August 17, 2008 at 7:54 am |
راقم : افتخار اجمل بھوپال |
دین, سماج, علم و ادب میں شائع کیا گیا
گرچہ بُت ہیں جماعت کی آستینوں میں
مُجھے ہے حُکمِ اذاں لا الہ الا اللہ
وطن عزیز میں فی زمانہ جس موضوع پر سب سے زیادہ بات کی جاتی ہے لیکن عملی طور پر اصلاح کی کوشش مفقود ہے مدرسہ اور دہشتگرد ۔ میں ان پر اِن کے پسِ منظر کے ساتھ مختصر اظہارِ خیال کرنے کی جراءت کر رہا ہوں ۔ اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی کی بارگاہ میں استدعا ہے کہ اس موضوع کے تحت لکھنے میں میری رہنمائی اور مدد فرمائے ۔ قارئین سے درخواست ہے کہ میرے حق میں دعا فرمائیں ۔ میں پچھلے ساٹھ سال میں اپنے تجربات اور مشاہدات کا مختصر سا بیان کروں گا لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہموطنوں کی اکثریت کی بھی یہی کہانی ہے ۔ اس تحریر کو میں نے مندرجہ ذیل موضوعات کے تحت تقسیم کیا ہے
۔ 1 ۔ سرکاری سکولوں
۔ 2 ۔ عملی زندگی
۔ 3 ۔ جاہل ملّا
۔ 4 ۔ جاہل ملّا کہاں سے آئے
۔ 5 ۔ فرقہ واریت
۔ 6 ۔ کیا مدرسوں میں پڑھے جاہل اور دہشتگرد ہوتے ہیں ؟
۔ 1 ۔ سرکاری سکولوں
چھٹی اور ساتویں جماعت میں ہمارے جو دینیات کے استاذ تھے اُن کی مولوی ہونے کی نشانی صرف اُن کی داڑھی تھی ۔ دینی مدرسہ سے پڑھے ہوئے ہونا تو کُجا میرا نہیں خیال کہ وہ کچھ پڑھے لکھے تھے کیونکہ اُنہوں نے کبھی ایک آیت بھی ہمیں نہیں پڑھائی تھی ۔ ایک لڑکے کو کہتے پڑھو ۔ وہ کھڑا ہو کر دوسرے پارہ کی بلند آواز سے تلاوت شروع کر دیتا ۔ تھوڑی دیر بعد استاذ کہیں چلے جاتے اور طلباء اپنی مرضی سے پڑھتے رہتے ۔ دو سال ہم صرف دوسرا پارہ پڑھتے رہے ۔ میں آٹھویں جماعت میں دوسرے سکول چلا گیا ۔ وہاں کے استاذ بھی کسی دینی مدرسہ کے پڑھے ہوئے نہیں تھے ۔ وہ کسی لڑکے کو پڑھنے کا کہہ کر خود کرسی پر دونوں پاؤں رکھ کر اکڑوں سو جاتے ۔ لڑکوں کے شور سے جاگ جاتے تو جو سامنے ہوتا اس کی پٹائی ہو جاتی ۔ ایک دن ایک لڑکا نیکر پہن کر آگیا ۔ استاذ اسے شیطان کا بچہ شیطان کا بچہ کہتے گئے اور چھڑی سے پٹائی کرتے گئے ۔ اس کی ٹانگوں پر نیل پڑ گئے ۔ وہ لڑکا ذہین محنتی اور خوش اخلاق تھا ۔ وہ سکول چھوڑ گیا ۔ وہ کمشنر راولپنڈی کا بیٹا تھا ۔ سکول والوں نے استاذ کی چھٹی کر دی ۔
پھر مولوی عبدالحکیم صاحب کو کنٹریکٹ پر رکھا گیا ۔ وہ مدرسہ حقانیہ اکوڑہ خٹک کے فارغ التحصیل تھے اور راولپنڈی کی پانچ بڑی مساجد میں سے ایک کے خطیب تھے ۔ انہوں نے نویں جماعت میں سلیبس کے علاوہ ہمیں اچھا انسان بننے کے اصول بھی قرآن اور سنّت کی روشنی میں بڑی اچھی طرح سمجھائے ۔ ایک دن پڑھانے کے دوران ایک لڑکا شرارتیں کر رہا تھا ۔ دو بار منع کرنے پر بھی منع نہ ہوا تو مولوی صاحب نے اس کی پٹائی کر دی ۔ اگلے دن کلاس میں مولوی صاحب نے اس لڑکے کے پاس جا کر کہا بیٹا غصہ انسان کو پاگل کر دیتا ہے اسی لئے حرام ہے ۔ مجھے غصہ آگیا تھا اور میں نے آپ کی پٹائی کر دی مجھے معاف کر دو ۔ مولوی صاحب کے اس کردار پر لڑکا زار و قطار روتا ہوا مولوی صاحب کے قدموں میں گر گیا ۔ مولوی صاحب نے اسے گلے لگایا اور دلاسہ دیا ۔ اس واقعہ کے بعد وہ جماعت کا شریر ترین لڑکا ایک سُلجھا ہوا محنتی طالب علم بن گیا ۔ ایک سال بعد مولوی عبدالحکیم صاحب نے سکول کے ایک خلاف دین فنکشن میں شامل ہونے سے انکار کر دیا چنانچہ ان کی چھٹی ہو گئی ۔
دسویں جماعت میں جو صاحب دینیات کے استاذ مقرر ہوئے انہوں نے ہمیں دینیات بالکل نہیں پڑھائی صرف شعر سناتے رہے اور کبھی کبھی افسانے ۔ چھوٹی سی داڑھی رکھی تھی شائد اسی لئے دینیات کے استاذ بنا دیئے گئے ۔ ارباب اختیار سے اپنی پریشانی کا اظہار کیا تو بتایا گیا کہ فکر کی ضرورت نہیں اسلامیات کا امتحان نہیں ہو گا ۔
مستقل لنک
August 6, 2008 at 2:38 pm |
راقم : چوہدری عمران |
بحثو مباحثہ, علم و ادب میں شائع کیا گیا
بات یہ ہے کہ حالات کُچھ اِتنے سنجیدہ ہیں کہ کم گوئی یاروں کا خاصہ ہو رہا ہے اِس لیئے کِسی ہلکے پُھلکے موضوع پر بحث کر لی جائے اگر طبع نازُک پر گِراں نہ گُذرے تو
اب بحث کرنے کے لئے تو یہ بھی کافی ہے کہ تعطیل میں ایک بار ‘ت‘ اور ایک بار ‘ط‘ کیوں اِستعمال کیا گیا ہے اِسی طرح کالج دور کی بات ہے کہ کیمسٹری لیب میں چٹھہ صاحب ہُوا کرتے تھے، ایک دِن کِسی نے کالج فون کیااور کہا کہ چیمسٹری کے چٹھہ سے بات کرا دیں تو آپریٹر نے کہا کہ جناب انگریزی میں سی اور ایچ اِکٹھا آ جائیں تو ‘کاف‘ کی آواز نِکلتی ہے، تو کالر نے فورا“ کہا جناب ٹھیک ہے آپ ایسا کریں کہ کیمسٹری کے کٹھہ صاحب کو بُلا دیں۔ ویسے ہے تو یہ ایک لطیفہ نُما واقعہ لیکن ایک دعوتَ سُخن بھی ہے یارانِ نُکتہ داں کے لئے، کہ زُبانوں میں اِس طرح کیوں کیا جاتا ہے، اب یہ اہلَ زُبان زیادہ بہتر بتا سکیں گے لیکن ہم جیسے بے زُبانوں کے لئے بھی کوئی پابندی نہیں ہونی چاہئے۔ اِس لئے سب بتائیں کہ ایسا کیوں ہے
مستقل لنک
July 27, 2008 at 2:45 am |
راقم : نگہت نسیم |
بحثو مباحثہ, شاعری, علم و ادب میں شائع کیا گیا
بات میں اُسی شخص کی کر رھی ھوں جس نے ساری عمر جمہوریت کے گیت گائے اور اُس کی بحالی کے لیئے کئی سرکاری اعزازات سرکار کو یہ کہہ کر واپس کر دیئے تھے کہ انہیں لے کر وہ اپنے نظریوں سے آنکھ نہیں ملا سکے گے ۔ آج وہی احمد فراز ایک جمہوری حکومت میں اپنے نظریاتی حامیوں کی بے حسی کی نظر ھو رھا ھے ۔ سرکار اپنے سرکاری اور غیر سرکاری دوروں پر کروڑوں خرچ کر سکتی ھے پر جن لوگوں نے ساری عمر اپنے ملک کی سفارت کی ھوتی ھے ، اُن کے لیئے طبی اخراجات تو دور کی بات ھے ۔ اُن کے منہ سے تو اہل ٍخانہ سے ہمدردی کے چند لفط بھی نہیں نکلتے ۔ مزید پڑھنے کے لیئے اس لنک پر کلک کریں۔
مستقل لنک
July 25, 2008 at 1:05 pm |
راقم : صفدر ہمدانی |
