November 6, 2008 at 11:42 am |
راقم : راجہ ماجد جاوید بھٹی |
بین الاقوامی تعلقات, مضامین میں شائع کیا گیا
تخفیف اسلحہ کا ہفتہ ہر سال 24 تا 30 اکتوبر منایا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں آئی اے ای اے کی رپورٹ پر مباحثہ کے دوران اقوام متحدہ کیلئے پاکستان کے مندوب رضا بشیر ترار نے واضع کیا ہے کہ پاکستان ایٹمی عدم پھیلائو کے عزم پر قائم ہے اور پاکستان کا سیف گارڈ کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم انتہائی موثر ہے۔ »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔
مستقل لنک
November 4, 2008 at 11:52 am |
راقم : راجہ ماجد جاوید بھٹی |
بین الاقوامی تعلقات, سیاست, مضامین میں شائع کیا گیا
بھارت جہاں 50فیصد سے زائد آبادی غربت کی اتھاہ گہرائیوں میں گھری ہوئی ہے۔ ننگی بھوکی بھارتی جنتا بے بسی اور بے کسی کی تصویر بنی ہوئی ہے۔ مزدوروں اور کسانوں کی لاکھوں کی تعداد میں خودکشیاں بھارت میں سماجی معاشی ناانصافیوں کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔
مستقل لنک
November 1, 2008 at 11:42 am |
راقم : راجہ ماجد جاوید بھٹی |
بین الاقوامی تعلقات, سیاست, مضامین میں شائع کیا گیا
نئی دہلی میں ہونے والے انسداد دہشت گردی میکنزم اجلاس میں بھارت کے خصوصی سیکرٹری برائے خارجہ تعلقات ووک کاتجو نے بغیر ثبوت فراہم کئے ایک بار پھر کابل میں بھارتی سفارتی خانے بم دھماکے کا الزام پاکستانی آئی ایس آئی پر عائد کردیا۔ »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔
مستقل لنک
October 30, 2008 at 11:26 am |
راقم : ایاز محمود |
بین الاقوامی تعلقات, مضامین میں شائع کیا گیا
امریکن ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی امیدوار مسٹر بارک اوبامہ نے اپنے سیاسی حریف امیدوار مسٹر جان مکین کو امریکہ کیلئے خطرہ قرار دیکر امریکن عوام کے ساتھ انصاف کیا ہے۔ اس لئے کہ مسٹر جارج بش بھی امریکہ کیلئے زبردست خطرہ ثابت ہوئے ہیں۔ انہوں بش بن ڈالر بننے کے لئے اسامہ بن امریکہ کو پیدا کیا ۔ »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔
مستقل لنک
October 30, 2008 at 11:23 am |
راقم : عبدالجبار ناصر |
بین الاقوامی تعلقات, مضامین میں شائع کیا گیا
61سال 11ماہ26دن بعد کشمیریوں کے مابین 21اکتوبر 2008کو تجارت کا سلسلہ ایک مرتبہ پھر شروع ہوا۔تجارت کایہ عمل پاکستان اور بھارت کی حکومتوں کے مابین حالیہ جامع مذاکرات اور اقوام متحدہ کے سالانہ اجلاس کے موقع پر پاکستانی صدر آصف علی زرداری اوربھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ کے مابین ملاقات کے بعد شروع ہوا۔ »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔
مستقل لنک
October 30, 2008 at 11:19 am |
راقم : روف عامر |
بین الاقوامی تعلقات, مضامین میں شائع کیا گیا
