی
میری ہاں کمی کمین اے ربا، میری کی اوقات
اوچا تیرا ناں اے رباا، اوچی تیری ذات
دوستوں ویسے تو مجھے شاعری نہیں آتی ۔جو کچھ محسوس کیا آپ سب کی نزر ھے۔اس دعاکے ساتھ کہ میری ارض پاک کی خیر ھو آمین
اے میرے خدا تو ھی بتا یہی انصاف ھے
میری ارض پاک پر آج یہ کیسی صورت حال ھے
ایک مسلمان کیوں مسلمان سے اتنا بےزار ھے
آج تیرا بندہ ھی تیرے بندے کا محتاج ھے
اے میرے خدا تو ھی بتا کیا یہی انصاف ھے
چار سو بھوک افلاس غیریبیچھائی ھوئی ھے
کیوں غیریب و بےکس اتنا مجبور لاچار ھے
آج تیری امت کیوں اتنی خستہ حال ھے
اے خدا تو ھی بتا کیا یہی انصاف ھے
ھر طرف موت اور لاشیوں کا انبار ھے
کیوں ھر چہرہ بے بس اور سوگوار ھے
ھر انکھ خوفزادہ اور اشکبار ھے
اے میرے خدا تو ھی بتا یہی انصاف ھے
کیوں اسلام کے نام پر ملک میں یلغار ھے
آج بےعمل ھاتھوں میں مسلمان کا قتِل عام ھے
گناہگار اور بےگناہ ایک ھی سولی پر سوار ھے
اے میرے خدا تو ھی بتایہی انصاف ھے
رحیم بھی تو۔ کریم بھی تو، رازق ہی تری زات ھے
مجھے ھر دم تیری ھی امید اور تیری ھی آس ھے
میری ارض پاک پر کرم کرنا لبوں پر یہی دعاھے