بحثو مباحثہ, سماج, علم و ادب میں شائع کیا گیا
بلاگرز دوستو۔برلن میں مقیم ترقی پسند تحریک کے ایک نہایت اہم رکن،معروف ادیب،شاعر،اور افسانہ نگار عارف نقوی نے اپنا ایک خوبصورت اور غیر مطبوعہ تازہ افسانہ ارسال کیا ہے۔ ضرور ہڑھیئے اور اس پر اپنی رائے بھی دیجئے۔صفدرھمدانی »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔
مستقل لنک
July 14, 2008 at 7:08 pm |
راقم : نگہت نسیم |
بلاگنگ, شاعری, علم و ادب میں شائع کیا گیا
دوستو آج مجھے جناب عدیل بٹ صاحب نے پاکستان سے ایک بڑا خوبصورت سا اعتراف بھیجا ھے جو ھر مسلمان اپنے رب سے کرنا چاھتا ھے ۔ میں القمر آن لائن کی جانب سے »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔
مستقل لنک
July 1, 2008 at 7:53 pm |
راقم : نگہت نسیم |
بحثو مباحثہ, بلاگنگ, علم و ادب میں شائع کیا گیا
ھر منگل کومجھے ایک گھنٹہ کے لیئے کنسلٹنٹ کی نگرانی میں اپنے مریض ڈسکس کرنے پڑتے ھیں ۔ آج تقریباً دس مریض ایسے تھے جس میں مجھے اُن کی رھنمائی کی ضرورت تھی ۔ اُن کے مسائل زیرٍ بحث رھے ۔ باتوں باتوں میں میرے کنسلٹنٹ نے مجھ سے پوچھا کہ آخر ھم لوگ زہنی بیماریوں کو تشخیص کرنے میں کیا ایسا دیکھتے ھیں جس کے لیئے اُن کا علاج ناگزیر ھو جاتا ھے ۔ کیا اُن کا کم سونا ، زیادہ کھانا یا پھر اُن کا لوگوں سے دور ھو جانا ۔۔ میں نے کہا نہیں اُن کی سوچ انہیں ھم سے الگ کرتی ھے ۔ میری کنسلٹنٹ نے مسکراتے ھوئے مجھے دیکھا اور پوچھا کہ اچھا “ آخر سوچ کیا ھے “ ۔ اور آج یہی سوال میں آپ سب سے کرناچاھتی ھوں ۔
دوستو مجھے یوں لگتا ھے جب ھم اپنے کسی خیال کو عملی جامعہ پہنا سکتے ھیں ، کسی کو سمجھا سکتے ھیں اور لوگوں کو وضاحت بھی دے سکتے اُسے سوچ یا فکر کہتے ھیں اور یہ ایک مسلسل فکری عمل ھے ۔جب اٍسی فکر اور خیال میں بے ترتیبی آ جاتی ھے تو اُسے ”فکری عدم تسلسل” کہتے ھیں ۔ سو جیئے میں نے آج دس مریض دیکھے تھے سب کی سوچ ایک دوسرے سے نہ صرف جدا تھی بلکہ نا قابلٍ فہم بھی ۔ مثلاً کسی نے یہ کہا کہ اُسے اپنا بلڈ سسٹم واش کرنا ھے کہ اُس نے چار سو ڈالر کی چاکلیٹ کھا لی ھیں ۔ کسی نے کہا کہ مجھے لگا کہ مجھے کوئی کہہ رھا ھے کہ کسی کو جان سے مار ڈالو سو اُس وقت گھر کا پالا ھوا کتا ھی سامنے تھا تو اُس نے ٹیبل منہ پر رکھ کر مار دیا اور وہ اُس وقت تک مارتی رھی جب تک کتا مر نہیں گیا ۔ ایک نے کہا کہ گاڑیاں اُڑ سکتی ھیں ۔ ایک نے کہا کہ اُسے کم کھانا چاھیئے جبکہ وہ سارا وقت کھاتا رھا ، اسی طرح سے ایک عورت تیس سالوں سے صرف کچرا اپنے گھر جمع کر رھی تھی ۔۔۔
ایسی لاتعداد باتیں ھیں جو سوچ کو ناقابلٍ فہم بنا دیتی ھیں اور کئی دفعہ یوں لگتا ھے جیسے وہ سب صیحع کہہ رھے ھیں اور ھم کہی غلطی کر رھے ھیں ۔۔ لیکن مجھے حیرت اُس وقت ھوتی ھے جب لوگ ادیبوں شاعروں اور فلسفیوں کو پاگل کہتے ھیں ۔ حالانکہ یہ لوگ تو ھم جیسوں کی فکر کو ایک نظم اور تسلسل میں لاتے ھیں ۔۔ دوستو آپ کیا سمجھتے ھیں کیا واقعی ادیب شاعر اور فلاسفر پاگل ھوتے ھیں یعنی ”فکری عدم تسلسل” کا شکارھوتے ھیں ؟؟ یا پھر ھمیں یہاں رک کر سوچنا ھو گا کہ آخر سوچ کیا ھے ؟؟