واصف علی واصف کا جملہ ہے کہ پہاڑ کی چوٹی تک جانے کے لئے کئی راستے ہو سکتے ہیں مگر سفر کرنے والے کے لئے ایک ہی راستہ ہوتا ہے۔امریکہ پچھلے نصف صدی سے مسئلہ فلسطین کو اسرائیلی خواہشات کے تناظر میں حل کرنے کے لئے ہلکان ہے۔ »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔
مستقل لنک
October 24, 2008 at 11:34 pm |
راقم : راجہ ماجد جاوید بھٹی |
بین الاقوامی تعلقات, مضامین میں شائع کیا گیا
بھارت کے نائب وزیر امور داخلہ سری پرکاش جسوال نے بھارتی پارلیمنٹ کے ایوان زریں لوک سبھا میں اظہار خیال کرتے ہوئے ایک بار پھر الزام عائد کیا ہے کہ ”دہشت گردوں کی بعض تنظیموں کے ہمسایہ ملک میں اڈے قائم ہیں جو بھارت میں دہشت گردی کی کارروائیوں کیلئے لوگوں کو تربیت فراہم کرتے ہیں۔ »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔
مستقل لنک
September 28, 2008 at 8:59 am |
راقم : نگہت نسیم |
بلاگنگ, بین الاقوامی تعلقات, سماج میں شائع کیا گیا
دوستو عید کی آمد آمد ھے ۔ ھر ملک ھی کیا ھر گھر میں عید منانے کی اپنی روایات ھوتی ھیں ۔ کیوں نہ ھم سب اپنی عید کو اپنے القمر کے ساتھیو کے ساتھ بھی منایئں اور انہیں بتایئں کہ ھم سب جو دور دیس میں بیٹھیں ھیں ، عید کیسے مناتے ھیں اور جو دیس میں بیٹھیں ھیں وہ ھمیں بتایئں کہ عید مناتے ھوئے دور دیس میں رھنے والوں کو کتنا یاد کرتے ھیں ۔
آپ سب کو ادارہ القمر آن لائن ٹیم کی جانب سے دلی عید مبارک قبول ھو ۔ اس دعا کے ساتھ کہ اللہ پاک ھم سب کو اپنے حفظ و اماں میں رکھے اور ھمیں پیار اور علم بانٹنے والوں میں رکھے ۔ آمین
چلتے چلتے ڈاکٹر محمد یونس بٹ کی کتاب ” افرتفریح ” سے اقتباس عید کے پر مسرت موقع پر آپ سب کی نظر ۔اسے ھماری ٹیم کی طرف سے عید کارڈ سمجھیں ۔ اور ھماری “عیدی” آپ کی صرف ایک مسکراہٹ ھے جو اس اقتباس کو پڑھتے ھوئے خود بخود ھمیں مل جائے گی ۔ دعاؤں میں یاد رکھیئے گا ۔۔۔ شکریہ
ڈاکٹر محمد یونس بٹ لکھتے ھیں ۔۔۔
ہمارے یہاں عید ملنا، عید سے بہت پہلے شروع ہو جاتا ہے۔ دکاندار گاہکوں سے کلرک سائلوں سے اور ٹریفک پولیس والے گاڑی والوں کو روک روک کر ان سے عید ملتے ہیں۔بازاروں میں عید سے پہلے اتنا رش ہوتا ہے کہ وہاں سے گزرنا بھی عید ملنا ہی لگتا ہے۔ کچھ نوجوان تو لبرٹی اور بانو بازار میں عید ملنے کی ریہرسل کرنے جاتے ہیں۔
عید کے دن خوشبو لگا کر عیدگاہ کا رُخ کرتا ہوں۔ واپسی پر کپڑوں سے ہر قسم کی خوشبو آرہی ہوتی ہے سوائے اس خوشبو کے جو لگا کر جاتا ہوں۔عید مل مل کر وہی حال ہو جاتا ہے جو سو میٹر کی ھرڈل جیتنے کے بعد ہوتا ہے۔ اوپر سے گوجرانوالہ کی عید ملتی مٹی ایسی کہ جب واپس آ کر گھر کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہوں تو گھر والے گردن نکال کر کہتے ہیں
” جی ! کس سے ملنا ہے ”