مستقل لنک
June 28, 2008 at 5:05 am |
راقم : نصر ملک |
بلاگنگ, علم و ادب میں شائع کیا گیا
دوستو
ڈنمارک سے ایک اور مختصر کہانی آپ سب کے مطالعہ کے لیے پیش خدمت ہے۔ امید ہے پسند آئے گی اور ممکن ہے سوچ کی نئی راہیں بھی کھول دے ۔ اپنی رائے سے مطلع کیجئے گا ۔ وسلام ۔
امشب دوبارہ ۔
مصنف : وَلی سؤرنسن
مترجم : نصر ملک ۔ کوپن ہیگن ۔
آج رات نجانے کب‘ لیکن میں اچانک پھر وہاں جا نکلا اور میرے ساتھ جو کچھ پہلے ہو چکا تھا اس کے بارے میں نئے سرے سے غور کرنے لگا۔
یہ عجیب و غریب پارک‘ جیسا کہ سبھی جانتے ہیں‘ شہر سے باہر واقع تھا۔ میں آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا‘ تنگ سڑکوں‘ ٹیڑھی میڑھی پگڈنڈیوں سے گزرتا جا رہا تھا کہ یکایک مجھے اپنا آپ بہت ہی ہلکا محسوس ہونے لگا اور میں خود کو نوجوان سمجھنے لگا ۔ مجھے اس بات پر بہت حیرانگی محسوس ہو رہی تھی کی تمام لوگ آہستہ آہستہ وہاں سے غائب ہو رہے تھے۔ جوں جوں میں پارک کے قریب پہنچ رہا تھا‘ لوگ غائب ہوتے جا رہے تھے۔ کیا میں دوسروں کی نسبت زیادہ قوی الجثہ یا مضبوط حواس رکھتا تھا؟ اچانک میرے ذہن میں سوال آیا۔ یہ بھی تو ممکن ہے کہ میں دوسروں کے مقابلے میں زیادہ بیوقوف ہوں ۔ یہ ایک بہت ہی غیر معمولی پارک تھا۔ میں اگرچہ اپنے ذہن میں اس کی کوئی واضح تصویر لانے سے قاصر تھا لیکن یہ بات میں پورے یقین اور وثوق کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ یہ پارک واقعی میں بہت ہی غیر معمولی تھا۔ اور تو اور‘ کوشش کے باوجود میں اس پارک کے کسی ایک کونے ‘ کیاری یا گوشے کو اپنے تصور میں عین اُس طرح اجاگر کرنے اور اپنے ذہن میں نہیں لا سکتا تھا جس طرح میں اُسے اپنی آنکھوں سے پہلے دیکھ چکا تھا۔
نا قابلِ یقین حد تک مختلف انواع و اقسام کے پھول‘ اُن کی پتیوں کی ساخت اور رنگ وروپ‘ میرے لئے نہ صرف عجیب اور بالکل نئے تھے بلکہ میں ان میں سے کسی کو پہچانتا یا جانتا تک نہیں تھا ۔ اُن کے ناموں سے میری واقفیت کا تو کوئی سوال ہی نہیں تھا۔ پارک میں قدرتی چشموں سے پھوٹنے والے سیمی آب کی بلند پھواریں اور چھوٹی چھوٹی کھالیوں میں بہتے ہوئے پانی سے غر غر کی سریلی آوازیں‘ ابھی تک میرے کانوں میں سنائی دے رہی تھیں۔ یہ سب کچھ ایک عجیب سماں تھالیکن‘ میں اسے کسی بھی صورت میں اپنے تصور و بیاں میں نہیں لا سکتا تھا ۔ وہاں چہچہانے والے قوس قزاح کے رنگوں والے مختلف اقسام کے پرندے اور کانوں میں رس گھولتی ہوئی اُن کی آوازیں‘ میری اُن سے کوئی جان پہچان نہیں تھی‘ لیکن وہاں پائے جانے والے ………. عجیب الجثہ دیو …….’’ کالے کتے‘‘ مجھے اچھی طرح یاد تھے ۔ ماحولیاتی منظر کو سنوارے اور بحال رکھنے کے لئے اس عجیب الجثہ مخلوق کو اسی نام سے جانا اور پکارا جا تا تھا اور بے شک اُن کا رنگ کالا ہی تھا لیکن وہ ’’ کتے‘‘ ہر گز نہ تھے۔ میں اس عجیب الجثہ مخلوق کا حلیہ اپنے ذہن کے پردے پر اجاگر نہیں کر پا رہا تھا کیونکہ مجھ میں اُن کا سامنا کرنے کی ہمت ہی نہیں تھی۔