سیاستدان تو عید یوں ملنے نکلتے ہیں، جیسے الیکشن کمپین پہ نکلے ہوں۔ جیتنے سے پہلے وہ عید مل کر آگے بڑھتے ہیں اور جیتنے کے بعد عید مل کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔پنجاب کے ایک سابق گورنر کا عید ملنے کا انداز نرالہ ہوتا تھا۔ ان کا حافظہ ہمارے ایک ادیب دوست جیسا تھا جو ایک ڈاکٹر سے اپنے مرضِ نسیان کا علاج کروا رہے تھے، دو ماہ کے مسلسل علاج کے بعد ایک دن ڈاکٹر نے پوچھا
” اب تو نہیں بھولتے آپ ”
” بالکل نہیں، مگر آپ کون ہیں اور کیوں پوچھ رہے ہیں ”
وہ سابق گورنر بھی عید پر معززیں سے عید ملنا شروع کرتے، ملتے ملتے درمیان تک پہنچتے تو بھول جاتے کہ کس طرف کے لوگوں سے مل لیا اور کس طرف کے لوگوں سے ابھی ملنا ہے۔ یوں وہ پھر نئے سرے سے عید ملنے لگتے۔ ایسے ہی ایک صاحب تیز دریا عبور کرنے کی کوشش میں تھے مگر عین دریا کے درمیان سے واپس پلٹ آئے۔ لوگوں نے وجہ پوچھی تو کہنے لگے، دراصل جب میں دریا کے درمیان پہنچا تو بہت تھک گیا سو واپس لوٹ آیا۔
شاعر وہ طبقہ ہے جو خوشی غمی دونوں موقعوں پرشعر کہتا ہے۔ کہتے ہیں کہ سکھ کرپان کے بغیر، بنگالی پان کے بغیر اور شاعر دیوان کے بغیر گھر سے نہیں نکلتا۔ اس لئے شاعر عید ملنے کے لئے بھی مشاعرے ہی کرتے ہیں۔ یوں مشاعروں کو لفظوں کا عید ملنا کہہ لیں اگرچہ وہ ہوتی تو لفظوں کی ہاتھاپائی ہے۔
بچّے پیار سے عید کو عیدی کہتے ہیں۔ اس لئے ان کو عیدی ملنا ان کا عید ملنا ہے۔ عورتیں بھی اکٹھی ہو کر عید ملتی ہیں، لیکن جہان چار عورتیں اکٹھی ہوں ویاں وہ ایک دوسرے سے نہیں، پانچویں سے خوب خوب ملتی ہیں۔ اور کوئی وہاں سے اٹھ کر اس لئے نہیں جاتی کہ جانے کے بعد وہاں بیٹھی رہنے والیاں اس سے ” عید ملنا ” نہ شروع کر دیں۔
عید کے روز امام مسجد سے عید ملنے کا یہ طریقہ ہے کہ اپنی مُٹھی مولوی صاحب کی ہتھیلی پر یوں رکھیں کہ ان کے منہ سے جزاک اللّہ کی آواز نکلے۔ چھوٹے شہروں میں نوجوانوں کی اکثریت سینما گھروں میں بھی عئد ملنے جاتی تھی۔ بکنگ کے سامنے وہ عید ملن ہوتی ہے کہ جو سفید سوٹ پہن کر آتا ہے وہ براؤن سوٹ بلکہ کبھی کبھی تو کالے سوٹ میں لوٹتا ہے، اکثر بنیان میں بھی واپس آتے ہیں۔ عید ملنا وہ ورزش ہے جس سے وزن بہت کم ہوتا ہے۔ میرا ایک دوست بتاتا ہے کہ بیرونِ ملک میں نے عید پر سو پاؤنڈ کم کئے۔
مستقل لنک
September 11, 2008 at 5:48 pm |
راقم : روف عامر |
بین الاقوامی تعلقات, سیاست, مضامین میں شائع کیا گیا
حکیم ارسطو کا قول ہے کہ تو ظالموں اور ستم گروں کا ساتھ مت دے ورنہ بروز جزا تو بھی ظالم گردانا جائے گا۔ »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔
مستقل لنک
September 5, 2008 at 6:06 pm |
راقم : ایاز محمود |
بین الاقوامی تعلقات, سیاست, مضامین میں شائع کیا گیا
امریکن ری پبلیکن پارٹی نے اپنے سیاسی حریف جماعت امریکن ڈیموکریٹک پارٹی کو شکست دینے کیلئے تخلیقی القاعدہ و طالبان تحریک جو سیاسی حکمت اپنا رکھی ہے۔ کہ اس تحریک کو تخلیقی کیسٹوں سے امریکہ عوام کو ڈرانے و دھمکانے کیلئے اجاگر کیا جاتا ہے۔ »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔
مستقل لنک