میں جب پہلی بار اس پارک میں گیا تھا تو یہ عجیب الجثہ دیو میرے راستے میں خود بخود زبردستی آگئے تھے۔ میں ان کو اپنے روبرو دیکھنے کی تاب و طاقت اور حوصلہ نہ رکھنے کی وجہ سے وہاں سے واپس لوٹ آیا تھا‘ لیکن کیسے؟ یہ مجھے یاد نہیں رہا تھا۔ میرے ذہن پر ابھی تک دھند چھائی ہوئی تھی اور کسی بھی چیز کا تصور واضح نہیں تھا۔ غالباً یہی وجہ تھی کہ میں ہر چیز سے آگاہی اور واقفیت حاصل کرنے کے لئے اپنی لڑ کھڑاتی کانپتی ٹانگوں اور بھاری قدموں کے ساتھ اب پھر پارک کی طرف جا رہا تھا۔
میرے ذہن میں کہیں نہ کہیں یہ خیال بھی ابھر رہا تھا کہ میں جو کچھ دیکھ رہا ہوں‘ کہیں خواب میں تو نہیں‘ اور میرے سامنے چمک دمک والے یہ عجیب الجثہ دیو کیا واقعی میں وہی ہیں جو میں دیکھ رہا ہوں؟
میں نے پھولوں‘ ان کے رنگ وروپ‘ خوشبو اور قطار در قطار‘ کیاریوں کو یاد کرنا شروع کر دیا۔ میں نے پرندوں اور فضا میں مدھر سریلی تانیں بکھیرتی ہوئی اُن کی آوازوں کو ذہن کے خانوں میں محفوظ کر نا شروع کر دیا تاکہ جب میں بیدار ہوں تو یہ سب کچھ مجھے یاد رہے۔ میں نے پھر جب گھوم پھر کر دیکھا تو وہ عجیب الجثہ دیو‘ پیٹ کے بل رینگتے ہوئے‘ پھسلتے پھسلتے‘ آہستہ آہستہ‘ پارک کے نگران کے گھر سے میری جانب بڑھ رہے تھے۔ میں نے اب مدد کے لئے ادھر اُدھر دیکھا۔ میں اُن کے بارے میں وضاحت نہیں کرنا چاہتا اور نہ ہی اس کے لئے ذہن پر زور دے سکتا ہوں کیونکہ میری یادداشت ان کی وجہ سے ہی کمزور ہو چکی تھی ۔ میری طرح پہلے بھی کئی لوگ اُن کی وجہ سے ہی اپنی اپنی یادداشت کھو چکے تھے۔ یہ ’’ دیو ‘‘ جو بظاہر’’ عجیب الجثہ ‘‘ دکھائی دیتے تھے کسی نئی طرز یا وضع کے نہیں تھے لیکن‘ علم حیوانات‘ جہاں تک میں نے پڑھ رکھا تھا اور لوگوں سے اس بارے میں سن رکھا تھا اس میں اُن کے متعلق کوئی شہادت یا ذ کر موجود نہیں تھا۔ انمیں سے ایک نے مجھ پر اپنا ہُک دار پنجہ آزمایا جسے میں نے بری طرح محسوس کیا۔ میں نے سوچا کہ یہ بات تو کسی بھی طرح اچھائی یا بھلائی کے زمرے میں نہیں آسکتی تھی اور پھر یہ معاہدے میں بھی تو شامل نہیں تھی‘—— معاہدہ ‘ میں نے تو کسی سے بھی کوئی معاہدہ نہیں کر رکھا تھا——- مجھے یہ خیال کیسے آ گیا؟ شاید وہ اپنی دیوقامتی‘ شوریدہ سری اور ریچھ کے پنجوں کی طرح کے اپنے پنجوں سے مجھے خوفزدہ کرنے کا مجاز ہو سکتا ہے ‘ ہوں‘ لیکن‘ خالصتاً انسانی طریق سے انہیں مجھ پر غلبہ پانے اور مجھ پر محض غالب ہونے کی وجہ سے میرے ساتھ ہر قسم کے ربط و تعلق استوار رکھنے کااختیار انہیں ہر گز نہیں ہو سکتا تھا ۔
اب کی بار وہاں پارک میں اور لوگ بھی موجود تھے اورجونہی زہر میرے پاؤں سے میرے سر کی طرف چڑھنے لگا‘ وہ اشارے کرتے ہوئے بولے ——- ’’دیکھو —— دیکھو تو ——- وہ —— ’’ وہ کتے ‘‘ ——– وہ کچھ بھی تو نہیں کر رہے ہیں۔‘‘ شاید میں خود ہی ہکلارہا تھا ——– ہاں‘ میں ہکلارہا تھا۔ ‘‘ اُن کے کچھ نہ کرنے کا بھی شاید کوئی مقصد ہو ——- شاید وہ اب اس لئے بھی کچھ نہیں کر رہے تھے کہ اُن کے کچھ نہ کرنے کا ضرور کوئی مقصد تھا۔ میں ہکلارہا تھا اور میری اس طرح کی ہکلاہٹ پر وہاں موجود لوگ ہنس رہے تھے۔ ’’ہاں‘ ہاں! ضرورایسا ہی ہو گا—— یقیناً ۔
اب میں نے خود اپنے آپ سے پوچھا کہ کل رات‘ پارک کی طرف جاتے ہوئے‘ مجھے پارک‘ اس کی خوبصورتی ‘ وہاں پر موجود پھولوں ‘ پرندوں اور فواروں وغیرہ کے بارے میں سب کچھ شاید اس لئے یاد تھا کہ میں پہلے بھی اپنے خواب میں وہاں جا چکا ہوا تھا۔ میں اپنے اس خواب سے پہلے بھی اپنے پہلے کئی خوابو ں میں اس پارک کو دیکھ چکاہوا تھا اور وہاں ہو آیا ہوا تھا —— لیکن‘ کیا خواب بذات خود انسانی یادداشتوں کا ہی مرکب نہیں ہوتے؟ اگر ایسا ہی ہے تو پھر خواب‘ محض خواب کیونکر ہوتے ہیں؟ کوئی بھی تو خواب اپنے آپ میں مکمل نہیں ہوتا—— ہر خواب ایک مسلسل جاری رہنے والے لا متناہی عمل یا ایک سلسلے کا حصہ ہوتے ہیں۔ ایک ایسا مسلسل عمل جو زندگی بھر ہمیشہ جاری رہتا ہے۔ ایک زندگی‘ ایک خواب‘ یعنی ’’ اک خوابی زندگی ‘‘ اور اس کے باوجود ہم اس میں حصہ لیتے ہیں اور پھر ’’ حصہ در حصہ ‘‘ ہم خود اس کا حصہ بنتے جاتے ہیں اور محض ایک حصہ ہی رہتے ہیں مکمل نہیں ہو پاتے ——- محض ایک چوہا! ——- چوہا جو ’’ خوابی زندگی ‘‘ کا کپہّ ہوتا ہے ۔ کیا ہماری روزمرہ کی زندگی صرف کسی ساحرانہ پہاڑ کی چوٹی ہے ۔ اور کیا یہی وجہ ہے کہ ہمارے لئے اپنے خیالات کو اکٹھاکرنا دشوار ہو جاتا ہے اور ہم اپنے واضح مدعا کی وضاحت تک نہیں کر سکتے؟ کیا یہ سب کچھ ممکن بنانے اور کر جانے کے لئے ہمارا راتوں کو پارک میں گھومنا پھرنا ضروری ہے؟ ہمارا ایسا گھومنا پھرنا جو ہمیں متوجہ بھی کرتا ہو اور خوفزدہ بھی ——— کیا ایسے جنت نظیر پارک‘ جہاں عجیب الجثہ‘ دیو ہیکل‘ دوزخی مخلوق ہو‘ وہاں ہمارا رات کا گھومنا پھرنا ضروری ہو تا ہے؟ اور کیا واقعی ہمیں وہاں گھومنا پھرنا چایئے؟ اور اگر ہم ایسا کرنے کی خواہش کر ہی لیں تو کیا ہم حقیقتاً وہاں گھوم پھر بھی سکتے ہیں؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وِلی سؤرنسن ڈنمارک کے دارلحکومت کوپن ہیگن کے نواح میں سنہ انیس سو انتیس میں پیدا ہوئے ۔ وہ اپنی فلسیانہ کہانیوں کی وجہ سے اسکینڈےنیویا ‘ مغربی و مشرقی یورپ اور امریکہ و کینیڈا میں اپنا ایک خاص مقام رکھتے ہیں ۔ وہ کئی کتابوں کے مصنف ہیں اور ڈنمارک میں انہیں “ کافکا “ کی تخلیقات کو عام فہم ڈینش زبان میں ترجمہ کرنے اور اس کے بین السطور مفہوم و پیغام کو اجاگر کرنے کی وجہ سے ایک خاص ادبی مقام حاصل ہے ۔ ان کی کتابیں کئی زبانوں میں ترجمہ ہو چکی ہیں ۔ اور قطب شمالی کی اساطیر پر ولی سؤرنسن کی مشہور زمانہ کتاب “ ارگناروک “ کو اردو زبان میں ترجمہ کرنے کا اعزاز راقم الحروف نے حاصل کیا ہے ۔ اردو میں یہ کتاب مندرجہ ذیل “ لنک “ پر پڑھی جا سکتی ہے ۔
http://www.urduhamasr.dk/devta/index.htm
وسلام ۔
نصر ملک ۔ کوپن ہیگن ۔ ڈنمارک ۔
مستقل لنک
June 25, 2008 at 6:06 am |
راقم : نصر ملک |
بلاگنگ, علم و ادب میں شائع کیا گیا
الو کیا سوچتا ہے؟
ایک ڈینش نظم ۔
بہن نگہت نسیم صاحبہ ۔ لیجیئے اب آپ کے لیے بطور خاص اور اس بلاگ کے سبھی بہین بھائیوں کے لیے وہ نظم حاضر ہے جس کا آپ سے وعدہ تھا ۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہم اردو داں ‘ دوسری زبانوں کے ادب سے ترجمے کے ذریعے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں اور یہی تہذیبوں کے درمیان ایک دوسرے کو سمجھنے کا ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے ۔ شاید اسی لیے میں گاہے بگاہے یہاں اس پلیٹ فورم پر ڈینش ادب سے کچھ نہ کچھ پیش کرتا رہتا ہوں ۔ اب آپ احباب اور نگہت بہن خصوصی طور پر آپ زیر نظر نظم ملاحظہ کریں اور بتایئے کہ “ الو کیا سوچتا ہے؟ مجھے آپ کی سوچ کا انتظار رہے گا ۔ وسلام ۔ آپ سب کا خاکسار ۔ نصر ملک ۔ کوپن ہیگن ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شاعر ؛ کلاؤس رفبجرگ ۔
الو کیا سوچتا ہے؟
الو وہاں سے اڑتا ہے
اور پرانے درختوں پر بسیرا کرتا ہے
اور گھورتا ہے
کوئی اسے انسانی صفات سے متصف کیے بغیر
یہ یقین کرنے پر آمادہ ہو سکتا ہے
کہ یہ کیا سوچتا ہے؟
یہ سوچتا ہے شاید کسی چوہے
یا اپنے منقش سائے
یا گھر کے وسینکوں کے بارے میں
پہلے یہ ایک کھولتا ہے
پھر دوسری‘ تھوڑی دیر بعد یہ اپنی آنکھیں
موند لیتا ہے‘ اور اپنے سر کو ایک جانب ڈھلکا لیتا ہے
الو کیا سوچتا ہے؟
کوئی بھی نہیں جانتاْ
لیکن اپنی لمبی بے آواز اُڑان پر
کھلی اور بند آنکھوں کے ساتھ
اس نے بہت کچھ دیکھا اور سنا ہے
وہ دور پار کے
کلیسائی میناروں سے آتا ہے
یہاں اس کہنہ مکان کے قریب
جہاں بہت کچھ رونما ہو چکا ہے
پرانے درختوں پر اترتا ہے
الو کیا سوچتا ہے
اپنے ننھے سے دماغ میں گرداں لہو کے بارے میں
یا اس کھیت کے بارے میں
کہ جو ابھی ابھی سرخی ٔ شفق میں
پکی فصل کے زرد رنگ سے خاکستری ہو رہا ہے
اس گودی کے بارے میں جو بہاؤ سے کنارہ کش ہوتی ہے۔
اور منہ کھولے
احتجاج کرتی گونگی بہری لڑکی کے بارے میں؟
وہ عقل مند ہے کہ میرے بارے میں سوچتا ہے
پردے کے پیچھے اپنے بستر پر لیٹا تنہا آدمی
بے وقوف جاگتا ہے اور حیرت ہے کہ خوش ہے
میں سنتا ہوں‘ یہ بہت جلد آئے گا
اور الو جانتا ہے
اور یہ چیختا ہے اور شاید
کوئی مر جاتا ہے۔
…………………………………………………………………………..
کلاؤس رفبجرگ ١٩٣١ء میں کوپن ہیگن میں پیدا ہوئے۔ وہ معروف ادبی اصناف پر مضبوط گرفت رکھتے ہیں۔ مشہور زمانہ ڈینش فلاسفر‘ شاعر و ادیب اور نقاد وَلّی سؤرنسن کے ساتھ ڈینش ادبی جریدے ’’باد گلاب‘‘ کی ادارت کرتے رہے۔ انہوں نے پرنسٹن یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف کوپن ہیگن سے انگریزی زبان و ادب کی ڈگریاں حاصل کیں۔
ان کا پہلا شعری مجموعہ ’’اپنی شدھ بدھ‘‘ ١٩٥٦ ء میں شائع ہوا جبکہ ان کا پہلا ناول ’’موروثی معصوم‘‘ ١٩٥٨ء میں منظر عام پر آیا ۔ اب تک ان کی کوئی پچانوے کتابیں مارکیٹ میں آچکی ہیں۔ ان کی ادبی شہرت میں ان کے متنازع فیہ موضوعات اور خیالات نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ فکشن‘ شاعری‘ مضمون و مقالہ نویسی‘ صحافت‘ فلمی و ریڈیائی ڈرامے‘ ادبی تبصرے اور ٹی وی سکرپٹ لکھنے میں انہیں خاص مہارت حاصل ہے۔
ان کی تخلیقات گیارہ یورپی زبانوں میں ترجمہ ہو چکی ہیں۔ انہوں نے نارڈک کونسل کے اہم ترین ادبی انعام کے علاوہ متعدد قومی اہم ایوارڈ بھی حاصل کئے ہیں۔
’’آدمی جو گناہگار ہونا چاہتا تھا‘‘ نامی اُن کے ایک ناول پر ڈینش فلم بھی بن چکی ہے ۔ اردو قارئین کے لیے‘ اس ناول کا اردو ترجمہ بھی عنقریب ہی پیش کردیا جائے گا۔ ( نصر ملک ۔ کوپن ہیگن ۔ ڈنمارک ) ۔
مستقل لنک
June 16, 2008 at 9:15 pm |
راقم : صفدر ہمدانی |
علم و ادب میں شائع کیا گیا
جرمنی میں مقیم ترقی پسند تحریک کے ایک معتبر نام اور معروف ادیب عارف نقوی کے تعاون سے ہمیں سید انوار ظہیر رہبر کا یہ خوبصورت افسانہ ملا ہے جس کے لیئے ہم دو حضرات کے ممنون ہیں۔ انوار ظہیر نوجوان قلم کار ہیں اور برلن میں رہائش پزیر اور اردو انجمن برلن کے نائب صدر ہیں۔انکی شاعری کا مجموعہ ‘‘تجھے دیکھتا رہوں‘‘ شائع ہو چکا ہے۔ القمر آن لائن انہیں اس بزم میں خوش آمدید کہتا ہے اور امید ہے تمام ساتھی انکی اس تخلیق پر اظہار خیال کریں گے۔(صفدر ھمدانی۔چیف ایڈیٹر) »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔
مستقل لنک
June 16, 2008 at 5:25 am |
راقم : نصر ملک |
بلاگنگ, علم و ادب میں شائع کیا گیا
دوستو’ ساتھیو! آپ سب کی نذر ایک بہت ہی مختصر کہانی جس پر آپ سب کی بے تکلفانہ رائے کا منظر ہوں۔ دیر نہیں کیجئے گا۔
وسلام ۔ نصر ملک ۔ »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔
مستقل لنک